بی جے پی ہی اب کانگریس ہے

گزشتہ کچھ مہینوں میں ملک کا سیاسی منظر پوری طرح سے بدل چکا ہے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد، ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ بی جے پی مضبوط ہوئی ہے۔ دہلی میونسپلٹی الیکشن کے نتائج نے اس دعوے کو مزید مضبوطی عطا کی ہے۔بی جے پی کے لوگوں ، اس کے حامیوں اور اس کے ووٹروں میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ملک نے بی جے پی کو اپنا رہنما قبول کرلیا ہے۔یہاں یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اتر پردیش میں گزشتہ دو انتخابات سے بی جے پی ایودھیا میں رام مندر کے ایشو پر الیکشن جیتنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس الیکشن میں یہ ایشو تقریباً نہیں کے برابر تھا۔ اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس الیکشن میں ترقی، روزگار، سب کا ساتھ سب کا وکاس اور انفراسٹرکچر کو ایشو بنایا گیا تھا ۔ظاہر ہے کہ روزگار کا موقع نوجوانوں کو راغب کرتا ہے۔ ہندوستان نے 1947 سے لے کر آج تک شاندار ترقی کی ہے، لیکن آبادی میں اضافہ کے سبب بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لہٰذا کوئی بھی پارٹی، چاہے وہ جس نقطہ نظر کی ہو، جب تک روزگار فراہم کرانے اور قوتِ خرید بڑھانے کا وعدہ نہیں کرتی، نوجوان اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
کیا ہمارے پاس کوئی متبادل سوچ ہے؟
بی جے پی کی جیت کو لے کر سنگھ پریوار کے لوگ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ سنگھ کے نقطہ نظر کی جیت ہے۔ ظاہر ہے، کسی ایشو پر اپنا نقطہ نظر رکھنے کے لئے ہر شخص آزاد ہے۔یہاں میں یہ صاف کر دوں کہ کانگریس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دس برسوں کے اپنے دور حکومت میں کانگریس نے متعدد غلطیاں کی ،جو اس کی شکست کا سبب بنیں،گزشتہ دنوں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ایک دوست سے بات چیت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی آج ملک کے اکلوتے عوامی ہردلعزیز لیڈر ہیں۔ کسی بھی پارٹی میں ایسا کوئی لیڈر نہیں جو ان کے کرشمہ، ان کی تقریر کا انداز اور ان کی مقبولیت کا مقابلہ کر سکے۔دوسری بات یہ کہ کانگریس پر بد عنوانی کے کئی الزمات ہیں،جبکہ بی جے پی کے تین برسوں کے دور حکومت میں بد عنوانی کا کوئی بڑا معاملہ اجاگر نہیں ہوا ہے۔
میں ان کی باتوں سے متفق ہوں،لیکن ایک ترمیم کے ساتھ۔1991کی اقتصادی اصلاحات کے بعد لائسنس کے بدلے پیسہ لینے کے مواقع ختم ہو گئے تھے۔کسی بھی سیاسی پارٹی کو الیکشن لڑنے اور اقتدار میں بنے رہنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کانگریس نے اقتصادی اصلاحات ، چاہے وہ کوئلہ ہو یا اسپیکٹرم الاٹمنٹ ہو، کو پیسہ اکٹھا کرنے کے نئے بندوبست کے طور پر اپنایا ۔ سپریم کورٹ نے 2جی اسپیکٹرم اور کول بلاکس الاٹمنٹ کو رد کر دیا۔یہ صحیح ہے کہ بی جے پی پر ابھی تک کسی بڑے گھوٹالے کا الزام نہیں لگا ہے ، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ کول بلاکس الاٹمنٹ اور 2جی لائسنس کے بدلے پیسے کی وصولی کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ان کا الاٹمنٹ بولی لگاکر کیا جائے۔ جب تک بی جے پی پیسے کی وصولی کا کوئی نیا طریقہ نہیں ڈھونڈ لیتی ، تب تک اس پر کسی بڑے گھوٹالے کا الزام نہیں لگ سکتا۔ لہٰذا بی جے پی کی حکومت میں کوئی بڑا گھوٹالہ نہیں ہوا ہے،اس دعوے کو قبول کر لینے میں بھی کوئی ہرج نہیں ہے۔
اب سرکار سے جڑے مثبت پہلو کی طرف لوٹتے ہیں۔بی جے پی نے اپنے تین سال کی دور حکومت میں ایسا کیا کیا ہے جو کانگریس کے دس سال کے کام سے الگ ہے؟اب تک کوئی بھی ایسی اسکیم نہیں دکھائی دی ہے ، جسے بی جے پی نے شروع کیا ہو اور جو ملک میں گزشتہ 70 سال سے ہوتا آرہا ہو، اس سے الگ ہو۔ دراصل بی جے پی کانگریس کی نقل کے معاملے میں کانگریس کو ہی پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پر ، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں خود ہی کہا کہ میں منریگا کو ختم نہیں کروں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ دیکھیں کہ یہ کس طرح کا گھپلہ تھا۔ فی الحال غریبی کے خاتمے کے لئے وہ منریگا پر بھروسہ کررہے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کررہے ہیں۔اسی طرح آدھار کارڈ کا معاملہ ہے۔ جب تک بی جے پی اپوزیشن میں تھی، آدھار کی تنقید کرتی رہی، لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ آدھار کو ہر ایک چیز کی بنیاد بنا دینا چاہتی ہے۔ اس میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر بھی شامل ہے۔ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر چدمبرم کے دماغ کی پیداوار تھی۔ بی جے پی کے پاس نئی اسکیمیں کہاں ہیں؟جو اسکیمیں ہیں ،ان کا سہری یا تو چدمبرم کو جاتا ہے یا سونیا گاندھی کی نیشنل ایڈوائزری کائونسل کو ۔یہ ساری اسکیمیں جن سنگھ کی اصلی اسکیمیں نہیں ہیں۔ بہر حال سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس کوئی متبادل سوچ ہے؟
موجودہ سرکار ،کانگریس پلس گائے سرکار ہے
یہ صحیح ہے کہ 70 سال کے بعد قیادت بدلی ہے۔آر ایس ایس کی سوچ حکومت میں آئی ہے تو کیا آر ایس ایس اس سوچ کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی لاگو کر پایا ہے۔سشما سوراج نے جوش میں کہہ دیا کہ بھگود گیتا کو ہندوستان کا مقدس گرنتھ اعلان کر دینا چاہئے۔وزیر اعظم نے عوامی طور پر کہا کہ ملک میں صرف ایک قومی کتاب ہے، اور وہ ہے ہندوستان کا آئین۔ سنگھ پریوار کئی ہندو نواز یا ہندوتوا نواز اسکیمیں لاگو کروانا چاہتا ہے۔ گائے ایک بڑا ایشو ہے۔ بی جے پی کے ایک پرانے لیڈر ارون شوری نے دو سال پہلے کہا بھی تھا کہ موجودہ سرکار ،کانگریس پلس گائے سرکار ہے۔
اب گائے کا ایشو ہی دیکھئے۔گائے کو لے کر ایک تھینک ٹینک ہونا چاہئے۔ اس پر بحث ہونی چاہئے۔ ایک پالیسی ہونی چاہئے ، جو کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ گائے کے نام پر کسی کے اوپر کیچڑ اچھالنا، بیف کھانے کا الزام لگا کر کسی کا قتل کر دینا، قومی پالیسی نہیں ہے۔ یہ لچر رویہ ہے۔ یہ مسلمانوں میں ڈر کا احساس پیدا کرنا ہے۔ لوگوں نے لوک سبھا میں 281 سیٹیں دے کر نریندر مودی میں اپنا بھروسہ جتایا تھا۔ابھی نریندر مودی کے پاس دِکھنے کے لئے کیا ہے؟کچھ بھی نہیں ہے۔کوئی بھی ایک انوکھی اسکیم نہیں ہے جو کانگریس سے الگ ہو۔ اس ملک میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو گائے کو پوجتے ہیں۔ لیکن آپ ملک کے شمالی مشرقی خطہ میں جائیں گے تو وہاں بیف لوگوں کا بنیادی کھانا ہے۔ گوا ، جہاں بی جے پی حکومت میں ہے، لوگ گئو مانس کھاتے ہیں۔ سوال ہے کہ نیتی آیوگ کیا کر رہا ہے؟لیکن فی الحال اسے اس ایشو پر ایک قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج ملک میں جو سرکار ہے، وہ کانگریس کی متبادل نہیں ،بلکہ کانگریس کی جگہ لینے والی سرکار ہے۔ ایک آدمی گیا اور اس کی جگہ دوسرا آگیا۔ کاغذی کارروائی ویسی ہی ہے، نوکر شاہی وہی ہے، طریقہ کار ویسا ہی ہے۔
یہ نئے اسٹائل کی پالیسی نہیں ہے
سوال ہے کہ کیا اس ملک میں الگ طرح کے نظامِ حکومت کا امکان ہے؟یہ بہتر ہوگا اگر بی جے پی یہ مان لے کہ ہمارے پاس تعداد کی طاقت تو ہے، لیکن ہم کچھ نیا نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ آئین ہمارے سامنے ہے۔جنگ آزادی کی قدر آئین میں شامل ہے۔پہلے کی سرکاروں سے الگ ،کوئی بھی وزیر اعظم پانچ سے دس فیصد سے زیادہ الگ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ مسائل ایک جیسے ہیں، حل بھی ایک جیسے ہیں۔ کوئی انقلابی بدلائو صرف تاناشاہی میں ہی ممکن ہے۔ بی جے پی کو سیاست کا نیا پیٹرن قائم کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر، گوا میں بی جے پی کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ کانگریس نے 17 سیٹیں جیتی ہیں اور ہم نے 13 سیٹیں جیتی ہیں، اس لئے ہم اپوزیشن میں ہی بیٹھیں گے۔یہ گورنر کا سردرد ہے کہ وہ کانگریس کو سرکار بنانے کے لئے بلاتے ہیں یا نہیں بلاتے ہیں۔ یہ ہوتی نئے طریقے کی پالیسی ، لیکن بی جے پی نے وہی کیا جو کانگریس کیا کرتی تھی۔گوا سے بدتر مثال منی پور کی تھی۔ بی جے پی صرف اور صرف کانگریسی روایت کو دوہرا رہی ہے۔نجمہ ہپت اللہ اور مردولا سنہا ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی کے مقرر کردہ گورنر ہیں۔ وہاں سرکار بنانا قانون کے مطابق ہے، آئین قابل قبول ہے ۔لہٰذا میں اس میں کوئی غلطی نہیں دیکھتا لیکن یہ نئے طریقے کی سیاست نہیں ہے۔ اتراکھنڈ میں بی جے پی نے کانگریسیوں کو پارٹی میں شامل کر کے الیکشن لڑا اور سرکار بنا لی۔ سوال ہے کہ انہی پرانے چہروں کے ساتھ بی جے پی نئی سرکار ، نیا نظام حکومت کیسے دے سکتی ہے؟جو کام کانگریس نے 1952 سے 1967 کے دوران کیا، وہی کام اب بی جے پی کررہی ہے۔ ان ابتدائی 15 برسوں میں ہر جگہ کانگریس ہی کانگریس تھی۔ جب 1967 کے بعد لال بہادر شاستری اور جواہر لال نہرو نہیں رہے تو پہلی بار 1967 میں جوائنٹ لیجسلیٹر پارٹی یا اس طرح کا نظام اتر پردیش ، مدھیہ پردیش اور بہار میں آیا۔ چودھری چرن سنگھ، گووند نارائن سنگھ اور کرپوری ٹھاکر وزیر اعلیٰ بنے ۔لیکن اس کی مدت بہت چھوٹی تھی۔ سوال ہے کہ کانگریس کے جو لوگ بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں، کیا وہ جن سنگھ ذہنیت کو بھی اپنا لیں گے؟میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس طرح سے نظم و ضبط میں نہیں لائے جاسکتے،جس نظم و ضبط کے سنگھ کے لوگ عادی ہیں۔ حالانکہ ابھی کچھ کہنا جلد بازی ہوگی، لیکن دیکھتے ہیں کہ اترا کھنڈ کی سرکار کیسے کام کرتی ہے، اتر پردیش کی سرکار کیسے کام کرتی ہے؟لیکن بی جے پی کی دوسری سرکاروں کی صورت حال بھی بہت الگ نہیں ہے۔ گجرات میں ایک لمبے وقت سے ان کی سرکار ہے، وہاں تو ٹھیک ہے،لیکن مہاراشٹر میں کیا صورت حال ہے؟وہاں شیو سینا ہے۔ وہاں اَنا اتنا زیادہ ہے کہ بی جے پی ، شیو سینا کے ساتھ ہم آہنگی نہیں کر پارہی ہے۔
کشمیر پر بی جے پی کیا سوچتی ہے؟
یہ مان لیتے ہیں کہ غریبی ہے، بے روزگاری ہے، ایک دن میں صنعت کاری نہیں کی جاسکتی ہے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی دھیرے دھیرے ہوتی ہے لیکن کشمیر جیسے بڑے ایشو پر بی جے پی کیا کررہی ہے؟کشمیر پر سوائے یہ کہنے کے کہ نہرو نے وہاں غلطی کی، بی جے پی نے کیا کیا؟بیشک نہرو نے وہاں غلطی کی، کیونکہ وہ بھگوان نہیں تھے۔اس غلطی کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری موجودہ سرکاروں کی ہے۔ مسئلے کا حل کرنا ہے۔ کیا بی جے پی نے کشمیر کو لے کر ایک بھی ایسا کام کیا ہے جو کانگریس سے الگ ہے؟کچھ بھی نہیں۔ اٹل بہاری واجپئی اور منموہن سنگھ نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی، شروعات کی اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بی جے پی یہ کام بھی نہیں کررہی ہے۔ مودی کے موجودہ رخ سے یہ لگتا ہے کہ وہ کشمیر مسئلے کا حل سیکورٹی دستوں کی مدد سے کروانا چاہتے ہیں۔ اگر سیکورٹی دستوں کے ہاتھوں سبھی مسائل کے حل ممکن ہوتے تو آج پاکستان ایک بہت ہی امیر ملک ہوتا۔کشمیر ایک حساس ایشو ہے۔ بی جے پی ہمیشہ سردار پٹیل کی خوبیاں بیان کرتی ہے۔سردار پٹیل کشمیر معاملے میں واضح تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے،لہٰذا اسے پاکستان کو دے دینا چاہئے۔یہ حقیقت ہے کہ نہرو کو کشمیر سے لگائو تھا۔کیونکہ وہ ایک کشمیری پنڈت تھے۔ اگر نہرو سے غلطی ہوئی اور اگر بی جے پی مسئلے کا حل سردار پٹیل کی سوچ کے مطابق کرنا چاہتی ہے تو یہ مسئلہ کل ہی حل ہو جائے گا۔
بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ کشمیر پر اس کا نظریہ پہلے کی سرکاروں سے کیسے الگ ہے؟ کیا آر ایس ایس یہ بول سکتا ہے کہ کشمیر کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے؟نہیں ،مشرف جب ہندوستان آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر ، تقسیم کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے ۔کئی لوگوں نے بی جے پی کو یہ سجھائو دیا تھا کہ انہیں ان کے ہی جال میں پھنسایا جائے۔ ان سے کہا جائے کہ اگر وہ سوچتے ہیں کہ تقسیم نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے تو تقسیم کے بعد جو مسلمان یہاں رہ گئے تھے، وہ بھی اسی نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ آخر کار ملک کی تقسیم دو قومی نظریہ پر ہوئی تھی۔ کانگریس نے دو قومی نظریہ کو رد کردیا تھا۔ آر ایس ایس کو مشرف سے یہ کہنے سے کوئی نہیں روک رہا تھا کہ آئیے دوقو می نظریہ کو مان لیتے ہیں۔ ایک مسلم ملک ہوگا، دوسرا ہندو ملک ہوگا۔ لیکن اس طرح کا ایک بھی جرأت مندانہ بیان نہ تو آر ایس ایس کی طرف سے آیا اور نہ ہی وشو ہندو پریشد کی طرف سے ۔ ان کا محض ایک کھیل یہ ہے کہ نہرو کو قصور وار ٹھہرائو ، کانگریس کو قصور وار ٹھہرائو، مسلمانوں پر دبائو بنائو، فی الحال ہمیں اس ایشو پر نئی سوچ کی ضرورت ہے،لیک سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔اگر بی جے پی کانگریس کی پیروی کررہی ہے ،تو اسے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی شروعات کر دینی چاہئے۔ بات چیت نہیں روکنی چاہئے۔ بھلے ہی اسے کچھ حاصل ہو یا نہ ہو۔ یہ بات چیت دو طرفی ہو اور بغیر کسی تیسرے فریق کی حصہ داری کے ہو۔لیکن جیسے ہی پٹھان کوٹ کی طرح کی کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے تو بی جے پی کہتی ہے کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے۔ پھر مسئلے کا حل کیسے نکلے گا؟پٹھان کوٹ نواز شریف نے نہیں کیا تھا۔ جس نے بھی یہ کام کیا، اس کا مقصد یہ تھا کہ بات چیت کے عمل میں رکاوٹ پیدا کی جائے اور سرکار اس جال میں پھنس جاتی ہے جبکہ سرکار کو کہنا چاہئے تھا کہ بات چیت جاری رہے گی۔
سنگھ ،مودی اور باپو
نئے خیالات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔اگر بی جے پی کو لگتا ہے کہ کانگریس کا رخ صحیح ہے تو اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔1947سے 2014 (جب مودی نے حکومت سنبھالی ) کے دوران ہندوستان نے بہترین کارکردگی کی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں ہندوستان نے اچھی کارکردگی کی ہے۔ 1947 اور آج کے اعدادو شمار کا موازنہ کیجئے تو چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو، انفراسٹرکچر ہو،دنیا کا کوئی ملک جمہوری طریقے سے یہ حصولیابی حاصل نہیں کر پایاہے۔ چین کی مثال دی جاسکتی ہے۔لیکن وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ کوئی بھی ملک یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ایک آدمی ایک ووٹ، مکمل خواندگی کا فقدان، اندھی عقیدت اور اندھی تقلید کے باوجود ہم نے اتنی دوری طے کی ہے۔ الیکشن کے دوران کانگریس کو برا بھلا کہنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن کم سے کم الیکشن کے بعد توسچائی قبول کرنی چاہئے۔ سچائی یہ ہے کہ کانگریس نے بہتر کام کیا ہے۔ کچھ لوگ گھوٹالوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ لیکن اس کے لئے قانون ہے۔ سرکار کارروائی کرسکتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی صرف ایک فیصد آبادی کشمیر میں رہتی ہے۔ موجودہ سرکار اس آبادی کا دل جیتنا چاہتی ہے یا اسے صرف وہاں کی زمین چاہئے۔ ہندوستان ایک توسیع پسندانہ طاقت نہیں ہے۔ ہم کسی ملک پر قبضہ جمانا نہیں چاہتے ۔ دشواری یہ ہے کہ بی جے پی کانگریس کا متبادل تو ہے لیکن اس کے پاس متبادل پالیسی نہیں ہے۔ متبادل پالیسی تلاش کرنے کے لئے مودی اہل ہیں۔مودی کہہ سکتے ہیں کہ اب میں اقتدار میں ہوں اور سنگھ پریوار کی سوچ کو میں لاگو کروں گا۔
آر ایس ایس نے گاندھی جی کو کبھی بھی راشٹرپتا کی شکل میں نہیں قبول کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ راشٹر کا کوئی پتا نہیں ہو سکتا۔ لیکن مودی ہوشیار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ رامائن اور مہا بھارت کی طرح گاندھی ہندوستانیوں کے خون میں شامل ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے پہلے دن سے ہی انہوں نے باپو سوچھ بھارت اور گاندھی سے جڑی چیزوں کو اجاگر کرنا شروع کردیا تھا۔ گاندھی پر مودی کے رخ کو قبول کرنے کے لئے آر ایس ایس تیار نہیں ہے۔ اگر سرکار لوگوں کی یادداشت سے گاندھی اور نہرو کو نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے تو آر ایس ایس کو اس بات سے خوشی ہوگی لیکن ایسا کرنے کے لئے بی جے پی کو الگ طرح کی پالیسی اختیار کرنی پڑے گی۔فی الحال اس کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک فلسفی نے کہا تھا کہ اگر کوئی آدمی خالی رہتا ہے تو وہ دوسرے آدمی کی نقل کرتا ہے۔ بی جے پی یہی کررہی ہے ۔
دبائو کی سیاست
اچھا یہ ہوگا کہ ترقیاتی سرگرمی جاری رکھی جائے،برا یہ کہ سی بی آئی کو کنٹرول کیا جائے، آئی بی کو کنٹرول کیا جائے اور سب کو بلیک میل کیا جائے۔ مجھے لگتا ہے کہ کانگریس کو اپنے کام سے خوش ہونا چاہئے کہ کسی دیگر پارٹی کے پاس اس سے الگ سوچ نہیں ہے۔جو لوگ کانگریس سے جڑے ہوئے نہیں ہیں، جو عام سیاسی تجزیہ کار ہیں،انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم ابھی بہت مشکل صورت حال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر نظامِ حکومت میں تاریخی نقطہ نظر شامل نہیں ہوتا ، اخلاقیات نہیں ہوتی تو ہندوستان ایک’ بنانا ریپبلک ‘بن گیا ہوتا۔
اب کوئی وزیر اعلیٰ (ارونا چل کے سابق وزیر اعلیٰ )خود کشی کرلے اور 60صفحات کا نوٹ چھوڑ جائے تو اس نوٹ میں کیا لکھا ہے، اسے عوامی کیا جانا چاہئے۔یہ دیکھنا چاہئے کہ اس وزیر اعلیٰ نے کیا کہا۔ وہ ایک مرنے والے آدمی کی آخری کہی ہوئی بات ہے جو کسی بھی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔بھلے ہی اس میں مودی کا نام نہیں ہو، سونیا گاندھی کا نام ہو،لیکن ایک بار پھر بی جے پی نے کانگریس کا طریقہ اپنایا ہے کہ ایسی چیزوں کو لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ مبینہ طور پر اس نوٹ میں جسٹس کھیہر کے بیٹے کا نام شامل ہے اور اس طرح سے شامل ہے کہ جسٹس کھیہر کمزور ہو جائیں۔ اگر واقعی ان کے بیٹے کا نام اس میں شامل ہے اور اس کی جانکاری انہیں ہے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے ۔ سپریم کورٹ اور سرکاری ایجنسیوں کو اس دبائو سے بچانا چاہئے۔ ایمرجینسی کے دوران سرکار نے ایسا کیا تھا۔ اے ڈی ایم جبل پور بنام شیو کانت شکلا مقدمے میں سپریم کورٹ کو دبائو میں لا کر غلط فیصلہ دلوایا گیا۔ یہ فیصلہ سول لبرٹی کے خلاف تھا۔ 4-1 کی اکثریت سے یہ فیصلہ آیا تھا۔ پانچ ججوں کی بینچ میں صرف جسٹس ایچ آر کھنہ نے جھکنے سے انکار کیا تھا۔ جسٹس چندر چوڑ، جو کہ اس بینچ میں شامل تھے ،نے ایمرجینسی کے بعد قبول کیا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اس غلط فیصلے میں شامل رہے۔ لیکن سپریم کورٹ اتنا حوصلہ نہیں کر پایا کہ صحیح فیصلہ دے۔ آج حالات اسی سمت میں جا رہے ہیں۔ عام آدمی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کا سائڈ کیا ہے؟وہ یہ کہتا ہے کہ کل کانگریس کرتی تھی، آج بی جے پی کررہی ہے، انہیں کرنے دیں۔ لہٰذا عام آدمی اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ مہنگائی سے، زرعی شعبے سے جڑے معاملوں سے، روزگار سے متاثر ہوتا ہے۔ امیت شاہ کی تعریف کرنی چاہئے کہ انہوں نے اس کھیل کو اچھی طرح سے سمجھا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بڑی بڑی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا،میرا کام ہے الیکشن جیتنا۔ الیکشن کیسے جیتنا ہے، شاید کانگریس جو دائو چلتی تھی، اس سے دو تین دائو زیادہ چل کر،زیادہ سے زیادہ پیسے خرچ کرکے۔ اب یہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟یقینی طور سے امیروں کے یہاں سے آئے گا۔ایک دو پالیسیوں میں یہاں وہاں بدلائو کرو اور پیسہ حاصل کرو۔ میڈیا کو بہت سارا پیسہ دو تاکہ وہاں سے کوئی مخالفت نہ ہو۔
یہاں یہ ضرور سمجھنا چاہئے کہ عوام بی جے پی کو ووٹ نہیں کررہے ہیں۔ وہ اس پارٹی کو ووٹ کررہے ہیں جو الیکشن لڑ رہی ہے۔ ان کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔کانگریس پارٹی ایک طرح سے غائب ہے۔ بی جے پی ویسے ہی جیت رہی ہے، جیسے کبھی کانگریس جیتا کرتی تھی۔ جمہوریت قائم ہونے کے پہلے 20 برسوں تک کوئی دیگر پارٹی منظر پر نہیں تھی۔ سوشلسٹ کمزور تھے، کمیونسٹ چھوٹے علاقوں تک محدود تھے اور جن سنگھ لگ بھگ تھی ہی نہیں۔ دراصل ایمرجینسی کے بعد جنتا پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کیا لیکن وہ بہت دنوں تک نہیں چل سکی۔کیونکہ اس میں نظریات کا ٹکرائو تھا۔ آج دو چیزیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ کہ بی جے پی کی نیت اور پالیسی کیا ہے؟اگر بی جے پی کی پالیسی اور نیت ، کانگریس کی ہی پالیسی اور نیت ہے ،تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ بی جے پی سرکار نہیں بلکہ کانگریس کی سرکار ایک نئے نام کے ساتھ حکومت میں ہے۔ اگر بی جے پی کا ایشو گائے، مندر ہے تو پھر بی جے پی کا اسٹینڈ الگ ہونا چاہئے۔یہ بی جے پی کے لئے ضروری ہے کہ وہ عوام کو یہ بتائے کہ ان کی قومی پالیسی کیا ہے یا یہ کہے کہ ان کی قومی پالیسی وہی ہے جو آئین کہتا ہے۔ بی جے پی ملک کے لوگوں سے کہے کہ ایک دستوری حکومت چلانے کی کانگریس نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں چلا سکی،لیکن ہم چلائیںگے۔ بی جے پی یہ بتائے کہ ہم بدعنوانی سے پاک رہنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتائے کہ زیادہ تر امکانات (کام کرنے کے) اتنے ہی ہیں۔ملک کے لئے ،بی جے پی کو یہ کام تو ضرور ہی کرنا چاہے۔
یک جماعتی ، کثیر جماعتی بنام دو جماعتی سیاسی نظام
کیا ہمارے یہاں دو جماعتی سیاسی نظام ہی صحیح ہے؟دراصل دو جماعتی نظام کے امکانات ہیں، کیونکہ بی جے پی اپنے دم پر اقتدار میں آئی ہے،لیکن اس امکان کو بھی مسترد کیا جارہا ہے کیونکہ مودی نے کانگریس مُکت بھارت کا وعدہ کیا ہے۔ یعنی وہ دوسری پارٹی نہیں چاہتے۔ وہ یک جماعتی نظامِ حکومت چاہتے ہیں۔ یک جماعتی نظام، جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ اگر کانگریس خراب ہے تو اسی طرح بی جے پی بھی خراب ہے۔ اس میں بھی اقتدار کی اَنا آگئی ہے۔اس نے بھی قانون توڑنے شروع کر دیئے ہیں۔ گورنر مرکز سے ڈرنے لگے ہیں۔ اگر کرکٹ کی زبان میں کہیں تو کوئی بھی اپنے کریز میں رہ کر بیٹنگ نہیں کررہا ہے۔ بدقسمتی سے ایک دوسرا خطرہ یہ ہے کہ گزشتہ 20-30 برسوں میں پریس کا معیار بہت نیچے گرا ہے۔ 1977 تک ملک میں ایک زندہ پریس تھا، جو اندرا گاندھی کے ایمرجینسی کو بھی جھیل گیا تھا،لیکن آج پریس پوری طرح سے گھٹنوں کے بل آگیا ہے۔ اسے خریدا جاسکتا ہے اور متاثر کیا جاسکتا ہے۔پریس میں آج سرکاری پہلو کے علاوہ کوئی دیگر پہلو پیش نہیں کیا جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *