ٹی وی چینلوں پر پابندی کی کہانی

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے 8مئی کو نیشنل ٹی وی چینلوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی بحثیں نشر نہ کریں جن سے کشمیر کے لوگوںکے تئیںہندوستان کے دوسرے علاقوں میں نفرت کا جذبہ پیدا ہو۔ ان کا بیان اس وقت آیا جب ان کے ایڈمنسٹریشن نے ریاست کی موسم سرما کی راجدھانی جموںسے منتقل ہوکر موسم گرما کی راجدھانی سری نگر سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔
ان کی اپیل ٹی وی چینلوںکے رول کے بارے میں بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ کچھ کو چھوڑ کر سبھی چینل لوگوںکو بھڑکانے کا کام کررہے ہیں اور انھیں کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں۔ محبوبہ کا بیان ایک مذمت کی طرح ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ عوام کے ذریعہ چنی ہوئی اس وزیر اعلیٰ کی طرف سے آیا ہے جو خود کو ہندوستانی کہنے میںیقین کرتی ہیں۔ ظاہر ہے ، کشمیر کے حالات بگڑنے کے کئی اسباب ہیں۔ لیکن ٹی وی نیوز روم میںبحث کی جارحیت نے اسے اور بگاڑ دیاہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں کشمیر ان چینلوں کے لیے مسابقت کا ایک ایسا اسپرنگ بورڈ بن گیا ہے، جس پر چھلانگ لگاکر وہ ٹی آر پی بٹورنے کی مقابلہ آرائی میںلگے ہوئے ہیں۔ جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پر انھیںاس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ وہ حالات کو سدھار رہے ہیں یا اور پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
جس دن ایک نیا ٹی وی چینل لانچ ہورہا تھا،اسی دن مسابقتی چینلوںکے پاس ’ایکسکلوسو‘ خبریں تھیں۔ ان میںسے ایک نے ایک ’ایکسکلوسو‘ خبر چلائی، جو حریت کانفرنس کی پاکستان سے فنڈنگ کے بارے میںتھی ۔ یہ بحث دن بھر چلی۔ سوشل میڈیا کے لیے اس کا ہیش ٹیگ تھا، بین حریت۔ حالانکہ یہ کسی بھی طرح سے ایکسکلوسو خبر نہیں تھی یا یہ کوئی ایسا معاملہ نہیںتھا ،جس سے دنیا واقف نہیںہے۔ پاکستان کی حریت حمایت کی کہانی پرانی ہوگئی ہے۔ جو کہانی لیک کی گئی، اس کا کوئی مطلب نہیں ہے، سوائے اس کے کہ لوگوںکو پُرجوش کیا جائے اور یہ احساس پیدا کیا جائے کہ کشمیر پر پاکستان کا کنٹرول ہے۔
اس ایک چینل کے ذریعہ شروع کی گئی بحث کے بعد جواب میںدیگر چینلوں نے بھی کھوئے ہوئے کشمیر کو دوبارہ حاصل کرنے کی قواعد شروع کردی ۔ انھوںنے اسلامی بنیاد پرستی، وہابیت، پاکستان -اسپانسرشدہ دہشت گردی وغیرہ کی پرانی بحث پر اپنا انحصار جاری رکھا ہے۔ ان چینلوں نے اس طرح کی بحث کے ذریعہ سچ مچ میںکشمیر کو آگ کے حوالے کردیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میںان ہی باتوں کا ذکر کیا تھا۔
ٹی وی چینلوں نے اپنے قوم پرست ہونے اور ہندوستان کی خود مختاری کا محافظ ہونے کا ایسے کھل کر اعلان کیا جیسے وہ بھی سیکورٹی فورسیز کا حصہ ہوں۔ انھوں نے پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ ملک کے مفاد میں کام کررہے ہیں کیونکہ جموں اور کشمیر ہندوستان کااٹوٹ حصہ ہے۔ ان کے مطابق فوج ، نیم فوجی دستے اور جو ہزاروں لوگ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں، وہ پاکستان کے ذریعہ گمراہ کیے گئے ہیں۔ ان کے لحاظ سے جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے او ر ان کا نیا پلاٹ اسلامی بنیادپرستی کے ارد گرد گھومنے لگا ہے۔
ان ٹی وی چینلوںکے ذریعہ پورے ہندوستان میں جو خبط پھیلایا جارہا ہے،اس کے نتائج بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک خیال بن رہا ہے کہ کشمیری ہندوستان کے دشمن ہیں۔وہ مفت خور ہیں، حکومت ہند انھیں کھلارہی ہے۔ یہی خیال ہندوستان کی الگ الگ ریاستوں میں پڑھائی کررہے کشمیریوں پر حملوں کا سبب بناہے۔ یہی خیال ایک عام ہندوستانی میں یہ سوچ پیدا کرتا ہے کہ کشمیری حقیقت میں ان ہی کے ٹیکس کے پیسوں پر جی رہے ہیں اور کشمیر کو فوج کے ذریعہ جیتاجائے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہندوستان میںکشمیر کو لے کر عام رائے بدل گئی ہے۔ یہاںعام رائے بھی اسی بات کو دوہرا رہی ہے کہ کشمیر مسئلے کو پاکستانی اسلامسٹس نے پیدا کیا ہے۔
یہ خیال گم ہو جاتا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے، تھا اور رہے گا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جو ٹی وی چینلوںکے ذریعہ رٹائی جارہی قوم پرستی کے دائرے مین نہیں سما پاتا۔ وہ کشمیر کو اپنی پسند اور ناپسند کے حساب سے دکھاتے ہیں۔ وہ اس ویڈیو کو دکھائیں گے، جس میںایک سی آر پی ایف جوان کو کشمیری لڑکوںکے ذریعہ پٹتا ہوا دکھایا جارہا ہے۔ لیکن یہ اس ویڈیو کو نہیں دکھائیں گے، جس میںایک شہری کو آرمی جیپ میںباندھ کر اانسانی شیلڈ بنایاگیا ہے۔ صحافت کی کوئی بھی ایسی درسی کتاب نہیں ہے جو یہ کہتی ہوکہ آپ کو راشٹر بھکت ہونا چاہیے۔ صحافت کی کتابیں یہ ضرور کہتی ہیں کہ صحافی کو شہریوں اور ان کے مفادات کے تئیں وفادار ہونا چاہیے۔ ایماندار صحافت عوامی زندگی میں جمہوری قدروں پر عمل کرتی ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے او رجمہوری قدروںسے جڑکر ہی کوئی جمہوریت کے جذبہ کا احترام کرسکتا ہے۔ بہرحال ٹی وی چینلوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ صحافت کے بنیادی اصول بدل گئے ہیں۔ زمینی حقیقت کو ماننا او ران مسائل کے حل کے لیے جمہوری ڈھنگ سے کوشش کرنا صحافت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اندھی راشٹر بھکتی۔
ٹی وی کے آنے سے پہلے ہندوستان کی صحافت پرنٹ میڈیا کی شکل میںٹھیک ٹھاک تھی۔ حالانکہ وہ بھی کشمیر کے ساتھ غیر کی طرح پیش آتا رہا اور اسے قوم پرستی کی سوچ کے چشمے سے دیکھتا رہا۔ چونکہ پرنٹ میڈیا کا ٹی وی کے برابر اثر نہیں ہوتا، اس لیے کشمیر کا اس سے اتنا نقصان نہیں ہوا، جتنا ٹی وی سے ہوا۔ ٹی وی والے پرائم ٹائم پروگراموں میںایسے چیختے چلاتے ہیں جیسے وہ سیکورٹی فورسیز کے پروپیگنڈہ سکریٹری ہوں۔ کسی فوجی کے مارے جانے کو ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے ملک جنگ کی حالت میںہو۔ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ تناؤ دہائیوں پراناہے لیکن ٹی وی چینل اسے نئی سطح تک لے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہوا میں لڑائی چل رہی ہو۔ اینکرس نہ صرف اسلام آباد پر نشانہ سادھتے ہیں بلکہ کشمیریوں کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور ان کی سمجھ اور حیثیت کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔ ان کے اس فعل نے ان کے قومی مفاد کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وزیر اعلیٰ یہ تسلیم کررہی تھیںکہ ہندوستانی چینل نفرت پھیلا رہے ہیں تو پاکستان ، سعودی عرب اور ایران سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے 34 ٹی وی چینلوںپر پابندی لگانے کے لیے ان کی سرکار کو مجبور ہونا پڑا۔ پابندی لگائے جانے والے چینلوں میں سے کئی مذہبی چینل تھے ۔اگر ان چینلوںپر پابندی لگانے کی دلیل یہ تھی کہ یہ گڑبڑ پیدا کررہے تھے تو پھر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے اقرار کے مطابق کشمیر کے ٹی وی چینلوں پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔
کشمیری کوئی پہلی بار پاکستانی چینل نہیں دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوںمیں ٹیلی ویژن پردکھائے جانے والے ڈیلی سوپ او رکُکری شووادی کے ناظرین کے بیچ مقبول ہوئے ہیں۔ حالانکہ طویل عرصہ سے پاکستانی ٹی وی اور ریڈیو کی معتبریت کم رہی ہے۔ ایک عام مذاق یہ ہے کہ اگر پاکستانی ٹی وی چینلوں پر ملی ٹینٹوں کے ذریعہ مارے جارہے ہندوستانی فوجیوں کی خبریں صحیح ہوتیں تو اب تک فوج ختم ہوگئی ہوتی۔ یہ دلیل صحیح ہوسکتی ہے کہ یہ چینل غیر قانونی تھے لیکن پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ انھیں اتنے طویل عرصہ تک چلنے کی اجازت کیوں دی گئی تھی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ بین لگائے جانے والے چینلوںمیں سے ایک نور ٹی وی ہے جو صوفی آئیڈیا لوجی کا حامی ہے اور گزشتہ کچھ عرصہ سے مبینہ ماہرین کشمیر دہلی میں صوفی اسلام کے احیا کی بات کررہے ہیں، جس پر ان کے حساب سے وہابی اسلام سے خطرہ ہے۔
دہلی کی کشمیر پالیسی تضادات سے بھری پڑی ہے۔ اگر کشمیر کے اخبارات پر صرف اس لیے پابندی لگائی جاتی ہے اور انھیں ڈی اے وی پی کے ذریعہ دیے جانے والے اشتہارات سے محروم رکھا جاتا ہے کہ ان کی خبروںسے بدامنی پھیلتی ہے، تو ٹی وی چینلوں پر کوئی کارروائی کیوںنہیں ہوتی جو امن کے دشمن ہیں؟ جب تک پالیسی کے تعین میںیہ دوہرا معیار جاری رہے گا، تب تک کسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ ٹی وی چینلوں کو خوداحتسابی کرنی چاہیے اور ایسی صحافت کرنی چاہیے جو حقیقت میںقوم کے مفاد میں ہو نہ کہ نقلی قوم پرستی کے مفاد میں، جس کا مقصد پیسے کمانا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *