کشمیر میں پتھربازوںسے نمٹنے کے لئے سی آر پی ایف اہلکاروں کو خصوصی ٹریننگ

سری نگر ۔ وادی کشمیر میں پتھربازوں سے نمٹنے کے لئے سینٹرل ریزو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کو خصوصی ٹریننگ دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’جموں شہر کے مضافاتی علاقہ نگروٹہ میں واقع زونل ٹریننگ سنٹر میں سی آر پی ایف اہلکاروں کومظاہروں کے دوران کشیدگی کو کم کرنے اور پتھربازوں سے بغیر کسی جانی نقصان کے نمٹنے کی سخت ٹریننگ دی جارہی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ پر محیط یہ تربیتی کورس خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے اور اس کی کامیاب تکمیل کے بعد لاء اینڈ آڈر ڈیوٹی پر تعینات کئے جانے والے ان اہلکاروں کو کسی قسم کی دقعت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس خصوصی ٹریننگ کا مقصد اُن سی آر پی ایف اہلکاروں کو اس حساس ریاست میں ملک و سماج مخالف عناصر سے نمٹنے کے لئے تیار کرنا ہے، جنہیں ملک کے دوسرے حصوں میں تعینات رہنے کے بعد یہاں ٹرانسفر کیا جاتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس خصوصی ٹریننگ کا نام ’پری انڈکشن ٹریننگ‘ رکھا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ’یہ ٹریننگ پانے والے اہلکاروں کو لاء اینڈ آرڈر کے مسئلے، پتھربازوں، انسداد عسکریت پسندوں کی کارائیوں اور شرپسندوں سے نمٹنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’اس کے علاوہ ان اہلکاروں کو اُن لوگوں سے بغیر کسی جانی نقصان کے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے، جو انسداد عسکریت پسندی کی کاروائیوں میں رخنہ ڈالنے کے مرتکب ہوجاتے ہیں‘۔ ذرائع نے بتایا ’اگرچہ ٹریننگ کی کامیاب تکمیل پر اہلکاروں کو ریاست کے مختلف حصوں میں تعینات کیا جائے گا، تاہم تربیت پانے والے اہلکاروں کی ایک چھوٹی تعداد کو ریزرو رکھا جائے گا تاکہ ان کو ارجنٹ صورتحال کے وقت تعینات کیا جاسکے‘۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پتھربازی‘ جو پہلے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز کے مائسمہ اور پائین شہر کے چند گنے چنے علاقوں تک محدود تھی، اب کشمیر کے دیہی علاقوں تک پھیل گئی ہے اور اس میں معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد غیرمعمولی اضافہ درج کیا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں نوجوان سنگبازوں کے ہجوم زیادہ ہی جنونی ہوتے ہیں اور ان میں 8 سے 10 سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ دوسری جانب دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں سنگبازی کے واقعات میں اضافے کے سبب سیکورٹی فورسز کو انسداد عسکریت پسندی کی کاروائیوں کے دوران خاصی دقتوں ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *