ریفرنڈم کے بعد ترکی اب اصل امتحان سے گزرنا ہے

damiعمیر کوٹی ندوی
ترکی نے آخرکار اپنے یہاں نظام حکومت میں نیا تجربہ کرنے کی جانب جوقدم اٹھایا تھا اس پر عوام نے 16اپریل کو اپنی مہر لگادی ہے۔ اس طرح اس جا نب اب اس کا سفر طئے کرنا یقینی ہوگیا ہے۔ ترکی میں ہونے والے صدارتی ریفرنڈم کے نتائج کو اگر دیکھیں تو یہ کامیابی صرف 2.41فیصد سے حاصل ہوئی ہے۔ صدارتی نظام کی حمایت میں51.2 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں جب کہ اس کی مخالفت میں48.79 فیصد ووٹ پڑے ہیں۔ ووٹ فیصد کے اعتبار سے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور ان کی پارٹی’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘اے کے پی کو گرچہ زیادہ فرق کے ساتھ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے لیکن کامیابی تو کامیابی ہوتی ہے خواہ ایک ووٹ کے فرق سے کیوں نہ ہو۔لہٰذا اسی فرق کے ساتھ ہی سہی ترکی نے بالآخر داخلی اور خارجی تمام رکاوٹوں، شرانگیزیوں، فتنہ سامانیوں اور سازشوں پر قابو پاتے ہوئے استحکام اور نئے نظام حکمرانی کی سمت قدم بڑھانے میں کامیابی حاصل کر کے ایک تاریخ رقم کرہی لی ہے۔
ترکی کو یہ کامیابی اس وقت ملی ہے جب عالمی سطح پر امت مسلمہ تقریباً تمام محاذوں میں شکست خوردہ تسلیم کی جاچکی ہے ، اس پر بھی ہر جگہ اور ہر گھڑی اس کی بربادیوں کے مشورے ہورہے ہیں۔ ترکی کی بربادی کے بھی تانے بانے بننے کی ہر سو منصوبہ بند کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ناکام فوجی بغاوت کو ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کے تعلق سے باتیں بھی ابھی تازہ ہیں۔ ترکی کے عوام نے جس بیدار مغزی، ہوشیاری، عزم و ارادہ کا ثبوت دیتے ہوئے اس پر قابو پایا تھا اور جس طرح سے مرد دانا کے کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہوئے تھے، اسے دیکھ کر دنیا انگشت بہ دنداں رہ گئی تھی۔ ہر ایک کی زباں پر ترکی کے حکمراں کی بیدار مغزی، ہوشمندی اور تدبیر وعمل کی خوبی تھی۔ یہی خوبی تسلسل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔ اس نے کمال ہوشیاری سے ترکی میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات اور علاحدگی پسندی کے انگیختہ کئے جانے اور بھڑکائے جانے والے رجحانات پر قابو پانے کی کوشش کی۔ یہی کوشش اْس وقت بھی نظر آئی جب اِس وقت ترکی نے جو تاریخ رقم کی ہے اسے سبوتاژ کرنے کی عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی تھیں۔ اس کوشش میں یورپی یونین اور صلیبی ذہنیت کو یدے طولیٰ حاصل تھا۔
ترکی کے صدارتی ریفرنڈم میں یورپی یونین کی رخنہ اندازی کا ترکی کے صدررجب طیب اردگان نے اس ریفرنڈم سے قبل ایک سے زائد بار ذکر کیا تھا۔ ریفرنڈم سے دو روز پہلے بھی انہوں نے کہا تھا کہ’’ یورپی ممالک نے تمام دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ترکی کے صدارتی ریفرنڈم میں اثر انداز ہونے کی کوششوں کو جاری رکھا ہوا ہے‘‘۔ اس وقت انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ’’ 16 اپریل کا دن یورپ کو جواب دینے کے لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل دن ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر عوام نے ان پر اعتماد کیا تو وہ یورپی یونین کے ترکی کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کریں گے اور اس سلسلے میں یوروپی یونین کے رہنمائوںں سے بات چیت کریں گے۔ اب جب کہ ترکی کے عوام نے اپنے حکمراں پر اعتماد کا اظہار کردیا ہے تو کیسے ممکن تھا کہ وہ مصلحت پسندی کا جامہ زیب تن کرکے اس حقیقت سے چشم پوشی اختیار کرلیتے۔ چنانچہ صدارتی ریفرنڈم میں کامیابی کے فوراً بعد انہوں نے بہت ہی صراحت کے ساتھ یہ بات کہی کہ” ہم نے صلیبی ذہنیت کیخلاف پر عزم اور سخت جدوجہد کی ہے اور ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی ہے”۔ ساتھ ہی انہوں نے اس پہلو پر توجہ دلا دی کہ”ان کامیابیوں پر ہمیں غرور نہیں کرنا چاہئے “۔ یہ ایک اہم بات ہے کہ جب انسان کو کامیابی اور طاقت کا حصول ہوجاتا ہے تو خدا کے خوف سے آزاد نفس بے لگام ہو جاتا ہے اور اس کا پہلا قدم ہی ظلم وجور کی طرف اٹھتا ہے۔ اس کا مشاہدہ دنیا ہردور میں کرتی رہی ہے اور آج بھی کیا حکومتی کیا غیر حکومتی ہرچھوٹی بڑی جگہ کر رہی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ دوسرا نظر آرہا ہے۔ ترکی کے صدر نے غرور کی نفی کے ساتھ ہی ریفرنڈم کے نتائج کو ملک و قوم کے لیے خیر و برکت کا وسیلہ بھی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ” دعا گوہوں کہ یہ نتیجہ ملک و قوم کیلیے خیر و برکت کا وسیلہ بنے”۔
ایسی صورت میں مطلق العنانی کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔ لیکن ترکی میں لمحہ بہ لمحہ رونما ہونے والی اسلامی بیداری سے خائف اور اسے ناپسند کرنے والے ملکی و غیر ملکی عناصر اور بین الاقوامی برادری خاص طور پر ترکی کے صدر نے جن کا نام صراحت کے ساتھ لیا ہے وہ پہلے بھی اس تبدیلی کے حق میں نہیں تھیں۔ تبدیلی جب کہ واقع ہوگئی ہے اور ترکی کے عوام نے ایک تاریخ رقم کردی ہے۔ ترکی کے عوام ترکی اور بیرون ترکی ہرجگہ جشن منارہے ہیں۔ ترکی کے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی آگئی ہے۔ ماہرین معاشیات خوشگوار اثرات کی باتیں کر رہے ہیں۔لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس تبدیلی کو نہ چاہنے والی طاقتیں اسے ہضم نہیں کرپارہی ہیں۔ نتائج کے سامنے آتے ہی اس کو منفی رخ دینے کی کوشش شروع ہوگئی ہے۔ ترکی کی اپوزیشن پارٹیوں نے ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا الزام ہے کہ بہت سے بغیر مہر والے ووٹوں کی بھی گنتی کرلی گئی ہے۔ حالانکہ ترکی کے الیکشن کمیشن نے اس طرح کے الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے انہیں مسترد کردیا ہے۔اپوزیشن نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ’’نتیجہ کے بعد بے لگام قیادت میں اضافہ ہوگا‘‘۔
یورپی یونین نے ایک بار پھر ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کی امیدواری کو ہتھیار بناکر اس کے ذریعہ سے اپنی بات منوانے کی کوشش کی ہے۔یورپی یونین کمیشن کے صدر یاں کلاڈ ینکر، یورپی یونین کے خارجہ تعلقات کی نمائندہ فیدیریکا موگی رینی اور یورپی یونین کے وسعتی امور کے ذمہ دار افسر یوحانس ہان نے ایک مشترکہ تحریری بیان جاری کیاہے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ” دستور سازی میں ترامیم کو خاص طور سے ترکی کے یورپی یونین کی رکنیت کے امیدوار ملک اور یورپی کونسل کے رکن ملک کی حیثیت سے عائد ذمہ داریوں کی روشنی میں عمل میں لائے”۔جب کہ امریکہ “ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم” کے کردار سے ابھی باہر نہیں نکلاہے اور اس نے اب تک اپنا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالانکہ اس تبدیلی کو ناپسند کرنے والوں کے بجائے اسے پسند کرنے والے ممالک اور طاقتوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو کھلے دل سے ترکی کوتاریخی کامیابی پر مبارک باد دے رہی ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ترکی نے منفی منصوبہ بندیوں کے دورمیں عزم وحوصلہ کی تاریخ رقم کی ہے۔کامیابی پر غرور کا شکار ہونے کی نفی اور نتیجہ کو خیر و برکت کا وسیلہ بننے کی دعا وہاں کے حکمراں کی بے دار مغزی اور راست روی کا ثبوت ہے۔ لیکن اس پر اولین فرصت میں یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے الزامات اور ان کے خدشات کو دورہی نہ کرے بلکہ حتی الامکان اپوزیشن کو ساتھ میں لینے کی کوشش بھی کرے۔ اسی کے ساتھ اس بات کی بھی کوشش کی جانی چاہئے کہ عوام نے جو اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کو زندگی کے کسی بھی موڑپر اور حکومت کے کسی بھی فیصلہ کے ذریعہ ٹھیس نہ پہنچے اور یہ بات ذہن نشیں رہے کہ ترکی کے 48.79 فیصد عوام ابھی بھی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کا دل جیتے اور ان کو ساتھ لئے بغیر حکمرانی میںمطلق العنانی کی گنجائش کی عملًا نفی نہیں کی جاسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *