رام نائیک کی خود نوشت کا اردو ترجمہ غلطیوں کا مجموعہ ہے

damiصوفی یاور
اترپردیش کے گورنررام نائیک کی کتاب’ چریویتی چریویتی ‘ کے اردو ترجمہ کی غلطیوںکو لے کر اردو اکادمک دنیا میںکافی چرچا ہے۔ اردو ادب کی جانکار ہستیاں گورنر رام نائیک کی کتاب’ چریویتی چریویتی‘ کے مترجم ڈاکٹر عباس رضا نیر جلال پوری کی اہلیت پر سوال اٹھا رہی ہیں اور گورنرسے اپنی کتاب کے ترجمہ کو دوبارہ ترجمہ کرانے کی امید کررہی ہیں۔ اردو ادب کے ناقد اور قلم کار علامہ ضمیر نقوی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ گورنر سے خود کو جوڑ کر کچھ لوگ اس نام پر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔
رام نائیک کی کتاب’ چریویتی چریویتی‘ ان کے سماجی اور سیاسی سفر اور شراکت پر مبنی ان کی خود نوشت ہے۔ سیاسی سفر میں ناکامیوںکے باوجود وہ کبھی مایوس نہیںہوئے، یہاں تک کہ کینسر جیسی بیماری میںمبتلا ہونے کے بعد بھی ان کی زندگی کی جدوجہد جاری رہی۔ رام نائیک کہیں مایوس نہیں ہوئے، کہیں تھکے نہیں، کہیں رکے نہیں، ہمیشہ چلتے رہے، چریویتی چریویتی۔ نقل و حرکت ان کی زندگی میںرچی بسی رہی۔ انھوں نے نہ صرف کینسر جیسی سنگین بیماری کو شکست دی بلکہ اپنی جدوجہد کے دم پر کئی سماجی بیماریوں کو بھی شکست دی۔ رام نائیک نے کچھ مریضوں کے لیے بھی کام کیا۔ بنیادی طور پرمراٹھی زبان میںلکھی گئی کتاب کاترجمہ ہندی سمیت کئی زبانوں میں ہوا۔ اردو میںاس کا ترجمہ لکھنؤ یونیورسٹی کے اردو شعبہ کے صدر ڈاکٹر عباس رضا نیر جلال پوری نے کیاہے۔ گورنر کی اس کتاب کا اجراء لکھنؤ یونیورسٹی میں ہواتھا، جس میںگورنر رام نائیک کے ساتھ ڈاکٹر عمار رضوی، لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایس پی سنگھ، پروفیسر آصفہ زمانی، پروفیسر عصمت ملیح آبادی، پروفیسر صابرہ حبیب، شاعر انور جلال پوری، ڈاکٹر فضل امام، ڈاکٹر شارب ردولوی جیسے کئی لوگ شریک ہوئے تھے۔
علامہ ضمیر نقوی گورنر کی کتاب کے اردو ترجمہ کی شدید غلطیوںکا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ گورنر نے ایسے نااہل شخص کو ’یش بھارتیسمان‘ دینے کے لیے سماجوادی سرکار سے سفارش کی جو اس لائق بھی نہیںتھا کہ گورنر کی کتاب کا صحیح صحیح اردو ترجمہ بھی کرسکے۔ نقوی کہتے ہیںکہ کتاب میں ترجمہ کی سنگین غلطیاں مترجم کی اہلیت پر گہرے سوال کھڑی کرتی ہیں۔ کتاب پڑھتے وقت ایسا ہی لگتا ہے کہ مترجم کو نہ ہندی کا معقول علم ہے اور نہ ہی اردو کا۔ نقوی کہتے ہیں کہ امکان نظر سے کتاب دیکھنے والوں کو بھی بہت سی ظلطیاں مل جائیں گی۔ وہ سوال اٹھاتے ہیںکہ اردو ادب کے ڈاکٹر عزیزالدین،ڈاکٹرعراق رضا، ڈاکٹر حسن عباس ، ڈاکٹر سراج اجملی، ڈاکٹر تقی علی عابدی، پروفیسر چندر شیکھر،ڈاکٹر عین الحسن جیسے بہت سے دانشوروں کے ہوتے ہوئے ایسے نااہل مترجم کو چننا واقعی حیرت انگیز ہے۔ اردودنیا میں ایسی ناقص کتاب کے سبب رام نائیک کی اہمیت اور مثبت سوچ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
گورنر کی کتاب’ چریویتی چریویتی‘ کے اردو ترجمہ کی غلطیوںکا ذکر کرتے ہوئے علامہ ضمیر نقوی کہتے ہیںکہ اردو کے قابل مترجم کے ذریعہ، کام میںسر گڑائے رکھنے والا، لکھنا افسوسناک ہے ۔ اردو مترجم کو کام میںمنہمک رہنے والا ،لکھا جانا سمجھ میںنہیںآیا۔ اسی طرح صفحہ نمبر 188کی دوسری اور چوتھی لائن میںمچھی مار سماج لکھا ہے۔قابل مترجم کو سماجی حساسیت سمجھ میں نہیں آئی کہ کسی طبقہ کو مچھی مار لکھنا، مریادہ کے دائرے میں نہیںآتا۔ اس کی جگہ پر وہ ماہی گیر سماج لکھ سکتے تھے۔ مچھی مار لفظ سے لوگوںکے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے اور یہ سیاسی نقطہ نظر سے بھی صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح صفحہ نمبر 203 کی چوتھی لائن میں کینسر کی چپیٹ میں لکھا گیا ، جبکہ اردو میںچپیٹ نہیںلکھا جاتاہے۔ چپیٹ کا صحیح متبادل لفظ زد ہے۔ صفحہ نمبر206 کی چوتھی لائن میںاضافی کمشنر رام مورتی لکھا گیا ہے۔ اضافی کمشنر ،ایڈیشنل کمشنر کے لیے لکھا گیا ہے۔ اردو زبان میںبھی ایڈیشنل کمشنر ہی لکھا جاتا ہے۔ اردو میںاضافی کا مطلب فالتو یا ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ صفحہ نمبر205 پر جو تصویر لگی ہے اس کے کیپشن میںصحافی کپل پاٹل مہاراشٹر اسمبلی کونسل میںاستاد ایم ایل اے لکھا گیا ہے۔ مترجم نے یہ نہیں سمجھا کہ اسمبلی الگ ہوتی ہے اور کونسل الگ ۔ اسمبلی کا ممبرایم ایل اے ہوتا ہے اور کونسل کا ممبرایم ایل سی۔ نقوی کہتے ہیںکہ کتاب کے اردو ترجمہ میںایسی غلطیاںبھری پڑی ہیں۔ اب دیکھیے کتاب کے صفحہ نمبر 215 کی پہلی لائن میںمترجم لکھتے ہیں کہ ریل مسافر کی پریشانیوں کے لیے تحریک شروع کی۔ سوال اٹھتا ہے کہ ریل مسافروں کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے آندولن شروع کیا یا پریشانیاں بڑھانے کے لیے؟ اسے کچھ یوںلکھا جانا چاہیے تھا ، پریشانیاں دور کرنے کے لیے تحریک شروع کی۔ صفحہ نمبر 215 کے تیسرے پیراگراف کی پہلی لائن میں لوک سبھا انتخاباتی حلقے لکھا ہے، جبکہ اسے لوک سبھا حلقہ انتخاب لکھنا چاہیے تھا۔ صفحہ نمبر 216 کی پانچویںلائن میںمانگ کی پُرزور کوشش بھی کی، جبکہ لکھنا چاہیے تھا، مانگ منوانے کے لیے پرزور کوشش بھی کی۔ اسی صفحہ کی نویںلائن میںجوش کے ساتھ پرزور استقبال کیا،لکھا ہے، جبکہ سمجھدار اردو مترجم لکھے گا جوش و خروش کے ساتھ زبردست استقبال کیا۔ صفحہ نمبر 218 کی ساتویںلائن میںانڈگرائونڈ ستیہ گراہی لکھا ہے،جبکہ اسے انڈرگراؤنڈ ستیہ گرہی لکھنا چاہیے تھا۔ صفحہ نمبر 226 کی ساتویںلائن میںلکھا ہے ،ہم میںایک ناگفتہ معاہدہ ہوگیا تھا۔ اردو کے جانکار بھی یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ ناگفتہ معاہدہ کیا ہوتا ہے؟ صفحہ نمبر234 کے دوسرے پیراگراف کا عنوان شعبہ پیڑولیم رکھاگیا ہے جبکہ اسے پیڑولیم محکمہ لکھناچاہیے تھا۔ صفحہ نمبر 235 کی تیسری لائن میںجن سنگھ کا تنظیم کار وزیر تھا ، لکھا گیا ہے۔ یہ تنظیم کار وزیر کیا ہوتا ہے؟ مترجم کو جن سنگھ کے سنگٹھن منتری کا اردو مطلب نہیںسمجھ میںآیا،اسے آرگنائزنگ سکریٹری یا تنظیمی سکریٹری لکھا جاسکتا تھا۔ صفحہ نمبر 278کی تیسری لائن میںانتخابی حلقوں کی تعمیر نو لکھا گیا ہے۔ قابل مترجم یہ نہیں جانتے کہ انتخابی حلقوں کی حد بندی ہوتی ہے، تعمیرنونہیں۔ اسے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی لکھنا چاہیے تھا۔ صفحہ نمبر 279 کی بارہویںلائن میںمحبت کاچوگا لکھا گیا ہے۔ یہ چوگا کیا ہوتا ہے؟ یہاںچونگا لکھنا چاہیے تھا۔
نقوی کہتے ہیںکہ ایسی بے شمار غلطیوں سے بھری پڑی کتاب سے گورنر کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اسے دوبارہ ترجمہ کرنے کے بارے میں گورنر کو سوچنا چاہیے۔ ایسے ترجمہ سے مترجم کی لاعلمی عام ہوجاتی ہے۔ گورنر کی کتاب کا ترجمہ کرانے کے لیے راج بھون سکریٹریٹ کو باقاعدہ جانچ پڑتال کرانی چاہیے تھی اور اردو کے جانکار کو یہ کام سونپا جانا چاہیے تھا لیکن راج بھون سکریٹریٹ نے یہ ذمہ داری نہیںنبھائی اور گورنر کو اندھیرے میںرکھا۔
گورنر کی کتاب کے اردو ایڈیشن میںشیعہ پی جی کالج کے سابق پرنسپل اور کانگریس لیڈر ڈاکٹر عمار رضوی نے پیش لفظ لکھا ہے۔ پیش لفظ میں انھوںنے کتاب کی تعریف میں کافی کچھ لکھا، لیکن کتاب کی غلطیوںپر ان کا دھیان کیوں نہیںگیا؟ یہ قابل غور سوال ہے۔ اسی طرح گورنر رام نائیک کو راج بھون سکریٹریٹ میںاردو ایڈیشن کے پبلشر کے بارے میںبھی پوری طرح اندھیرے میںرکھا۔ رام نائیک کی کتاب کے اردو ایڈیشن کے پبلشر سید اعجاز حیدر حسینی (منیجنگ ڈائریکٹر،گواِن برگ، انڈیا) اور ان کے بھائیوںپر لکھنؤ کے چوک کوتوالی میںچار ایف آئی آر درج ہیں۔ ان مقدموںسے بچنے کے لیے بھی راج بھون کے نام کا استعمال ہورہا ہے۔ گورنر کو اندھیرے میںرکھنے کے لیے راج بھون سکریٹریٹ کے اردو افسر اور انفارمیشن آفیسر بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *