فوج کی جیپ اور کشمیر

damiگزشتہ دو ہفتوںسے کشمیر ایک ہنگامہ کی زد میںہے۔ ا س ہنگامہ کی پرچھائیں پچھلے سال کی طرح 2017 کی گرمیوں پر بھی پڑ سکتی ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ برہان وانی کے مارے جانے کی وجہ سے پھیلی بد امنی کے بعد کے چھ مہینوں میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس واقعہ کے بعد وادی میںزندگی جیسے رک سی گئی تھی۔ فی الحال سری نگر پارلیمانی انتخابی حلقہ کے ضمنی انتخاب نے عوامی مخالفت کو ایک بار پھر سرخیوں میںلادیا ہے۔
اس ضمنی انتخاب میںوادی میںہوئی اب تک کی سب سے کم ووٹنگ نے پرو انڈیا پارٹیوںکی اہمیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہاںالیکشن کے بائیکاٹ کے ساتھ تشدد بھی ہوا۔ اس تشدد میں مخفی پیغام بالکل واضح تھا ۔ اس نے ثابت کیا کہ نظام کے تئیںبے اطمینانی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور ’’آزادی‘‘ کی مانگ کے سُر اور اونچے ہوگئے ہیں۔ جس الیکشن میں لوگ کبھی بڑی تعداد میںحصہ لیتے تھے،اسی الیکشن کی جس طرح لوگوںنے مخالفت کی ، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ زمینی سطح پر ہندوستان کا کتنا اثر ہے۔ مین اسڑیم کے لوگ (نجی طور پر) یہ قبول کرتے ہیںکہ ان کے دن پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ حاوی ڈائیلاگ (چاہے وہ صحیح ہوں یا غلط) کے خلاف کھڑا ہونا مشکل ہے۔ وہیں دوسری طرف بائیکاٹ سے نمٹنے کے دوران پولیس، نیم فوجی دستے او رفوج عام شہریوں کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے ، اس نے صورت حال کو اور بدتر بنادیا۔ آٹھ شہریوں کے مارے جانے اور بیسیوں کے زخمی ہونے نے بھی غصہ کو اور بھڑکایا۔ وہیںوائرل ہوئے کچھ ویڈیو نے بھی اس سلسلے میںاپنا کردار نبھایا۔
جیپ کا اثر
ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میںوسط کشمیر کے بیرواہ کے رہنے والے فاروق ڈار کو فوج کی ایک جیپ کے آگے باندھ کر پتھربازوںکے خلاف انسانی ڈھال بناکر 22 کلومیٹر تک گھمایاگیا۔ سوشل میڈیا پر ہر جگہ موجود اس ویڈیو کو جب لوگوںنے دیکھا تو ان کا غصہ پھوٹ پڑا۔ پورے ہندوستان سے متوازن خیالات رکھنے والے لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ایچ ایس پناگ،جو پہلے اودھم پور میںشمالی کمان کی قیادت کرچکے ہیں، نے اس پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ یہ ویڈیو طویل وقت تک ہندوستانی فوج اور ہندوستانی قوم کو کچوٹتا رہے گا ۔ کچھ لوگوںکے لیے عزت نفس کا نقصان موت سے بھاری ہوتا ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ جیپ پر باندھے جانے سے تھوڑی دیر قبل ہی فاروق ڈار نے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔
ہندوستانی فوج پچھلے 26 سال سے کشمیر میں ملی ٹینٹوں کا مقابلہ کررہی ہے۔ اس دوران وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات کے باوجود وہ بیچ کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ زیادہ تر وقت اس نے سیاست سے دوری بنائے رکھنے اور لوگوںکے قریب آنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ حالیہ دنوں میںشمالی کمان کی قیادت کرچکے لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا نے (2016 کی بدامنی کے دوران) سبھی فریقوںکوآگاہ کرتے ہوئے ان سے اپنے قدم واپس کھینچنے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ فوج غیر سیاسی ہے۔
دراصل فوج کے میگاخیرسگالی پروجیکٹ کو ریاست کے کونے کونے میںلاگو کیا گیا۔ خیر سگالی کیمپوں میں لوگوں کے ساتھ فوج کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہوئی روزانہ پریس ریلیزیں جاری کی گئیں۔ اندازہ کے طور پر اس پروگرام پر 400 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ لوگوں کا دل جیتنے کے لیے الاٹ ان پیسوں کو فوج نے اپنے طور پر خرچ کیا۔ اس پروجیکٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈیفنس اسٹڈی اوراینالیسس انسٹی ٹیوٹ کی محقق ارپتا اننت 2010 میںاس نتیجہ پر پہنچی تھیںکہ اس پروجیکٹ کا فوج اور لوگوں کے بیچ تعلقات پر ’مثبت اثر ‘پڑا تھا۔ لیکن انھوںنے یہ بھی کہا تھا کہ ’’فوج اور لوگوںکے بیچ نرمی کی سطح وادی کے مقابلے میںجمو ں علاقہ میںزیادہ ظاہر ہورہی تھی۔‘‘ یہ ایک دلچسپ مطالعہ ہوگا کہ اتنے پیسے خرچ کرنے کے باوجود فوج مطلوبہ اثر حاصل نہیںکرسکی۔
اگر اس خیر سگالی کا لوگوںپر مثبت اثر پڑا بھی تھا، تو جیپ والے ویڈیو نے اس اثر کو ختم کردیا ہوگا۔ کچھ دیگر ویڈیو کلپس نے بھی لوگوںکو بے چین کیا۔ ان میںنوجوانوںکو مارپیٹ کر اور بندوق کی نوک پر رکھ کر ہندوستان کی حمایت میںاور پاکستان کی مخالفت میںنعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
ٹی وی چینل ایک دیگر ویڈیو پر بحث کرتے رہے جس میںکچھ نوجوان،سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوان کو پیٹ رہے ہیں۔ اس بحث میںنہ صرف ٹی وی اینکر بلکہ ہندوستان کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی اور بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے بھی حفاظتی دستوں کی کارروائی کو مناسب ٹھہرایا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ اس طریقہ کار کو سرکاری طور پر منظوری ملی ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مادھو کشمیر بی جے پی کے انچارج ہیں اور بی جے پی اور پی ڈی پی کے بیچ نام نہاد گٹھ بندھن کے ایجنڈے کے بنانے والے رہے ہیں۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ ایک ’’ڈسپلنڈ آرمی‘‘ کے برتاؤ کا موازنہ کسی بھیڑ کے برتاؤ سے کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اب تک سیکورٹی فورسیز آخری طریقہ کے طور پر بلیٹ کا استعمال کرتے تھے، لیکن ان ویڈیو نے ان کے طرزعمل سے پردہ ہٹادیا ہے۔ ان ویڈیو (جو مبینہ طور پر فوج کے ذریعہ شوٹ کی گئے تھے) کو لیک کرکے کیا پیغام دیاگیا؟ دراصل یہ طرزعمل ’’خیر سگالی‘‘ کی دلیل کو خارج کردیتا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بی ایس ایف جوان، جس نے سیکورٹی فورسیز کے ساتھ غیر مناسب برتاؤ کا ویڈیا جاری کیا تھا، اسے سروس سے برخاست کردیا گیا لیکن اس معاملے میں جن لوگوں نے ویڈیو جاری کیے، ان کا بچاؤ کیا جارہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو یہ واضح پیغام دیاگیا کہ ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جاسکتا ہے۔
تو کیا فوج اپنے شہریوں کا دل اور دماغ جیتنے میںناکام ہونے کے بعد اس حد تک جارہی ہے؟ فوج ملی ٹینٹوںکی ایک تعداد کو مار گرانے کی اہل ہوسکتی ہے لیکن عام نوجوانوں کے بیچ جو آئیڈیا لوجی پروان چڑھ رہی ہے، وہ ملی ٹینٹوںکے مقابلے میںزیادہ طاقتور ہے۔ اس سوچ کو زبردستی نہیں مارا جاسکتا کیونکہ اس کا ایک مضبوط سیاسی حوالہ ہے۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس سے سیاسی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کو کنٹرول کرنے کے لیے نئی دہلی ،فوج کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کررہی ہے۔ لیکن یہ کارگر ثابت نہیںہوا۔ ویڈیو کے واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اپنے طریقوں میںبھی ناکام رہی ہے۔ اپنے طرز عمل سے وہ کشمیر میںناکام ہو رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی دہلی کو کمزور بنا دیا ہے۔
ملی ٹینسی میں اچھال
سرکار کے سامنے عام غصہ کو کنٹرول کرنے کا چیلنج ہے لیکن بڑھتی ہوئی دہشت گردی اس کے لیے ایندھن کا کام کررہی ہے۔ گزشتہ پیر کا طلبہ کا احتجاج یہ ثابت کرتا ہے کہ اب غصہ ایک منظم شکل لے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں صرف طلبہ ہی مارے گئے ہیں اور وہ ہی سڑکوںپر مخالفت بھی کرتے ہیں۔ انھوںنے ملی ٹینٹوںکا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ سیاسی جدوجہد نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
شاید علیحدگی پسند لیڈر جو اس ’’تحریک‘‘کی قیادت کررہے ہیں، انھیںمعلوم ہے کہ ہم کس سمت میںبڑھ گئے ہیں۔ جس تعداد میںنوجوان ملی ٹینسی اپنا رہے ہیں، وہ خطرناک ہے۔ پہلے ملی ٹینسی میںغیر ملکیوںاور مقامی لوگوں کا تناسب 70:30 تھا لیکن افسروں کے مطابق آج یہ اعداد و شمار الٹ گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 2010 میںملی ٹینسی میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 54 تھی۔ 2011 میں یہ گھٹ کر 23 ہوگئی اور 2012 اور 2013 میںبالترتیب 21 اور 16 رہ گئی۔ لیکن یہ تعداد 2014 میں53،2015 میں 66 اور 2016 میں88 تک پہنچ گئی۔ ذرائع کے مطابق مارچ 2017 تک 19 لڑکوںنے ملی ٹینسی جوائن کرلی ہے۔ سیکورٹی افسروں نے اعتراف کیا ہے کہ اس حوالہ میں افضل گرو کی پھانسی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔
نئی دہلی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ کشمیر میں سیاسی عمل کا فقدان ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آگے کیا ہوسکتا ہے سماجی سطح پر کوئی کوشش نہیںکی جارہی ہے۔ کشمیر کے نوجوانوںکو تشدد کی بھٹی میںکب تک پھینکا جاتا رہے گا اور کیا اس کی طرف انھیںدھکیلنا ہمارے مفاد میںہے؟ سول سوسائٹی اور سیاسی قیادت اس پر چپ ہیں۔
سیاسی مدعوں کے حل کی لڑائی کافی لمبی ہے اور جب تک اسے سمت دینے کے لیے مکمل غورو خوض نہیں ہوگا تب تک نتائج کا تصور کرنا مشکل نہیںہے۔ فوج اور دیگر سیکورٹی فورسیز کے ذریعہ کشمیر کی توہین کیے جانے کی صرف مذمت ہی کی جاسکتی ہے۔ یہ ویڈیو دکھاتے ہیں کہ لڑائی ہاری جاچکی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہی ہماری قسمت ہو لیکن ہمیںیقینی طور پر یہ یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کوئی اور جان نہ جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *