یوجنا آیوگ کی جگہ نیتی آیوگ برا خیال تھا

ملائم سنگھ یادو نے بیان دیا ہے کہ یہ ایک نئی پارٹی بنانے جارہے ہیں۔ شیو پال سنگھ یادو نے بھی یہی بات کہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کئی بار اتر پردیش کی حکومت پر قابض رہی ہے۔یہ 2012 میں مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی اور اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ انتخابات کے موقع پر اکھلیش یادو کو لگا کہ وہ بہت مقبول ہیں۔پریوار میں درار آگیا اور اس کے بعد الیکشن کے جو نتیجے آئے، وہ سب کے سامنے ہے۔ عمر کے اس پڑائو پر اگر ملائم سنگھ یادو نئی پارٹی بنا رہے ہیں تو یہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔شیو پال سنگھ ان کے ساتھ ہیں۔ وہ تنظیم کے آدمی ہیں۔ پارٹی کے کارکن ان کے ساتھ ہیں۔ یادو سماج کے لوگ اور سماج وادی سوچ کے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ لہٰذا ایسا نہیں ہوگا کہ اس کا کوئی اثر نہ ہو، اس کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوگا۔ لیکن اس سے اپوزیشن کا ووٹ بٹے گا اور اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ سبھی اپوزیشن پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر مہا گٹھ بندھن بنانے کی بات چل رہی ہے۔ نتیش کمار اس کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ دیگر لوگ بھی کوشش کررہے ہیں۔ صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لئے سونیا گاندھی سب سے بات کررہی ہیں۔ اگر ایسی صورت میں یہ دوسری پارٹی بنانے کی بات کررہے ہیں تو یہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔ بہر حال ہم کثیر جماعتی جمہوری نظام میں رہتے ہیں۔یہاں ہر آدمی اپنی پارٹی بنانے کے لئے آزاد ہے۔ اس لئے ملائم سنگھ یادو بھی اپنی پارٹی بنا سکتے ہیں۔ لیکن بہت اچھا ہوتا، اگر اکھلیش اپنے والد اور چچا سے بات کرتے اور کسی سمجھوتے پر پہنچتے۔ پارٹی اپنے آپ کو مضبوط کرتی اور اگلے انتخاب کی تیاری کرتی۔ دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے؟
دوسرا ایشو ہے آدھار کارڈ کا۔ جب کانگریس پارٹی کی سرکار نے آدھار کارڈ جاری کرنے کی شروعات کی تھی، تو اس پر اختلاف ہوا۔ تب بی جے پی کے لیڈروں ، خاص طور پر ارون جیٹلی نے اس کی زبردت مخالفت کی تھی۔ شخصی جانکاری اکٹھا کرنے کا کام تاناشاہی اور فوجی حکومت میں ہوتا ہے۔ انگلینڈ میں اس کی شروعات ہوئی تھی،لیکن اسے جلد ہی روک دیا گیا، کیونکہ اس کارڈ کا فائدہ کم، نقصان زیادہ تھا۔ سرکار میں آنے کے بعد بی جے پی نے آدھار کو اور مضبوط کردیا۔ نندن نیلیکانی کی بات تو میں سمجھ سکتا ہوں، کیونکہ وہ اس سے پیسہ حاصل کررہے ہیں۔ جب مودی پے ٹی ایم کی بات کرتے ہیں یا کسی دیگر ڈیوائس کی بات کرتے ہیں، تو اس میں پیسہ لگتا ہے۔ صرف کیش کے تبادلے میں پیسہ نہیں لگتا۔ کارڈ کے ذریعہ ہر لین دین میں پیسہ لگتا ہے۔ اسی طرح آدھار کارڈ کے کئی خطرے ہیں۔ اس کارڈ میں آپ کے بایومیٹرک ڈاٹا ہیں، فنگر پرنٹس ہیں۔آنکھوں کی پتلی کی تصویر ہے۔کوئی ایک بٹن دبائے گا، آپ کی ہر جانکاری اس کے پاس ہوگی۔مان لیجئے ،اگر میرے پاس آدھار کارڈ ہے تو میری ہر جانکاری ایک بٹن دبانے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ اچھی بات ہو سکتی ہے،لیکن یہ خطرناک بھی ہے۔ اگر آدھار کا ڈاٹا کسی نے چرا لیا، تو بغیر کسی محنت کے ایک ہی جگہ سے ساری جانکاریاں حاصل کر لے گا۔ لہٰذا اسے لے کر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ میں مودی اور ان کی کابینہ کے حوصلے کو سمجھ سکتا ہوں، کیونکہ وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کام موثر اور بہت اچھے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ احتیاط برتنے کی بات کرتا ہے تو احتیاط برتا جانا چاہئے۔ یہ رپورٹ آ رہی ہے کہ 13 کروڑ لوگوں کے ڈاٹا چرائے جاچکے ہیں۔ 13کروڑ تو دنیا کے زیادہ تر ملکوں کی ا ٓبادی بھی نہیں ہے اور 13کروڑ ہماری آبادی کا بھی 10فیصد ہے ۔سرکار کو ایک کمیٹی بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ چاہے پارلیمانی کمیٹی ہو، اسٹینڈنگ کمیٹی ہو یا کل جماعتی کمیٹی ہو، آدھار کارڈ پر گہرائی سے غور ہونا چاہئے۔ میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ ایئر پورٹ میں داخل ہونے کے لئے بھی آدھار کارڈ کا استعمال ہوگا۔ میں ملک کے ان لوگوںمیں سے ایک ہوں، جنہوں نے آدھار کارڈ نہیں بنوایا ہے۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں فلائٹ سے کہیں نہیں جاسکتا ۔یہ بہت مضحکہ خیز چیز ہے۔ اگر میرے پاس پاسپورٹ ہے، تو کیا پاسپورٹ دکھا کر میں ایئر پورٹ میں داخل نہیں ہوسکتا؟میں دنیا بھر کا سفر اپنے پاسپورٹ پر کر سکتا ہوں۔ ان ساری چیزوں کے منفی دور رس اثرات ہیں۔ ان میں کچھ بھی مثبت پہلو نہیں ہیں۔ آدھار سے کیا حاصل ہونے جا رہا ہے؟پہلے انہوں نے کہا کہ سرکاری فائدہ کے لئے آدھار کی ضرورت ہے، جیسے ایل پی جی یا راشن سبسڈی وغیرہ۔مجھے ان میں سے کچھ بھی نہیں چاہئے۔تو پھر مجھے آدھار کارڈ کی کیا ضرورت ہے؟ میں سرکار کو ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ٹیکس ادا کرنے کے لئے بھی آدھار کارڈ کی ضرورت ہوگی۔مجھے نہیں لگتا کہ اس پر سرکار کی سوچ صحیح ہے۔ سرکار کو آدھار پر ضرور ہی از سر نو غور کرنا چاہئے۔سپریم کورٹ نے بھی ازسرنو غور کرنے کی بات کہی ہے۔
تیسرا نکتہ ہے ،نیتی آیوگ ۔’سودیشی جاگرن منچ‘ جو کہ آر ایس ایس کا ایک معاون ہے،نے ایک بیان دیا ہے کہ نیتی آیوگ ملک مخالف ہے، نیتی آیوگ کے سجھائو ملک مخالف ہیں۔ نیتی آیوگ ایسی چیزوں کا سجھائو دے رہا ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حق میں ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آر ایس ایس کے اندر سے کسی نے اپنی بات رکھی ۔بیشک یہ باتیں مودی کو پسند نہیں آئیں گی۔ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کو کھڑی کھوٹی بھی سننی پڑے۔ اروند پنگڑھیا نیتی آیوگ کے چیف ہیں۔ وہ امریکہ سے آئے ہیں، شاید کولمبیا یونیورسٹی سے۔ ان کے خیالات امریکی ہیں۔ انہیں ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یوجنا آیوگ کی جگہ نیتی آیوگ کی تشکیل ہی ایک برا خیال تھا۔ میں نے حال ہی میں کہیں پڑھا ہے کہ نیتی آیوگ اتر پردیش سرکار کو اس کی پالیسیوں پر صلاح دینے جا رہی ہے۔یہ کس طرح کی بیوقوفی کی بات ہے، ایسا کرنے کے لئے نیتی آیوگ سے کس نے کہا ،کس نے یہ حق دیا؟یہ ایک سینٹرل تھینک ٹینک ہے۔ اس کا ریاستی سرکار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ریاستی سرکار کے اپنے یوجنا بورڈ ہیں۔ لیکن ابھی ایسا لگتا ہے کہ ہر چیز افرا تفری کی صورت حال سے گزر رہی ہے۔ نریندر مودی بہت جلد بازی میں ہیں اور وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ یہہندوستان کو بدل سکتے ہیں۔ جو بدلائو 70 سال میں نہیں ہوئے ،وہ اس بدلائو کو 7 سال میں کر دینا چاہتے ہیں۔ نریندر مودی ایک نیک نیت آدمی ہیں، وہ بد عنوان نہیں ہیں، لیکن ان کے پاس خیالات کی کمی ہے۔ وہ بہت پڑھے لکھے آدمی نہیں ہیں۔ انہوں نے کافی غیر ملکی دورے کئے ہیں۔ آر ایس ایس نے بھی ملک کے ہر گائوں کے دورے کئے ہیں۔ اتنے دورے کرنے کے بعد مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے سوچا کہ اس سے لوگوں کو مدد ملے گی،لیکن کیسے؟انہیں بھی معلوم تھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ ٹھیک ہے کہ نوٹ بندی کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے۔یہ اب کوئی ایشو نہیں ہے۔ جتنی جلدی ہو ایک تھینک ٹینک کی تشکیل کرنی چاہئے، بھلے ہی اس میں آر ایس ایس کے لوگ ہوں، اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے،کیونکہ یہ آپ کی سوچ کے مطابق ہے۔ آخر لوگوں نے آپ کو چنا ہے۔ اگر آپ کانگریس کے لوگوں کو نہیں رکھنا چاہتے ہیں، مت رکھئے، اپنے لوگوں کو رکھئے۔ لیکن گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ بغیر غور و فکر کے یومیہ لوگوں کے اوپر آپ پالیسیاں تھوپ رہے ہیں۔ کل ارون جیٹلی نے اعلان کیا کہ کابینہ نے ایک آرڈیننس کو منظوری دی ہے۔ تاکہ بینکنگ ریولیوشن ایکٹ پر نظر ثانی کی جاسکے اور بینک کو یہ اجازت دی جاسکے کہ وہ این پی اے کے معاملے کو رفع دفع کر سکیں۔ اس کام کے لئے ایک آرڈیننس کی کیا ضرورت تھی؟بینک کے چیئرمین کو یہ حق ہے لیکن آپ کو ایک کور کی ضرورت ہے، تاکہ بڑے لوگوں کو دیئے گئے بڑے قرض کو معاف کیا جاسکے۔ آپ اسے قانونی تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ ملک کے اقتصادی نظام کے لئے یہ چیزیں صحیح اشارے نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ارون جیٹلی ایک کارپوریٹ وکیل ہیں اور ان چیزوں کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ایک طرف تو آپ آئی ڈی بی آئی کے چیئرمین کو اس لئے گرفتار کر لیتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے دور کار میں لون دیا تھا۔ آپ نے سبھی چیئرمین کو ڈرا دیا اور اب ان کی سیکورٹی کے لئے ایک قانون لا رہے ہیں۔ میرے مطابق مودی سرکار نے پہلے مسئلہ پیدا کرنے اور پھر بعد میں اس کا حل کھوجنے میں خصوصیت حاصل کرلی ہے ۔اگر وہ ملک کو ویسے ہی چلنے دیں،جیسے چلنا چاہئے ،تو بہتر ہوگا۔ ہمیں ایسی توقع کرنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *