مسلمانون کے تئیں غلط فہمی کی اصل وجہ ناواقفیت

ہیرا ہاشمی امریکہ کا ایک مشہور نام بن گیا ہے ۔آخر یہ مشہور ہوا کیسے؟ اس کے پیچھے ایک انوکھی داستان ہے۔ان کی عمر صرف 19 سال ہے۔یہ یونیورسٹی آف کولوراڈو کی طالبہ ہیں۔ایک مرتبہ ان کے کچھ ساتھیوں کے بیچ ایک بحث چل رہی تھی۔ بحث یہ تھی کہ تمام مسلم دہشت گرد نہیں ہوتے ہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے ‘‘۔قابل ذکر ہے کہ اس طرح کی باتیں کچھ دنوں پہلے ہندوستان میں بھی اٹھائی گئی تھی ۔بہر کیف اس کے ساتھیوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کی تردید میں کوئی بیان نہیں آتا ہے۔ یہ سن کر اسے بڑی حیرانی ہوئی اور اس نے اخبارات اور سیاسی بیانات کو کھنگالنا شروع کیا۔اس نے اس دوران نائن الیون سے لے کر گھریلو تشدد تک مسلم دانشوروں، سیاست دانوں اور علماء کے بیانات پڑھے۔اس طرح اس نے 712 صفحات پر ان بیانات کو جمع کیا اور اپنے ٹیو ٹر پر ڈال دیا۔ دراصل وہ اپنے ان ساتھیوں کی غلط فہمی کو دور کرنا چاہتی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ مسلم طبقہ کی طرف سے دہشت گردی کی مذمت نہیں کی جاتی ہے ،دوسرے وہ بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ اس کے اس ٹویٹ کا کتنے لوگ جواب دیتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے ٹویٹ کے محض 24 گھنٹے کے اندر 15 ہزار لوگوں نے اس ٹویٹ پر ریمارکس کیا اور اس کی محنت کو سراہا۔
ہیرا نے اپنی کوششوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بہت سے لوگوں نے مسلمانوں کے تعلق سے مکمل معلومات نہ ہونے یا پھر افواہ پر یقین کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سوچتے اور بولتے ہیں۔ اگر کوئی افواہ پھیلے تو پھر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *