ہندوستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ چین

damiبہت سے لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ تبت کے جلا وطن مذہبی پیشوا دلائی لامہ کی اروناچل آمد کے ٹھیک ایک ماہ پہلے چین کی فوج ہندوستان میں داخل ہونے کی تیاریاں کر رہی تھی۔دلائی لامہ کی توانگ یاترا پر پوری دنیا کی نگاہ تھی، اس لئے چین نے رکاوٹ تو نہیں ڈالا ،لیکن اپنی حرکتوں سے باز بھی نہیں آیا۔ ہندوستانی فوجی انٹلی جینس ایجنسی نے مرکز کو یہ رپورٹ دی ہے کہ چین کی فوج مارچ کے مہینے میں ہندوستان کے پڑوسی ملک برما (میانمار) میں کافی اندر تک گھس آئی تھی۔ چین نے باقاعدہ ہندوستانی فوج کو دکھاتے ہوئے یکطرفہ جنگی مشق کی اور میانمار سرکار کی گگھی بندھی رہی۔ہندوستانی سرکار نے بھی اس پر پرائیویسی بنائے رکھی۔ ہندوستانی سرکار نے اس مسئلے پر سفارتی خاموشی لگا کر دلائی لامہ کے توانگ دورے میں کوئی خلل نہیں آنے دی۔اس سے چین اور بوکھلا گیا اور اس نے ارونا چل پردیش کے ضلعوں کا چینی نام دینے اور جنگ کی دھمکیاں دینے کی بچکانی حرکتیں شروع کردیں۔
چین یہ سمجھنے لگا ہے کہ تبت کو لے کر عالمی رائے عامہ اس کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے اور یہ تبت کا مستقبل طے کرے گا۔چین کی بوکھلاہٹ ہندوستان کی فوجی طاقت سے نہیں ،بلکہ اس کی لگاتار بڑھتی سفارتی طاقت سے ہے۔ اس وجہ سے اب وہ سیدھے دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ چین کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے،کیونکہ لاپرواہی کا خمیازہ ہم 1962 کی جنگ میں بھگت چکے ہیں ۔ہندوستانی فوج کی جنگی طاقت بڑھانے پر ہندوستانی سرکار کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے، یہ بی جے پی سرکار کے راشٹریہ واد کی اصلیت ہے۔ پہاڑی خطے میں کارگر طریقے سے مار کرنے میں ماہرین ’’مائونٹ اسٹرائک کور‘‘ کی تعمیر کی تجویز کومرکزی سرکار دبائے بیٹھی ہے ۔جبکہ یہ ملک کی ایمرجینسی سیکورٹی نیسیسیٹی کے درجے میں آتا ہے۔ فوج کے ارمامینٹ، آلات، توپ خانے اور گاڑی تک پرانے ہو چکے ہیں۔انہیں فوری بدلنے کے لئے فوج کی طرف سے مرکز کو بار بار تکنیکی رپورٹ بھیجی جاتی ہے، لیکن وزیر اعظم اور وزیر دفاع اس پر دھیان نہیں دیتے اور وزیر خزانہ ہمیشہ اڑنگا ڈال دیتے ہیں۔
چین کی حرکتیں
ملٹری انٹلی جینس کی رپورٹ کے ذریعہ پہلے ہم چین کی حالیہ حرکتوں کا جائزہ لیتے چلیں جو اس نے برما (میانمار) میں کی ہے۔ اس کے بعد ہم اپنی فوجی طاقت کی اصلیت کھنگالیں گے۔ اس سال مارچ کے مہینے میں برما سرحدی علاقے میں کافی اندر تک چینی فوجوں کو جنگی مشق کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس میں چین کی جنگی مشق کم، اس کی جنگی تیاری زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔ملٹری انٹلی جینس کی رپورٹ نے وزارت دفاع سے پی ایم او تک سنسنی پھیلادی،لیکن اسے عوامی نہیں کیا گیا۔ ملٹری انٹلی جینس نے 28 مارچ کو برما میں ہوئے چینی فوج کی جنگی مشق کی تصویریں بھی دیں، جن میں چینی فوج پوری تیاریوں کے ساتھ بکتر بند ہوکر جنگی مشق کر رہی ہیں۔ خوبی یہ ہے کہ دوسرے ملک کی زمین پر کی گئی چین کی یہ فوجی مشق مشترکہ نہیں تھی۔ اس میں صرف چینی فوج شامل تھی اور اس کے لئے میانمار سرکار سے کوئی سرکاری اجازت نہیں لی گئی۔ عالمی فوجی قانون کے تحت یہ چین کا مجرمانہ عمل ہے۔ کسی بھی ملک میں مشترکہ فوجی مشق کی کارکردگی دونوں ملکوں کی سرکار کی باہمی رضامندی سے ہی کی جاسکتی ہے۔ ایک ملک کی فوج کسی دوسرے ملک میں اکیلے جنگی مشق نہیں کرسکتی ، اس کے لئے کوئی بھی ملک دوسرے ملک کو اجازت نہیں دیتا۔لیکن چین کی اس دادا گری کے سامنے برما (میانمار) جھک گیا۔ انٹرنیشنل فورم پر برما کو یہ مسئلہ اٹھانا چاہئے تھا، لیکن اس نے خاموشی اختیار کرلی۔
یہ ہندوستان کے لئے انتہائی تشویشناک صورت حال ( الارمنگ سچویشن ) ہے۔ وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے کہا کہ برما کے جنگل میں گھس کر ہندوستانی فوج نے جون 2015 میں دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن چلایا تھا، چین نے اسی کا جواب دیا ہے۔ برما کے جنگلوں میں گھس کر دہشت گردوں کے خلاف چلائے گئے آپریشن میں ہندوستانی فوج نے این ایس سی این کے کھاپ لانگ گروپ کے باغیوں کی مدد لی تھی۔ اسی طرح برما میں گھسنے کے لئے چین چینی نژاد کوکانگ طبقہ کا ساتھ لے رہا ہے۔ فوجی خفیہ برانچ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کہتے ہیں کہ چین ایک طرف برما فوج کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرتا ہے ،لیکن دوسری طرف برما فوج کے ساتھ لمبے عرصے سے جنگ لڑ رہے کوکانگ آرمی کا ساتھ دے رہا ہے اور اپنی زمین پر پناہ بھی دے رہا ہے۔ کوکانگ آرمی کے ممبروں کو پناہ گزیں بتا کر چین اپنے یہاں محفوظ ٹھکانے مہیا کراتا ہے۔ کوکانگ آرمی کا چیئر مین فینگ کیا شین چین میں ہی رہتا ہے۔ کوکانگ طبقہ کے لوگوں کو تحفظ دینے کی ہدایت دے کر چین میانمار سرکار کو ہڑکاتا بھی رہتا ہے۔ چین سرکار برما سے خود مختاری چاہنے والے کَیرین طبقہ اور ان کی کَیرین نیشنل لبریشن آرمی کی بھی پیٹھ سہلاتا رہتا ہے، تاکہ برما اس کے سامنے ہمیشہ کمزور بنا رہے۔ کوکانگ آرمی میں چین کے لوگوں کی لگاتار بھرتی ہو رہی ہے۔ ہندوستانی فوجی خفیہ ایجنسی کو دستیاب رپورٹ کے مطابق چین کی پیپلس لبریشن آرمی سے ریٹائر ہوئے فوجوں کو میانمار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس آرمی میں پُرکشش پیکج کا آفر دے کر بھرتی کیا جارہا ہے۔ دفاعی ماہرین مانتے ہیں کہ ہندوستان کو ٹارگٹ کرنے کے لئے چین برما، بھوٹان ،بنگلہ دیش اور نیپال کو پینگو اور خوفزدہ بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔ 1962 کی ہند-چین جنگ کے بعد امریکہ خفیہ ایجنسی سی آئی آے نے کہا تھا کہ چین ہندوستان پر اگلا حملہ برما کے راستے سے ہی کرے گا۔ برما میں چین کی موجودہ حرکت سی آئی اے کی 55 سال پرانی رپورٹ کو آج متعلقہ بناتی ہے۔
ارونا چل میں چینی نام
بہر حال، دلائی لامہ کی اپنی جائے پیدائش توانگ کا دورہ کر کے جانے کے بعد چین نے بوکھلاہٹ میں ارونا چل پردیش کے 6 علاقوں کوچینی نام دے دیا۔ دراصل ہندوستان اور چین کی سرحد پر 3,488 کلو میٹر لمبی حقیقی لائن آف کنٹرول تنازع میں ہے۔ چین ارونا چل پردیش کو جنوبی تبت بتاتا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کا کہنا ہے کہ متنازع خطہ اکسائی چین تک ہے جس پر 1962 کی جنگ کے دوران چین نے قبضہ کر لیا تھا۔ چین نے اپنا دعویٰ مضبوط کرنے کے ارادے سے 14 اپریل کو’جنوبی تبت‘ کے 6 مقامات کا نام چینی، تبتی اور رومن رسم الخط میں طے کردیا۔ چین نے گولنگ گونپا کو نیا نام اوگیین لنگ دیا ہے۔ یہ علاقہ توانگ کے باہری حصے میں موجود ہے۔ چھٹے دلائی لامہ کی پیدائش یہیں ہوئی تھی۔ بالائی سوبان سِری ضلعے میں موجود دیپوریجو کا نام میلاری رکھا گیا ہے۔ یہ سوبان سِری ندی کے پاس موجود ہَیجو ارونا چل پردیش کی اہم ندیوں میں سے ایک ہے اور برہم پُتر کی بڑی معاون ندی ہے۔ بھاری فوجی موجودگی والے میچوکا کا نام بدل کر مین کوکا کرکے چین نے اس خطے پر ہندوستان کے دعوے کو سیدھے چیلنج دیا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کا یہاں جدید لینڈنگ گرائونڈ ہے۔ یہ مغربی سیانگ ضلع میں ہے۔
بوملا وہ جگہ ہے جہاں دلائی لامہ ارونا چل پردیش کی چار اپریل 2017 سے 13اپریل 2017 تک کی یاترا کے دوران پہلے پڑائو میں رکے تھے۔ چین نے اس کا نام بدل کر بومولا کر دیا ہے۔ اس خطے پر 1962 میں چینی فوجوں نے حملہ کیا تھا اور ہندوستانی فوج نے انہیں کھدیڑ دیا تھا۔ چین نے نماکا چو خطہ کا نام بدل کر نمکاپب ری کر دیا ہے۔ اس خطہ میں پن بجلی کے بے پناہ امکانات ہیں۔ چین نے چھٹی جگہ کا نام بدل کر کوئی دینگاربو ری کیا ہے، لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ یہ نام کس خطے کا رکھا گیا ہے۔ چینی نام رکھنے کے مسئلے پر ہندوستان نے کہا ہے کہ ہندوستان کے اندرونی معاملوں میں مداخلت کرنے کا چین کو کوئی حق نہیں ہے۔ہندوستان نے طنز بھی کیا ہے کہ بیجنگ کا نام بدل کر ممبئی کر دیا جائے تو کیا وہ ہندوستان کا ہو جائے گا۔
دفاعی معاملوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ مارچ کے مہینے میں میانمار میں چینی فوج کی سیدھی گھس پیٹھ اور اپریل مہینے میں چینی صدر شی چن فنگ کے چینی فوج سے کئے گئے وار کال کو کافی احتیاط سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ چین کے صدر نے پی ایل اے کی نو تشکیل شدہ ’84 لارج ملٹری یونٹ ‘ کے جوانوں سے کہا ہے کہ وہ لرائی کے لئے تیار رہیں اور الکٹرانک ، انفارمیشن اور اسپیس وار جیسے نئے حملے کی جنگی صلاحیت ڈیولپ کریں۔ دلائی لامہ کے توانگ دورے کے بعد چین ہندوستان کو سیدھے طور پر انجام بھگنے کی دھمکی دے چکا ہے۔
حکومت ہند کی دلچسپی
اب ہم اپنی جنگی طاقت کے تئیں سرکار کی دلچسپی کا بھی تجزیہ کرتے چلیں۔ چین سے جنگ میں کارگر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لئے مائونٹن اسٹرائک کور کو فوری وجود میں لانے کے لئے ہندوستانی سرکار کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔ فوج کے ماڈرنائزیشن اور فوج کے اضافے کی سمت میں ہندوستانی سرکار کی بے رخی آنے والے وقت میں ہندوستانی فوج کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ 90 ہزار ماہر فوجیوں کی صلاحیت والے مائونٹن اسٹرائک کور کو فعال کرنے کا کام 2013 سے ہی چل رہا ہے، لیکن سرکار کی ڈھیلائی سے یہ تھم گیا ہے۔ جبکہ چین سے خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صرف موجودہ سرکار ہی نہیں ، سابق کانگریس سرکار نے بھی مائونٹن اسٹرائک کور کی تعمیر کے لئے 64 ہزار کروڑ روپے کی منظوری نہیں دی تھی۔ حالانکہ مائونٹن اسٹرائک کور کی تعمیر کی تجویز کو 2013 میں یو پی اے سرکار سے ہی ہری جھنڈی ملی تھی۔اس کور کو خاص طور پر ہمالیہ علاقے میں اور تبت کے پٹھاری علاقے میں کارگر جنگ کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔
امید تھی کہ سرکار سے بجٹ کی منظوری مل جائے گی،لیکن وہ نہیں ملی اور موجودہ این ڈی اے سرکار بھی اس پر کونڈلی مار کر بیٹھ گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی فوج کے کمانڈروں کے سمینار میں اس مسئلے پر اپنی ہچکچاہٹ ظاہر کی تھی اور اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کو یہ کہنا پڑا تھا کہ مائونٹن اسٹرائک کور اب 2021 کے پہلے عمل درآمد نہیں ہو پائے گا۔ حالات یہ ہیں کہ ملک کے چار اسٹرائک کور میں سے ایک 17ویں اسٹرائک کور جھارکھنڈ میں ناکارہ پڑی ہوئی ہے۔ تین دیگر کور پاکستان کی مختلف سرحدوں پر تعینات ہیں۔ اسٹرائک کور کو پیس ایریا میں ڈالنا بیوقوفانہ اسٹریٹجک پالیسی کا نتیجہ مانا جاتا ہے۔ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے 17ویں اسٹرائک کور کو ’ناکارہ ‘ اور ’ادھورا‘ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کور میں کم از کم 2 ڈویژن ہونے چاہئے، جبکہ 17ویں اسٹرائک کور کے پاس صرف ایک ہی ڈویژن ہے۔ مذکورہ عہدیدار سیکورٹی کے مد نظر ہندوستان کے مستقبل کو خدشات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مرکزی سرکار کی نظر اندازکرنے والی پالیسی کے باوجود ہندوستانی فوج نے مغربی بنگال کے پانا گڑھ میں 59 مائونٹن ڈویژن تو تعمیر کر دی،لیکن پٹھان کوٹ میں 72 ویں مائونٹن ڈویژن کی تشکیل کا کام جہاں کا تہاں رکا رہ گیا ۔59 مائونٹن ڈویژن میں صرف 16 ہزار ماہر فوجی ہیں۔
ہندوستانی فوج کے لئے مرکزی سرکار نے جو اکنامکس رچا ہے ،وہ بھی کم مضحکہ خیز نہیں ہے۔ 2.47 لاکھ کروڑ کے فوجی بجٹ کا 70فیصد حصہ فوج کی تنخواہ اور مینٹنینس پر خرچ ہو جاتا ہے۔ محض 20فیصد حصہ فوجی آلات کی خرید کے لئے بچتا ہے ۔فوج کو ہر سال صرف آلات کی خرید کے لئے کم سے کم 10ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے، جبکہ اس کے پاس بچتے ہیں صرف 15سو کروڑ روپے، ہندوستانی فوج کے لئے رائفلیں، گاڑیاں، میزائیلیں، توپیں اور ہیلی کاپٹرس خریدنے کی ضرورت چار لاکھ کروڑ روپے کے لئے ملتوی پڑی ہوئی ہے۔جبکہ فوج کی جنگی صلاحیت کو عالمی سطح پر درست رکھنے کے لئے یہ کام نہایت ضروری ہے۔ اب تو پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کی طرف سے بھی خطرہ تیزی سے گھِرتا جارہا ہے۔ ایسے میں یہ کام پہلی ترجیحات پر ہونا چاہئے۔
یو پی اے سرکار کی ہی طرح این ڈی اے سرکار کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی مائونٹن اسٹرائک کور کو فعال کرنے کے لئے ضروری 64ہزار روپے منظور نہیں کئے ہیں۔ اس وجہ سے نہ فوج مضبوط ہو سکی اور نہ چین سے لگی عالمی سرحد پر سیکورٹی بندوبست پختہ ہو سکا۔ مودی نے تو مائونٹن اسٹرائک کور کی تعمیر کی تجویز کو ہی دوبارہ نظر ثانی (ریویزن ) میں ڈال دیا اور دفاعی صلاح کار اجیت ڈووالا کو اس کی ذمہ داری دے دی۔ ڈووالا نے بھی 17ویں کور کو غیر فعال کرنے کی سفارش کر دی۔ دلچسپ یہ رہا کہ اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پہلے تو کہا تھا کہ مائونٹن اسٹرائک کور پر آنے والے خرچ کو آدھا کر دیا جائے گا اور اس میں 35ہزار فوجی بھی کم کر دیئے جائیں گے۔پھر پاریکر اپنی بات سے پلٹے اور کہا کہ کور کی تعمیر کا کام دھیمی رفتار سے، لیکن چل رہا ہے۔یہ ہندوستانی سرکار کی اندرونی افراتفری والی صورت حال ہے۔اُدھر چین اپنی فوجی صلاحیت لگاتار بڑھاتا جارہا ہے۔
اسٹرائک کور کی خاصیت
اسٹرائک کور کی خاصیت دشمن پر سیدھے حملہ کرنے کی ہوتی ہے۔ 1962 کی جنگ میں ہندوستانی فوج نے دفاعی نظام کا خمیازہ بھگت لیا تھا۔ اس لئے دشمن پر سیدھا حملہ کرنے اور دشمن کے علاقے میں گھس کر تباہی مچانے کی پالیسی پر کام شروع ہوا۔ اسٹرائک کور اسی بدلی ہوئی حکمت عملی کا حصہ ہے،لیکن سرکار کی نا عاقبت اندیشی کے سبب اس پر گہن لگا ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کارگل جنگ میں بھی ہندوستان کو فوجی حملے کا فائدہ ملا اور ابھی حال ہی میں پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کرکے ہندوستانی فوج نے حملہ کرنے کی حکمت عملی کو کارگر طریقے سے آزمایا ۔ سرجیکل اسٹرائک پر بی جے پی کی مرکزی سرکار سیاست تو خوب چمکاتی رہی، لیکن فوج کو چمکانے کی ترجیحات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ ہندوستانی فوج بدلے ہوئے حالات میں توپ خانے (آرٹیلری )، برہموس میزائیلیں، ہلکے ٹینک، اسپیشل دستے اور ہیلی کاپٹرس کی طاقت لے کر اسٹرائک کور کو زیادہ سے زیادہ دھاردار اور جارحانہ بنا نا چاہتی ہے،لیکن مودی سرکار کی دھار کُند معلوم ہوتی ہے۔
آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ 1986 میں ارونا چل پردیش کے سومڈورونگ چو گھاٹی میں چینی فوج کے ساتھ ہوئے تنائو میں اس وقت کے بری فوج سربراہ جنرل کے سندر جی نے ’’ آپریشن فالکن ‘‘ کے تحت پوری ایک انفنٹری بریگیڈ کو فضائیہ کے ہوائی جہازوں کے ذریعہ اتار دیا تھا۔ اس کے بعد ہی اسٹرائک کور کے منصوبے پر فوجی پالیسی ساز تیزی سے کام کرنے لگے۔ 2003میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل این سی ویج کے دورِ کار میں پاکستان اور چین، دونوں سرحدوں پر نئی سیکورٹی پالیسی اپنانے کا منصوبہ بنا ،تبھی یہ منصوبہ بن گیا کہ 12ویں پنج سالہ منصوبہ (2012-2017) میں مائونٹن اسٹرائک کور کووجود میں لایا جائے گا۔
اس کے بعد بھی ہندوستان کو چین کی طرف سے کئی تیکھے اور ذلت آمیز سلوک جھیلنے پڑے۔ چینی فوج ہندوستانی علاقے میں 19کلو میٹر اندر تک گھس آئی،لیکن ہم کچھ نہیں کر پائے۔ اپریل ، مئی 2013 کے واقعہ سے خود ہندوستانی فوج بھی شرمسار ہوئی۔ فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے سیکورٹی معاملوں کی کابینی کمیٹی کے سامنے خود حاضر ہوکر سرحد کی متضاد حیثیت کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور دیگر سینئر وزراء کو واقف کرایا۔ تب جاکر جولائی 2013 میں یو پی اے سرکار نے مائونٹن اسٹرائک کور کی تجویز کو سرکاری منظوری دے دی۔ لیکن کور کو فعال کرنے کے لئے ضروری فنڈ کی منطوری نہیں دی۔ یو پی اے کے بعد مرکز ی اقتدار میں آئی این ڈی اے کی سرکار نے بھی اس کی منظوری نہیں دی اور الٹا کور تعمیر کی تجویز کو ہی پینچ میں الجھا دیا۔ وزارت دفاع کے کچھ عہدیدار اب مائونٹن اسٹرائک کور کے 2021 میں وجود میں آنے کی امید ظاہر کرتے ہیں، لیکن اسے پکا نہیں بتاتے۔ وہ یہ بھی خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ تب تک کہیں دیر نہ ہو جائے۔ چین سے لگنے والی حساس سرحد میں فوج کی رسائی کے لئے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کی رفتار ہی اتنی سست ہے کہ چین بڑی آسانی سے ادھر آکر ہندوستانی سیکورٹی حکمت عملی کو تہس نہس کر سکتا ہے۔
آپ حیران ہوں گے کہ چین سرحد تک پہنچنے والی انتہائی حساس 75 سڑکوں میں سے صرف 21سڑکیں ہی اب تک تیار ہو پائی ہیں۔ 54سڑکوں کی تعمیر کا کام ابھی شروع بھی نہیں ہوا ہے۔ 2010 میں ہی چین سرحدی علاقے میں 28ریلوے لائنیں بچھانے کی تجویز منظور کی گئی تھی لیکن آج تک اس پروجیکٹ پر کام شروع نہیں ہوا۔ یہ پارلیمنٹ میں رکھے گئے سرکاری دستاویز سے لی گئی اطلاع ہے۔
اکسائی چین کے بعد لداخ کا خطرہ
ملک کی سیکورٹی کے تئیں ہندوستانی سرکار کی لاپرواہی کی وجہ سے ہی مشرقی لداخ کے اکسائی چین کا حصہ چین نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس وقت ایک فوجی عہدیدار نے اکسائی چین ہائی وے پر چین کے قبضے کا فوٹو بھی فوجی ہیڈ کوارٹر کو پیش کیا تھا لیکن پہلے فوجی ہیڈکوارٹر نے اسے صحیح نہیں مانا تھا۔ بعد میں وہی کڑوی سچ ثابت ہوئی ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ اس حساس علاقے میں ہندوستانی سیکورٹی دستے کی طرف سے کوئی گشت نہیں ہوتی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بھی ہندوستانی سرکار ہوش میں نہیں آئی۔ تب فوج کے تین ایڈیشنل ڈویژنوں کو فعال کرنے کی تجویز مرکزی سرکار کو بھیجا گیا تھا۔ ان میں سے چار طاقتور بریگیڈ کے ساتھ ایک ڈویژن کو خاص طور پر لداخ میں تعینات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ لیکن مرکزی سرکار نے بے حد لچر رویہ اختیار کرتے ہوئے بہت شش و پنج کے بعد شمال مشرقی (نیفا ) کے لئے ایک ڈویژن اور لداخ کے لئے محض ایک بریگیڈ کی منظوری دی تھی۔ اس کا خمیازہ ہندوستانی فوج نے 1962 کی جنگ میں بھگت لیا۔ چین کی تیاریوں کو بھانپتے ہوئے فوج نے 114ویں بریگیڈ کے لئے پانچ اضافی بٹالین دینے کی مانگ کی تھی، لیکن سرکار نے صرف دو بٹالینوں کی منظوری دی تھی۔ اس وقت کی سرکار میں اتنی افراتفری تھی کہ منظوری کے باوجود ایک بٹالین سرحد پر پہنچی ہی نہیں۔
1962 کی جنگ میں چین سے مار کھانے کے بعد لیہہ میں تیسری انفنٹری ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کی تعمیر کی گئی۔ 114ویں بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو چُشل بھیجا گیا۔70ویں بریگیڈ کا ہیڈ کوارٹر مغربی کشمیر سے بھیجا گیا اور 163ویں بریگیڈ کو بھی تعینات کیا گیا۔ ’دور اندیش ‘ ہندوستانی سرکار نے 1971 کی جنگ کے پہلے پاکستان سرحد سے 163ویں بریگیڈ واپس بلا لیا تھا اور اس کا کوئی متبادل انتظام بھی نہیں کیا تھا۔ 21ویں صدی کی پہلی دہائی تک ہندوستانی فوج کی صرف چار باقاعدہ انفنٹری بٹالینیں چین سرحد پر تعینات تھیں۔چین کی سرحد پر فوج کی پختہ تعیناتی سے ہندوستانی سرکار ہمیشہ ہچکچاتی رہی ہے۔ نہرو کے وقت بھی کانگریس کے دور کار کے دوران بھی اور مودی کے دور میں بھی 2008 سے لے کر 2013 کے درمیان غیر متوقع طور پر تیزی سے بڑھی چینی گھس پیٹھ کو روکنے کی سمت میں بھی ہندوستان نے کوئی سخت قدم اٹھانے سے پرہیز کیا۔ جبکہ ہندوستانی فوج کے اسٹریٹجک ماہرین ہمیشہ ارونا چل پردیش، لداخ اور کشمیر میں مائونٹن اسٹرائک کور کو وجود میں لانے کی حمایت کرتے رہے۔ ہندوچین سرحد پر جس’’ دولت بیگ اولڈی ‘‘ علاقہ میں چینی فوجوں نے گھس کر کافی دنوں تک دادا گری دکھائی تھی، وہاں بریگیڈ کی تعیناتی کی ہنگامی تجویز پر بھی مرکزی سرکار نے کوئی دھیان نہیں دیا۔فوج مشرقی لداخ میں بھی ایک ٹینک بریگیڈ تعینات کرنے کی سفارش لگاتار کرتی آرہی ہے۔
بکھرا ہوا کمانڈ اور کنٹرول سسٹم
ہندوستان کے سامنے چیلنجز کثیر جہتی ہیں۔ ہندوستانی فوج ایک طرف جموں و کشمیر میں دوچار ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ساتھ اس کا سامنا لگاتار ہورہا ہے۔ جنگ بندی معاہدے بے معنی ہیں۔ پاکستان کو جنگی اخلاقیات سے کوئی لینا دینا نہیں رہ گیا ہے۔ لہٰذا پاکستان سرحد کے شمال اور مغربی سیکٹر دونوں حصوں میں پختہ سیکورٹی بندوبست بے حد ضروری ہے۔ تیسرا دہانہ چین سرحد کی طرف سے کھل رہا ہے، چین کی حرکتوں اور ہندوستانی سرکار کی لاپرواہی کی وجہ سے ملک پر اس سمت سے بھی خطرہ لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ چین کی پوری اصلیت مکاری اور پالیسی فیلرہے۔وہ بھی ہندوستان میں کئی طرف سے گھسنے کا راستہ بنا رہا ہے۔ہندوستانی زمین اکسائی چین پر وہ پہلے سے قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ لداخ اس کی زد میں ہے۔ارونا چل پردیش کا بڑا حصہ چین کی طرف کھلا ہوا ہے۔ سکم کی طرف سے بھی چینی گھس پیٹھ ہو سکتی ہے۔ ادھر اترا کھنڈ کے راستے سے بھی چین کی فوج ہندوستان سرحد میں گھس سکتی ہے۔ جنوب کے سمندری راستے سے بھی چین کی حرکتیں دیکھی جا ہیں۔ سائوتھ چیناسمندر پر چین کے قبضے کو اقوام متحدہ پوری طرح غیر قانونی اعلان کرچکا ہے،لیکن چین عالمی قانون کو ٹھینگے پر رکھ کر چل رہا ہے۔ ہندوستان کا سرحدی علاقہ چاروں طرف سے کھلا ہوا ہے۔
پاکستان اور چین کی شہہ پر بنگلہ دیش بھی ایک وقت ہندوستان کے خلاف خرافات میں لگا تھا، لیکن شیخ حسینہ کے اقتدار میں آنے کے بعد وہاںکی صورت حال بدلی اور ہندوستان مخالف ماحول تھما، حفاظتی حساسیت کے نظریہ سے دیکھیں تو چین سے لگی سرحد پر پختہ حفاظتی قلعہ بندی ہماری سب سے پہلی ترجیحات ہونی چاہئے۔ چین نے اپنی طرف سے پختہ بندوبست کر رکھا ہے۔ چین کی پیپلس لبریشن آرمی ( پی ایل اے ) کو ہندوستانی سرحد تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کیونکہ تبت اور سکم سے لگے ’لائن آف ایکچول کنٹرول ‘ ( ایل اے سی ) تک چین نے سڑکیں اور ریل لائن بچھا رکھی ہیں۔ جبکہ ہندوستانی فوج کو وہاں تک پہنچنے میں کافی مشقت کرنی پڑے گی،کیونکہ ہندوستانی سرکار نے اس سمت میں کوئی دلچسپی نہیں لی ہے۔ فوجی اسٹریٹجک کے ماہر مانے جانے والے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے ’’ چوتھی دنیا‘‘ سے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ دقتوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حفاظتی حکمت عملی کے الگ الگ ’کنٹرول اینڈ کمانڈ‘ بھی فوج کے لئے بھاری مشکلیں کھڑی کرتے ہیں، جبکہ چین کی فوج ایک ہی ’کنٹرول اینڈ کمانڈ‘ سے گائڈیڈ ہوتی ہے۔
ہندوستان میں الگ الگ دستے سرحد پر چوکسی کا کام دیکھتے ہیں۔ پاکستان سرحد پر بارڈر سیکورٹی فورس ( بی ایس ایف )، بنگلہ دیش اور نیپال سرحد پر مسلح سیکورٹی دستہ ( ایس ایس بی ) اور چین سرحد پر ہندوتبت سرحدی پولیس ( آئی ٹی بی پی ) تعینات ہے۔ اس کے علاوہ آسام رائفل جیسی علاقائی فوجیں بھی ہیں۔ ان سب کی کنٹرولنگ حکمت عملی الگ الگ ہیں۔فوج بھی الگ الگ ’کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ‘ سے بندھی ہے۔ بری فوج کے لئے الگ تو فضائیہ اور بحریہ کے لئے الگ الگ ’کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ‘‘ ہے۔ جنگ کے وقت ایک کنسولیڈیٹیڈ کنٹرول سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں فوج کے تینوں شعبوں کو ملا کر ایک ’یونیفائڈ کمانڈ‘ بنانے کی عرصے سے مانگ ہو رہی ہے، لیکن ہندوستانی سرکار اس پر کان میں تیل ڈالے بیٹھی ہے۔ یعنی چینی فوج ایک ہی حکم پر ہندوستان پر حملہ کر سکتی ہے، جبکہ ہندوستانی فوج کو ایسا کرنے میں حکم کے کئی مرحلوں سے گزرنا پڑے گا اور اس میں تاخیر ہونے کی پوری گنجائش رہتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *