تین سال دیش کا حال بے حال کاروبار ،کیسے ہوگی ترقی

وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزمیں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ستمبر 2014 میں اپنی اہم اسکیم میک ان انڈیا کی شروعات کی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد ہندوستان کو ایک گلوبل مینوفیکچرنگ اینڈایکسپورٹ ہب میں تبدیل کرنا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کروانا ہے۔ 2014 میں ہی تاریخی لال قلعے سے اپنے 15 اگست کی قومی خطاب میں وزیر اعظم نے میک ان انڈیاکا نمونہ پیش کرتے ہوئے دنیا بھر کے صنعتکاروں کو ہندوستان میں اپنی صنعت لگانے کے لئے مدعو کیا تھا۔ انہوں نے خطاب میں کہا تھا کہ آپ ہندوستان آئیے، یہاں تعمیر کیجئے اور دنیا کے کسی بھی ملک میں لے جا کر بیچئے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے، مہارت ہے ،نظم و نسق ہے اور کچھ کر گزرنے کا عزم ہے۔ لال قلعہ کے خطاب کے بعد وزیر اعظم نے یکے بعد دیگرے کئی غیر ملکی دورے کئے۔ ان دوروں میں انہوں نے دیگر باتوں کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستان میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے اورہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس سلسلے میں کاروبار کرنے میں آسانی (از آف ڈوئنگ بزنس) کی بھی بات کی گئی۔
سرکاری اعدادو شمار کے مطابق میک ان انڈیا کی ابتدا سے لے کر اب تک یعنی 2014-15 سے لے کر 2016-17 تک ملک میں 9208.44 کروڑ ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) ہوئی ہے۔ وزارت برائے صنعت و تجارت کے مطابق اس مشن کے تحت 2014-15 میں 1623.91 کروڑ ڈالرکی، 2015-16 کے دوران 4000کروڑ ڈالر اور 2016-17 میں 3584.43 کروڑ ڈالر کی ایف ڈی آئی آئی ہے ۔ اگر ملک کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ 2598.39 کروڑ ڈالر کی ایف ڈی آئی ماریشس سے آئی اور 2511 کروڑ ڈالر کی ایف ڈی آئی کے ساتھ سنگا پور دوسرے نمبر پر رہا جبکہ جاپان سے 800کروڑ ڈالر، امریکہ سے 675.97 کروڑ ڈالر اور برطانیہ سے 265.37 کروڑ ڈالر کی ایف ڈی آئی آئی ہے، وہیں چین سے 116.37 کروڑ ڈالر، جرمنی سے 263.61 کروڑ ڈالر ، سائپرس سے 127.66 کروڑ ڈالر اور فرانس سے 127.50 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہندوستان میں ہوئی۔
میک ان انڈیا کے تحت ہندوستان میں ایف ڈی آئی
سال؛ ایف ڈی آئی (امریکی ڈالر)
2014-15 1623.91
2015-16 4000
2016-17 3584
) حوالہ : وزارت صنعت و تجارت)
میک ان انڈیا کے تحت مختلف ملکوں سے آئی ایف ڈی آئی
ملک ایف ڈی آئی (امریکی ڈالر)
ماریشس 2598.39
سینگاپور 2511
جاپان 800
امریکہ 675.97
برطانیہ 675.97
جرمنی 263.61
چین 116.37
سائپرس 127.66
فرانس
( حوالہ : وزارت تجارت و صنعت)
سرکاری کے ذریعہ جاری کئے گئے ان اعدادو شمار میں کئی دلچسپ اور مضحکہ خیز حقائق موجود ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جن ملکوں کا دورہ کیا تھا، ان میں جاپان ، امریکہ، برطانیہ، چین ،فرانس کو کافی اہمیت دی گئی تھی۔ ان دوروں کو ہندوستانی میڈیا نے گیم چینجر کی شکل میں پیش کیا۔ان ملکوں میں رہ رہے مقیم ہندوستانیوں کے ذریعہ وزیر اعظم کو دیئے گئے خیر مقدمی اعزاز کو بڑا ایونٹ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔ انہی پروگراموں کے مد نظر ہندوستانی میڈیا کو وزیر اعظم مودی میں ایک راک اسٹار کی شبیہ دکھائی دی تھی۔ اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت اور برطانیہ کی پارلیمنٹ اور امریکہ کی سینیٹ میں ان کے خطاب کو ان ملکوں کے لیڈروں کے ساتھ ان کی اچھی کیمسٹری کے طور پر پیش کیا گیا لیکن مذکورہ اعدادو شمار پر نظر ڈالتے ہی یہ پتہ چل جاتاہے کہ جن ملکوں کو اتنی اہمیت دی گئی، وہاں سے میک ان انڈیا کے لئے کتنی سرمایہ کاری ہوئی اور روایتی طور سے جن ملکوں کے ذریعہ ہندوستان میں سرمایہ کاری ہوئی تھی، وہاں سے کتنی سرمایہ کاری ہوئی۔ امریکہ ،جاپان ،برطانیہ اور فرانس یہاں تک کہ چین کی سرمایہ کاری پر غور کیا جائے تو لگتا ہے کہ یہ ملک میک ان اندیا میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ اس میں شبہ پیدا کرنے والے حقیقت یہ ہے کہ ماریشس اور سینگا پور سے آنے والی ایف ڈی آئی امریکہ، جاپان، برطانیہ اور فرانس جیسے ملکوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ غور طلب ہے کہ ماریشس اور سینگا پور ٹیکس ہیون کے طور پر پہلے سے ہی بدنام ہیں۔ لہٰذا ان ملکوں سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہونا حیرت کی بات نہیں ہے۔ 2016 میں ہندوستان نے ماریشس کے ساتھ 1983 کے ڈبل ٹیکس ایوائڈنیشن کنوینشن ( ڈی ٹی اے سی ) میں بدلائو کے سمجھوتے پر دستخط کیا ہے جوکہ اپریل 2017 سے لاگو ہے۔ سینگا پور سے بھی ہندوستان اسی طرح کے سمجھوتے کی کوشش کررہاہے۔ ان سمجھوتوں کے بعد ان ملکوں سے کتنی سرمایہ کاری ہوتی ہے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماریشس اور سینگا پور کے راستے سرمایہ کاری ہندوستان کا ہی کالا دھن تو نہیں ہے؟جو ایک دوسرا سوال ان سرمایہ کاری کے اعدادو شمار سے کھڑا ہوتاہے وہ یہ کہ جب تک امریکہ، جاپان ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ملک سرمایاکاری کرنے کے لئے آگے نہیں آئیںگے تب تک وزیر اعظم کا میک ان انڈیا کیسے کامیاب ہوگا؟میک ان انڈیا سے جڑا ہوا ایک اور اہم پہلو، کارو بار میں آسانی دینا بھی ہے جس میں ہندوستان کی کارکردگی تقریباً جوں کا توں بناہوا ہے
از آف ڈوئنگ بزنس
از آف ڈوئنگ بزنس ( ای او ڈی بی ) انڈیکس ورلڈ بینک گروپ کے ذریعہ قائم رینکنگ سسٹم ہے۔ اس میں اعلیٰ رینکنگ کا مطلب ہوتا ہے آسان اور بہتر ریگولیشن اور جائیداد کے مالکان کی سیکورٹی کی مضبوط بنیاد ۔ا س کے انڈیکس کے لئے 189 ملکوں سے اعدادو شمار اکٹھے کئے جاتے ہیں، جو کاروبار ریگولیشن کے 10 طلباء سے لئے گئے ہوتے ہیں۔یہ شعبے ہیں:کاروبار کی شروعات، تعمیری منظوری، توانائی سہولت، پراپرٹی کی رجسٹری، قرض کی سہولت، چھوٹے سرمایہ کاروں کی سیکورٹی وغیرہ ۔ان عنوانات پر ہندوستان دنیا کے 189 ملکوں میں 130ویں رینک پر ہے۔
میک ان انڈیا کی ویب سائٹ پر جو جانکاری دی گئی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ 2015 میں ای او ڈی بی کی رینکنگ میں ہندوستان 134 ویں رینک پر تھا۔ جو اب دو سال بعد 130ویں رینک پر پہنچ گیا۔ ویب سائٹ پر اسے غیر معمولی سدھار کہا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان نے از آف ڈوئنگ بزنس کے لئے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ اس کے تحت دلی نگر نگم اور ممبئی مہا نگر نگم نے تعمیر کے لئے فوری منظوری سسٹم شرورع کی ہے، تاکہ کمپنیوں کو تعمیری کام میں کوئی دشواری نہ ہو۔ کاروباری حد کو آسان بنایا گیا ہے۔ کاروبار میں سہولت کے لئے سرفیسی ( دی سیکوریٹائزیشن اینڈ ری کنسٹی ٹیوشن آف سیکوریٹی انٹریسٹ)ایکٹ ،2002 میں ترمیم کیا گیا۔ اسی طرح از آف ڈوئنگ بزنس کے دیگر معیار کو دھیان میں رکھ کر سرکار نے کئی تجاویز پیش کئے ہیں،اس کے باوجود ہندوستان کو اپنی رینکنگ سدھارنے کے لئے ابھی کافی دوری طے کرنی ہے۔ عام طور پر کہا جاتاہے کہ کوئی بھی صنعتکار ،خاص طور پر غیر ملکی صنعتکار کسی ملک میں کاروبار کے لئے بہتر ماحول دیکھ کر سرمایا کاری کرتا ہے۔ جہاں تک ہندوستان میں کاروبار کے لئے ماحول کا سوال ہے تو سرکار کوشش تو کر رہی ہے لیکن اس سلسلے میں وجے مالیہ اور سبرت رائے سہارا معاملہ اچھی تصویر پیش نہیں کرتے ۔یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ جب ہندوستان اپنے ہی صنعتکاروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتاہے تو پھر غیر ملکی صنعتکاروں کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا۔
رہی بات از آف ڈوئنگ بزنس کے رینکنگ کی، تو اس کا ایک دیگر دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ نیپال ، بھوٹان ، کینیا، انڈونیشیا، فیجی، گھانا، سری لنکا اور ایران جیسے ملک ہندوستان سے آگے ہیں۔ اگر میک ان انڈیا کو کامیاب بنانا ہے تو ہندوستان کو ایک طرف جہاں ای او ڈی بی کی رینکنگ میں سدھار کی ضرورت ہے ،وہیں دوسری طرف پبلک سیکٹر میں سرکاری سرمایا کاری کی بھی ضرورت ہے۔ مودی سرکار نے روزگار کے جو وعدے کئے ہیں،اس کے لئے غیر ملکی کمپنیوں پر منحصر رہنے سے کام نہیں چلے گا۔میک ان انڈیا کے تحت ترقی یافتہ ملکوں سے آئے ایف ڈی آئی کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ترقی یافتہ ملک ہندوستان میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔یہاں انہی سیکٹرس میں سرمایا کاری ہوئی ہے جن میں ہندوستان پہلے سے ہی آگے ہے۔
از آف ڈوئنگ بزنس پر تین سال میں کتنا فرق پڑا
سال 2015 2016 2017
ہندوستان کی رینکنگ 134 131 130
ملک میں اسکل ڈیولپمنٹ کا پروگرام یو پی اے سرکار کے دور سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ یو پی اے سرکار نے 2022 تک 15کروڑ نوجوانوں میں اسکل کا ہدف رکھا تھا۔ 15 جولائی 2015 کو اسکل انڈیا اسکیم کی شروعات کرتے ہوئے موجودہ سرکار نے اس ہدف کو بڑھا کر 40کروڑ کر دیا۔ اس اضافہ کی وجہ وزیر اعظم کا وہ انتخابی وعدہ ہو سکتاہے، جس میں انہوں نے نوجوانوں کو روزگار دینے کی بات کہی تھی۔ ظاہر ہے اس معاملے میں سرکار کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ جس ملک کی آبادی کا 65فیصد نوجوان ہوں، وہاں اس طرح کے اسکیم کی ضرورت ہے۔ لیکن صرف اسکیم بنا دینے سے یا اس کو شروع کر دینے سے ہی کام نہیں چلتا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک جو اعدادو شمار سامنے آئے ہیں، ان سے ظاہر ہوتاہے کہ سرکار نے جلد بازی میں اس اسکیم کو ایک وسیع شکل دے دیا اور اس کے بعد اعدادو شمار کی لیپا پوتی میں لگ گئی۔
شروعات میں اسکل انڈیا کے لئے 1500 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا۔ اس کا ہدف 24لاکھ نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ کی ٹریننگ دینی تھی لیکن اسکیم کے پہلے مرحلہ میں صرف پانچ فیصد ٹرینڈ نوجوانوں کا ہی پلیس منٹ ہو سکا، وہ بھی کم اسکل کی نوکریوں میں۔ جبکہ اس اسکیم کی نوڈل ایجنسی ، نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( این ایس ڈی سی ) نے اس کے لئے 1,000 کروڑ روپے دسمبر 2016 تک جاری کر دیے تھے ۔ مطلوبہ نتائج نہیں آنے کے باوجود سرکار نے اسکل انڈیا کے بجٹ کو حالیہ مالی سال میں بڑھا کر 6000کروڑ روپے کر دیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ 2022 تک کے 40 کروڑ روپے کے ہدف کو کم کر کے 15 کروڑ کردیاگیاہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ ( ڈی جی ای ٹی ) کے سابق صدر شاردا پرساد کی صدارت والے سرکاری پینل نے اپنی رپورٹ میں پی ایم اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم (پی ایم کے وی وائی ) کے نفاذ پر این ایس ڈی سی کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے ریمارکس کیا ہے کہ پی ایم کے وی وائی ، یو پی اے سرکار کے نقش قدم پر چل رہی ہے اور پرائیویٹ وکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی جیبیں گرم کررہی ہیں۔ این ایس ڈی سی کے ذریعہ جاری کئے گئے اعدادو شمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ این ایس ڈی سی کے مطابق پچھلے سال 20لاکھ نوجوانوں کو پی ایم کے وی وائی کے تحت ٹریننگ دی گئی تھی۔
اس میں ایک دلچسپ اعدادو شمار یہ ہے کہ صرف 34 اداروں نے ( جو کل معاہدہ شدہ اداروں کا صرف 0.2فیصد ہے) لگ بھگ 40 فیصد امیدواروں کا اسکل ڈیولپمنٹ کر دیا۔ ظاہر ہے یہ صرف اعدادو شمار کا کھیل ہے اور ان اعدادو شمار میں کئی جھول ہیں۔ یہاں اس حقیقت پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ جنوری 2016 میں جاری اسپائڈرنگ مائنڈ نیشنل امپلائی بلیٹیرپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک کے انجینئرنگ کالجوں سے پاس ہونے والے 80فیصد سے زیادہ انجینئروں کو نوکری نہیں دی جاسکتی۔ ایسے میں اگر انجینئرنگ کالجوں سے ماہر انجینئر نہیں نکل رہے ہیں تو ٹوٹے پھوٹے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ووکیشنل کالجوں سے ماہر کاریگر کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار اپنی پالیسی کی جانچ کرے اور زمینی سطح پر چیزوں کو ٹھیک کر کے ، اس سمت میں آگے بڑھے۔
اسٹارٹ اپ انڈیا
نئی صنعت شروع کرنے والے کاروباریوں کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی نے 16جنوری 2016 کو اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم کی شروعات کی۔ اس اسکیم کے لئے 10,000کروڑ روپے کے بجٹ کی تجویز ہوئی۔ اسٹارٹ اپ صنعتکاروں کے لئے تین سال کے ٹیکس ہولی ڈے، پونجی فائدہ میں ٹیکس سے چھوٹ، انسپکٹر راج سے آزاد کاروباری ماحول اور دیگر کئی طرح کے حوصلہ افزا اعلانات کئے گئے تھے۔ حالانکہ اسٹارٹ اپ اسکیم شروع ہوئے ابھی صرف ایک سال ہی ہوئے ہیں اور اتنی جلد اس سے کسی اچھے نتیجے کی امید رکھنا جلد بازی ہوگی۔ لیکن اسٹارٹ اپ سے جڑی جو رپورٹس آرہی ہیں، وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ اب تو کئی اداروں نے اس کی ناکامی کے اسباب بھی تلاش کرنے شروع کردیئے ہیں۔
2014اور 2015 میں اسٹارٹ اپ کی تعداد میں آئی اچھال کے بعد 2016 میں نئے اسٹارٹ اپ کی تعداد میں نہ صرف کمی آئی، بلکہ اسٹارٹ اپ کے بندہونے کی تعداد میں 50 اضافہ بھی درج کیا گیا ہے۔ ٹرکشن نام کے ادارہ کے مطابق 2016 میں 212 اسٹارٹ اپ بند ہوئے، جبکہ ایک سال پہلے یہ تعداد 144 تھی۔ آئی بی ایم کے ذریعہ کرائے گئے ایک جائزہ میں پایا گیا کہ 100 صنعتی سرمایہ کاروں ( وینچر کیپیٹل انوینٹرس ) میں سے تقریباً دو تہائی مانتے ہیں کہ ہندوستان میں اسٹارٹ اپ کو مل رہی ناکامی کی وجہ کاروبار میں غیر اخلاقی رویہ ہے۔ جبکہ دوسرے دیگر اداروں نے اس کے لئے کمزور کارپوریٹ سسٹم اور صنعتی ناتجربہ کاری کو قصوروار بتایا ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ 2017 میں بھی اس میں کمی درج کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ کئی ماہرین اسٹارٹ اپ کے مستقبل کو لے کر پُرامید ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بھلے ہی آج اسٹارٹ اپ کے نتیجے حوصلہ افزا نہیں ہیں لیکن سرکاری تعاون اس میں مددگار ثابت ہوگی اور آنے والے وقت میں اس کے اچھے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *