سماجوادی پارٹی ملائم کو نظرانداز کرنا مہنگا پڑا

اکھلیش یادو کی قیادت والی سماجوادی پارٹی میںانتخاب ہارنے کی بوکھلاہٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی بچانے کی بے چینی بھی ہے۔ ایس پی کی ٹوٹ کر الگ پارٹی بننے کی آہٹ جیسے جیسے تیز ہوتی جارہی ہے، ویسے ویسے اکھلیش اور رام گوپال خیمے کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ حال میںشیوپال یادونے اکھلیش کو ایس پی کے قومی صدر کا عہدہ ملائم سنگھ یادو کے لیے چھوڑ دینے کا الٹی میٹم دے کر بوکھلاہٹ اور بڑھادی ہے۔بوکھلائے رام گوپال تویہاںتک بول گئے کہ شیو پال کی اپنی کوئی شخصیت نہیںہے۔شیوپال کے پاس ملائم کے سوا کچھ نہیںہے۔ ایسا بول کر رام گوپال نے پیغام دیا کہ اکھلیش اور انھیںملائم کی شخصیت کا سہارا لینے کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔
ملائم کی شخصیت کا سہارا لے کر وزیر اعلیٰ بنے بیٹے اکھلیش اور اسی شخصیت کے دم پر راجیہ سبھا تک پہنچے بھائی رام گوپال کو اپنے وجود کا اصلی ذریعہ یاد نہیں رہا۔ اسی کا خمیازہ اکھلیش کو بھگتناپڑا، اس پر کوئی غور نہیں ہورہاہے۔ اپنے والد کو درکنار کرکے بیٹا اکھلیش اپنی بیوی ڈمپل، فلم اداکارہ جیا بچن اور چچیرے چاچا رام گوپال کا سہارا لے کر پارٹی کی ممبر شپ بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ اکھلیش وادی ایس پی کی ممبر شپ مہم کے اعدادوشمار اسی طرح بڑھا چڑھاکر پیش کیے جارہے ہیں جس طرح کے اعدادوشمار ریاست کی ترقی کو لے کر گھڑے گئے اور ان فرضی اعداد وشمار کے سبب پارٹی گڑھے میںچلی گئی۔
دفتر میںبیٹھے بیٹھے آنکڑے گھڑنے میں ماہر چیف ترجمان راجندر چودھری کہتے ہیںکہ 15 اپریل سے شروع ہوئی مہم میں صرف پندرہ دن میںہی 42 لاکھ ابتدائی ممبر بن گئے۔ یعنی اسمبلی انتخابات ہارنے کے بعد اکھلیش وادی سماجوادی پارٹی کا لوگوںمیں کریز اتنا بڑھ گیا کہ روزانہ دو لاکھ 80 ہزار کی شرح سے لوگ ایس پی کے ممبر بن رہے ہیں۔ ایس پی کا ممبر بننے کے لیے تو جیسے ریاست میںسیلاب آگیا ہے۔ چودھری کو اس طرح کے غیر معقول اور بے وجود اعداد وشمار گھڑنے میںکوئی جھجھک بھی محسوس نہیںہوتی۔ ایس پی کی ممبرسازی مہم 15 جون تک چلنی ہے۔ ایسے میںپارٹی کو ایک کروڑ ممبر ملنا تو طے ہوگیا ہے۔ جب پارٹی اقتدار میں تھی، تب ممبر بننے کا اتنا کریز نہیںتھا۔
خود راجندر چودھری ہی کہتے ہیںکی یکم جولائی 2014 سے 30 ستمبر 2014 تک چلائی گئی تین مہینے کی ممبرسازی مہم میں 75 لاکھ ابتدائی ممبر بنے تھے۔ اس بار تو پندرہ دن میںہی 42 لاکھ ممبر بن گئے۔ دلچسپ بات تو یہ بھی ہے کہ ممبر سازی مہم کو اکھلیش یادوخود مانیٹر کررہے ہیں۔ راجندر چودھری کہتے ہیں کہ سماجوادی پارٹی آئین ہند میں سچی وفاداری رکھتی ہے اور گاندھی، لوہیاکے آدرشوں سے تحریک لے کر جمہوریت، سیکولرزم اور سماجواد میں عقیدت رکھتی ہے۔ ایسا کہتے ہوئے راجندر چودھری ،ملائم سنگھ کے سماجوادی نظریات اور ان کے اشتراک کے تئیں احترام کا ذرا بھی لحاظ نہیںرکھتے۔ چودھری کہتے ہیں کہ اکھلیش کی قیادت والی سماجوادی پارٹی جمہوری طریقوںسے اختلاف ظاہر کرنے کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ ملائم کی نصیحتوں اور شیوپال کی مخالفت پر تیکھے بغاوتی تیور اختیار کرنے متضاد کردار پارٹی نے کیوں دکھایا، چودھری اس بارے میںکچھ نہیں کہتے۔
بہرحال سماجوادی پارٹی کے خودساختہ مکھیا اکھلیش یادو ممبرسازی مہم کے ذریعہ ڈیمیج کنٹرول کرناچاہتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ اس طرح کی مہم سے انھیںاپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس مل جائے گی۔ ہائی ٹیک طریقہ سے ایس پی سرکار کی مہم سازی مہم چل رہی ہے۔ آ ن لائن یا مسڈ کال دے کر بھی لوگ ممبر بن رہے ہیں۔ اس کے لیے ایک ٹول فری نمبرجاری کیا گیا ہے۔ اکھلیش یادواور ان کی بیوی ڈمپل یادو نے گزشتہ دنوں ممبر سازی مہم کا افتتاح کیا۔
اس مہم میں اکھلیش نے فلم اداکارہ اور راجیہ سبھاممبر جیا بچن کا بھی سہارالیا۔ خوب فوٹو کھینچے گئے۔ خوب پرچار ہوا۔ لیکن نیتا جی ملائم سنگھ یادو کا کسی نے نام تک نہیں لیا۔ پاپا ملائم اور چاچا شیوپال کنارے ہوگئے اور بیوی ڈمپل و آنٹی جیا بچن کے سہارے پارٹی مثال قائم کرنے کی یاترا پر چل پڑی ہے۔ اکھلیش ڈمپل کے پوسٹر ہر جگہ دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویروںمیںجیا بچن دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ملائم ،شیوپال کہیں نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔
ملائم کی کہیں ہورڈنگ لگی بھی تو انھیںبالکل ہی کنارے رکھاگیا ہے۔ ممبر سازی مہم کی کسی بھی پریس کانفرنس میں یا کسی بھی سبھا میں ملائم سنگھ یادو شامل نہیں ہوئے اور نہ انھیں شامل ہونے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ڈمپل کو انسٹال کرنے کی کوشش ضرور ہورہی ہے۔ جیا بچن نے اکھلیش کی شبیہ کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ عورتوں کا مناسب احترام ایس پی میں ہی ہے او رعورتوں کو ایس پی میںہمیشہ بنے رہنا چاہیے۔
فلم اداکارہ جیا بچن چاہے جتنا کہتی رہیں کہ سماجوادی پارٹی میں ہی عورتوں کو مناسب عزت ملتی ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے لیڈر پارٹی کی خاتون لیڈر کو توہین آمیز طریقہ سے اسٹیج سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں اور خاتون لیڈر جب اپنی عزت بچانے کے لیے جدوجہد کرتی ہیں تو ایس پی لیڈر اسٹیج چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ممبرسازی مہم کی میٹنگ کی ایسی کی تیسی کرنے سے بھی نہیںجھجکتے۔اس واقعہ پر پارٹی کے عام لیڈر بھی کہتے ہیںکہ اکھلیش نے جب قومی صدر کی کرسی جبراً لے لی تو کیا کوئی خاتون لیڈر کسی میٹنگ میںاسٹیج کی کرسی پر بیٹھ بھی نہیںسکتی۔ ایس پی کی ممبرسازی مہم کے دوران جھانسی میں ہورہی میٹنگ میںایسا ہی ہوا۔
جس پارٹی میں عورتوں کو مناسب عزت ملتی ہے، یہ کہہ کر فلم اداکارہ جیا بچن اکھلیش یادو کی مارکیٹنگ کرتی ہوں، اسی پارٹی کی ایک خاتون لیڈر کو اسٹیج سے نیچے اتارنے کی کوشش کی گئی اور ہ اپنی عزت بچانے کے لیے جوجھتی رہی۔ ایک خاتون لیڈر کااسٹیج پر بیٹھنا لیڈروں کو اتنا ناگوار لگا کہ وہ اسٹیج سے اترکر چلے گئے اور سبھا ختم ہوگئی۔
ممبرسازی مہم کے لیے جھانسی کے سرکاری میوزیم میںضلع صدر چھترپال سنگھ نے گزشتہ دنوں میٹنگ بلائی تھی۔ میٹنگ میںراجیہ سبھاممبر چندرپال سنگھ یادو ، سابق ایم ایل اے دیپ نارائن سنگھ، ایم ایل سی شیام سندرسنگھ جیسے کئی سینئر لیڈر اسٹیج پر بیٹھے تھے۔ اسی دوران اسٹیٹ ویمین کمیشن کی ممبر رہیں سشما یادو بھی اسٹیج پرخالی پڑی ایک کرسی پر بیٹھ گئیں۔ سشما یادو کو اسٹیج پر بیٹھنا لیڈروںکو نہیں بھایا۔وہ سشما یادو کو اسٹیج سے نیچے جانے کے لیے کہنے لگے۔ خاتون لیڈر نے کہاکہ وہ بھی آئینی عہدے پر رہی ہیں اور وہ اسٹیج پر بیٹھ سکتی ہیں۔ سشما یادو کے یہ کہتے ہی اسٹیج پر بیٹھے زیادہ تر افسران نے میٹنگ درمیان میںہی روک دی اور اسٹیج سے اترکرچلے گئے۔ اکھلیش یادو کی قیادت والی پارٹی میں عورتوں کی یہی عزت ہے اور اسی لیے عورتوں کو ایس پی میں ہمیشہ بنے رہنا چاہیے۔
ایس پی – کانگریس اتحاد خطرے میں
اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں گٹھ بندھن کا خمیازہ بھگتنے کے بعد کانگریس سماجوادی پارٹی کے ساتھ دوستی اور زیادہ جھیلنے کے موڈ میںنہیںہے۔ ایس پی کانگریس کے گٹھ بندھن کے جلدی ٹوٹ جانے کا امکان جتایا جارہا ہے ۔ کانگریس کے ریاستی صدر راج ببر نے گزشتہ دنوں لکھنؤ میں ہی اس بات کا اشارہ دے دیا۔ حالانکہ انھوںنے یہ بھی کہا کہ گٹھ بندھن رکھنا ہییا توڑنا ہے، اس کا فیصلہ اعلیٰ کمان کے ہاتھ میں ہے۔ راج ببر نے یہ ضرور کہا کہ اترپردیش میںہونے جارہے مقامی بلدیاتی انتخابات میںکانگریس اکیلی حصہ لے گی۔ مقامی بلدیاتی انتخابات میںکانگریس، ایس پی کے ساتھ اتحاد کے اصول پر عمل نہیںکرے گی۔راج ببر کے اس اعلان سے یہ تقریباً صاف ہوگیاہے کہ اسمبلی انتخابات میںکراری ہار کے بعد اترپردیش میں ایس پی – کانگریس کا اتحاد ٹوٹنے کی کگار پر ہے۔
اسمبلی انتخابات میںکانگریس – ایس پی اتحاد کو ریاست کے عوام نے سرے سے مسترد کردیا اور دونوں پارٹیوں کو اپوزیشن لائق بھی نہیںچھوڑا۔ اس ہار کے لیے سماجوادی پارٹی، کانگریس کو کوس رہی ہے تو کانگریس، سماجوادی پارٹی کو۔ریاستی کانگریس کے صدر راج ببر نے گزشتہ دنوں لکھنؤ میں کہا کہ اب یوپی میں مقامی بلدیاتی انتخابات ہیں۔ کانگریس نے طے کیا ہے کہ ریاست میں مقامی بلدیاتی انتخابات اکیلے ہی لڑے جائیں۔
راج ببر نے بات سنبھالتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات، کارکنوںکے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ ببر نے کہا کہ سمبل کے ساتھ پارٹی اور شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ ہم اسے بڑھانا چاہتے ہیں اور اسی سے تنظیم اور پارٹی مضبوط ہوتی ہے۔ اس الیکشن میںہم عوام سے کارکنوں کا رشتہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی کے کارکنان زمین پر لوگوںسے سیدھا رابطہ رکھتے ہیں۔ کارکنوںکے ذریعہ کانگریس کی پالیسیوں کی پہچان بنتی ہے۔ پارٹی کارکنوں کا عوام سے جڑاؤ ہی پارٹی کا عوام سے جڑاؤ ہوتا ہے ۔ کانگریس کو الیکشن ہارنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی ہے۔
بہرحال مقامی بلدیاتی انتخابات اکیلے دم پر لڑنے کے کانگریس کے اعلان کے مضمرات جو بھی ہوں، لیکن ابھی اتحاد توڑنے کا اعلان کسی بھی فریق کی طرف سے نہیں ہوا ہے۔ اکھلیش یادو کہہ چکے ہیں کہ اتحاد برقرار رہے گا۔ حالانکہ اس تعلق سے کانگریس نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ راج ببر کے بیان کے بعد ایسا ہی لگتا ہے کہ ریاست میںکانگریس اور سماجوادی پارٹی کا اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ یوپی انتخابات میں ہار کے بعد سے کانگریس پارٹی کے عہدیداروںکی ایک مہینے میں کئی میٹنگیںہوچکی ہیں۔ ببر نے کہا کہ کسی طرح کا فیصلہ لینے سے قبل یہ پارٹی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اتحاد پر غور کرے۔ کانگریس پارٹی اب اکیلے ہی الیکشن لڑے گی، اسے کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیںہے۔
راج ببر کی باتوں سے صاف ظاہر ہوا کہ کانگریس – ایس پی کانعرہ ’یوپی کویہ ساتھ پسند ہے‘ اب بیتے دنوںکی بات ہوجائے گی۔ راج ببر بولے کہ مقامی بلدیاتی انتخابات میںہم بغیر کسی پارٹی سے اتحاد کیے الیکشن لڑیں گے۔ انھوں نے کہاکہ یوپی میں اسمبلی انتخابات کی ہار کے بعد پارٹی نے کافی غورو خوض کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں ہارنے کے بعد اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہار سے ایس پی – کانگریس اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اتحاد قائم رہے گا، لیکن راج ببر کے تازہ بیان کے بعد اتحاد پر گہن صاف دکھائی دینے لگا ہے۔
آپ یاد کرتے چلیںکہ اسمبلی انتخابات میںایس پی – کانگریس اتحاد نے محض 54 سیٹیںجیتیں۔ ان میںسے کانگریس کے کھاتے میںصرف 7 سیٹیں آئیں۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ اکھلیش یادو کا تھا۔ ملائم سنگھ یادو نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ کانگریس سے اتحاد ایس پی کے لیے خودکشی ثابت ہوگااور ایسا ہی ہوا۔ الیکشن میں اتحاد کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ اسی وقت اکھلیش سرکار کے کابینہ وزیر رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا نے بھی کہا تھا کہ ایس پی کو کانگریس سے اتحاد کرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔
اکھلیش – راہل دوستی کا کیا ہوگا؟
اتحاد کرنے کے بعد سماجوادی پارٹی کی طرف سے اکھلیش یادو اور کانگریس پارٹی کی طرف سے راہل گاندھی لکھنؤ میںایک پریس کانفرنس میں ساتھ ساتھ نازل ہوئے اور کہا کہ کانگریس – ایس پی کا اتحاد گنگا جمنا کا ملن ہے اور اس میں سے ترقی کی سرسوتی نکلے گی۔ الیکشن میںہار کے بعد پھر گنگا الگ راستے اور جمنا الگ راستے چل پڑنے کے لیے مجبور ہورہی ہے۔ اب دونوںمیںسے ترقی کی سرسوتی کے بجائے ترقی کا کچرا نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اتحاد کے بعد لکھنؤ میںبڑی ڈرامائی کانفرنس ہوئی تھی، جس میںراہل اور اکھلیش تاج ہوٹل پہنچے ، ایک دوسرے کو گلدستہ دیا، ساجھا روڈ شو کا اعلان کیا اور فلم پروموشن شو کی طرح تھیم سانگ لانچ کیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے اتحاد کا موازنہ گنگا جمنا کے ملن سے کیا اور کہاکہ اس سے ترقی کی سرسوتی نکلے گی۔ اکھلیش نے اپنے والد کی قلعی کھولی اور کہا کہ کانگریس کے ساتھ مرکز میںبھی ہم ساتھ رہے ہیں۔ یہ ترقی کا اتحاد ہے، عوام کا اتحاد ہے۔ کانگریس کے ساتھ اور تیزی سے کام ہوگا۔ ہم اور راہل سائیکل کے دو پہیے ہیں۔ راہل اور میںملک کو خوشحالی اور ترقی کے راستے پر لے جائیں گے اور ریاست کو بھی۔ اکھلیش اور راہل کی باتیںہمیںیاد رکھنی چاہئیں تاکہ سند رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *