یوپی میں تیز ہوتی شراب بندی تحریک اصل محرک خواتین

damiدین بندھوکبیر
اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میںترقی کے ساتھ شراب بندی کا مدعا تو نہیںچلا لیکن انتخابات کے بعد ریاست میںجیسے ہی بی جے پی کی سرکار بنی اور یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بنے، ویسے ہی شراب بندی کا مسئلہ یوپی میں بڑے انقلاب کی طرح تیزی پکڑنے لگا۔ الگ الگ ضلعوںمیںعورتوںنے شراب بندی تحریک کو آگے بڑھایااو رشراب کے خلاف آج حالات اتنے پختہ ہوگئے کہ سرکار کو شراب بندی کے بارے میںسنجیدگی سے غور کرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں نے بھی عورتوںکا ساتھ دینا شروع کردیا ہے۔ اب ریاستی سرکار پر اتنا دباؤ ہے کہ یوپی میںبھی جلدی ہی شراب بندی لاگو ہوسکتی ہے۔ یوپی کے بعد بی جے پی حکومت والی سبھی ریاستوںمیںشراب بندی لاگو ہونے کا راستہ صاف ایکبارگی کھل جائے گا۔
شروعات
سوال اٹھتا ہے کہ شراب کے خلاف اچانک ماحول کیسے بننے لگا؟ شراب بندی کے حق میںپوری ریاست میںماحل کیسے گہراگیا اور کتنا گہرایا، اس پر تو ہم تفصیل کے ساتھ بات کریںگے ،لیکن پہلے یہ سمجھتے چلیںکہ جو مسئلہ اسمبلی انتخاب میں نہیںاٹھا، وہ انتخاب کے بعدکیسے پورے سیاسی، سماجی منظر نامہ پر حاوی ہوتا چلا گیا۔ شراب بندی کا مسئلہ اٹھانے کے پیچھے بی جے پی کی سوچی سمجھی سیاست ہے۔ بہار میںشراب بندی لاگو کرنے کی وجہ سے وہاںکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پورے ملک میں ہیرو کے روپ میںپروجیکٹ ہونے لگے،جبکہ گجرات جیسی ریاست اور مہاراشٹر کے کچھ خاص اضلاع میںشراب بندی پہلے سے لاگو تھی۔ لیکن شراب بندی تحریک کا کریڈٹ نتیش کمار نے جھٹکا اور انھوںنے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے پورے ملک میںسماں باندھنے کی قواعد بھی تیز کردی۔
سیاسی مسئلوںکو اٹھانے میںبی جے پی اپنی اجارہ داری مانتی رہی ہے۔لہٰذا اخلاقیات سے جڑا اتنابڑا مسئلہ نتیش کے ہاتھ میںسمٹ جائے،بی جے پی کو یہ گوارا نہیںتھا۔یوپی میںاقتدار میںآتے ہی اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے سنت کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی ریاست میںاچانک شراب کے خلاف تحریک تیز ہوگئی۔ اقتدار پر آتے ہی چھیڑ خانی کے خلاف سخت کارروائیوںسے یوگی کی شبیہ بھی ایک بنیاد پرست سے الگ اخلاقی موقف پر کھڑی ہونی شروع ہوگئی تھی۔ غیر قانونی مذبح پر روک کاسلسلہ بھی تیز ہوا اور ویسے ہی شراب بندی لاگو کرنے کی سرکار پر سیاسی دباؤ کا عمل بھی تیزی سے شروع ہوگیا۔ اس میںاندر ہی اندر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کا اہم اور سرگرم رول رہا ۔
شراب بندی کی مانگ کی تحریک ابھی اور گہرائے گی۔ یہ معاملہ اتنا زیر بحث ہوگا کہ ملک بھر میں اور یوپی میںچرچہ میںآئے گا۔ تب اترپردیش میںشراب بندی لاگو ہوگی اور تبھی بی جے حکومت والی سبھی ریاستوںمیںمکمل شراب بندی لاگو کرنے کا راستہ ہموار ہوگا ۔ سنگھ سے جڑے ایک ایک سینئرعہدیدار نے کہاکہ ریاست میںشراب کے خلاف ہورہی تحریکوںکو ڈھیلا کرنے کی متوازی کوششیں بھی ہورہی ہیں۔ اس میںشراب مافیا اور کچھ سیاسی پارٹیوں کے لیڈر اور ممبروںکے ساتھ پولیس انتظامیہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ سنگھ ایسا ہونے نہیںدے گا۔ شراب بندی کی مانگ میںعورتوںکو زیادہ سے زیادہ تعداد میںشامل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر رابطہ مہم بھی چلائی جارہی ہے۔
سنگھ کو شکایت
راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے تب سے خفا ہیں جب سے نتیش نے اترپردیش کے الگ الگ علاقوںمیںجاکر سنگھ اور شراب کے خلاف بڑی لڑائی شروع کرنے کی بات کہی تھی۔ سنگھ کو یہ ناگوار لگا کہ کبھی بی جے پی کے ساتھ رہے نتیش کمار نے سنگھ کو شراب کے ساتھ جوڑ دیا۔ تبھی سے سنگھ شراب بندی کو لے کر نتیش کی ہیروگیری کو پنکچر کرنے کی کوشش میںلگا ہوا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے یوپی کاوزیر اعلیٰ بنتے ہی سنگھ کو یہ موقع مل گیا۔
آپ یاد کرتے چلیں کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اسمبلی انتخابات سے قبل مرزاپور، وارانسی، کانپور، گھاٹم پور اور لکھنؤ کی سبھاؤں میںراشٹریہ سوئم سیوک سنگھ پر زوردار حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گائے کے تحفظ کانعرہ دینے والے سنگھ کے لوگ جانوروں کی کھال کا جوتا پہن کر گھومتے ہیں اور گایوںکو سڑکوںپر مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیش نے یہ بھی کہا تھا کہ سنگھ کو چاہیے کہ وہ شاکھا لگانے کے بجائے گئورکشا شاکھا لگائے۔ نتیش نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ ملک کو ’سنگھ مکت اور شراب مکت ‘ بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام جے ڈی یو کرے گا۔ جے ڈی یو نے سنگھ کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
نتیش نے مرزاپور کی ریلی میں تو خاص طور سے ’سنگھ مکت شراب سماج‘ کا ہی نعرہ دیا تھا۔ نتیش نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جن ریاستوںمیںبی جے پی کی سرکار ہے، وہاں پر شراب بندی لاگو کیوںنہیں ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ میںنتیش کمار نے مود ی کو بی جے پی حکومت والی ریاستوں میںشراب بندی لاگو کرنے کا سیدھا چیلنج دیا تھا اور ملک کے لوگوں کو سنگھ اور شراب دونوںسے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ وارانسی کی سرزمین پر نتیش کا یہ کہنا کہ ہم ’سنگھ مکت بھارت اورشراب مکت سماج‘ چاہتے ہیں، اسے سنگھ نے اپنے اور مودی کے لیے چیلنج مانا تھا۔
یوگی نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے پہلے تو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں 8,544 شراب کی دکانوںکو رہائشی بستی، تعلیمی اداروں، مذہبی مقامات اور اسپتال سے دور ہٹانے کا سختی کے ساتھ حکم دیا ۔ پھر ورنداون، اجودھیا، چترکوٹ، مشرکھ نیمشارنیہ،پیران کلیر،دیویٰشریف،دیوبند،وارانسی کاشی وشونا تھ مندر ، متھرا شری کرشن جنم استھل اور الہ آباد میںسنگم حد کے چاروں طرف شراب کی فروخت پر سختی سے روک لگانے کا حکم جاری کیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کی ہدایت پر سختی سے عمل نہ کرنے والے افسروںکو سزا دی جائے گی۔
عورتیں سڑک پر
یوگی اب ریاست میںنئی آبکاری پالیسی بھی بنانے جارہے ہیں۔
شراب کے خلاف یوپی میںعام لوگوںکی ناراضگی اب ایسے موڑتک پہنچ گئی ہے کہ اترپردیش کے الگ الگ شہروں میںشراب کی فروخت کے خلاف عورتیں سڑک پراترنے لگی ہیں اور شراب کے ٹھیکے بند کرانے کی مانگ کررہی ہیں۔ شراب کے ٹھیکے توڑنے میںبھی عورتیںبڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ریاست کی راجدھانی لکھنؤ میںبھی حضرت گنج علاقے کی شراب کی تین دکانوںمیںعورتوں نے گزشتہ دنوں جم کر توڑ پھوڑ کی اور دکانیںبند کرادیں۔ سیکڑوںکی تعداد میں عورتوںکو توڑ پھوڑ پر آمادہ ہوتا دیکھ کر شراب کی دکانوںکے کارندے وہاںسے بھاگ نکلے۔ عورتوں کا کہنا تھا کہ مندر کی بغل میںشراب کی تین دکانیں چلناغیر سماجی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام ہے۔
ان ٹھیکوںپر شراب نوشی کی وجہ سے ان کا گھر برباد ہورہا ہے۔ دیگر اضلاع کا بھی یہی حال ہے۔ سنبھل شہر میںتو لاٹھی ڈنڈے لے کر عورتوں نے کوتوالی علاقے میں واقع شراب کی ایک دکان پر پچھلے دنوںدھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی۔ وہاں دو اسکولوںکے پاس شراب کی دکان کھل گئی تھی۔ سنبھل ضلع کی چندوسی کوتوالی کے دیوریا کھیڑا گاؤں میںدیسی شراب کی دکان پر سیکٹروں عورتیں لاٹھی ڈنڈے لے کر اکٹھی ہوئیں اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ عورتوںنے شراب کی دکان کو آگ کے حوالے بھی کردیا۔ باغپت میں بھی عورتوںنے شراب بندی کے لیے مہم چھیڑرکھی ہے۔ وہاں بھی عورتوںنے پچھلے دنوںشراب کے ایک ٹھیکے پر دھاوا بولا اور شراب بیچنے والوں کو ڈنڈوں اوار تھپڑوںسے پیٹا۔ اسی طرح بلند شہر میںپچھلے دنوں عورتوں نے دیوی پورہ فرسٹ علاقے میں سرکاری شراب کے ٹھیکے اور آس پاس کے محلے کے ٹھیکوں پر دھاوا بول دیا۔
ریاست گیر احتجاج
سرکاری و پرائیویٹ شراب کے ٹھیکوںکو بند کرنے کے لیے عورتوں نے زوردار مظاہرہ کیا اور ٹھیکے میںگھس کر وہاںرکھی شراب کے پاؤچ سڑکوںپر پھینک دیے۔ عورتوں نے بلند شہر ، شکار پور اورڈبائی میں شراب بیچنے کے خلاف ماحول کو گرمایا اور شراب کے ٹھیکوں پر جم کر توڑ پھوڑ کی۔ ناراض عورتوںنے شکارپور کے آنچرو کلاںگاؤں میںشراب کے ٹھیکے کو آگ بھی لگادی۔ ڈبائی کے دھرمپور گاؤں میںبھی سیکڑوں عورتوں نے شراب کے ٹھیکے پر جم کر توڑ پھوڑ کی۔ لکھنؤ کے قریب ہردوئی میں بھی گزشتہ دنوں عورتوں اور بچوں نے مل کر شراب کی دکانوں پر حملہ کیا اور شراب کی فروخت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ آندولن چلانے والوںنے شراب کے ٹھیکے کی زیر تعمیر دیوار ڈھادی اور ٹھیکہ بندکرادیا۔ شہر کوتوالی علاقے میںنگھیٹا روڈ پر سینٹ جیویرس اور آر آر انٹر کالج کے ٹھیک سامنے شراب کے دو نئے ٹھیکے کھولے جانے کے خلاف محلے کی عورتیں اور بچے سڑک پر اتر پڑے تھے۔ یہ شراب کے ٹھیکے رہائشی علاقوں اور اسکولوں کے پاس کھولے گئے ہیں، جنھیںفوری طور پر بند کرانے کی مانگ کی جارہی ہے۔
مرادآباد میںبھی مجھولا تھانہ کے رام تلیا علاقے میںعورتوں نے شراب کے ایک ٹھیکے کو آگ کے حوالے کردیا۔ شراب کے خلاف عورتوں کی مخالفت مرادآباد ضلع میںلگاتارجاری ہے۔ مین پوری میں دنّاہار تھانے کے لالپور سگونی گاؤں میںبھی عورتوںنے شراب کی دکانوںکی مخالفت کی اور شراب کے ٹھیکے کی گمٹی جلا ڈالی۔موقع پر پہنچے شراب کے ٹھیکیدار سنجیو یادو کو بھی لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹاگیا۔ جونپور شہر میںتو دیسی اور غیر ملکی شراب کی دکانوںپر ہلا بول کر آگ لگانے والی عورتوںکو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ کوتوالی پولیس نے قریب 20 عورتوںکو حراست میں لے لیا۔ عورتوں نے عالم خاں محلہ میںواقع دیسی شراب کی دکان پر بھی حملہ کیا او رساری شراب سڑک پر پھینک دی۔
ادھر اعظم گڑھ کے چھڑوا بھادی میںبھی عورتوںنے حملہ کرکے شراب کی دکان تباہ کردی۔ پی ایم مودی اور سی ایم یوگی کے نعروںکے ساتھ وارانسی شہر کے گاؤںتک شراب بندی کی مہم رفتار پکڑ رہی ہے۔ شرابیوںکی دہشت سے پریشان عورتوں نے رویندر پوری اور شوالہ واقع دیسی شراب کی دکانوںمیںپچھلے دنوںجم کر توڑ پھوڑ کی تھی۔ یہ واقعہ مودی کے پارلیمانی دفتر سے محض تین سو میٹر کی دوری پر رونماہوا۔ مشتعل عورتوںنے مودی کے پارلیمانی دفتر پر بھی مظاہرہ کیا۔ عورتوںکی مانگ پر پولیس کو معاملہ درج کرنا پڑا۔ سیوا پوری کے جَنسا تھانہ علاقہ میںہرسوس میں بھی سرکاری شراب کی دکانوں کو بند کرانے کے لیے ضلع پنچایت ممبر سیما پٹیل کی قیادت میںسیکڑوں عورتوںاور بڑی تعداد میںمردوں نے مظاہرہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اترپردیش میںبہار کی طرز پر نہیںبلکہ گجرات کی طرز پرشراب بندی لاگو کرنے کی مانگ کی جارہی ہے۔
مضمرات
اس مانگ کے اپنے خاص مضمرات ہیں۔ آدتیہ نگر میںبھی ناراض عورتوں نے چتئی پور کروندی مارگ جام کرکے شراب بندی کے لیے آواز اٹھائی۔ لوہتا کے منگل پور میںشراب کی دکان پھونکنے کی کوشش کے الزام میںپولیس نے 35 عورتوںکو گرفتار کیا۔ قریب دو درجن عورتیںجیل میںہیں۔ سارناتھ کے پنچ کوشی چوراہے کے نزدیک سرکاری دیسی شراب کی دکان پر بھی عورتوں نے پچھلے دنوں میںتوڑ پھوڑ کی اور شراب کی بوتلیں سڑک پر پھینک دیں۔ اس کام میں بچے بھی عورتوںکے ساتھ دے رہے ہیں ۔
ایک طرف یہ آندولن وزیر اعظم نریندرمودی کے پالیمانی حلقہ سمیت پورے ملک میںتیز رفتارسے گہراتا جارہا ہے تو دوسری طرف شراب کے خلاف بڑھتے عوامی غصے پر پانی ڈالنے کے لیے دوسرا ہتھکنڈہ اپنایا جارہا ہے۔ مظاہرہ کرنے والی عورتوںپر شراب کی دکان پر حملہ کرکے لوٹ پاٹ کرنے کا مجرمانہ کیس درج کرایا جارہا ہے اور انھیںگرفتار کیا جارہا ہے۔ تحریک سے جڑے لوگوں پر پولیس کی زیادتی کا ہتھکنڈہ آزمایا جارہا ہے۔ اس کام میں شراب مافیا پولیس کے افسران اور ملازمین کی سازباز سے کام کررہا ہے۔ شراب مافیاؤںکو اپنا دھندہ اور پولیس کو اپناہفتہ بند ہوتا نظرآرہا ہے۔
لکھیم پور کھیری میں انتظامیہ کی الٹی چال
انتظامیہ کی الٹی چال
لکھیم پور کے ضلع آبکاری افسر پنکج یادو کا عجیب و غریب کارنامہ سامنے آیاہے، جس نے شہر کے رہائشی علاقے کو شراب کی منڈی بنا ڈالا۔ بھاری عوامی غصے کے باوجود ضلع آبکاری افسر نے چار اسکولوںاور ایک مندر کے بیچ شراب کی چار دکانیںکھلوادیں۔ اس سے پورے علاقے میںبھاری غصہ پایاجاتا ہے۔ گزشتہ سال ہنومان مندر کے سامنے بھی آبکاری محکمہ کے افسروں کی وجہ سے دیسی شراب کی دکان کھل گئی تھی۔ علاقہ کے لوگوںنے اس کی مخالفت کی اور ضلع سے لے کر ریاستی سطح تک افسروںکو لکھا لیکن آبکاری افسروں کی ہمت اتنی بڑھ گئی کہ پورے گڑھی روڈ کو شراب منڈی میںہی تبدیل کردیا۔ اس کی مخالفت میں’مہلا سمان سمیتی‘ نے آواز اٹھائی۔ اس میںگڑھی روڈ کے باشندوںنے بھی ساتھ دیا لیکن ضلع انتظامیہ نے لوگوںکی مانگ کو نظر انداز کردیا۔ مجبور ہوکر ’مہلا سمان سمیتی‘ نے قسطوار انشن شروع کیا۔ لیکن انتظامیہ کی مجرمانہ نظراندازی کے سبب یہ اب آمرن انشن میں بدل گیا ہے۔اس کے باوجود انتظامی لاقانونیت قائم ہے۔ رہائشی علاقے کو شراب منڈی میںبدلنے کا جرم آبکاری انسپکٹر پنکج یادو نے کیا ہے۔ اس نے طے شدہ معیاروںکو طاق پر رکھ کر شراب کی دکانیںکھلوائیں۔ علاقے کے لوگوںنے انشن کرنے والوںکی شویاترانکال کر مصروف ترین چوراہے پر جام بھی لگایالیکن مقامی انتظامیہ شراب مافیاؤںکی پیروی میںہی لگاہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *