شیلا سنیما ہال کا پردہ بھی گرا

دہلی میںسمراٹ ، آکاش، لوکیش، گولچہ اور ریگل جیسے تاریخی سنیما ہال بند ہونے کے بعد ایک اور تاریخی سنیما ہال شیلا نے اپنا پردہ سیمیں ہمیشہ کے لیے گرادیا۔ اس طرح سنیماگھر کی تاریخ کا ایک اور باب بند ہوگیا۔آخر یہ سنگل اسکرین تھیٹر اتنی تیزی سے کیوںبند ہورہے ہیں،کیا ملٹی پلیکس کا دور ہونے کی وجہ سے یہ سنیما ہال بدحالی کا شکار ہوکر اپنا وجود کھو رہے ہیں؟آئیے اس طرف چلتے ہیں جب یہ تھیٹر فلمی شائقین کی دلچسپی کا سامان ہوا کرتے تھے۔
ایک زمانہ تھا جب کوئی نئی فلم آتی تھی تو سنیما ہالوںمیں فلم کے شائقین کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی تھیں۔ ٹکٹ ہاتھ نہیںآتا تھا تو لوگ بلیک سے ٹکٹ لے کر اپنے فلمی ذوق کی پیاس بجھاتے تھے۔ دن میں چار شو ہوا کرتے تھے۔ بڑے بڑ ے سنگل اسکرین پردے ہوتے تھے۔ پہلے شو میںٹکٹ ہاتھ نہیںلگا تو دوسرے شو میں، نہیں تو تیسرے اور چوتھے میں، بہرحال کسی طرح ٹکٹ حاصل کیا جاتا تھااور فلم کے شوقین حضرات جوق درجوق فلمیںدیکھنے پہنچتے تھے۔
لیکن اب زمانہ بدل گیاہے۔ نئی ٹیکنالوجی آگئی ہے۔سنگل اسکرین کی جگہ ملٹی پلیکس نے لے لی ہے۔ ایک ایک سنیما گھر میںکئی کئی اسکرینیںلگ گئی ہیں۔ ایک ساتھ کئی کئی فلمیںچلتی ہیں۔ اب ایک ایک فلم کروڑوںروپے روز کا بزنس کررہی ہے اور سنیما ہالوں میں کوئی خاص بھیڑ بھی نظر نہیںآتی، جبکہ سنگل اسکرین والے سنیما ہال مالی خسارے میں مبتلا ہوکر تیزی سے بند ہوتے چلے جارہے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی میں یوپی اور دہلی میں تقریباً پچاس سنیما گھر بند چکے ہیں۔دہلی کے دریا گنج میں میںواقع گولچہ اور کناٹ پلیس میںواقع ریگل جیسے تاریخی سنیما گھر خسارے کے بوجھ تلے دبنے کی وجہ سے اپنے پردے کب کیگرا چکے ہیں اور ابھی حال ہی میں پہاڑ گنج میںواقعی ایک اور تاریخی سنیما ہال شیلا نے بھی اپنا پردہ ہمیشہ کے لیے گرادیا ہے۔ اس سلسلے میں دہلی اور اترپردیش میں موشن پکچر کے ٹریزر اور فلم ڈسٹری بیوٹر جوگندر مہاجن کہتے ہیںکہ شیلا سنیما گھر بند ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میںسب سے اہم وجہ پراپرٹی ٹیکس، انٹرٹینمنٹ ٹیکس کی زیادتی اور فلموں کی پائریٹیڈ سی ڈی دھڑلے کے ساتھ دستیاب ہونا ہے۔
پرانی دلی کی پہچان دریا گنج میں واقع گولچہ سنیما نوٹ بندی کا شکار ہوکر بند ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد فلم دیکھنے والوں کی تعداد یہاں 60 فیصد تک گرگئی اور ادھر انٹرٹینمنٹ ٹیکس میںزبردست اضافہ ہونے کے سبب سنیما مالک کو ناقابل برداشت خسارہ ہورہا تھا۔بالآخر گولچہ سنیما کا پردہ گرانا پڑا۔ گولچہ دہلی 6- کا جدیدترین سہولیات سے مالامال ہال مانا جاتا تھا۔ واضح ہوکہ گولچہ سنیما کا افتتاح 1954 میںنائب صدر جمہوریہ ہند سروپلیّرادھا کرشنن نے کیا تھا۔ اس کے بند ہونے کا اہم سبب سنگل اسکرین ہونے کے سبب اپنا خرچ نہ اٹھاپانابنا۔
دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع ریگل سنیما 1932 میںراجدھانی کا پہلا پرائم سنگل اسکرین تھیٹر بنا تھاجو 30 مارچ 2017 کو بند ہوگیا۔ ریگل دہلی کے فلمی تماشائیوںکے ساتھ ساتھ بالی ووڈ کے ستاروں کا بھی پسندیدہ ہال ہوا کرتا تھا۔ بمبئی سے آنے والے زیادہ تر فلم اسٹار دہلی کے ریگل سنیما میںحاضری دینا لازمی سمجھا کرتے تھے۔ آر کے بینر تلے بنی فلموں کا اس سے گہرا تعلق رہا۔ آنجہانی راج کپور تو اپنی فلموں کا پریمئر ریگل سنیما میں ہی کیا کرتے تھے۔ ریگل کے پردے میںبالی ووڈ کی بے شمار پریم کہانیاں قید ہیں۔ راج کپور، نرگس سے لے کر امیتابھ، ریکھا اور پھر شاہ رخ، کاجول سے لے کر انوشکا و دلجیت کی بھی پریم کہانی ریگل کے پردے میںقید ہے۔ 1931 میں جب ہندوستان میں سنیما ٹاکیز آیا تو کوکئی سنیما ہالس دہلی میں کھولے گئے۔ ریگل کو 1932 میں ممتاز صحافی آنجہانی خوشونت سنگھ کے والد سردار شوبھ سنگھ نے کھولا تھا اور 85 سال تک فلمی شائقین کی دلچسپیوںکاسامان بن کر بالآخر 30 مارچ 2017 کویہ بند ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریگل کے مالکوںکا منصوبہ اسے ملٹی پلیکس بنانے کا ہے۔
دہلی کے مشہور کاروباری ڈی سی کوشک نے 1937 میںپانچ ہزار اسکوائر فٹ کا پلاٹ خرید کر شیلا سنیما بنانا شروع کیا تھا۔ ابھی یہ ہال بن ہی رہا تھا کہ اس دوران دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کا راج تھا۔ ایک ایک اینٹ خریدنے اور دیگر میٹریل خریدنے کے لیے انگریز سرکار سے اجازت لینی پڑتی تھی۔ اس طرح شیلا کی تعمیر میں پندرہ سال لگ گئے۔ 12 جنوری 1961 کو ہالی ووڈ مووی سولمن اینڈ شیبا کی اسکریننگ کے ساتھ اس کی شروعات ہوئی اور 27 اپریل 2017 میں یہاں آخری بار فلم’ فاسٹ اینڈ فیوریس ‘ کا شو چلا۔
شیلا کے موجودہ مالک اودے کوشک نے کہا کہ ہم کافی نقصان میںچل رہے تھے۔ سنیما کا رکھ رکھاؤ رکھنا ہمارے لیے مشکل ہورہا تھا۔ فلم ’باہبلی2-‘ شیلا کو ایک نئی زندگی دے سکتی تھی لیکن افسوس کہ اس کے دکھانے کے رائٹس پانے میںہم ناکام رہے۔ اس فلم کے ملنے سے ہم کچھ مالی خسارے سے نکل سکتے تھے،لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ بہرحال مالی خسارے کی وجہ سے یہ ایک دن بندتو ہونا ہی تھا۔
اودے کوشک کا کہنا ہے کہ ایک اسکرین والے سنیما گھر اب ملٹیپل اسکرین کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ہماری خواہش بھی شیلا کو ملٹی پلیکس میںتبدیل کرنے کی ہے، دیکھئے اس کوشش میںکتنا وقت لگتا ہے؟بہر حال ملٹی پلیکس کے اس دور میںسنگل اسکرین والے وہ سنیما گھر تیزی سے بند ہورہے ہیںجن میںبیٹھ کر کبھی بڑی بڑی شخصیات نے پریمئر شو دیکھے تھے اور عام لوگ بھی ان میںفلم دیکھنے کے لیے قطاریں لگاکر کھڑے ہواکرتے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *