صفائی سروے میں شہروں کی رینکنگ کوئی معیار و پیمانہ کیوں نہیں ؟

جس اتر پردیش نے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی عزت بچائی ،اسی اتر پردیش کو مودی سرکار کے ’کلین سٹی سروے ‘ (سی سی ایس )نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ملک بھر کے شہروں کی صفائی کا سروے کرنے میں لگی ایجنسیوں پر رشوت خوری کے الزام بھی لگے اور تمام اختلافات کے حالات سامنے آئے اور جب سروے کی رپورٹ عام ہوئی تو الزامات اوراختلافات پر مہر لگ گئی۔
صفائی کا سروے کرنے والی ایجنسی نے کس اندھے پن سے صفائی کی جانچ پرکھ کی ، یہ اس بات سے ہی پتہ چلتا ہے کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو کوصفائی کے درجے میں 269ویں نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ گندگی کے لئے مشہور بہار کی راجدھانی پٹنہ کو 262 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔لکھنو کی بات چھوڑیئے، بہار کے ایک ضلع بہار شریف کو صفائی میں 147واں درجہ ملا جبکہ جاننے والے یہ جانتے ہیں کہ بہار شریف کی صفائی اور لکھنو کی صفائی میں کتنا زمین و آسمان کا فرق ہے۔بنارس کی گندگی اور افراتفری کے بارے میں کون نہیں جانتا، لیکن مرکزی سرکار کے صفائی سروے میں بنارس کو 32ویں درجے پر رکھا گیا ہے۔
عام چرچا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ ہونے کے سبب بنارس کو یہ درجہ ملا، بھلے ہی شہر اتنا صاف ہو یا نہ ہو۔ راجدھانی کی حیثیت سے دیکھیں تو صفائی سروے میں صاف صفائی کو کم اور سیاسی حیثیت کو زیادہ ترجیح دی گئی اور اسے ہی معیار مانا گیا۔ لکھنو کو 269 واں درجہ ملنے کے بعد یو پی کے لوگ راجناتھ سنگھ کی سیاسی حیثیت پر بات کرنے لگے ہیں۔ لکھنو راجناتھ سنگھ کا ہی پارلیمانی حلقہ ہے ۔بہار شریف وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا حلقہ ہے، لہٰذا اس حیثیت سے بہار شریف کو 147واں درجہ ملنا ہی تھا۔
سی ایس ای کی گرفت
ماحولیاتی شعبے میں ریسرچ کرنے والی ایجنسی سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ (سی ایس ای ) نے تو کہا بھی ہے کہ مرکزی سرکار کے ذریعہ صاف ستھرا شہر چنے جانے کاعمل ہی بنیادی طور سے غلط ہے۔ سی ایس ای کے مطابق صفائی سروے میں سب سے اوپر آئے شہروں نے کچرا مینیج کے جن طریقوں کو اپنایا ہے، وہ ماحولیات کیلئے قطعی مناسب نہیں ہیں۔ سی ایس ای نے سروے کارکردگی پر سنگین سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اسے فوری طور پر بدلا جانا چاہئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تین سب سے اوپر آئے شہروں نے کچرا مینیج کے جن طریقوں کو اپنایا ہے، وہ لمبے وقت تک ماحولیات کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ستم ظریقی یہ ہے کہ جو شہر ماحولیات کے مناسب کچرا مینیج کے طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں، انہیں صفائی کی لسٹ میں بہت نیچے درجہ دیا گیا ہے۔ سی ایس ای کے مطابق صفائی سروے کے سب سے اوپر تین صاف شہر، اندور ، بھوپال اوروشاکھاپتم کچرا اٹھا کر سیدھے ملبہ کی جگہ (لینڈ فیل) پر لے جاتے ہیں، جو ماحولیات کے قطعی مناسب نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ شہر میونسپل سالیڈ ویسٹ ( ایم ایس ڈبلیو ) رول 2016 کی تعمیل نہیں کررہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شہروں کی صفائی کو لے کر ہوئے سروے میں مدھیہ پردیش کے اندور کو ملک کا سب سے صاف شہر بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش کے بھوپال ، آندھرا پردیش کے وشاکھا پتم اور گجرات کے سورت کا نمبر ہے۔
سروے کے سب سے اوپر شہروں میں 31 شہر مذکورہ 3 ریاستوں سے ہیں۔ ان سبھی 31شہروں میں کچرے کو سیدھے پاور پلانٹس میں بھیجا جارہا ہے یا پھر ڈمپنگ کے لئے لینڈفیل کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جبکہ گھریلو سطح پر کچرے کو الگ کرنے والے اور اس کے دوبارہ استعمال کے لئے کام کرنے والے شہروں کو سروے میں خراب رینکنگ دی گئی ہے۔ کیرل کے الپوچھا شہر میں کچرا مینیج کے ڈیسنٹرالائز ماڈل کا استعمال ہوتا ہے۔ اسے سروے میں 380واں درجہ دیاگیا ہے۔ اسی طرح گوا میں پنجی شہر 90ویں درجے پر ہے، جس نے کچرا مینج کے لئے سب سے بہتر پالیسی اپنا رکھی ہے۔ الوپجھا اور پنجی میں کوئی بھی لینڈ فیل سائٹ نہیں ہے۔ ساتھ ہی ان شہروں میں کچرے سے توانائی پیدا کرنے والے پلانٹ بھی نہیں لگے ہیں۔ان شہروں کے زیادہ تر کچرے کا استعمال کمپوسٹ کھاد یا پھر بایو گیس بنانے میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک ، دھات اور کاغذ وغیرہ کو ریسائیکلنگ کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔یہ شہر کچرے سے پیسہ بھی بنا رہے ہیں جبکہ دوسرے شہر کچرے کو اکٹھا کرنے اور لینڈفیل تک لے جانے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں، پھر بھی ان شہروں کو صفائی سروے میں بہت نیچے درجہ ملا ہے۔
یو پی سب سے پھسڈی
2017 کے صفائی سروے کے مطابق صفائی کے معاملے میں اترپردیش سب سے پھسڈی ثابت ہوا ہے۔ ملک کے 10 سب سے گندے شہروں میں پانچ شہر یو پی کے ہیں۔ اتر پردیش کا ایک بھی شہر سب سے اوپر 30صاف شہروں میں شامل نہیں ہے۔ اترپردیش میں بنارس کو صفائی کے معاملے میں 32ویں درجے پر رکھا گیا تو یوپی کی راجدھانی لکھنو کو269 واں درجہ ملا۔ ملک کو 434 شہروں میں کرائے گئے ’سوچھ بھارت سروے‘ کے بعد مرکزی سرکار نے پچھلے دنوں اس کی رپورٹ جاری کی تھی۔
صفائی کے معاملے میں سب سے خراب ریکارڈ والے 10شہروں میں یوپی کے پانچ ، بہار اور پنجاب کے دو اور مہاراشٹر کا ایک شہر شامل ہے۔ صفائی سروے کے تحت جاری کل 434 شہروں کی لسٹ میں اتر پردیش کا گونڈہ شہر سب سے گندہ شہر ثابت ہوا، وہیں مہاراشٹر کا بھوساول 433 ویں پائدان پر رہا۔ اس کے بعد کی ترتیب میں بہار کا بگہا، اتر پردیش کا ہردوئی، بہار کا کٹیہار، اتر پردیش کا بہرائچ، پنجاب کا مکتسر اور ابوہر، اتر پردیش کا شاہ گنج اور خورجہ ملک کے دس سب سے گندے شہروں میں رکھا گیا۔
434 شہروں کی صفائی لسٹ میں اتر پردیش کے 61 شہر شامل ہیں، لیکن سب سے اوپر 30 میں یوپی کا کوئی شہر نہیں ہے۔وارانسی 32ویں درجے پر ہے۔ اترپردیش کی راجدھانی لکھنو 269 درجے پر ہے۔ یوپی کے دوسرے شہروں میں علی گڑھ 145، جھانسی 166، کانپور 175، روڑکی 218، سہارنپور145، جونپور 246، الٰہ آباد247، ایودھیا 252، آگرہ 263، ارئی 273،بریلی 298، چندولی 305، سلطانپور 309، گورکھپور 314، للت پور 320، مراد آباد 321، شاملی 326، لونی 331، اکبر پور 333، اٹاوہ 336، دیوریا338، میرٹھ 339، مظفر نگر 344، غازی آباد 351، متھرا 352، مودی نگر 360، بلیا 361، مئو ناتھ بھنجن 370، پیلی بھت 374، فیروز آباد 375، فرخ آباد377، مین پوری 379، مغل سرائے 382، فیض آباد 383، باندہ 385، بستی 386، مرزاپور 289، امروہا 389، رائے بریلی 394، ،اعظم گڑھ 398، رام پور 399، شکوہ آباد 401، ایٹا 406، سیتا پور 407، ہاتھرس 408، کاس گنج 409، لکھیم پور 410، فتح پور 412، غازیپور 413، انّائو 417،بدایوں 426، بڑوت 421، بلند شہر 423، اور ہاپور 424ویں درجے پر ہیں۔
نایاب مثال
صفائی سروے کی شفافیت کی نایاب مثال یہ ہے کہ سروے میں اترپردیش کے شہروں کو نیچے کا درجہ تو پکڑا دیا گیا، لیکن مرکزی سرکار نے اترپردیش کے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ذاتی گھریلو ٹوائلٹ کی 11 لاکھ سے زیادہ درخواستیں کیوں رد کرد ی گئی تھیں؟صفائی سروے کی پھر کیا اہمیت رہی؟یہ سوال ریاست کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ صفائی مشن کے تحت مرکز کے اربن ڈیولپمنٹ منسٹری کے ذریعہ بنوائے جارہے ٹوائلٹ کے لئے 2014 سے لے کر اب تک اترپردیش سے کل 25لاکھ 52ہزار 744 درخواستیں دی گئیں۔ ان میں سے 11لاکھ پانچ ہزار 568 درخواستیںرد کر دی گئیں۔ ان درخواستوں کو رد کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔صفائی کے درجے میں نیچے دھکیلے گئے یو پی کے شہروں کے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب ٹوائلٹ بننے کی اجازت ہی نہیں دی جائے گی تو ریاست کے شہر صاف ستھرے شہروں کے درجے میں کیسے آئیں گے؟صفائی سروے کی رپورٹ کہتی ہے کہ اتر پردیش میں تعمیر کرائے گئے گھریلو ٹوائلٹوں کی تعداد صرف 47.70 فیصد ہے۔
رینکنگ کے لئے بھی رشوت
شہروں کی صفائی کے درجے میں لگی ایجنسی جب رشوت مانگے گی تو فطری طور سے سروے غیر جانبدار نہیں ہوگا اور اس میں تمام قسم کے امراض داخل ہوں گے ۔ایجنسی نے بہتر رینک دینے کے لئے رشوت مانگی۔ ایجنسی پکڑی گئی۔ اس کی ایک اکائی کو سروے کے کام سے رو ک دیا گیا لیکن سروے چلتا رہا۔ یہ معاملہ پکڑے جاتے ہی مرکزی سرکار نے فوراً سروے کا کام ملتوی کر کے اسے دوسری ایجنسی کو سونپنے اور نئے سرے سے سروے کا کام کرانے کا فیصلہ کیوں نہیں لیا؟اس سوال کا مرکزی سرکار نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ الٹے مرکز نے اس مسئلے پر خاموشی ہی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اس مسئلے میں جو بھی جواب آیا، وہ کام کرنے والی ایجنسی کی طرف سے ہی آیا۔ مرکزی اربن ڈیولپمنٹ منسٹری نے اس معاملے میں خاموشی ہی اختیار کر رکھی ہے۔
اچھی رینکنگ دینے کے لئے رشوت دینے کا معاملہ مہاراشٹر کے اورنگ آباد شہر میں اجاگر ہوا۔ سروے کرنے والی ٹیم نے بہتر رینکنگ دینے کے لئے اورنگ آباد نگر نگم کے افسروں سے رشوت مانگی تھی۔ معاملہ اجاگر ہونے کے بعد کوالٹی کونسل آف انڈیا ( کیو سی آئی ) نے سروے کرنے والی ٹیم کو معطل کردیا ۔آپ یہ جانتے چلیں کہ سینٹرل اربن ڈیولپمنٹ منسٹری نے’ سوچھ بھارت مشن‘ کی پروگریسیو کا وسیع پیمانے پر سروے کرنے اور صاف صفائی کی بنیاد پر شہروں کی رینکنگ کا ذمہ کیو سی آئی کو ہی دے رکھا تھا۔ رشوت مانگے جانے کے واقعہ کی سرکاری تصدیق ہوئی کہ اورنگ آباد نگر نگم کے افسروں نے رشوت مانگنے والی ٹیم کو پکڑا اور انہیں باقاعدہ پولیس کے حوالے کیا۔ سروے میں لگائی گئی ٹیم موڈی انٹر نیشنل (انٹر ٹیک ) سے آئی تھی، جو 44ملکوں میں سروے کا کام کر رہی ہے۔ صفائی کے معیار کی جانچ کے لئے کیو سی آئی نے عالمی سطح پر منظوری حاصل کرکے چار جانچ اکائیوں کو سروے کا ذمہ سونپا تھا لیکن جانچ کی غیر جانبداریت اور شفافیت الزامات میں پھنس گئی۔ کیو سی آئی نے سرکاری طور پر یہ ضرور کہا کہ موڈی انٹر نیشنل (انٹر ٹیک ) کو سروے سے الگ کر دیا گیا اور جہاں پر بھی متنازعہ ٹیم نے سروے کیا، ان سبھی جگہوں کی جانچ کے لئے ایک انٹرنل کمیٹی تشکیل کی گئی۔لیکن اس عمل سے عام شہریوں کے ان سوالوںکاجواب نہیں مل پایا کہ بہتر رینکنگ دینے کے لئے دیگر شہروں کے نگر نگموں سے رشوت نہیں لی گئی ، اس کی کیا گارنٹی ہے؟
دہرادون اور نینی تال بھی صاف نہیں
شہروں کی صفائی جانچ کے لئے کئے گئے سروے میں اترا کھنڈ کا کوئی شہر200 تک کی لسٹ میں بھی اپنی جگہ نہیں بنایا پایا۔ اسے لے کر اتراکھنڈ کے لوگوں میں بھی کافی ملال ہے۔ سروے کی رپورٹ آتے ہی اترا کھنڈ سرکار نے راجدھانی دہرا دون سمیت کئی شہروں کی صفائی اور اس کو خوبصورت بنانے کا کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ صفائی سروے کی رپورٹ کے مطابق اترا کھنڈ کی راجدھانی دہرا دون کو 316 ویں درجے پر رکھا گیا ۔ اس سروے رپورٹ نے ’سوچھ دون، سندر دون ‘ کے نعرے کا ستیا ناش کر دیا۔ سروے میں اترا کھنڈ کے 6شہروں کو شامل کیا گیا جن میں رڑکی کو 218 واں ،ہری دوا ر کو 244 واں، کاشی پور کو 256 واں ،دہرا دون کو 316واں ، نینی تال کو 330 واں اور ہلدوانی کو 395 واں درجہ ملا ہے۔
صفائی میں سب سے اوپر رہے 10 شہر
1۔ اندور (مدھیہ پردیش)
2۔ بھوپال (مدھیہ پردیش)
3۔ وشاکھاپتم (آندھرا پردیش)
4۔ سورت ( گجرات )
5۔ میسور (کرناٹک)
6۔ تیرچیراپلی (تمل ناڈو)
7۔ نئی دہلی (دہلی میونسپلٹی کونسل ایریا )
8۔ نوی ممبئی (مہاراشٹر)
9۔ تیروپتی (آندھرا پردیش)
10۔ ودودرا (گجرات)۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *