ونود کھنہ کو خراج تحسین

Untitled-1بالی ووڈ کے معروف اداکار اور رکن پارلیمنٹ ونود کھنہ جن کا 27اپریل کو انتقال ہوگیا۔
ونود کھنّہ ایسے ہیرو تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر 80 کی دہائی میں اپنے کریئر کے عروج پر انہوں نے فلمی دنیا نہ چھوڑی ہوتی تو وہ سپراسٹار ہوتے۔1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 1968 میں سنیل دت کی فلم ’من کا میت‘ میں ولن کے کردار سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا اور 140 سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی بہترین فلموں میں ’میرے اپنے‘، ‘’انصاف، ‘پرورش، ‘قربانی، ’دیاوان‘، ‘میرا گاؤں میرا دیش، ‘مقدر کا سکندر، ‘امر اکبر انتھونی، ‘چاندنی اور ‘دی برننگ ٹرین ‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
ونود کھنہ اپنے کریئر کے عروج پر ہی اچانک فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر روحانی گرو اچاریہ رجنیش کے شاگرد بن گئے تھے اور ان کے آشرم میں جا کر رہنے لگے تھے۔ ونود کھنہ کا یہ قدم ان کی بیوی گیتانجلی اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بھی بنا۔ گیتانجلی سے ان کے دو بیٹے راہل اور اکشے کھنہ ہیں۔ بعد میں 1990 میں ونود کھنہ نے کویتا سے دوسری شادی کی۔
1987 میں ونود بالی وڈ میں واپس آئے اور فلم انصاف میں ڈمپل کپاڈیہ کے ساتھ نظر آئے اور اس طرح ان کے فلمی سفر کی دوسری اننگز کا آغاز ہوا۔1988 میں فلم دیا وان میں 46 سال کے ونود کھنّہ 21 سالہ مادھوری دکشت کے ساتھ ایک رومانٹک کردار میں دکھائی دیے اور فلمی شائقین نے عمر کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے کردار کو خوب سراہا۔فلم انڈسٹری میں ان کے کئی دوست تھے جن میں سے ایک خاص دوست فیروز خان بھی تھے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ فیروز خان کا انتقال بھی 2009 میں آج ہی کے دن یعنی 27 اپریل کو ہوا تھا۔
1997 میں ونود کھنہ نے سیاست کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ پنجاب کے ضلع گرداس پور سے چار مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے۔اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں انہوں نے سیاحت اور ثقافت کے وزیر کے طور پر کام کیا اور بعد میں انہیں وزیر مملکت برائے خارجہ کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔
اس کے بعد وہ 2015 میں شاہ رخ خان کی فلم دل والے میں بھی نظر آئے۔2010 میں ونود کھنہ ایک بار پھر فلمی پردے پر نظر آئے اور انھوں نے پہلے فلم دبنگ اور پھر اس کے سیکوئل دبنگ ٹو میں سلمان خان کے والد کا کردار ادا کیا۔
140 سے زائد فلموں میں کام کیا۔انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور وِلن کیا تھا لیکن ان کی دلکش شخصیت کے باعث وہ جلد ہی ہیرو کے کردار کرنے لگے اور انہوںنے اپنی اداکاری کے جوہر سے فلمی دنیا میں ایک نئی شناخت قائم کر لی۔70سے 80 کی دہائی کے دوران ونود کھنہ کا شمار بالی ووڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی پہلی فلم ‘من کا ’میت‘ تھی جس میں انہوں نے سنیل دت کے مدمقابل بطور وِلن کام کیا تھا۔ ’امر اکبر اینتھونی‘ پرورش، ہیرا پھیری اور مقدر کا سکندر، جیسی سپر ہٹ فلموں میں ونود کھنہ نے اداکاری کے اپنی بہترین جوہر دکھائے۔
جب ان کا فلمی کریئرعروج پر تھا تبھی وہ فلمی دنیا کو ترک کرکے امریکہ میں واقع مشہور یوگی اوشو کے شیلٹر ہوم میں چلے گئے جہاں انہوں نے پانچ برس گزارے۔ 1987 میں وہ دوبارہ فلمی دنیا میں واپس آئے اور انصاف اور چاندی جیسی فلموں سے واپسی کی۔انہوں نے حال ہی میں سلمان خان کے ساتھ دبنگ جیسی فلموں میں بھی کام کیا۔
سنبت پاترا نے ٹویٹ کیا کہ ‘عظیم فنکار اور بی جے پی کے رہنما ونود کھنّہ کی موت کی خبر سن کر بہت افسردہ ہوں۔ وہ بالی ووڈ کی سب سے زیادہ دلکش شخصیات میں سے ایک تھے۔
اداکارہ هیمامالنی نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ‘ہم نے آخری فلم میں ساتھ میں کام کیا تھا، اس وقت وہ ٹھیک دکھائی دے رہے تھے۔
اداکار دھرمیندر نے کہا کہ ‘ایک سین میں مجھے ان پر حملہ کرنا تھا اور ان کے جسم پر چوٹ کا نشان بن گیا تھا لیکن انہوں نے کسی بھی طرح کی ناراضگی ظاہر نہیں کیا۔
کرکٹر وریندر سہواگ نے ٹویٹ کیاکہ ‘ونود کھنہ جی کے انتقال پر دل سے غم کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ سب سے زیادہ کرشمہ ساز رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
راجیو پرتاپ روڈی نے لکھا ہے کہ ‘ونود کھنہ کی موت کے بارے میں سن کر انتہائی دکھی ہوں۔ میری ہمدردیاں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
کرکٹر محمد کیف نے لکھاہے کہ ‘ونود کھنہ جیسے خوشگوار شخص کا جانا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *