نازک گٹھ بندھن بی جے پی – پی ڈی پی کا

حالانکہ ابھی سب کچھ صاف نہیں ہے لیکن جموںو کشمیر کی مخلوط سرکار کا مستقبل طے لگتا ہے۔ یہاں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا اتحاد بھلے ہی ابھی ختم نہ ہوا ہو، لیکن مارچ 2015 (جب سے یہ اتحاد ہوا ہے) سے آج تک ان دونوں کے بیچ تال میل کا فقدان رہا۔ پی ڈی پی کے بانی اورسابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے خود اس اتحاد کو قطب شمالی اور قطب جنوبی کا اتحاد کہا تھا جس کے سبب ان کے مخالفین کو اسے ناپاک اتحاد کہنے کا موقع مل گیا۔مفتی کی واحد دلیل یہ تھی کہ وہ اس جموںکو الگ تھلگ نہیںکرنا چاہتے تھے جس نے بی جے پی کو 36 سیٹوںمیں سے 25 سیٹیں دی تھیں۔ لہٰذا مفتی کے مطابق ریاست کو متحد رکھنے کے لیے سرکار بنانے کا یہ واحد طریقہ تھا۔ دو سال بعد ایسا لگتا ہے کہ ریاست تو متحد ہے لیکن سیاسی طورپر کمزور اور بے اختیار ہوگئی ہے۔
24 اپریل کو جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تبھی سے اس حکومت کے مستقبل پر اٹکلیں لگنی شروع ہوگئی تھیں۔ اس ملاقات کا مقصد کشمیر کے حالات پر مرکزی حکومت کی توجہ مبذول کرانا اور بات چیت کے دروازے کھلنے کی اہمیت پر زور دینا تھا۔ لیکن ملاقات کے بعد انھوں نے میڈیا سے جو کچھ بھی کہا، اس سے اس کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ انھیں مرکزی حکومت سے ایسی کوئی یقین دہانی ملی ہو۔ انھوںنے صرف اتنا کہا کہ حالات کوٹھیک کرنے کے لیے اگلے دو سے تین مہینے کا وقت کافی اہم ہے۔ ان کی یاان کی پارٹی کی طرف سے کسی بھی وضاحت کے فقدان میں، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انھوںنے کیا کہا، لیکن بات چیت کی زبان بتا رہی ہے کہ آنے والے وقت کے سیاسی منظر نامہ میںایک ممکنہ تبدیلی کی سمت میںیہ اتحاد آگے بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی نے اپنے اتحادی ساتھی کے ساتھ اختلافات کو زیادہ اہمیت نہیںدی اور یہ تاثر بناکہ اتحاد کا سفر تھوڑے اوبڑ کھابڑ راستوںسے گزر تو رہا ہے لیکن پھر بھی سفر ٹھیک سے چل رہا ہے۔
بہرحال جب محبوبہ سری نگر لوٹیں تو انھوںنے اپنی پارٹی کی دو اہم میٹنگیں بلائیں۔ پہلی کورگروپ کی، جس میںسینئر لیڈر اور وزراء شامل تھے اور دوسری میٹنگ اراکین اسمبلی کی ۔ اگر ان میٹنگوںمیںشامل ہونے والے لوگوں کے اندازے کو صحیح مان لیا جائے تو پی ڈی پی اس اتحاد کو لے کر بے چین ہے۔اس بے چینی کی بنیاد بی جے پی کا برتاؤ ہے۔ محبوبہ کشمیرمسئلے کے لیے بات چیت کا راستہ چاہتی ہیں۔محبوبہ کا ماحصل یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے تووہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ ترک کردیںگی۔ حقیقت میںان میٹنگوں میں پارٹی بے بس اور ناامیدی سے نبردآزما نظر آئی۔ حالانکہ سری نگر پارلیمانی سیٹ کے لیے حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات میںسب سے کم ووٹنگ، مین اسٹریم کی پارٹیوںکی قابل رحم حالت کو آشکارا کرتی ہے۔ یہ، یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت انتظامی سطح پر صورت حال کتنی خراب تھی۔
سیاسی منظر نامہ پر پی ڈی پی کا طلوع بے مثال تھا۔ لوگوںکے ساتھ جڑنے اور یہاںتک کہ علیحدگی پسندوں کے اسپیس میں داخل ہونا، یہ ایسی وجوہات رہیں جس نے نیشنل کانفرنس جیسی پرانی پارٹی کے مقابلے میں پی ڈی پی کو ایک اہم سیاسی طاقت بنا دیا۔ ریاست کے تشدد سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی دکھانے کا کام مین اسٹریم کی پارٹیوںنے پہلے نہیںکیا تھا۔ یہ محبوبہ ہی تھیں، جو ریاست کے استحصال سے متاثرہ لوگوںکی آواز کے روپ میںابھرکر سامنے آئیں اور علیحدگی پسندوں کی پبلک سپورٹ میںنقب لگانے میںکامیاب ہوئیں۔ لیکن جیسے ہی پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا،اس کا گراف ایک دم سے نیچے چلاگیا۔ بی جے پی کشمیر کے مفادات کے خلاف رہنے والی ایک پارٹی کے طور پر جانی جاتی تھی۔ مفتی نے ایسا وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے بھاری مینڈیٹ پر بہت اعتماد کیا اور اتحاد کیا۔ ایک طرح سے انھوںنے مودی اور ان کے نقطہ نظر پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرلیا کیونکہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی ایک خاص ذہنیت کے ذریعہ بنائی گئی ہے، جہاںکشمیر ان کے لیے صرف اور صرف سیکورٹی اور لائی اینڈ آرڈر سے جڑا ہوا ایک مسئلہ ہے۔ مودی صرف سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں، اس سمت میںآگے نہیں بڑھتے۔
حالانکہ پہلے دن سے ہی بی جے پی نے اپنے ساتھی کو بدنام کرنا شروع کردیا تھا، جب مفتی نے علیحدگی پسندوں کے بارے میںبات کی اور اسمبلی انتخابات پُرامن کرانے میںپاکستان کی تعریف کی تب بی جے پی نے ان پر حملہ کیا۔ انھیںاس مسرت عالم کو دوبارہ جیل بھیجنے پر مجبور کیا گیا جو 2010 کی تحریککا چہرہ تھا اور اس کی رہائی پر پارلیمنٹ میں کافی شور شرابہ ہواتھا۔ 7 نومبر 2015 کو جب انھوںنے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی وکالت کی تو وزیر اعظم مودی نے انھیں نیچا دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے کیسے نمٹنا ہے،اسے لے کر مجھے کسی کی صلاح کی ضرورت نہیںہے۔ مفتی نے مودی کے لیے ایک بھاری بھیڑ کا انتظام کیا تھا۔ کوئی تصور نہیںکرسکتا تھا کہ کشمیری لوگ کرکٹ اسٹیڈیم میں ان کے لیے لائن لگا کر کھڑے ہوںگے۔ مفتی بات چیت اور صلح چاہتے تھے لیکن مودی اس چیزکو پہچان نہیں سکے۔
اگرچہ دونوںپارٹیاںایجنڈا آف ایلائنس کی بنیاد پر اقتدار میںآئیں لیکن پچھلے دو سالوںمیںصرف بی جے پی اور اس کے منشور سے متعلق مدعوں پر ہی عمل درآمدہوا۔ اس میںمغربی پاکستان سے آئے پناہ گزینوں کی پہچان، کشمیر کی دوسری طرف سے آئے پناہ گزینوں کی بازآبادکاری اور کشمیری پنڈتوں کے لیے راحت کے اقدامات شامل ہیں۔ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ جن اہم سیاسی مدعوں پر رضامندی ظاہر کی تھی،ان کو نہیںچھوا گیا یا انھیںمسترد کردیا گیا۔ مثال کے طور پر پاکستان اور حریت پر ایجنڈا آف ایلائنس میںلکھا ہے، ’’مرکزی حکومت نے حال ہی میںپاکستان کے ساتھ تعلقات کو نارمل کرنے کے لیے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ مخلوط حکومت کے ذریعہ صلح کا ماحول بنانے اور برصغیر میں امن اورترقی کے لیے اپنائے گئے نقطہ نظر اور پہل کی حمایت کرے گی اور اسے مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے’انسانیت، کشمیریت او رجمہوریت‘ کے جذبہ کے تحت حریت سمیت سبھی سیاسی گروپوں کے ساتھ ڈائیلاگ کا عمل شروع کیا تھا۔ ان ہی اصولوںکے مطابق مخلوط حکومت سبھی اندرونی اسٹیک ہولڈرس (سبھی سیاسی پارٹیوں،مختلف آئیڈیالوجی والے گروپ) کے ساتھ مسلسل اور بامعنی بات چیت شروع کرنے میںمدد کرے گی۔ یہ مذاکرات جموںو کشمیر کے سبھی مدعوں کے حل کے لیے اتفاق رائے بنانے کی کوشش کریں گے۔اس لیے محبوبہ آج جو پوچھ رہی ہیں، وہ ایجنڈاا ٓف ایلائنس کے ڈھانچے کے اندر ہے۔
اس مسلسل ناپسندیدگی کو دیکھتے ہوئے ظاہر ہے محبوبہ پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ جو حکومت الیکشن نہیںکراسکتی ہے، اس کے پاس نظم ونسق کی بحالی کے لیے کوئی جادوئی طریقہ تو نہیںہوگا۔ ایک طرف محبوبہ بی جے پی کی وجہ سے پریشان ہیں تو وہیںخود ان کی پارٹی میںبھی سب کچھ ٹھیک نہیںچل رہا ہے۔ گٹ بازی حاوی ہے او راگر دہلی کی رپورٹوںپر بھروسہ کیا جائے تو آج (جیسا کہ 2016 کی شروعات میں) ان کی پارٹی کے کچھ ممبر،اگر محبوبہ اتحاد کو توڑتی ہیں یا استعفیٰ دیتی ہیں تو بی جے پی کو سرکار چلانے میںاپنی حمایت دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن پارٹی کے اندر مضبوط پیغام یہ ہے کہ انھیںدہلی کو بتانا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے پر سمجھوتہ نہیںکرے گی کیونکہ پارٹی پہلے سے ہی ایک سطح پر بدنام ہوچکی ہے۔ اگر محبوبہ کوئی قدم اٹھاتی ہیںتو ظاہر ہے کہ یہ نقصان بی جے پی کو ہوگا اورہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر شرمندگی جھیلنی پڑے گی۔ تب سیاسی مدعے کو قبول نہ کرنادونوںکے لیے مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *