فلم نکاح’راتوں رات مولویوں کو دکھائی گئی

جب نکاح عورت کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا تو طلاق کیسے ہو سکتی ہے؟یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے مصنفہ اچلا ناگر کو تین طلاق جیسے مسئلے پر بھارت کی ایک سپر ہٹ فلم ‘نکاح کی کہانی لکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ تقریباً 35 سال پہلے بننے والی اس فلم پر اس وقت اتنے ہی تنازعات تھے جتنے آج ہیں۔ اسی فلم سے پاکستانی اداکارہ سلمیٰ آغا نے بالی ووڈ میں اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس فلم کے ہیرو راج ببر تھے۔فلم میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح تین طلاقیں ایک عورت کی زندگی میں طوفان لے آتی ہیں۔ اگرچہ اس فلم کی اسٹار کاسٹ مضبوط نہیں تھی لیکن اس کے باوجود فلم سپر ہٹ رہی۔
1982 میں بی آر چوپڑا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم نکاح کا نام پہلے ‘طلاق، طلاق، طلاق رکھا گیا تھا۔ لیکن طلاق نام سے پہلے ہی کسی صنعت کار نے اپنی فلم کو رجسٹر کروا رکھا تھا۔ فلم کی مصنفہ اچلا ناگر بتاتی ہیں کہ کس طرح اداکار افتخار نے بھی اس پر مذاق کیا۔ ‘وہ بولے کہ اچھا ہوا چوپڑا صاحب آپ نے فلم کا نام ‘طلاق، طلاق، طلاق نہیں رکھا نہیں تو ہم بیوی سے کہتے چلو ‘طلاق، طلاق، طلاق دیکھنے چلتے ہیں تو ہماری تو فلم دیکھنے سے پہلے ہی طلاق ہو جاتی۔ اچلا نے بتایا کہ فلم کسی مذہب کو ذہن میں رکھ کر نہیں بنائی گئی تھی بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے۔ لیکن پھر بھی تنازع اٹھ ہی گیا۔فلم ریلیز ہونے کے چوتھے دن ہی کسی نے مسلم اکثریتی علاقے بھنڈی بازار میں پوسٹر لگا دیے کہ اس فلم میں مذہب کے خلاف باتیں کی گئی ہیں۔ فتوے جاری کر دیے گئے تھے۔ تب راتوں رات مخالفت کرنے والے علما کو بلا کر فلم دکھائی گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *