نیٹ امتحان میں اردو شامل آخر اردو کو اپنا حق ملا

ایک عرصہ سے اردو زبان میں نیشنل ایلی جیبلیٹی اینڈ انٹرینس ٹیسٹ( نیٹ) ا دینے کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں 2018-19کے نیٹ امتحان یعنی میڈیکل کورسوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے امتحانات میں اردو زبان کو شامل کرنے کی مرکز کو ہدایت دی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ حالیہ سال 2017-18میں اردو زبان کو نیٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا لیکن آئندہ تعلیمی سال سے اردو نیٹ امتحان میں شامل رہے گی۔حالانکہ عدالت یہ چاہتی تھی کہ اردو کو حالیہ تعلیمی سال سے ہی نیٹ امتحان میں شامل کرلیا جائے مگر سی بی ایس ای نے کورٹ کے سامنے اپنے حلف نامہ میں اپنا یہ بیان داخل کیا کہ چونکہ وقت کم ہے اور گیارہ ہزار طلباء کے لئے اردو میں سوالنامہ تیار کرنا اتنے کم وقت میں ممکن نہیں ہے، اس لئے یہ عمل آئندہ سال سے ہی ممکن ہوسکے گا۔مرکز کی دشواریوںکو دیکھتے ہوئے جسٹس دیپک مشرا، اے ایم کھنولکر اور ایم ایم شانتنو گودر پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کو سال 2018-19 کے سیشن سے نیٹ امتحان اردو زبان میں بھی منعقد کرنے کے احکام جاری کردیئے ہیں۔
خیال رہے کہ فی الوقت 10 زبانوں ہندی، انگلش، گجراتی، مراٹھی، اڑیہ، بنگالی، آسامی، تیلگو، تمل اور کنڑ میں نیٹ امتحانات منعقد کرائے جاتے ہیں ۔ اس میں اردو کو شامل نہیں کیا گیا ہے جبکہ ملک کی متعدد ریاستوں کرناٹک، مہاراشٹرا، بہار، اتر پردیش، بنگال کے علاوہ دیگر ریاستوں میں اردو بولنے والوں کی کثیر آبادیاں موجود ہیں ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اردو دوسری سرکاری زبانوں میں شامل ہے اور اس زبان میں ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ انٹرمیڈیٹ امتحان دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں 40سے زائد اردو میڈیم جونیئر کالجز موجود ہیں، مہاراشٹرا میں 156جونیئر کالجز موجود ہیں جن کا ذریعہ تعلیم اردو ہے،اس کے باوجود حالیہ برس اردومیں نیٹ امتحان دینے والوں کو سہولت فراہم نہ کیا جانا، ان طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف تھا ۔
حکومت نے نیٹ2013میں جب ایسی ہی غلطی کی تھی تب مئی 2013میں سپریم کورٹ نے انصاری ماہین فاطمہ مقابل حکومت ہند(رٹ پیٹیشن (سول)نمبر168-2013)کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے نیٹ کا امتحانی پرچہ اردو میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا تھا مگر 2014 میں نیٹ ایگزام نہ ہونے کے سبب یہ معاملہ پس پشت پڑا رہا۔2016 میں مہاراشٹر حکومت نے اردو کو شامل کیا مگر 2017-18 کے امتحان میں اردو کو شامل نہیں کیا گیا ۔ حکومت کے اس رویے سے مایوس ہوکر اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا( ایس آئی او) نامی معروف طلباء تنظیم نے سپریم کورٹ کا دروزہ کھٹکھٹایا اور اردو کو نیٹ میں شامل کرنے کے لئے ایک عرضی داخل کی ۔ ایس آئی او کی دائر کردہ عرضی میں یہ الزام لگا یا کہ چونکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سے اردو زبان کا تعلق ہے، اس لئے حکومت کے اہلکاروں نے اس کے تئیں متعصبانہ رویہ اختیار کیا اورجان بوجھ کر نیٹ امتحانات سے ایک میڈیم کے طور پر اردو زبان کو الگ تھلگ رکھا جس کے سبب ہزاروں بچوں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔
اس عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای سے 2017-18 کے امتحان میں اردو کو شامل نہ کرنے کی وجہ معلوم کی۔اس کے جواب میں سی بی ایس ای نے عدالت میں اپنا ایک حلف نامہ داخل کیا اور کہا کہ 16 جنوری کو ہی نیٹ کے تعلق سے تمام پیپر تیار کرلئے گئے تھے ۔ اس وقت تک نیٹ امتحان میں اردو کی شمولیت کے تعلق سے کسی بھی ریاست کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا،اس لئے اردو کے ما سوا دیگر زبانوں میں پیپر تیار کرلئے گئے۔پیپر تیار ہونے کے ایک دن بعد یعنی 17 جنوری کوسینٹر کی طرف سے ہدایت ملی تھی ،اس تاخیر کی وجہ سے پیپرس اردو میں تیار نہیں کئے جاسکے۔
سی بی ایس ای نے اپنے حلف نامہ میں جو کچھ بھی کہا، اس میں اس کی کوتاہی صاف طور پر جھلکتی ہے۔کیونکہ حکومت تلنگانہ نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اردو کو شامل کرنے کی بات پہلے ہی کہہ دی تھی لیکن اس کو نظر انداز کردیا گیا ۔ اس کے علاوہ مرکزکی کوتاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل نے 4جنوری کو حکومت مہاراشٹر کا جاری کردہ مکتوب بھی عدالت میں پیش کیا ۔اس مکتوب میں نیٹ امتحان میں اردو کو شامل کرنے کی بات کہی گئی تھی،سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ 8 دسمبر2016 کو نیٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا ، جس میں کنڑا زبان کو شامل کرنے کا اندراج ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ کرناٹک حکومت نے حقیقتاً 8 دسمبر تک کنڑا زبان کی شمولیت کی سفارش نہیں کی تھی ، بلکہ14 دسمبر کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعدکرناٹک حکومت کی جانب سے کنڑازبان کی شمولیت کا سفارشی مکتوب روانہ کیا گیا تھا۔اس کے باوجود کنڑا کو نیٹ میں شامل کرلیا گیا جبکہ 8 دسمبر کو اردو کے لئے نوٹیفکیشن جاری ہوچکا تھا ۔اس کے باوجود اردو کو خارج رکھا گیا،جس سے واضح ہوتا ہے کہ سی بی ایس ای کہیں نہ کہیں اردو کے تعلق سے کوتاہی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔
عدالت نے اس بات کو محسوس کیا کہ اردو کو نیٹ میں شامل ہونا چاہئے لیکن بڑا سوال یہ تھا کہ اس تعلق سے تمام پیپرس پہلے ہی تیار ہوچکے تھے۔اب اگر اردو کو 2017-18 کے امتحان میں شامل کرنے کی بات لازمی قرار دی جاتی تو مرکز کے سامنے ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہوجاتا کہ کم وقت میں اس کے لئے از سر نو تمام پیپروںکو کیسے تیار کیا جائے؟ اس دشواری کو دیکھتے ہوئے بنچ نے عرضی گزار کو بتایا کہ حکومت کے لیے اس سال سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔لہٰذا آئندہ سال سے اردو نیٹ امتحان میں شامل ہوگی۔
یہاں پر ایک سوال بہت اہم ہے کہ 2013 میں ماہین فاطمہ کے تعلق سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا،وہ اردو کو نیٹ میں شامل کرنے کے لئے کافی تھا ،پھر حالیہ امتحان میں اسے خارج کیسے کیا گیا؟اس کا جواب دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ مشتاق احمد علیگ نے ’’چوتھی دنیا ‘‘کو بتایا کہ اس مرتبہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل واضح ہے لہٰذا اب حکومت کے لئے اس کو ٹالنا ممکن نہیں ہے ۔اگر حکومت اردو کو نیٹ میں شامل نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں یہ کنڈمن آف کورٹ کے دائرے میں شمار ہوگا۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایس آئی او کے صدر توفیق احمد نے بتایا کہ 2013 کے فیصلے میں کورٹ نے یہ کہا تھا کہ جو طلبا دیگر زبانوں میں اپنا فارم بھر چکے ہیں ،انہیں دوبارہ بھرنے کی اجازت نہیں ہوگی البتہ جنہوں نے اب تک فارم نہیں بھرا ہے،ا ن کے لئے اردو میں فارم بھرنے کی اجازت ہوگی۔نیز ان طلباء کے لئے الگ سے سپلی منٹری ایگزام کرایا جائے۔چونکہ کورٹ نے اپنے فیصلے میں سپلی منٹری کی بات کہی تھی ،اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2017-18 کے ایگزام میں اردو کو خارج کردیا گیا۔البتہ اس مرتبہ کے فیصلے میں کورٹ نے واضح لفظوں میں اردو کو شامل کرنے کی بات کہی ہے ،لہٰذا اب مرکز کے لئے اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ توفیق احمد نے مزید کہا کہ انصاف تو یہی تھا کہ اردو کو پہلے ہی شامل کرلیا جانا چاہئے تھا ،کیونکہ 2013 کا فیصلہ ہی کافی تھا،مگر ریاستوں سے مطالبات نہ آنے اور وقت کم ہونے کا بہانہ بناکر مرکز نے اردو کو خارج کردیا،لیکن اب عدالت کا فیصلہ بالکل واضح ہے اور یہ معاملہ صاف ہو گیا ہے کہ اردو ہر سال نیٹ کے امتحان میں شامل رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اب سی بی ایس ای کے لئے آنے والے سال سے ٹال مٹول کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا ہے۔اگر وہ ایسا کرے گی تو کنڈمن آف کورٹ مانا جائے گا۔’’چوتھی دنیا ‘‘ نے سی بی ایس ای کے جوائنٹ ڈائریکٹر ارون سنگل سے پوچھا کہ 2018-19کے نیٹ امتحان میں اردو کی شمولیت کی کیا گارنٹی ہے ؟تو انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل واضح ہے اس لئے اس کو خارج نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بہر کیف سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اردو سے محبت رکھنے والوں کے لئے ایک اچھی خبر ہے ۔اب اردو طلباء بھی زیادہ سے زیادہ طبی امتحانات میں شامل ہوسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *