یروشلم پر اسرائیلی جارحیت کی عکاسی ہوتی ہے

اسرائیل کی وزیر ثقافت مری ریگیو نے کانز فلم فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ پر اپنے لباس سے اسرائیل اور فلسطین کی بحث کو ہوا دی۔ فن اور فیشن کے عظیم سنگم کانز فلم فیسٹول کے ریڈ کارپٹ پر اسرائیلی وزیر نے قدم کیا رکھے وہاں سیاست کا رنگ گہرا ہوتا چلا گیا۔یوں تو کانز میں ریڈ کارپٹ یعنی سرخ قالین پر نظر آنے والی شخصیات کے لباس اور فیشن پر سب کی نظریں ہوتی ہیں لیکن اسرائیل کی وزیر ثقافت مری ریگیو جب ‘يروشلم لباس پہن کر پہنچیں تو سیاست گرما گئی۔
مری ریگیو نے اس موقعے پر جو لباس زیب تن کیا تھا اس کے دامن میں یروشلم کے کئی مناظر پرنٹ تھے۔ ان میں مغربی دیوار اور قبۃ الصخرہ یعنی ڈوم آف دا راک کی تصاویر نمایاں تھیں۔ انٹرنیٹ پر اس لباس کو فوٹوشاپ کرکے اسے مغربی کنارے اور غزہ میں ہونے والے بم دھماکوں کے مناظر کی تصاویر کے ساتھ پوسٹ کیا گیا تھا۔
مری ريگيو کے لباس کو سوشل میڈیا میں اس طرح پیش کیا گيا جس سے یروشلم پر اسرائیلی جارحیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ایک جانب فلسطینی مشرقی يروشلم کو اپنے مستقبل دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں تو دوسری جانب اسرائیل پورے يروشلم کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے۔ رواں ماہ یونیسکو نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے يروشلم پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ مری ریگیو کو ان کے ناقدین ‘ہیلز والی ٹرمپ کے نام سے بلاتے ہیں۔ وہ پہلے اسرائیلی فوج میں خدمت انجام دے چکی ہیں۔ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ اسرائیلی وزیر ثقافت مری ريگیو نے کانز میں اشتعال انگيز لباس زیب تن کیا۔ کسی نے انٹرنیٹ پر اس کی ریڈریس (تلافی) کر دی ہے۔
فلسطین کی حمایت میں فیس بک پر بہت سے پوسٹ کیے گئے ہیں جن میں ان کے لباس پر اسرائیلی پرچم پر خون کے داغ اور غزہ میں 2014 کی اسرائیلی کارروائی میں منہدم ہوئی عمارتوں کے درمیان بیٹھی ایک روتی ہوئی فلسطینی خاتون کی تصویر ہے شامل ہے۔ اگرچہ اپنے لباس کے بارے میں مری ریگیو نے کہا کہ يروشلم اسرائیل کا دائمی دارالحکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘رواں سال ہم آزادی اور يروشلم کے انضمام کے 50 سال کا جشن منا رہے ہیں … میں اس تاریخی دن کا جشن فن اور فیشن کے ذریعہ منانے میں فخر محسوس کرتی ہوں۔ لیکن فلسطین کے اطلاعات کے نائب وزیر محمود خلیفہ نے کہا کہ یہ لباس “قبضے کی کالی اصلیت کی پردہ پوشی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *