صنفی حقوق کی معروف وکیل فلاویا اگنیس نے کہاکہ تین طلاق کوئی مسئلہ نہیں

Muslims-Votersمیڈیا پر مسلمانوں کی غلط شبیہ پیش کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے صنفی حقوق کی مشہور وکیل اور مجلس منچ کی ڈائریکٹر ایڈوکیٹ فلاویا اگنیس نے آج کہا ہے کہ تین طلاق کے ایشو کو سیاسی جماعت بالخصوص بی جے پی اور میڈیا میں اس طرح سے پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے دنیا کی تمام مسلم خواتین تین طلاق کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں اس کوحل کیے بغیر مسلمان ترقی یافتہ نہیں ہوسکتے ہیں ۔جب کہ یہ حقیقت کے سراسر منافی ہے او ر تین طلاق مسلمانوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ مسلم سماج میں طلاق کی شرح دوسری تمام کمیونیٹی سے کم ہے ۔
عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت اور ایسوسی ایشن اسنیپ کے اشتراک سے منعقد سیمینار خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ فلاوییا اگنیش نے مسلم پرسنل لا اور ہندو میرج ایکٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا اپنا مکمل نظام ازدواج ہے ۔ اس کی چند ایسی خوبیاں ہیں جسے دو سرے مذاہب نے کئی صدیوں کے بعد اختیار کیا کہ انہوں نے کہا کہ اسلام اول دن سے ہی جائداد میں لڑکیوں کو حق دینے کی وکالت کی ہے مگر ہندؤں میں ہندوستان کی آزادی کے بعد بننے والے قوانین میں والدین کی جائداد میں بیٹیوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔اسی طرح ہندؤں کے قوانین کے مطابق شادی معاہدہ نہیں ہے بلکہ کنیادان ہے ۔یعنی خواتین کے کوئی حقوق نہیں ہوتے ہیں ۔
سات جنموں کے رشتہ ہوتا ہے جسے علاحدہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا مگر اسلامی قوانین میں اول دن سے ہی خواتین کو بھی اپنے شوہر سے خلع لینے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ آج میڈیا میں گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے مسائل پر بات چیت نہیں ہورہی ہے۔ فلاویا اگنیس نے کہا کہ تین طلاق پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔انہیں اپنے حقوق سے متعلق امور معلوم ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد ، شوہر کی زیادتی جیسے مسائل ایسے ہیں جس سے تمام طبقات کی خواتین کو مسائل کا سامنا ہے ۔مگر اس پر کوئی بات چیت نہیں کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی حقیقت کا علم نہیں ہے یا پھر جان بوجھ کر غیر ضروری ایشوز میں عوام کو مشغول رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *