ہندوستانی سرکار سپریم، سپریم کورٹ سپریم نہیں

سپریم کورٹ طاقتور ہے یا ہندوستانی سرکار، اس کا پتہ بڑی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ وقت بوقت ایسے مواقع آتے ہیں، جب سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں تکرار ہوتی ہے کہ پارلیمنٹ بڑا ہے یا سپریم کورٹ۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے ،لیکن سپریم کورٹ کے منع کرنے کے بعد بھی اگر سرکار لگاتار قدم اٹھاتی چلی جائے اور سپریم کورٹ کو اندیکھی کرے ،تب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سرکار خود سپریم کورٹ کی باتوں کو نہ صرف اندیکھی کر رہی ہے، بلکہ اِن ویلیڈ بھی کر رہی ہے۔
آدھار کارڈ کا مسئلہ بالکل ایسا ہی ہے۔ جب منموہن سنگھ کی سرکار نے آدھار کارڈ کو لاگو کیا، تبھی سے یہ تنقید کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ اس سوال پر سنوائی در سنوائی کرتی جارہی ہے۔ اس نے یہ حکم دیا کہ جب تک اس کا فیصلہ نہ ہو جائے، تب تک آدھار کارڈ لازمی نہ کیا جائے۔ منموہن سنگھ کے زمانے میں جو غنودگی شروع ہوئی ، وہ آج تک جاری ہے۔ منموہن سنگھ نے آدھار کارڈ کیوں لازمی کیا، اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے ۔سپریم کورٹ نے وقت بوقت یہ ریمارکس کئے ہیں کہ آدھار کارڈ پرائیویسی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دراصل امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ایک مضبوط بازار کی بنیاد کی تعمیر کرنے کے لئے اس پوری اسکیم کو لاگو کیا گیا۔ جتنی جانکاری سرکار آدھار کارڈ کے ذریعہ اپنے پیسے خرچ کرکے اکٹھا کر رہی ہے، وہ تمام جانکاریاں غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دے رہی ہے، جس سے وہ پیسہ کما رہی ہیں۔ان تمام جانکاریوں کو دینے کے عوض ہندوستان سرکار کو کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ہاں، ان لوگوں کو ضرور مل رہا ہوگا، جنہوں نے اس کا فیصلہ لیا۔ نندن نیلیکانی اس اسکیم کے تخلیق کار رہے ہیں۔
جب آدھار کارڈ لاگو ہوا تھا، تب آج کے وزیر اعظم اور تب کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے گرجتے ،چنگھاڑتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر بی جے پی کی سرکار آئے گی تو وہ آدھار کارڈ کو وائنڈ اَپ کرے گی یعنی اس پوری اسکیم کو سمیٹ لے گی۔ منموہن سنگھ ہارے، نریندر مودی وزیر اعظم بنے، لیکن آدھار کارڈ چلتا رہا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ نندن نیلیکانی کی دو گھنٹے کی میٹنگ ہوئی اور ہندستانی سرکار فوراً اپنے وزیر اعظم کے عوامی طور پر کئے گئے وعدے کو بھول گئی۔ اس کے بعد وزیر اعظم اس اسکیم کو اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ لاگو کرنے کی بات کرنے لگے۔ ویسے تو وزیراعظم نریندر مودی نے بہت سارے وعدوں کو بھلایا، انہیں جملہ کہہ دیا، ان کا ذکر کرنا بھول گئے، لیکن آدھار ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے ہندوستان کے ہر شہری کی جانکاری کو پلیٹ پر رکھ کر امریکہ کو سونپ دیا ہے۔ یہ جانکاری امریکہ کی کاروباری کمپنیوں کے بعد سی آئی اے کے پاس پہنچ گئی اور اس جانکاری کو ہندوستان کے دشمنوں کے ہاتھ بیچنے کا راستہ کھل گیا۔ سپریم کورٹ نے پھر روک لگائی کہ اسے لازمی نہ کیا جائے، لیکن ہندوستانی سرکار نے اس کارڈ کو اتنا لازمی کردیا کہ اگر کسی نے غلطی سے آدھار کے ساتھ اپنے بینک اکائونٹ کو نہیں جوڑا یا اس کی جانکاری نہیں دی تو بینکوں نے بینک کھاتے کا استعمال کرنے سے ہی روک دیا۔ آدھار کو لے کر جتنی تشویش سپریم کورٹ کررہا ہے، اتنی تشویش اس ملک کے وزیر اور صحافی نہیں کر رہے ہیں۔
آدھار کارڈ اتنا خطرناک ہے کہ اگر یہ جانکاری فرقہ وارانہ فساد پھیلانے والوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے، تو وہ ایک ایک کو چن کر جسے بھی مارنا چاہیں، اسے مار سکتے ہیں۔ آدھار کارڈ میں آنکھوں کا رنگ، بلڈ گروپ، آدمی کا اپنا چہرہ ، بینک اکائونٹ، موبائل نمبر یعنی آدمی کی پرائیویٹ جاسوسی کے جتنے راز ہیں، وہ سب آدھار کے ذریعہ ہمارے دشمنوں، غیر ملکیوں اور کاروباری اداروں کے ہاتھوں بندھک بنے ہوئے ہیں۔ یہ اتنی خطرناک جانکاری ہے کہ اگلے 8سال میں کون آدمی ہندوستان کا چیف جسٹس بن سکتا ہے، کون آدمی سپریم کورٹ کا جج بن سکتا ہے، کون آدمی سیاسی طور پر صدر جمہوریہ یا نائب صدر جمہوریہ بن سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، کون لوگ ہندوستان کی سیاست اور کاروبار کو کنٹرول کرسکتے ہیں، ان سب کا تجزیہ وہ لوگ جو ساری دنیا پر بازار کے توسط سے قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا وہ لوگ جو ہمارے دشمن ہیں ، نشان زد کرکے ہمارے اوپر دبائو ڈال سکتے ہیں یا ایسی تمام شخصیتوں کو اپنے زیر اثر لاکر اپناذہنی غلام بنا سکتے ہیں،ہم اس طاقت کو دوسروں کو دے رہے ہیں۔ فوج میں کون کون ایسے لوگ ہیں، جو پالیسی بنانے میں اہل ہیں، کون ایسے ہیں جو جنگ کرنے میں اہل ہیں؟فضائیہ ، بری فوج اور بحریہ ان سب کو کنٹرول کرنے والے لوگوں کو کس طریقے سے زیر اثر لایا جاسکتا ہے؟ یہ سب جانکاری ہم ان کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں ،جو ہمیں کاروباری، سیاسی اور نفسیاتی طور پر اپنے اثرات میں لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔
ابھی ایک بڑے صنعتکار کے ذریعہ جاری کئے گئے کارڈ بنانے کا ذمہ لیتے ہی 13کروڑ لوگوں کی جانکاریاں عام ہو گئیں۔خبریں بتا رہی ہیں کہ اس کے پیچھے ریلائنس جیو کا ہاتھ ہے۔ 13 کروڑ لوگوں کی جانکاریاں بغیر ان کی منظوری کے زبردستی پوری دنیا کو لیک کرنے کا کام ریلائنس جیو نے کیا۔ یہی خطرہ بار بار سپریم کورٹ بتاتا رہا ہے اور اسی خطرے کو لے کر وہ سنوائی کررہا ہے۔
لیکن سپریم کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ سرکار نہیں مان رہی ہے۔ سرکار اپنی رفتار سے آدھار کارڈ کو ہر چیز سے جوڑتی جارہی ہے اور سپریم کورٹ خاموش ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے ثبوت پر ثبوت پیش ہو رہے ہیں، لیکن سپریم کورٹ اپنے حکم کی کھلی خلاف ورزی ہونے پر بھی کن وجوہات سے خاموش ہے، یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔چاروں طرف افواہیں ہیں کہ اسی آدھار کارڈ کی جانکاری کا سہارا لے کر سپریم کورٹ کے ججوں کی کمزور نسیں نہ صرف ہندوستانی سرکار کے خفیہ محکمے نے اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہے ، بلکہ بیرونی طاقتوں نے بھی ان کمزوریوں کو اپنی فائلوں میں قید کر لیا ہے۔ اسی لئے وہ سپریم کورٹ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھاڑتا ہے، اپنی اتنی بڑی توہین ہوتے ہوئے ،اپنے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی خاموش ہے۔ یہ بات بہت تشویشناک ہے۔ کیا اس کے پیچھے ہندوستان کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی یا خود وزیر اعظم نریندر مودی ہیں یا اس کے پیچھے ساری دنیا کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہندوستان میں اکلوتے نمائندے نندن نیلیکانی ہیں۔ نندن نیلیکانی ان دنوں وزیر اعظم دفتر میں بیٹھتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملک کے ان چند قادر مطلق لوگوں میں ہیں،جو ملک کے بارے میں فیصلے لیتے ہیں۔کیا وزیر اعظم کا دفتر یہ طے کرچکا ہے کہ وہ ملک کے سارے لوگوں کی پرائیویسی کو چوراہے پر نیلام کرے گا اور دوسری طرف سپریم کورٹ جیسے ادارے کے آدھار کارڈ سے متعلق کسی بھی بات پر دھیان نہیں دے گا اور اپنی اسکیم پر کام کرتا رہے گا۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس سوال کو میڈیا، اپوزیشن پارٹی، قانون کے بڑے بڑے کمنٹیٹراٹھانے میں نہ صرف ہچک رہے ہیں بلکہ ڈر بھی رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں اس صورت حال کے لئے تیار ہونا چاہئے کہ اب اگر سرکار کچھ بھی کرے گی تو سپریم کورٹ زبانی بھلے ہی اسے روکنے کی کوشش کرے، لیکن اس کی بات اب مستقبل میں سرکار مانے گی ہی، اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ تقریباً ہو چکا ہے کہ اب لڑائی پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کی برتری کی نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی سرکار سپریم ہے، سپریم کورٹ سپریم نہیں ہے، شاید اب یہ صاف ہو گیا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *