سنگھ کو تفہیم راشٹرواد سے ڈائیلاگ ہے

اعزازی ڈائریکٹر، بھارت نیتی پرتشٹھان
’نیائے درشن‘ انصاف کے فلسفہ میں ڈائیلاگ کی جو سولہ اصناف بتائی گئی ہیں، ان میں دو صنفیں ’جلپ‘ اور’ ویتنڈتا‘ بھی ہیں۔ ’جلپ‘ کا مطلب ہے‘ دوسروںکو تباہ کرنا اور’ وتنڈتا‘ جھوٹ سچ کے اختلاط اور غلط دلیل کے سہارے سامنے والے کو شکست دینے کی کوشش ہے۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے حوالے سے جو مبینہ خیال سماجوادیوں کے ایک طبقہ، جن میںمدھو لمیے بھی شامل ہیں اور بائیں بازو نہرووادیوں کے ذریعہ چلایا جاتا رہا ہے، وہ ’جلپ ‘اور’وتنڈتا‘ کی سب سے موزوںمثال ہے۔ پچاس کی دہائی سے لے کر آج تک سنگھ کے جو ناقدین ہیں ان کی ایک خاصیت ہے۔ وہ یا تو سنگھ کو سمجھتے نہیں ہیں یا سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ سنگھ کی آئیڈیا لوجی کی خود وضاحت کرتے ہیں اور پھر اس کی تنقید بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ناقدین کا عوامی احساسات پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا ہے۔ مدھو لمیے جی ہندوستانی سیاست میںان لوگوں میں سے تھے جو مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ انھیں علم و روایت کی اہمیت معلوم تھی۔ لیکن سنگھ کے حوالے سے ان کا تعصب ان کے اس مضمون میںصاف ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں انھوںنے حوالوں سے ہٹ کر اس کی آئیڈیا لوجی کو کوٹ کرنے کا کام کیا ہے، جس کا خاص مقصد ایک مخصوص نتیجہ پر پہنچنا تھا۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہندوستان کے سماجوادیوں میں ہمیشہ دو دھارائیں رہی ہیں۔ ایک دھارا ان لوگوں کی رہی ہے جو سنگھ کے ساتھ عدم اتفاق تو رکھتے تھے لیکن اس کے ساتھ کریٹو ڈائیلاگ کو ضرور مانتے تھے اور اسے وہ سیاسی ایجنڈے سے ہٹ کر سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان میںاچیُت پٹوردھن، رام منوہر لوہیا، آچاریہ جے بی کرپلانی، جے پرکاش نارائن اور جارج فرنانڈیز کا نام قابل ذکر ہے۔ ان کی تعمیری کوشش نے کئی مواقع پر ہندوستانی سیاست کو اس کے فیصلہ کن دور میںمتاثر کرنے کا کام کیا ہے۔ دوسری طرف ایک دوسری دھارا بھی رہی ہے جس میں رگھوٹھاکر،مدھو لمیے اور کشن پٹنائک جیسے لوگ تھے، جو سنگھ کی آئیڈیا لوجی کو آئین ہند ،ہندوستان کے سیکولرزم اور ہندوستانی جمہوریت تینوں کے لیے مہلک مانتے تھے۔
عملی طور پر ہندوستانی ڈسکشن کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ڈائیلاگ کو نعرے بازی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے لیے اکثر سبھی فریق ذمہ دار ہیں۔ ایسا کرنے والوںکو اس سے دو فائدے ہوتے ہیں۔ پہلا، وہ سخت محنت سے بچتے ہیں۔ دوسرا، وہ اپنے لیے ایک مستقل شبیہ گڑھ کر ڈسکشن کی چوہدی کو بے حوالہ کردیتے ہیں۔
سیاسی ڈسکشن جنگی منظر کی بنیاد پر نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ڈسکشن کی ترقی کو اور خیالات کے بیچ آہنگی میںرکاوٹ ڈالتا ہے۔ اس کی ایک مثال مدھو لمیے اور جے پرکاش نارائن کے بیچ دینا ریلیونٹ ہوگا۔ واقعہ 1953 کا ہے۔ جب وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے جے پرکاش نارائن کو منصوبہ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مدعو کیا۔ تب جے پی نے جواب میں ان سے کہا کہ ان کے پاس اگلے آٹھ مہینے تک کوئی وقت نہیںہے۔ آٹھ مہینے بعد جب وہ ملنے گئے تو ایسا لگا جیسے انھوں نے کوئی سنگین سیاسی جرم کر دیا ہو اور نہرو سے نہیں بلکہ نازی ہٹلر اور فاشسٹ مسولینی سے مل لیے ہوں۔ تقریباً اسی انداز میں جے پی پر مدھولمیے نے تیکھے حملے کئے اور جے پی کو سوشلسٹ پارٹی کے بیتول کنونشن میں نم آنکھوں سے طنزو طعنوں کے بیچ اپنی صفائی دینی پڑی۔ اُدھر نہرو کو بھی جے پی کے دفاع میں پریس ریلیز جاری کرنی پڑی۔ یہ مدھولمیے پر کوئی الزام نہیں ہے بلکہ سیاست اور ڈسکشن کے اس رجحان کی طرف اشارہ ہے، جس میں ہم تمام خیالات کو سیاسی مخالفت کی نذر کرتے رہے ہیں۔ 1979میں جنتا پارٹی کی حکومت کے زوال کی وجہ جو لوگ خیالات کو مانتے ہیں وہ آدھا سچ بول رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خواہش اور شخصیت کے ٹکرائو کا نتیجہ تھا۔
مدھولمیے جی کا’ آر ایس ایس کیا ہے؟ ‘نامی مضمون غلط روایت اور نامناسب اقتباست پر مبنی ہے۔ سنگھ ہندوستان کی قومیت کی بنیاد سیاسی نہیں ثقافتی مانتا ہے جس میں نسل پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہندوستان سیکولر اس لئے نہیں ہے کہ تحریک آزادی نے سیکولرزم کو اپنا آدرش مانا اور آئین میں اس کا تذکرہ ہے، بلکہ یہ صدیوں سے ہماری زندگی کی اقدار کا حصہ رہا ہے۔ جس کا کچھ لوگ فائدہ تو اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اسے مضبوط کرنا نہیں چاہتے ۔ سنگھ ایسے عناصر کو قوم کا دشمن مانتا ہے۔ جن لوگوں کی وفاداری ملکی مفاد میں نہ ہو کر بین الاقوامی پرستی یا مذہب کے نام پر ملک میں نہیں ہے، انہیں دشمن نہیں تو اور کیا کہیں؟ شری گولوالکر نے کسی مذہب یا آئیڈیالوجی کے تمام پیروکار وں کو دشمن نہیں مان کر، ان کی وجہ سے ہندوستان کی قوم پرستی کے خلاف دشمن کا جذبہ دکھانے والے کو قوم کا دشمن مانا ہے۔ ان کی کتاب ’بنچ آف تھاٹس‘ کا منتخب اقتباس دے کر اور اسے بے سیاق و سباق بنا کر ان کے فلسفہ کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گولوالکر ہندوستان کے سب سیمتحرک مفکر اور فلسفی ہیں جنھوں نے ہندوستانیت کے بہاؤ کو ایک نظریاتی شکل دینے کا کامیاب کام کیا ہے۔ مدھولمیے جس کتاب ’وی آر آور نیشن ہوڈڈیفائنڈ‘ کا حوالہ دے رہے ہیں وہ شری گولولکر کی اْصل تخلیق ہے ہی نہیں۔ اس کتاب کو سب سے پہلے گنیش دامودر ساورکر نے راشٹر’میمانسا‘ کے نام پر لکھا تھا۔ شری گولولکر کو اس کے انگریزی ترجمہ کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ 30کی دہائی کے اوائل اور 30کی دہائی کے آخری حصہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کتاب ابتدائی دورکی ہے اور مترجم پر ان حقائق کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔ خود گولوالکر نے ساورکر جی کے یوم پیدائش پر ممبئی میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کا خلاصہ کیا تھا کہ یہ ان کی تخلیق نہیں ہے، لیکن لیفٹسٹاور سماجوادی مارکس کی تخلیق کو پڑھنے کی بجائے اس کتاب کو ہی زیادہ پڑھتے رہے ہیں،کیونکہ یہ وتنڈتاوادی ڈسکشن میں ان کے لئے فائدے مند ثابت ہوتا رہا ہے۔ سنگھ کے راشٹرواد میںنسل پرستی کا کوئی مقام نہیں ہے۔ یہ ہندو لفظ کی تہذیبی نقطہ نظر سے وضاحت کرتا ہے۔ سنگھ کا انٹلکچوئل انٹرپرائز ہندو لفظ کے تصورمیںزمانے میںہوئے زوال کے اسباب کو سمجھنا اور اسے ختم کرکے ہندو لفظ اور اس کے تصور کو بنیادی اور زمینی ثقافت معنی عطا کرنا ہے۔ ہندوستانی کی قومیت، اس کی ثقافت اور دانشورانہ وراثت ، جس میں ویدک تخلیقات اور اپنیشد سے لے کرسمرتھ رام داس کا داس بودھ اور وہ تمام تخلیقات شامل ہیں جو ملک کو تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر ایک دھاگے میں باندھنے کا کام کرتی ہیں۔ ان ہندوستانی دانشوورانہ تخلیقات کی ایک خاصیت ہے۔ یہاں فلسفہ اور روحانیت کے درمیان باہمی گہرا تعلق ہے۔ اسے سمجھے بغیر ناقد ان دانشورانہ وراثتوں کو بائبل اور قرآن کی طرح ایک خاص مذہب کی تحریر بتا کر اس کی اہمیت کو ختم کر دیتے ہیں۔ سنگھ اس عمل کی مخالفت کرتا رہا ہے۔اس میں کئی سماج وادی مفکروں سے سنگھ کا باہمی ڈائیلاگ رہا ہے۔ جن میں اچاریہ کرپلانی کی کتاب ’’ دی مائنارٹیز ان انڈیا (1948)‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
سنگھ کے تئیں یہ کہنا کہ وہ ہندی کو تھوپنا چاہتا ہے،یہ حقیقت کا گلا گھوٹنے جیسا ہے۔ سنگھ ہندوستانی زبانوں کو مساوی طور سے قابل استعمال اور ہندوستانی ثقافت کا حامل مانتا رہا ہے۔ ہندی کو قومی زبان کی جگہ دلانا کسی زبان کی قدر میں کمی یا اس کے وجود پر سوال نہیں ہو سکتا ہے۔ ہندوستان کی سبھی زبانوں کا ثقافت سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مثال متعلقہ ہوگی، 60 19کی دہائی میں جب ریاستوں کی از سر نو تشکیل کے سلسلے میں ہلچل مچی ہوئی تھی تب شری گولوالکر نے قومی مفاد میں حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا۔ پنجاب میں یہ مہم چلائی جارہی تھی کہ لوگ اپنی مادری زبان ہندی لکھوائیں۔ تب گولوالکر نے کہا کہ جن کا رسم الخط گرو موکھی اور زبان پنجابی ہے وہ ہندی نہیں لکھائیں۔اس وقت کئی تنگ ذہنیت کے حاملین ہندی حامیوں کی مخالفت کا سامناانہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ قوم اور نسلوں کو دیکھ کر بولتے تھے نہ کہ فوری طور پر یا صورت حال کے دبائو میں۔
جہاں تک ہندوستان میں سنگھ واد کا سوال ہے ،اس سلسلے میں سنگھ کی سوچ صاف رہی ہے کہ ملک میں ایک مضبوط مرکز کا ہونا ضروری ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہندوستان کا سنگھ واد انتظامی ہے ۔تبھی تو سیاسی دانشوروں جیسے کے سی وہیئر نے اسے Quasi Federalism مانا ہے ۔ جو لوگ ہندوستان کے سنگھی نظام میں وائس رول کا بیج دیکھتے ہیں ،ایسے سماج وادی اور وام پنتھی سنگھ سے عدم اتفاق کریں گے۔ شری گولوالکر کا صاف ماننا تھا کہ ہندوستان میں کوئی وائس رول نہیں ہے۔ دھیان رہے کہ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی نے آزادی کے بعد 17 کانسٹی ٹیوشنل اسمبلی کی مانگ کی تھی۔
مدھولمئے جی جسے سنگھ اور لوہیا جی کے بیچ کے تال میل کو ٹراتریٹ ٹرائل مانتے ہیں ،وہ صحیح نہیں ہے۔ ڈاکٹر لوہیا کی دین دیال جی کے ساتھ غیر کانگریس واد کے ساتھ متحد ہونا صرف سیاسی عمل نہیں تھا بلکہ دو نظریات کا ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش تھی۔ اس کا اگلا پڑائو 74 19میں تب دکھائی پڑا،جب جے پی مدھو لمیے جیسے معاونین کی مخالفت کے باوجود 1973 میں جن سنگھ کے سیشن میں شامل ہوئے اور 77 19میں سنگھ ایجوکیشن کلاس میں بھاشن کرنے آئے۔ یہاں یہ کہنا بھی جے پی کے ساتھ ناانصافی ہوگی کہ انہوں نے سنگھ کے سامنے خود سپردگی کر دی تھی۔ وہ حقیقت میں سنگھ آندولن میں اکانومک سائڈ کے پریفرینس کو قائم کرنے کے لئے ایک پُرامید خیر خواہ کی شکل میں مسلسل موجود رہے ۔سنگھ ایجوکیشن کلاس کے بھاشن میں بھی انہوں نے سنگھ کو سماجی ،مالی مساوات کی لڑائی لڑنے کی نصیحت دی۔ سنگھ نے ایمرجینسی کے دوران جمہوریت بچانے کے لئے جو جدو جہد کی، اس سے ان لوگوں کا پردہ فاش کیا جو سنگھ کو جمہوریت کے مخالف کہہ کر تنقید کرتے رہے۔ مدھو لمئے جی کے مضمون میں سنگھ کے تئیں ان کے ایماندارانہ موقف کو دو مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پہلی مثال 1968 کا پہلا فرقہ وارانہ مخالف سمینار ہے جس کا انعقاد سبھدرا جوشی کی فرقہ وارانہ مخالف کمیٹی نے کیا تھا۔ دھیان رہے کہ ’سنوید‘ حکومت بننے کے بعد یہ سمینار ہوا تھا۔ اس میں جے پرکاش نارائن صدر تھے۔ سمینار کی کارروائی پر ریمارکس کرتے ہوئے جے پی نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سمینار فرقہ وارانہ نہیں بلکہ سنگھ کے خلاف منعقد کیا گیاہے۔ اس سمینار کے افتتاحی سیشن میں ڈی سنجی ویا نے سبھدرا جوشی کے اس بھاشن کی مزاحمت کی جس میں انہوں نے اکثریت کو اقلیتی فرقہ واریت سے زیادہ خطرناک بتایا تھا۔ مدھولمئے اور سوبھدرا جوشی کے سماجی نقطہ نظر میں مساوات دیکھا جاسکتا ہے۔ ان دونوں کا ماننا تھا کہ سنگھ ہندوستانی آئینی نظام میں ایک غیر قانونی ادارہ ہے۔
دوسرا واقعہ 1978 کا ہے۔ جب اسی ادارے نے دہلی میں ہی’ کیریکٹر آف آر ایس ایس ‘ پر ایک سمینار کیا۔ تب رگھو ٹھاکر ( جو کہ مدھو لمئے جی کے سماجی درشن کے پیروکار رہے ہیں) نے سنگھ کی سخت تنقید کی ۔دھیان رہے کہ یہ سمینار جنتا پارٹی کی سرکار بننے کے ایک سال بعد کیا گیا اور سنگھ کی تنقید کا تب کوئی خاص سبب نہیں تھا۔ تب رگھو ٹھاکر کی مزاحمت کسی اور نے نہیں بلکہ مارکسوادی پارٹی کے لیڈر ظہور صدیقی نے ان لفظوں میں کی، ’’ ایمرجینسی کے دوران ترکمان گیٹ، مظفر نگر اور پیپلی میں جب اقلیتوں پر ظلم ہو رہا تھا تب ان جگہوں پر گولوالکر نہیں تھے‘‘۔
مدھولمئے جی کی تنقید میں سنگھ کے تئیں ان کی سمجھ جن باتوں کی بنیاد پر بنی، ان میں ہندوستانی سیاست میں نظریاتی پولرائزیشن کا فقدان تھا اور دوسرا ایک سبب یہ بھی رہا ہے کہ سنگھ کے اپنے لٹریچر جس میں اس کے نظریات کی تفصیلی اور حتمی ترجمانی ہو ،اس کی کمی رہی ہے۔ سنگھ نے ہمیشہ ہی براہ راست مثال اور سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے نظریات کو قائم اور توسیع کرنے کا راستہ چنا ہے جس کے سبب اس کے نقادوں کو بھی اسے سمجھنے میں کئی مواقع پر دھوکہ ہوتا رہاہے۔ سنگھ ایک حقیقت ہے اور بحث سنگھ پر نہیں بلکہ اس کے ذریعہ جو نظریاتی پیٹرن پیش کئے جاتے ہیں ،اس پر ہونی چاہئے ۔ تب اس کے نقاد پائیں گے کہ اس میں سوامی ویویکا نند بھی ہیں۔ مہرشی اروند بھی ہیں۔ قدیم اور وسط دور کا نظریہ بھی ہے اور نسلوں کی فکر بھی شامل ہے۔
(پتہ اے 101، اسپاتیکا اپارٹمنٹ ، پلاٹ نمبر 29، سیکٹر 4، دوارکا ، دہلی 110075

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *