کشمیر میں انتخابات کا بائیکاٹ ایک بڑا سیاسی پیغام ہے

damiسری نگر لوک سبھا حلقے کے ضمنی انتخاب میں جو کچھ ہوا، اس نے نومبر 1989 کی میری یاد تازہ کردی ہے ۔ اس وقت کی فاروق عبداللہ سرکار نے وادی میں مسلح تحریک کے شروع میں بارہ مولا اور اننت ناگ کی دو سیٹوں کے لئے انتخاب کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب ہندوستان کے خلاف عام لوگوں کا غصہ بھڑکا نہیں تھا، کیونکہ بندوق دھاری کشمیری لڑکوں نے ابھی ابھی اپنا سر اٹھایا تھا اور ایک چنی ہوئی سرکار اقتدار میں تھی۔لیکن ملی ٹینٹس نے یہ کوشش کی کہ صرف پانچ فیصد لوگ ہی ووٹنگ کر سکیں۔ اس انتخاب میں سیف الدین سوز بارہ مولا اور پیارے لال ہنڈو اننت ناگ سے چن کر پارلیمنٹ پہنچے۔ سری نگر کے معاملے میں نیشنل کانفرنس کے محمد شفیع بٹ کو چھوڑ کر باقی سبھی امیدوار ڈر سے میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ نتیجتاً شفیع بلا مقابلہ چن لئے گئے ۔
سری نگر سے نکلنے والا اکلوتا انگریزی روزنامچہ ’’پوسٹ ‘‘ کے ٹرینی رپورٹر کے طور پر میں یہ دیکھ کر خوفزدہ تھا کہ تقریباً ہر ایک ووٹنگ سینٹر پر یا تو گولی چلی تھی یا بم۔ ان انتخابی حلقوں میں 100 سے زیادہ حملے ہوئے تھے۔ ان حملوں نے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے پر مجبور کردیا تھا۔ ابھی مکمل بغاوت کے کونپل نہیں پھوٹے تھے،لیکن ملی ٹینٹس نے اپنی موجودگی درج کرا دی تھی۔ بڑی سیکورٹی تعیناتی کے باوجود وہ مکمل بائیکاٹ کروانے میں کامیاب رہے۔
9 اپریل2017 کو جب میں دن بھر کی سرگرمیوں کو دیکھ رہا تھا، تو کئی پرانے مناظر دماغ میں چلنے لگے۔یہ تقریباً اسی طرح کی صورت حال تھی ۔دن گزرنے تک ووٹنگ فیصد 8 کا آنکڑا بھی پار نہیں کر سکا۔ اس بار کردار دوسرے تھے۔ حالانکہ ملی ٹینٹس اب بھی تصویر کا حصہ ہیں اور ان کا نمونہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مزید سودیشی ہوا ہے۔ لیکن اس بار ہوئے خون خرابے کے کردار سویلین تھے۔اگر 1998 میں نوجوان کشمیریوں نے بندوق اٹھائی تھی تو آج کی نسل نے اپنے ہاتھوں میں پتھر اٹھا رکھے ہیں۔ الیکشن کو ناکام کرنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے اور پولیس و نیم فوجی دستوں سے مقابلہ کیا اور الیکشن اہلکار و افسروں کو بھگایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2002 کے بعد ہونے والے سبھی انتخابات عام طور پر پُرامن اور صاف ستھرے رہے ہیں۔ جسے انتخاب میں حصہ نہیں لینا تھا، وہ اپنی مرضی کا مالک تھا اور اس پر کوئی زور زبردستی بھی نہیں تھی۔چھ سال کے وقفہ پر جب 1996 میں الیکشن ہوا تو اسے سیکورٹی دستوں کی زور زبردستی کے لئے یاد کیا گیا۔ بہر حال آنے والے انتخابات میں جب لوگوں نے ووٹ دیئے اور ووٹنگ 65 فیصد تک پہنچ گئی تو اسے ہندوستان کی جیت کی شکل میں مشہور کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ لوگوں نے ہندوستانی جمہوریت میں اپنا اعتماد دکھایا ہے۔
لیکن 9اپریل کے انتخاب میں جو ہوا، وہ زمینی حقیقت پر کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ کچھ جگہوں پر تشدد کی وارداتوں نے کچھ لوگوں کو اس عمل میں حصہ لینے سے روکا ہوگا، لیکن ہندوستانی نظام کے خلاف لوگوں کے غصے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔یہ غصہ 2016 میں بھی ظاہر ہوا تھا۔ اس سطح پر الیکشن کا بائیکاٹ یا مخالفت ایک بڑا سیاسی پیغام ہے۔ اس کا اعتراف اننت ناگ میں 12اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرکے سرکار نے کیا۔ اگر ملی ٹینٹس نے 1989 کے انتخاب کو ناکام بنایا تھا تو اس بار عام لوگ تھے، جو اس عمل پر اپنی مہر نہیں لگانا چاہتے ہیں۔ اننت ناگ کے امیدوار جو کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بھائی ہیں ،نے الیکشن کمیشن سے انتخاب ملتوی کرنے کی اپیل کی، جسے کمیشن نے منظور کرلیا۔برسراقتدار پارٹی کے امیدوار کی اس اپیل نے ایک بہت بڑا پیغام دیا۔
اگر ووٹنگ زیادہ ہوئی ہوتی تو نئی دہلی اسے اپنی حکومت کی منظوری کے طور پر دیکھتی لیکن ووٹنگ کی اتنی کم فیصد پر بھلا وہ کیا کہے گی؟کم ووٹنگ کو اس نظام کے خلاف فیصلہ مانا جانا چاہئے۔ یہ دلیل کہ پاکستان اور ملی ٹینٹس نے منفی ماحول بنایا ہے، پوری طرح سے صحیح نہیں ہے۔ ہم کئی مہینوں سے دیکھتے آئے ہیں کہ مقامی آبادی ملی ٹینٹس کا بچائو کرنے اور انہیں بھاگ جانے میں مدد کرنے کیلئے اپنے گھروں سے نکل رہی ہے۔ جن لوگوں نے بپھرے ہوئے ملی ٹینٹس کا دور دیکھا ہے، وہ حیرت کرتے ہیں کہ لوگ کیسے انکائونٹر کی جگہ کی طرف جارہے ہیں، جبکہ 90 کی شروعات میں لوگ انکائونٹر کی جگہ سے دور بھاگتے تھے۔ انتخابی عمل کی ناکامی کے ساتھ یہ اصول بھی ناکام ہو گیا کہ لوگ صرف نظامِ حکومت کے لئے اپنا نمائندہ چنتے ہیں۔ مین اسٹریم کی سیاسی پارٹیاں (جن میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کانگریس شامل ہیں ) پہلے کی طرح انتخابی تشہیر بھی نہیں کر پائیں۔ یہ زمینی حقیقت کی طرف صاف اشارہ ہے۔ ایک لوک سبھا کی سیٹ کے لئے 8لوگوں کا مارا جانا، ایک بہت بڑی قیمت ہے۔ جیتنے والے کے لئے یہاں ایک اخلاقی کشمکش ہے ،جس کی وجہ صرف کم ووٹنگ ہی نہیں ہے۔
آزادی کے لئے بڑھتی ہوئی حمایت کے علاوہ یہ سرکار کی بڑی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ انتظامیہ کو کشمیر کے حالات کی جانکاری ایک لمبے وقت سے تھی، لیکن ان حالات سے غلط طریقے سے نمٹنا انتظامیہ کی شناخت بن گئی ۔ اس میں جوابدہی کی بھی کمی تھی۔ احتجاجیوں کو بھگانے کے بجائے انہیں گولی مارنا بُلیٹ کا پہلا متبادل بن گیا۔جس آزادی کے ساتھ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے 2008 کے بعد کشمیر میں حالات کامقابلہ کیا ہے، اس نے انہیں ناگزیر بنا دیا اور سیاسی قیادت نے ہمیشہ ان کا بچائو کیا۔ بلیٹ کے اس استعمال نے لوگوں کے غصے و مخالفت کو اور بھڑکا دیا اور نوجوانوں کو ملی ٹینسی اپنانے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ نئی دہلی نے انتخاب ملتوی کر کے کیا زمینی سطح پر اپنی شکست قبول کرلی ہے؟ظاہری طور پر یہ فیصلہ ان لوگوں کو حوصلہ دے گا، جو سرکار کی ہدایات کو چیلنج دے رہے ہیں۔ متحدہ حریت کانفرنس جو کہ اس نئے احتجاج کو آپریٹ کر رہی ہے، (بھلے ہی اس کا اس احتجاج پر پورا کنٹرول نہیں ہو ) نے اسے اپنی بنیادی جیت قرار دیا ہے۔دہلی کا اس احتجاج کے سامنے جھک جانا اس کے پہلو کو کمزور کر دے گا۔ دہلی اب تک الگ رخ اپنائے ہوئے تھی اور دنیا کو بتا رہی تھی کہ کشمیر میں جمہوریت پھل پھول رہی ہے۔ 9اپریل کے ضمنی انتخاب کے بعد اگلے انتخاب کو ملتوی کرنے کا مطلب دہلی کو سمجھانا پڑے گا۔ یہاں تک کہ فارق عبد اللہ، عمر عبداللہ اور کانگریس کے ہیڈ آف اسٹیٹ جی اے میر نے بھی یہ قبول کیا ہے کہ اسٹیٹ کے مین اسٹریم کی پارٹیوں نے اپنی زمین کھو دی ہے۔ لہٰذا دیوار پر لکھی عبارت صاف ہے۔
کشمیر کبھی بھی جمہوری عمل کے خلاف نہیں رہا۔ 2003 سے 2007 تک کا عرصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں لوگ اس عمل میں اعتماد رکھتے ہیں جس کا ہدف مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔ بہر حال پچھلے8 سال کے واقعات نے یہ بتایا ہے کہ نئی دہلی کشمیر میں صرف بندوق کی گولیوں کے سہارے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہے۔پچھلے دو سالوں میں خطروں اور اشتعال انگیزی (پروکیشنس)نے صورت حال کو اور مشکل کر دیا ہے۔ یہ پیغام کہ جموں و کشمیر ایک قانون اور نظام کا ایشو ہے، وہ زمینی سطح پر قبول نہیں کیا گیا۔ کشمیری نوجوان آج یہ کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ہیں کہ میں بھارتی نہیں ہوں۔ وہ پتھر سے نیم فوجی دستوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور انہیں چیلنج دیتے ہیں کہ مجھے مار دیں۔ اب ایسی صورت سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے ؟دراصل سیاسی سرگرمی کی غیر موجودگی نے دہلی کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کیا ہے لیکن اگر سیاسی افواہوں میں کوئی سچائی ہے، تو دہلی مسئلے کے سیاسی حل کے حوالہ سے نہیں سوچتی ، بلکہ وہ مانتی ہے کہ اگر تشدد ہوتا بھی ہے، تو اس میں صرف کشمیری ہی اپنی جان کھوتے ہیں۔انتخابی بائیکاٹ اور تشدد جس نے دہلی کو انتخاب ملتوی کرنے کے لئے مجبور کیا، ایک بڑا سیاسی پیغام ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *