اڈانی کی کارگزاریاں ہندوستان میں خاموشی، آسٹریلیا میںطوفان

ایک آسٹریلیائی چرواہے کو اپنی چراگاہ کے تباہ ہونے ، کھیتوں کے خراب ہونے ، زمین کے پانی کے آلودہ ہونے اور سب سے بڑھ کر آسٹریلیا کے سیاحوں کی اہم کشش کورل ریف کی تباہی کے ڈر نے اتنا پریشان کیا کہ وہ ایک بڑی کوئلہ کان کن کمپنی کے سامنے اکیلا سینہ ٹھوک کر کھڑا ہوگیا۔اپنے مویشیوں اور اپنے کاروبار کو اپنے بیٹے کے حوالے کرکے اس نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ وہ خود اپنی آنکھوںسے دیکھ کر آسٹریلیا کے لوگوںکو بتانا چاہتا تھا کہ جس ہندوستانی کمپنی کو اس کی چراگاہ کے آس پاس کوئلہ کان کنی کا ٹھیکہ دیا گیا ہے،اس نے ہندوستان میںاپنے منصوبوں اور پروگراموں سے کیسے تباہی مچا رکھی ہے اور ماحولیات کو کس طرح سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ آسٹریلیاکے اس چرواہے کا نام بروس کرّی ہے، جو کوئینس لینڈ صوبہ کا باشندہ ہے۔ جس ہندوستانی کمپنی کو آسٹریلیا میںکانکنی کا ٹھیکہ ملاہے، وہ ہے ’بدنام زمانہ ‘ اڈانی گروپ اور اس کے مالک کا نام ہے گوتم اڈانی۔ اڈانی سرمایہ دار گھرانہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کی نزدیکیاںجگ ظاہر ہیں۔
اڈانی گروپ کے 22 ارب ڈالر کے کارمائیکل کول مائننگ پروجیکٹ کے خلاف کرّی نے جب اپنی تحریک شروع کی تھی تب ان کی حمایت میںاس وقت بہت کم لوگ کھڑے ہوئے تھے،لیکن رفتہ رفتہ ان کے حامیوںکی تعداد بڑھنے لگی۔ جس دن کوئینس لینڈ کی حکومت نے اس پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھائی ، اسی دن کرّی نے ہندوستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اڈانی گروپ کے ذریعہ گجرات میںچل رہے پروجیکٹس کے دوران ماحولیات اور دوسرے معیاروں کی خلاف ورزی کی رپورٹ کرّی نے جب لوگوںتک پہنچائی، تو ان کی حمایت میں کرکٹر، آرٹسٹ، قلم کار، سیاستداں اور یہاںتک کہ سرمایہ داروں سمیت آسٹریلیاکی کئی مشہور ہستیاںکھڑی ہوگئیں۔ صوبائی حکومت نے اڈانی گروپ کو کول مائننگ کے ساتھ ساتھ پانی کے استعمال کی بھی لامحدود چھوٹ دے رکھی ہے۔ کرّی کے ذریعہ شروع کی گئی تحریک خاص طور سے اسی پانی کو آلودہ ہونے سے بچانے پر مرکوز ہے۔ اپنی رپورٹ میںکرّی کہتے ہیں کہ ہندوستان میںجانچ کے دوران انھیںاچھی طرح سے اس بات کا اندازہ ہو گیاکہ اڈانی وہاں پر کتنے مؤثر اور طاقتور ہیں۔ وہاں یہ صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ اپنے اثر کا استعمال کرکے انھوںنے کیسے فائدہ اٹھایا ہے۔ اب ہم وہی سب آسٹریلیا میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ اڈانی گروپ کا اثر کوئینس لینڈ کے لیبرس، مقامی میئرس سبھی پر ہے۔
غور طلب ہے کہ کرّی زمین کے پانی کے تحفظ کے لیے طویل عرصہ سے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دراصل زمین کا پانی ان کی چراگاہ اور اس سے جڑے کاروبار کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔ اسی لیے ریاستی حکومت کے ذریعہ اڈانی کے پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دیے جانے کے بعد بھی انھوںنے اپنی لڑائی جاری رکھی۔ اپنی لڑائی کو اور آگے بڑھانے کے لیے انھوںنے اپنے ملک کی پارلیمنٹ، عدالت اور ملحق اداروںکے دروازوں پر دستک دی۔ اسی سلسلے میںوہ ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن پر ہندوستان بھی آئے۔

 
کرّی کی رپورٹ کے کچھ اہم نکات
مندرا اور ہزیرہ کے کسانوں اور ماہی گیروںکو نوکریاں دینے اور مقامی معیشت کو فروغ دینے کے وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے۔
اڈانی گروپ نے زمین کا پانی آلودہ کیا،غیر قانونی طور سے زمین پر قبضہ کیا او ر مینگروو جنگلوںکو تباہ کیا۔
اڈانی کے بندرگاہ کی تعمیر کے بعد ہزیرہ کے ماہی گیروںکے مچھلی پکڑنے کی تعداد میں 90 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ ماہی گیروںکی یہ بھی شکایت تھی کہ اب ان کی مچھلیوںسے بدبوآتی ہے اور ان کاذائقہ پہلے جیسا نہیںہے۔
مندرا میںکھجور کی کھیتی کرنے والے ایک کسان نے بتایاکہ اڈانی بجلی پلانٹ سے اٹھنے والے کوئلے کی دھول کی وجہ سے ان کی پورے 10 ایکڑ کی فصل خراب ہوگئی۔ کپاس اور ارنڈی کے تیل کی فصلوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔

 

آبی وسائل میںرکاوٹ پیدا کی گئی۔
اڈانی کے کوئلہ پروجیکٹوںکے نزدیک رہنے والے لوگوںکی زندگی بہتر ہونے کی بجائے اور مشکل ہوگئی ہے۔
کئی لوگوںکے روایتی روزگار کے وسائل تباہ ہوگئے۔ کچھ لوگوںکو مجبوراً عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا اور کچھ مجبوراً نقل مکانی بھی کرگئے۔
ماخوذ: نارتھ کوئینس رجسٹر
ظاہر ہے جن حقائق کا کرّی نے اپنی رپورٹ میںذکر کیا ہے،وہ ہندوستان کے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان میں اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا ہے۔ خود حکومت ہند کی وزارت ماحولیات نے ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملوں میں 200 کروڑ روپے یا پروجیکٹ کی کل لاگت کا ایک فیصد جرمانہ لگایا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جن حقائق کی بنیاد پر کرّی اپنے ملک میںعوامی حمایت پارہے ہیں،ان ہی حقائق کو لے کر ہندوستان کے شہری سماج میں کوئی بے چینی یا کوئی غصہ ظاہر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کچھ ماہرین ماحولیات اور این جی اوز کو چھوڑ دیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ متاثرہ کسانوںسے کسی کا کوئی لینا دینا نہیںہے۔ حکومتیںتو ترقی کے نام پر دبے کچلے لوگوںکی سننے کو تیار نہیںہیں، ان کی ساری توجہ صنعت کاروںکے مفاد کو سادھنے میںلگی ہوئی ہے۔ اپوزیشن بھی خاموش ہے۔ جو این جی اوزایسے معاملوںمیںسوال اٹھاتی ہیں،ان کے خلاف بھی گزشتہ کچھ سالوںسے ایساماحول تیار کیا جارہا ہے جیسے وہ ترقی کی دشمن ہیں یا پھر ملک کی دشمن ہیں۔ ایسے میںترقی کے نام پر ہورہی دھاندلی کو دیکھ کر کرّی کا بے چین ہونافطری لگتا ہے۔

 
مندرا میںشرائط کی خلاف ورزی اور اڈانی پر جرمانہ
اڈانی انٹرپرائزیز کے ذریعہ مندر امیںتیار کی جارہی بندرگاہ اور اسپیشل اکانومک زون پروجیکٹ (ایس ای زیڈ) کے ذریعہ ماحولیاتی معیاروںکی خلاف ورزی کے معاملے کی جانچ کے لیے اس وقت کی یو پی اے سرکار کی وزارت ماحولیات نے ایک کمیٹی تشکیل کی تھی۔ ماہر ماحولیات سنیتا نارائن کی صدارت والی اس پانچ رکنی کمیٹی نے ماحولیات اور وزارت جنگلات کو دی گئی اپنی رپورٹ میںکہا تھا کہ اڈانی واٹرفرنٹ اور پاور پلانٹ پروجیکٹ میںماحولیاتی شرائط کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی نے الزامات کی جانچ کے لیے ریموٹ سینسنگ کی تکنیک کا استعمال کیا تھا اور پایا کہ پچھلی ایک دہائی میںبوچا جزیرہ کے 75 ہیکٹیئر کھاری جنگلات کو تباہ کردیا گیا ہے۔ یہ ایک محفوظ علاقہ تھا ۔ ریموٹ سینسنگ کی تصویروں میںبھی یہ پایا گیا کہ تعمیراتی سرگرمیوںکی سبب مجوزہ نارتھ پورٹ کے پاس کی کریک وادیوںکو نقصان پہنچا ہے۔ کمپنی نے اڑنے والی راکھ کے نمٹارے، سمندری پانی کے آؤٹ لیٹ اور ڈسچارج کے سبب ہونے والی آبی آلودگی میں اضافہ کو روکنے کے لیے کچھ نہیںکیا۔ کمیٹی نے یہ بھی پایا کہ اس پروجیکٹ کی منظوری کو توڑنے مروڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی کئی طرح کے بہانے بناکر عوامی سماعت کے عمل کی تعمیل نہیںکی گئی۔جبکہ عوامی سماعت اس پروجیکٹ کی منظوری کا ایک اہم حصہ ہے۔اس سے مقامی لوگوں کے مسائل کو سمجھنے اور انھیںدور کرنے میںمدد ملتی ہے۔رپورٹ میںیہ بھی کہا گیا تھا کہ اس سے پروجیکٹ کے لیے اراضی تحویل اور تعمیری کاموںسے ہوئی تبدیلیوںسے سب سے زیادہ وہ ماہی گیر متاثر ہوئے، جو اپنی روزی روٹی کے لیے ساحل سمندر پر منحصر ہیں۔ اصلاحی اقدامات کے طور پر ماحولیات کی بحالی کے لیے کمیٹی نے کمپنی پر پروجیکٹ کی لاگت کا ایک فیصد یا 200 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا۔ اس کا استعمال ماحولیات کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کرنے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جانا تھا۔ اس علاقہ کے نازک ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھنے کے لیے مجوزہ نارتھ پورٹ کو مکمل طور پر رد کرنے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔اس کے ساتھ ہی کھاری جنگلوںکو محفوظ کرنے،نمکیات سے نمٹنے اور ساحلی علاقے کو متاثر کرنے والی آفات سے نمٹنے کے لیے قدم اٹھانے کی بات بھی کہی گئی تھی۔ اس وقت کمیٹی نے ایک اہم بات یہ کہی تھی کہ اگر پروجیکٹ کی شرائط کی تعمیل پر زور دیا گیا ہوتا اور اس کی نگرانی ٹھیک ڈھنگ سے کی گئی ہوتی تو پھر کسی کمیٹی کو جانچ کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
بہرحال، حال میںیہ خبر آئی کہ موجودہ حکومت نے اڈانی انٹرپرائزیز پر لگے 200 کروڑ روپے کے جرمانہ کو معاف کردیا ہے۔ حالانکہ بعد میں حکومت نے اس رپورٹ کی تردید کی اور کہا کہ وزارت ماحولیات اورجنگلات نے کمپنی کی ذمہ داریوںکو بڑھا دیا ہے، جس کے مطابق اب رقم کی کوئی حد نہیںہوگی۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ جو کمپنی کھلے طور پر پروجیکٹ کی شرطوں کی خلاف ورزی کرتی رہی، وہ مقررہ رقم کیسے خرچ کرے گی؟ اگر اپوزیشن اور ماحولیات سے جڑے لوگ 200 کروڑ روپے کے جرمانہ کی بات کرتے ہیں تو حکومت کو اسے جاری رکھنے میں کیا مجبوری ہے؟ اگر کمپنی کی ذمہ داریوںکو بڑھاناہی تھا تو 200 کروڑ کی رقم میں اور اضافہ کیا جاسکتا تھا اور ایک مقررہ رقم کی بات کی گئی ہوتی۔

 
پسندیدہ کارپوریٹوں کو حکومت کی حمایت
اپوزیشن اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرف سے اکثر یہ الزام لگتا ہے کہ مودی سرکار پسندیدہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہچانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اس سلسلے میںجن صنعت کاروںکا نام لیا جاتا ہے،ان میں اڈانی اور امبانی کے نام اہم ہیں۔ بھلے ہی سرکار اور میڈیا کا یک بڑا طبقہ اس حقیقت کو جھٹلائے،لیکن یہ سچائی ہے کہ اپنی مدت کار کے شروعاتی دور میںجب مودی لگاتارغیر ملکی دورے کررہے تھے، تب عام طور پر ان دوروںمیں اڈانی ضرور شامل رہے۔ اس دروان اڈانی گروپ کو کئی پروجیکٹ بھی ملے، جن میں کوئینس لینڈ کا متنازع کوئلہ مائننگ پروجیکٹ بھی شامل تھا۔اس پروجیکٹ کے بارے میںسب سے اہم بات یہ رہی کہ شروعات سے ہی اس کے تنازعوںمیںرہنے کے باوجود اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اس پروجیکٹ کے لیے مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر کا لون الاٹ کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوئی بینک کسی کمپنی کو اتنا بڑا قرض بنا کسی سرکاری دباؤ کے کیسے دے سکتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میںجب بینکوں کو ان کے نان پر فارمنگ ایسیٹس (این پی اے) نے پریشان کررکھا ہے؟ حالانکہ ذرائع کے حوالہ سے یہ خبر آئی تھی کہ ایس بی آئی نے اڈانی کو قرض مختص کرنے سے انکار کردیا ہے۔ لیکن پھر ایک آر ٹی آئی کے جواب میںجب یہ پوچھا گیا کہ بینک نے اڈانی گروپ کو کتنا قرض مختص کیا ہے تو بینک نے اس بارے میںجانکاری دینے سے انکار کردیا۔ ا س پروجیکٹ کا اب تک تنازعوںسے پیچھا نہیںچھوٹا ہے۔ آسٹریلیا میںلوگ اس کی بھاری مخالفت کررہے ہیں۔ آسٹریلیا کے روشن خیال لوگوںکے ایک گروپ نے اڈانی کو خط لکھ کر اس پروجیکٹ سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لینے کی اپیل کی ہے۔ اس معاملے میںوہاں کے لوگوںکی جدوجہد سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک اور پارلیمنٹ سے عدالت تک جاری ہے۔

 
ظاہر ہے ، اسپیشل ایکونومک زون میںہوئی ماحولیات کے معیاروںکی کھلی ان دیکھی محض اتفاق نہیںہوسکتی ہے۔ جب تک کسی صنعت کار کو سیاسی شہ نہیںملتی، تب تک وہ کھلے عام ایسا نہیںکرسکتا ہے۔ سرکار سے ان کی نزدیکی کا اندازہ 200 کروڑ روپے کے جرمانہ کی معافی سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ دراصل وزیر اعظم نریندرمودی اور گوتم اڈانی کی نزدیکیاںکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ دونوںکا ساتھ بہت پرانا ہے اور یہ رشتہ ایک طرفہ بھی نہیںہے۔ 2002 کے گجرات فسادات کے بعد جب نریندر مودی چاروںطرف سے گھرے ہوئے تھے اور خود اس دور کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے انھیں راج دھرم نبھانے کی ہدایت دی تھی، تب تقریباً سبھی سرمایہ داروں نے ان سے کنارہ کرلیا تھا۔ ایسے وقت میںاڈانی ہی اکیلے ان کے ساتھ کھڑے تھے۔انھوںنے مودی کے لیے صنعتی دنیا سے لوہا لیا۔جب کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے گجرات فسادات کے لیے مودی کی تنقید کی تو اڈانی نے کچھ مقامی تجارتی گروپوںکے ساتھ مل کر ریسرجنٹ گروپ آف گجرات نام کا ادارہ بنایا اور سی آئی آئی چھوڑنے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ اسی طرح جب 2013 میںوارٹن بزنس اسکول نے مودی کا نام کینوٹ اسپیکر سے ہٹادیا،تو اس کی مخالفت میںاڈانی نے اپنی فنڈنگ واپس لے لی تھی۔ اڈانی اس کانفرنس کے اہم اسپانسرس میںسے ایک تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 2014 کے مودی کی انتخابی مہم کو اڈانی نے دل کھول کر حمایت کی تھی۔ مودی اپنے انتخابی پرچار کے دوران اڈانی کا نجی جیٹ کا استعمال کرتے دیکھے گئے اور الیکشن جیتنے کے بعد بھی وہ اڈانی کے نجی طیارہ سے ہی دہلی آئے تھے۔اڈانی کے اس پس منظر کی وجہ سے ان کے ناقدین ان پر سوال اٹھاتے ہیں اور ہر اس پروجیکٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس میں اڈانی گروپ شامل ہے۔

 
اڈانی کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف ہندوستان کے سب سے امیر لوگوں میںسے ایک ہیں، وہ نہ صرف ہندوستان کے سب سے بڑے نجی بندر گاہ کو چلاتے ہیں اور نہ صرف ہندوستان کے سے بڑے نجی بجلی پیدا کرنے والے ہیں، بلکہ ملک کے سب سے زیادہ طاقتور اور سیاسی رسوخ والے لوگوںمیںسے بھی ایک ہیں۔ یہ سیاسی رسوخ انھیں ان کی وزیر اعظم سے نزدیکی کی وجہ سے ملا ہے۔ بہت سے لوگوںکا ماننا ہے کہ ماحولیات کے نقصان کو لے کر یو پی اے سرکار کے ذریعہ لگائے گئے 200 کروڑ روپے کے جرمانہ کی معافی ہو یا چھتیس گڑھ میںآدیواسیوںکے حقوق کے خلاف ورزی کے بعد بھی دھڑلے سے چل رہے مائننگ پروجیکٹ کی، سب مودی سے اڈانی کی نزدیکیوں کی وجہ سے ہورہی ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ نے ماضی میںایک رپورٹ شائع کی تھی ،جس میںموجودہ حکومت کی دو وزارتوںکے بیچ فاریسٹ رائٹس کو کمزور کرنے سے متعلق ایشو پر خیالات کا اظہار کیا گیاتھا۔’چوتھی دنیا‘ نے ہی ایک اور رپورٹ شائع کی تھی،جو فاریسٹ رائٹس کے عمل درآمد پر ملک کے این جی او زکے ایک گروپ کے ذریعہ تیار رپورٹ پر مبنی تھی۔ اس رپورٹ میںبتایا گیا تھاکہ اب تک فاریسٹ رائٹس کا محض 10 فیصد عمل ہی ہوپایا ہے۔ تب یہ بھی سوال اٹھا کہ نریندر مودی پروبزنس ہیں یا پرو اڈانی/ امبانی؟ مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب اڈانی کو ایس ای زیڈ کے لیے ملک بھر میںسب سے سستی شرح پر زمین الاٹ کی گئی۔ یہ زمین انھیں ایک روپے سے 32 روپے فی اسکوائر میٹر کے حساب سے دی گئی۔ وہیںہنسلپور میںماروتی سوزکی کو 670 روپے فی اسکوائر میٹر کے حساب سے زمین دی گئی۔ سستی زمین کے ساتھ ساتھ اڈانی کو ناقابل کاشت زمین دی گئی، اس لیے تحویل کے دوران مخالفت کا سامنا نہیںکرنا پڑا۔ مودی کے وزیر اعلیٰ کے دور کے دوران ہی کیگ نے گجرات حکومت کے ادارہ گجرات اسٹیٹ پیٹرولیم کارپوریشن (جی ایس پی سی ) کی اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کھنچائی کی تھی۔ کیگ رپورٹ میںکہا گیا تھا کہ جی ایس پی سی نے فوری بازار بھاؤ پر نیچرل گیس خریدی اور اڈانی کو مقررہ قیمت پر بیچ دی، جو بازار بھاؤ سے بہت کم تھی۔ اس معاملے میںاڈانی کو 70 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔ حالانکہ جی ایس پی سی نے ایسار کو بھی 12.2 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ لیکن یہاںایک بار پھر مودی اور اڈانی کے قریبی تعلقات کی وجہ سے اس معاملے کو شک کی نظر سے دیکھا گیا۔

 
اڈانی بڑے یا امبانی
جب نیرا راڈیا کاٹیپ لیک ہوا تھا تو اس میںاٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کو یہ کہتے سنا گیا تھا کہ مکیش امبانی نے ان سے کہا تھا،کانگریس اب اپنی دکان ہے۔ امبانی اور اڈانی میںفرق صرف اتنا ہے کہ مودی کے آنے سے پہلے بھی امبانی قومی منظر نامہ پر موجود تھے اور مودی کے آنے کے بعد بھی موجود رہے جبکہ اڈانی اس سے پہلے بہت حد تک گجرات تک ہی محدود تھے۔امبانی کے کانگریس کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے اور بی جے پی کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، جبکہ اڈانی کے بارے میںیسا نہیںکہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کانگریس کے دور حکومت میںہی اڈانی کے اوپر مندر اپورٹ اور ایس ای زیڈ کی ترقی کے دوان ماحولیات کے معیاروںکی خلاف ورزی کا مجر م مانتے ہوئے 200 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا گیا تھا۔ لیکن مودی کے اقتدار میںآنے کے بعد اڈانی قومی منظر نامہ پر نظر آنے لگے ۔ حالانکہ امبانی اور اڈانی دونوں ہی مودی کے غیر ملکی دوروںپر اکثر ان کے ساتھ رہے ہیں۔ دونوں کا تعلق گجرات سے ہے۔ لیکن مودی سے نزدیکی کے معاملے میںاگر دونوںمیںسے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو یقینی طور پر وہ اڈانی ہی ہوںگے۔

 
میڈیا میں امبانی کا مفاد
کارپور یٹ سیکٹر نے اپنے مفاد سادھنے کے لیے میڈیا پر قبضہ جمانا شروع کردیا ہے۔مکیش امبانی نے ملک کے سب سے بڑے نیٹ ورک ،نیٹ ورک 18- کو خرید کر میڈیا پر قبضہ کی طرف اپنا قدم بڑھا دیا ہے۔ نیٹ ورک 18-کے علاوہ، وہ کیبل ٹی وی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب ٹی وی سیٹ پر قبضہ جمانے کے لیے دو ارب ڈالر کی رقم خرچ کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایسے دور میںجب نیوز چینل اور اخبار برسراقتدار پارٹی کے ترجمان بن گئے ہیں، بزنس ہاؤسیز کو لگتا ہے کہ میڈیا ان کے لیے بھی ایک ماحول تیار کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ تصور ملک میںگھر کرگیا ہے اور ثبوت بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اڈانی اور امبانی پر مودی حکومت کی خاص نظر عنایت ہے۔ حالانکہ انٹرنیٹ اور مواصلات کے دوسرے ذرائع میںبڑی تعداد میںایسی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو مل جائیںگی، جس میںیہ کہہ کر مودی سے امبانی اور اڈانی کی نزدیکیوں کو خارج کیا جارہا ہے کہ مودی کے دور حکومت میںان دونوںکمپنیوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ اس لیے مودی کسی طرح سے ان کی طرفداری نہیںکررہے ہیں۔
لیکن میڈیا یہ بتانا بھول جاتا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم کسی پرائیویٹ کمپنی کے پرائیویٹ پروڈکٹ کے اشتہار میںکیسے آسکتا ہے۔ معاملہ جیو موبائل کا ہے۔ جیو کے اشتہار میںوزیر اعظم کی تصویر ملک کے ہر بڑے اخبار میںچھپی تھی۔ اس کے جواب میںمکیش امبانی نے کہا تھا کہ مودی جی سب کے وزیر اعظم ہیں،اس لیے ان کی تصویر کو اشتہار میںشامل کرنے میںکوئی برائی نہیںہے۔لیکن اس سلسلے میں جو سب سے مضحکہ خیز خبر آئی ،وہ یہ تھی کہ وزیر اعظم کی تصویر بغیر اجازت اشتہارمیںچھاپنے پر پانچ سو روپے کا جرمانہ لگ سکتا ہے۔ ملک کے سب سے امیر شخص پر یہ کیسا جرمانہ ہے؟ اب یہی کام جو چاہے ،وہ اپنے پروڈکٹ کے پرچار کے لیے کرسکتا ہے کیونکہ صرف پانچ سو روپے کے جرمانہ کے ساتھ اسے اتنا بڑا برانڈ ایمبیسڈر مل جائے گا۔ جیو سے ہی جڑا ایک دوسرا معاملہ ہے جو بہت ہی حساس ہے۔ یہ معاملہ ہے آدھار کارڈ کا۔ جب سپریم کورٹ نے آدھار کارڈ کی لازمیت پر اسٹے لگا رکھا تھا تو ملک کے شہریوںنے اپنی ذاتی پہچان کو ایک پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کیسے کردیا ؟ اس کے فوراً بعد یہ خبر آئی کہ 13 کروڑ لوگوںکا آدھار ڈاٹا لیک ہوگیا ہے۔ اب جبکہ آدھار کا سیکورٹی نظام ٹھیک نہیںہے تو کسی پرائیویٹ کمپنی کو اس کے استعمال کی اجازت کیسے دے دی گئی؟

 
ایک اور معاملہ ریلائنس کے ذریعہ او این جی سی کے وسائل کی چوری کا ہے۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میںکے جی – ڈی 6 بیسن میں 2011 سے 2014 کے درمیان 9307.22 کروڑ روپے قیمت کی گیس نکاسی کا اندازہ لگایا تھا۔ لیکن ملک کے قدرتی وسائل کی اس لوٹ میںکیگ کی رپورٹ آنے کے بعد بھی سرکار صرف اس لیے خاموش ہے کیونکہ اس میںمکیش امبانی کا نام شامل ہے۔ میڈیابھی خاموش ہے اور ملک کی اپوزیشن بھی خامو ش ہے۔ جو لوگ آواز اٹھا رہے ہیں ان کی آواز میںاتنی گونج نہیںہے کہ وہ ملک کے پالیسی سازوں کے کانوںتک پہنچ سکے۔چاہے وہ حکمراںپارٹی ہو یا اپوزیشن ،سب پر کارپوریٹ چندے کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ عوام کے دکھ درد کی بجائے انھیں بڑی کمپنیوںکے مفادات کی حفاظت کرنازیادہ ضروری لگتا ہے۔ ایک اور سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا سرکار سے نزدیکی رکھنے والے سرمایہ داروں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا دم گھٹ گیا ہے؟ اڈانی گروپ جیسی طاقتور کمپنی کے خلاف آسٹریلیا سے ہندوستان آکر کوئی شخص اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ثبوت جٹا سکتا ہے تو ہندوستان میںہندوستانیوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے آوازیں کیوں نہیںاٹھ رہی ہیں؟ کیا اب جمہوریت کی تعریف یہ ہوگئی ہے کہ جمہوریت عوام کی، عوام کے ذریعہ چنی ہوئی سرکار کو کہتے ہیں جو اپنے پسندیدہ کارپوریٹس کے لیے کام کرتی ہے اور ان کے لیے اچھے دن کا مطلب اپنے پسندیدہ کارپوریٹس کے اچھے دنوںسے ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *