چند چونکانے والے انکشافات مدھولمیےپکے محب الوطن اور سیکولر

damiقربان علی
مدھو لمیے ایک پکے راشٹر پریمی اور سچے محب وطن تھے۔ مدھو لمیے کے تئیں میرے دل میں یہ احترام ان کے ہندوستانی قوم کے تصور اور اسے بچائے رکھنے کی ان کی انتھک کوششوں کے حقیقی معنوں کو لے کر ہے۔
1993 میںلکھے گئے ایک مضمون میں مدھو لمیے نے لکھا کہ صدیوںسے ہندوستانیوںمیںمضبوط اور مستقل ریاست کے قیام کے ذریعہ قومی یکجہتی کے عظیم آدرش کو حاصل کرنے اور اسے بنائے رکھنے کے رجحان کا فقدان رہا ہے۔ ریاست یا مربوط سیاست سماج کے نظریہ کو کبھی بخوبی سمجھا ہی نہیں گیا۔ ہندوستانیوںکی سوچ کا دائرہ خاندان، ذات، چھوٹی برادری، گاؤں یا مقامیت سے آگے تھوڑا ہی آگے بڑھا اور اسی وجہ سے 2500 سال کی معلوم تاریخ میں، 500 سالوں کو چھوڑ کر، باقی کے وقت میںہندوستان ہمیشہ آپس میں لڑنے بھڑنے والی بڑی،درمیانی اور چھوٹی ریاستوںمیںتقسیم رہا۔
مدھو لمیے لکھتے ہیں کہ انڈین نیشنل کانگریس نے پہلی بار قومی یکجہتی کا شعور پیدا کیا اور غیر ملکی سامراجوادی نوکرشاہی ڈھانچے کو ہٹاکر عوام کی مرضی سے چلنے والی ریاستوں سے اسے تبدیل کیا۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ جدید ہندوستانی ریاست اپنی پیدائش سے ہی بدنظمی اور انتہا پسند طاقتوں سے گھری رہی،ملک کی تقسیم کے وقت کی حالت اور پانچ سو سے زیادہ دیسی ریاستوںنے برطانوی حکومت کے ہٹتے ہی خود مختار بننے کے لیے جو خواب دیکھنے شروع کیے تھے، اس سے بھارت راشٹر کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا لیکن مہاتما گاندھی کی اخلاقی طاقت اور ملک بھر میں پھیلی کانگریس تنظیم کے جال کے سبب ہی انارکی پھیلانے والی طاقتوں پر قابو پایا جاسکا اور ایک انتظامی طریقہ کار والا جمہوری آئینی ڈھانچہ تیارکیا جارہا ہے، ان کا یہی درد ان کے نیشنلزم اور حب الوطنی کے تئیںان کے نظریہ کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔
مدھولمیے نے اپنی سیاسی زندگی کی شروعات جنگ آزادی کی تحریک سے کی تھی، اس لیے مدھو لمیے کی سوچ پر قومی تحریک کی گہری چھاپ تھی۔ پونہ کے سانے گرو جی کے اثر کے سبب فرقہ وارانہ سیاست اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی آئیڈیا لوجی سے وہ شروع سے ہی متفق نہیںتھے۔ اس لیے اپنی زندگی کے آخری ایام تک وہ اس کے خلاف لڑائی چھیڑے رہے۔ اجودھیا میںبابری مسجد کو گرائے جانے کے واقعہ اور اس کے بعد بمبئی میں ہوئے بم دھماکوں کے بعد مدھو لمیے نے ایک مضمون لکھا تھا، جس کا عنوان تھا ’راشٹریتا کے دشمن سنکیرن و بکاؤ ہندو اور دھرماندھ مسلمان۔‘ اس مضمون میںانھوںنے لکھاکہ سنگھ پریوار پانچ ایکتاؤں والے ہندو راشٹر کے آدرش کا پرچار کرتا ہے، جو خاص طور سے نسلی، مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور زبان ہیں لیکن وہ کبھی ہندوؤں کو ملک سے محبت کرنے والا ذمہ دار شہری نہیں بناپایا،وہ صرف ان میںمسلم مخالف جذبات کو بھڑکانے میںکامیاب رہا ہے۔ ایم ایس گولولکر کی کتاب ’وی آر اَوَر نیشن ہوڈ ڈیفائنڈ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مدھو لمیے نے لکھا ہے کہ ملک کے غیر ہندوؤںکے بارے میں ان کی رائے تھی کہ غیر ملکی بن کر رہنا بندکریں،ورنہ انھیںاس ملک میںہندو ذات کے پوری طرح تابع ہوکر رہنا ہوگا۔ہم قدیم قوم ہیں اور ہمیںاس ملک میںرہنے والی غیر ملکی ذاتوںسے ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا کہ سبھی قدیم قوم کرتی ہیں۔
اس مضمون میںمدھو لمیے نے اجودھیا میںبابری مسجد گرائے جانے کا واقعہ، اس کے بعد بمبئی بم بلاسٹ کی کڑیوںکو ملاتے ہوئے لکھا ہے کہ داؤد ابراہیم نے انڈرورلڈ کے اپنے قریبی ساتھیوںسے کہا تھاکہ اس کا بدلہ لینے کے لیے کچھ کیا جانا چاہیے اور تبھی ملک کے مغربی سمندر کنارے سات ہزار کلو گرام آر ڈی ایکس اتارا گیا، جسے بعد میںبمبئی بم دھماکوں میںاستعمال کیا گیا۔مدھو لمیے لکھتے ہیں کہ جو لوگ سمندر کے راستے یہ دھماکہ خیز مادہ لائے تھے، وہ پاکستانی مسلمان نہیں بلکہ ہندوستان کے مسلمان ہی تھے لیکن ان کے کام کتنے غیر مناسب اور برے تھے۔ انھیں تحریک بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد ہوئے فسادات سے ہی ملی تھی اور وہ انتہا پسند ہوگئے تھے۔ لیکن مدھولمیے نے سوال کیا کہ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے، جنھوںنے اس سامان کو اتارنے، جمع کرنے، کسٹم چوکیوں سے پار کرانے اور بمبئی تک لے جانے میںمدد کی۔ وہ لکھتے ہیں اس معاملے میںگرفتار کیے گئے لوگ ہندو ہیں اور مختلف ذاتوںکے ہیں۔ مدھو لمیے نے سوال کیا ہے کہ ان لوگوںکے لیے خالص لالچ اور مفاد کی تکمیل کے علاوہ کیا محرک تھا؟ اپنی پچاس سال سے بھی زیادہ لمبی عوامی اور سیاسی زندگی میںمدھو لمیے نے اپنے سیاسی اصولوںکو مضبوطی سے پکڑے رکھا اور ان سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیںکیا اور بڑی بے باکی کے ساتھ اپنی رائے ظاہر کرتے رہے۔
وہ مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کے خلاف تھے اور انھوںنے ہمیشہ فرقہ وارانہ مسلم سیاست کی مخالفت کی۔ لیکن وہ تقسیم ہندکے لیے مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کو بھی قصوروار مانتے تھے اور ان کا محکم یقین تھا کہ اگر 1937 میں ہوئے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اتر پردیش میںچودھری خلیق الزماں کو کانگریس اپنا وزیر اعلیٰ چن لیتی تو پاکستان کی بنیاد اور ملک کی تقسیم کے بیج نہیںپڑتے۔اپنی تین حصوںوالی کتاب’’ مہاتما گاندھی اینڈ جواہر لعل نہرو: اے ہسٹوریکل پارٹنرشپ‘‘ میںمدھو لمیے نے قومی تحریک، کانگریس او رمسلم لیگ کی سیاست اور اس میںبرٹش حکومت کی چال بازیوںکا تفصیل کے ساتھ تجزیہ کیا ہے اور ملک کی تقسیم سے قبل کی سیاست کا تفصیلی جائزہ لیا ہے،جو تاریخ کے طلبہ کے لیے بائبل کا کام کرے گی۔
اپنے لیڈر کامریڈ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی طرح مدھو لمیے بھی 1948 میں سماجوادیوں کے کانگریس چھوڑنے کے حق میںنہیں تھے لیکن جب جے پرکاش نارائن نے کانگریس چھوڑنے کا ارادہ کرلیا تو وہ بھی ڈاکٹر لوہیاکے ساتھ کانگریس چھوڑ کرسماجوادی پارٹی میںشامل ہوگئے اور حکمراں پارٹی کو آئینہ دکھاتے ہوئے ذمہ دار اپوزیشن کا رول ادا کیا اور قومی و بین الاقوامی سیاست میںسرکار کی کیا پالیسی ہو،اس پر پارلیمنٹ میںاور پارلیمنٹ کے باہرعوامی تحریک چلاکر اپنے اخباروںمیںمضامین لکھ کر اپنی رائے کااظہا ر کیا۔ بہت کم لوگوںکومعلوم ہے کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی مدھو لمیے کو اپنا سیاسی حریف مانتے ہوئے بھی بین الاقوامی مدعوں پر ان سے صلاح مشورہ کرتی تھیں اور ماضی کے سوویت یونین کے صدر بریجھنیو اپنے ہندوستانی دورے کے دوران کسی بھی غیر سرکاری شخص سے اگر ملے تو یہ کریڈٹ مدھو لمیے کو ہی جاتا ہے۔
میری کئی بار ان سے سماجوادیوںکی غیر کانگریسواد کی سیاست اور اس کے سبب سنگھ پریوار اور اس کی سیاسی شاکھا، پہلے بھارتیہ جن سنگھ اور پھر بعد میںبھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار میںحصہ داری دلانے پر بات چیت ہوئی۔اسے وہ مطلق العنان کانگریسی سرکار کو اقتدار سے ہٹانے کی ایک اور حکمت عملی بتاتے تھے۔ لیکن سنگھ پریوار کی خطرناک سیاست کو انھوںنے کبھی نظر انداز نہیںکیا اور بار بار وہ سنگھ پریوار کی اس سیاست اور دوہری رکنیت کے سوالوںکو اٹھاتے رہے اور اسی کے سبب کچھ لوگ انھیںجنتا پارٹی کے توڑنے والے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جنتا پارٹی کی حکومت کے دوران علی گڑھ اور جمشید پور میں فرقہ وارانہ فساد ہوئے تھے۔ مدھو لمیے نے حکمراں پارٹی کے ممبر اور جنرل سکریٹری ہونے کے با وجود فسادات میںشامل اپنی پارٹی کے ممبروں کی سخت مذمت کی اور جب انھیںلگا کہ سنگھ پریوار کی سیاست کا مقابلہ وہ جنتا پارٹی میںرہ کر نہیںکرپائیںگے، تو پھر انھوںنے جنتا پارٹی کے ٹوٹنے کو تاریخی ضرورت بتایا اور جنتا پارٹی (سیکولر) کی تشکیل کی۔ جس کی پالیسی سابق یونائٹیڈ سوشلسٹ پارٹی کی تھی۔لیکن افسوس کے ساتھ لکھناپڑتا ہے کہ جن لوگوںکو مدھولمیے نے آگے بڑھایا بعد میںوہی لوگ ان کی نیت پرشک کرنے لگے۔
ان ساری باتوںسے مایوس ہوکر اور اپنی گرتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے 1982 میںمدھو لمیے نے سرگرم سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لیا اور دہلی میںواقع ویسٹرن کورٹ کے ایک چھوٹے سے کمرے میںرہ کر لکھنے پڑھنے کا کام شروع کیا۔اخبارو رسائل میںباقاعدگی سے مضامین لکھنے کے علاوہ انھوںنے ڈیڑھ درجن سے بھی زیادہ بڑی کتابیںلکھیں اور اکثر ان کی ہر کتاب میںقوم سے نبرد آزما مسائل اور ان کے حل کا موضوع مستقل ہوتا تھا۔ 1985 میں راجیو گاندھی کے وزیر اعظم بننے کے بعد پنجاب اور آسام جیسے عجیب مسائل کے ساتھ ساتھ شاہ بانو کیس نے بھی بڑا طول پکڑا اور اس ایک کیس نے پورے ملک کی سیاست کو جھنجھوڑ دیا۔ مدھو لیمے اس معاملے میںسپریم کورٹ کے ذریعہ دیے گئے فیصلے کی تنقید کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کسی مسلمان عورت کو گزارہ بھتہ دینے کا فیصلہ کرتے وقت کسی جج کو یہ حق حاصل نہیںہوجاتاکہ وہ مقدس قرآن کے بارے میںکوئی تبصرہ کرے۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ راجیو گاندھی کے ذریعہ مسلمان عورتوںسے متعلق بل پاس کرائے جانے کے بھی مخالف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ملک میںیکساںسول قانون بنائے جانے کی پہل ہونی چاہیے۔لیکن اس پہل کو کسی دھرم یا کمیونٹی پر تھوپا نہیںجانا چاہیے،بلکہ ماحول بنانے کی کوشش ہونی چاہیے کہ سبھی مذاہب اور فرقوںکی طرف سے یکساں سول قانون بنائے جانے کی مانگ کی جائے۔
مدھو لمیے کو آئینی معاملوں میںعبور حاصل تھااور انھیں آئین ہند کا انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں ہے۔ مجھ جیسا ادنیٰ صحافی رپورٹنگ کے دوران جب کبھی آئینی معاملوںمیںپھنستا تھا توسیدھے مدھو جی کو ٹیلی فون کرتا تھا اور اس کے ہر مسئلہ کا حل مدھو لمیے سے پانچ منٹ ٹیلی فون پر بات کرنے سے ہی ہوجاتا تھا ۔ مدھو لمیے صحافیوںکے لیے کس طرح ٹریننگ کالج کا کام کرتے تھے اور کس طرح انھیںجانکاری دیتے تھے، اس کے لیے مثال کے طور پر ایک واقعہ کا ذکر کرناچاہوںگا۔ واقعہ مارچ 1992 کا ہے۔ اس وقت میں ہندی ’سنڈے آبزرور‘ میںکام کرتاتھا اور راجیہ سبھا کے دو سالہ انتخاب ہونے والے تھے۔ ان انتخابات میںسیاسی پارٹیاں ایسے لوگوںکو ان ریاستوںسے چنواکر بھیج رہی تھیں جہاںکے وہ مقامی نہیںتھے۔ مجھے اس موضوع پر رپورٹ لکھنی تھی اور یہ اجاگر کرنا تھا کہ بائیںبازو کی پارٹیوںکو چھوڑ کر تمام بڑی سیاسی پارٹیاںیہ غیر اخلاقی کام کیسے کرنے جارہی ہیں۔ میںسیدھامدھوجی کے پاس پہنچا اور اس موضوع پر ان کی رائے جاننی چاہی۔میںنے انھیںیہ بھی یاد دلایا کہ 1978 میں کانگریس پارٹی کے پرنب مکھرجی کے گجرات سے راجیہ سبھا میں چنے جانے پر جنتا پارٹی کے لوگوںنے کتنا ہنگامہ کیا تھا۔ اس پر مدھو لمیے کا جواب تھا کہ کسی شخص کا دوسری ریاست سے راجیہ سبھا میںجانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے، کیونکہ ایک ریاست سے دوسری ریاست میںجاکر ووٹ بننے کا ایک عمل ہوتا ہے اور یہ حلف نامہ دیا جاتا ہے کہ وہ اب دوسری ریاست کا باشندہ نہیں رہا۔ لیکن عام طور پر چور دروازہ سے راجیہ سبھا میں جانے والے لوگ، اس طریقہ کار کی پیروی نہیںکرتے اور کسی بھی وزیر اعلیٰ کی معرفت پتہ دے کر ووٹر بن جاتے ہیں اور راجیہ سبھا میںگھس جاتے ہیں۔
مدھولمیے نے اگلے دن مجھے اپنے ساتھ پارلیمنٹ کی لائبریری چلنے کا حکم دیا۔ وہ تھری وہیلر میںبیٹھ کر خراب صحت کے باوجود پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور مجھے ایک مقام پر بٹھاکر 1952 سے 1992 تک کے راجیہ سبھا کے ممبر رہے لوگوںکی زندگی کا تعارف دکھانے لگے اور کہا کہ پوری فہرست تیار کرو، ان میںسے کون کون اپنی آبائی ریاست سے نہ ہوکر دوسری ریاست سے راجیہ سبھا کا ممبر بنا۔مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ موجودہ سیاستدانوںمیںکئی ایسے لوگ ہیںجو آئین کی اصل روح کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے کئی بار مختلف ریاستوںسے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوچکے ہیں۔ شری لمیے نے بتایا کہ اس جرم سے ہندوستان کی کوئی پارٹی پاک صاف نہیںہے۔
مدھو لمیے کو آخری بار تقریر کرتے ہوئے جنوری 1990 میںدیکھا تھا، موقع تھا دسمبر 1989 کے لوک سبھا اور اترپردیش اسمبلی انتخابات کی فیض آباد لوک سبھا اوراسی کے تحت آنے والی اجودھیا اسمبلی سیٹ پر بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے مترسین یادو اور جنتا دل کے جے شنکر پانڈے کا چنا جانا۔ ہندوستانی برادری نامی تنظیم کی طرف سے ان دونوں لوگوں کااس لیے اعزاز دیا گیا تھا کہ یہ دونوںلوگ اس مقام پر فرقہ پرست طاقتوںکو انتخابات میںمات دے کر فتحیاب ہوئے تھے، جسے فرقہ پرست طاقتیںاپنا سب سے بڑا گڑھ مانتی تھیں۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مدھو لمیے نے کہا تھا کہ فرقہ پرست طاقتوںکے ارادوںکو نیست و نابود کرکے ہی اس ملک کے اتحاد اور سالمیت کو مضبوط رکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنی اسی تقریر میںسنگھ پریوار سے سوال کیا تھا کہ وہ دیگر سیاسی پارٹیوںپر مسلمانوںکی منہ بھرائی کا الزام لگاتا ہے۔ کیا اس کی ایک بھی مثال اس کے پاس ہے؟ مدھو لمیے کے الفاظ میںہی ،کیا سنگھ پریوار بتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی کہاں منہ بھرائی ہوئی ہے؟ کیا وہ سماجی طور پر اوپر اٹھ گئے ہیں؟ کیا تعلیمی اعتبار سے اوپر اٹھ گئے ہیں یا معاشی طور پر بہت مضبوط ہوگئے ہیں؟ اور اگر ایسا نہیںہے تو پھر یہ جھوٹا ڈھنڈورہ پیٹنا بند کرنا چاہیے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میںپیش ہوجانے کے بعد سرکاری طورپر اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ جو مدھو لمیے کہہ رہے تھے، وہ صحیح تھا۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مدھو لمیے نے کہا تھا کہ فرقہ پرست طاقتوںکے ارادوںکو نیست و نابود کرکے ہی اس ملک کے اتحاد اور سالمیت کو مضبوط رکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنی اسی تقریر میںسنگھ پریوار سے سوال کیا تھا کہ وہ دیگر سیاسی پارٹیوںپر مسلمانوںکی منہ بھرائی کا الزام لگاتا ہے۔ کیا اس کی ایک بھی مثال اس کے پاس ہے؟ مدھو لمیے کے الفاظ میںہی ،کیا سنگھ پریوار بتا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی کہاں منہ بھرائی ہوئی ہے؟ کیا وہ سماجی طور پر اوپر اٹھ گئے ہیں؟ کیا تعلیمی اعتبار سے اوپر اٹھ گئے ہیں یا معاشی طور پر بہت مضبوط ہوگئے ہیں؟ اور اگر ایسا نہیںہے تو پھر یہ جھوٹا ڈھنڈورہ پیٹنا بند کرنا چاہیے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ میںپیش ہوجانے کے بعد سرکاری طورپر اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ جو مدھو لمیے کہہ رہے تھے، وہ صحیح تھا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *