کشمیر میں دہشت گردوں نے آرمی آفیسر کو قتل کر دیا

Army-Officer-in-Kashmirسری نگر: لیفٹیننٹ عمر فیاض (23)نے 6مہینے کی ڈیوٹی میں پہلی بار ماما کی بیٹی کی شادی میں شامل ہونے کے لئے چھٹی مانگی تھی، جو ان کی آخری چھٹی ثابت ہوئی۔ کلگام میں رہنے والے عمر 2راجپوتانہ رائفلس میں پوسٹیڈ تھے۔ بتا دیں کہ عمر گزشتہ رات میرج فنکشن میں گئے تھے، جہاں نے دہشت گردوں نے انہیں اغوا کر لیا تھا۔ ان کی لاش شوپیاں کے ہرمن چوک پر ملی۔ لاش پر گولیوں کے نشان پائے گئے ہیں۔
ایک سینئر افسر نے بتایا کہ عمر نے پہلی بار چھٹی کے لئے ایپلائی کیا تھا اور انہیں 25مئی کو اخنور ایریا میں اپنی یونٹ کو جوائن کرنا تھا۔ انھوں نے نوودیہ ودیالیہ سے پڑھائی کی تھی اور وہ پونے میں واقع نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) کے 129ویں بیچ کے کیڈٹ تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ ان کی لاش پر نشان ملے ہیں۔ ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب مبینہ دہشت گردوں نے انہیں اغوا کیا تو انھوں نے ان سے مقابلہ کیا تھا۔ انہیں کافی قریب سے گولی مار گئی تھی۔ گولیاں ان کے سر، سینے اور پیٹ میں لگی ہیں۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ رات قریب آٹھ بجے دو نقاب پوش لوگ گھر میں آئے۔ انھوں نے عمر کو ساتھ چلنے کو کہا ۔ اس وقت لیفٹیننٹ کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ نقاب پوشوں نے فیملی کو دھمکی دی کہ پولس کو اطلاع نہ دی جائے۔ مقامی لوگوں کے اندر عمر کے قتل کو لے کر غصہ ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس کے لئے ذمہ داری لوگوں کو سزا دی جائے۔
وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ عمر کا قتل کائرانہ اور بزدلانہ حرکت ہے۔ یہ نوجوان افسر جو جموں کشمیر سے تھا لوگوں کے لئے ایک رول ماڈل تھا۔
وکٹر فورس کے آفیسر ان کمانڈ میجر جنرل بی ایس راجو نے کہا کہ تمام یونٹس کو پورے ایریا کی سرچنگ میں لگا دیا گیا ہے۔ عمر کا قتل کرنے والوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ بتا دیں کہ وکٹر فورس ساؤتھ کشمیر ریجن میں کاؤنٹر ٹیررازم آپریشن کو انجام دیتی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *