’’بیگم جان‘‘طوائف کی زبانی تقسیم ہند کی کہانی

damiیہ فلم اُسی ظلم وستم کی بازگشت ہے، جو تقسیم کی لکیر کھینچے جانے کے بعد ہوئی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے، اس فلم میں یہ کہانی طوائف کی زبانی سنائی اوردکھائی گئی ہے۔

فلم کے مطابق،تقسیم کے وقت دو دھڑے واضح تھے، ایک وہ جنہیں یہ تقسیم عزیز تھی، دوسرے وہ جنہیں یہ فیصلہ قبول نہ تھا۔ اس فلم کا مرکزی خیال ایک سچے واقعے سے منسوب اُس دوسرے دھڑے سے تھا، جنہیں تقسیم قبول نہیں تھی۔ وہ جس سرزمین پر آباد تھے، وہی ان کی دوزخ اورجنت تھی، اس کشمکش سے نبرد آزما ایک طوائف کے ذریعے مظلوم طبقے کی برہنہ سچائی کو بیان کیا گیا ہے۔ اس فلم کو اسی رنگ میں لکھا اور فلمایا گیا ہے۔ جن کے نام، اس فلم کا انتساب ہے، وہ ہیں عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو۔
کہانی
فلم کے کہانی کار ’سرجیت مکھرجی‘ ہیں، جبکہ مکالمے کوثر منیر نے لکھے ہیں۔ فلم کی ابتدا دورِ حاضر کی برہنہ حقیقتوں سے شروع ہوکر تقسیم کے دور سے جاملتی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ اوراس تقسیم کے لیے انتظامی معاملات، بالخصوص سرکاری افسران کو سرحدوں کی تقسیم کا کام کرتے دکھایا گیا ہے۔
اسی تقسیم بندی کے کام میں ایک طوائف کا کوٹھا تقسیم کی لکیر میں رکاوٹ بنتا ہے، سرکار اس پر دباؤ ڈالتی ہے، وہ طوائف پھر دو قدم آگے بڑھ کر رانی جھانسی کی طرح جان لڑادیتی ہے، مگر اپنی جگہ نہیں چھوڑتی۔
طوائف کی آنکھ سے دیکھی ہوئی تقسیم کے دنوں کی کارگزاری ہی اس فلم کا مرکزی خیال ہے، مگر فلم کی کہانی پر مکمل طورسے عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے افسانوں کی چھاپ ہے، بلکہ یہ کہا جائے کہ کہانی میں کچھ نیا نہیں، ان دونوں کی کہانیوں کو ہی اسکرین پلے کی طرح دکھایا گیا ہے، توبے جانہ ہوگا۔ کوثر منیر نے اس کے مکالمے لکھے ہیں، ان کا گیت نگاری کا عمدہ پس منظر ہے، مگر اس فلم کے مکالموں میں ان کا ہنر کہیں دکھائی نہیں دیا، البتہ کہیں کرداروں کے استعارے میں کچھ معنی خیز اورتلخ حقائق بیان کیے گئے ہیں، جیسے کہ ایک ماسٹر جی کا کردار، جو کانگریس کے کارکن تھے اورطوائف کو محبت کے دام میں پھنسا کر نئے دامو ں پر فروخت کردیا۔
ہدایت کاری
وشیش فلمز پروڈکشن کے تحت یہ فلم بنی ہے۔ مکیش بھٹ اس کے فلم ساز ہیں۔ اس موضوع پر فلم بنانے کے مقام سے لے کر، حویلی کے حوالے سے، کہانی کو فلمانے کی بہترکوشش کی گئی۔ کاسٹیوم، ایڈیٹنگ، سینما فوٹوگرافی اور دیگر پہلوؤں سے فلم بہتر رہی، اس موضوع پر مزید بہتر طریقے سے کہانی کو فلمایا جاسکتا تھا، مگر شاید ہدایت کار نے روایتی طریقے کو اپناتے ہوئے لگے بندھے اصولوں کے تحت فلم کو بنایا، طوائف کے کردار میں جان ڈالنے کے لیے، اس کے جسم کے علاوہ بھی کئی زاویے ہوتے ہیں، جن پر ہدایت کار کی توجہ نہیں گئی۔ صداکاری کے لیے امیتابھ بچن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
مجموعی حیثیت میں فلم اچھا تاثر چھوڑتی ہے، شاید اس کی ایک وجہ اس موضوع کی حساسیت اور ہمارا ناسٹیلجیا بھی ہے، اس کمزوری سے بھٹ برادران خوب واقف ہیں۔ ویسے بھی یہ فلم ایک بنگالی فلم ’راج کہانی‘ کا ری میک ہے۔ اس کے ہندی ورژن کے لیے بھی، اسی ہدایت کار ’سرجیت مکھرجی‘ کی خدمات حاصل کی گئیں، اس لیے فلم پر بنگالی سینما کا مقامی رنگ بھی غالب رہا۔
اداکاری
فلم میں اداکاری کاشعبہ کمزور رہا، بالخصوص ودیا بالن کا کردار دیکھ کر لگتا تھا، یہ کچھ منفرد کردار کریں گی، مگر طوائف کا کردار نبھانے میں وہ ناکام دکھائی دیں، ان کی اداکاری میں اتارچڑھاؤ کے جھول بہت ہیں، جو بالکل اداکاری کے اصولوں کے خلاف غیر فطری محسوس ہوئے۔ دیگر اداکارائیں، جنہوں نے کوٹھے پر طوائفوں کا کردارادا کیا، وہ بھی آدھے ادھورے تھے، البتہ سرکاری افسران کے کردار نبھانے والے دونوں اداکاروں نے اپنے کام سے خوب انصاف کیا۔ کوٹھے پر طوائف کے معاون و مددگار کے طورپر دو اداکاروں نے بھی اپنے فن کا خوب مظاہرہ کیا۔ چھوٹی بچی کا کردار نبھانے والی ننھی فنکارہ کی اداکاری بھی اپنے لحاظ سے خوب رہی۔ نصیرالدین شاہ جیسے بڑے اداکار کی اتنے چھوٹے کردار میں ضرورت تھی نہ ہی گنجائش۔
موسیقی
فلم کی موسیقی میں گلوکاروں کے ناموں کی فہرست بہت طویل ہے، ان میں آشا بھوسلے، راحت فتح علی خاں، سونو نگم، کلدیپ پٹوری، التمش فریدی، شیریا گھوشل، کویتا سیٹھ اورارجیت سنگھ وغیرہ ہیں۔ ان سب نے اپنی اپنی جگہ خوب نبھایا ہے۔ اس فلم کے دو موسیقار انو ملک اور خیام ہیں، وہ اپنا کام بخوبی کرنے میں کامیاب رہے، صرف ایک ناانصافی کی، ساحر لدھیانوی کی مشہور زمانہ نظم ’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘ کی شاعری کے پہلے مصرعے کو، جو نظم اور گیت دونوں میں مرکزی تھا، اس کو بدل دیا۔ یہ کوئی پیشہ ورانہ طور پر اچھی بات نہیں ہے۔1958 میں بننے والی ہندوستانی فلم ’پھر صبح ہوگی‘ میں اس نظم کو مکمل طور سے شامل کیا گیا تھا، اس وقت مکیش اورآشاپھوسلے نے اس گیت کو گایا تھا۔ اس کے علاوہ، موسیقی کے اس شعبے سے، دوگیت ’پریم میں تورے‘ اور ’اورے کہارو‘ حاصل سماعت گیت ہیں۔
نتیجہ
یہ موضوع ایسا ہے، جس پر کوئی بھی کہانی پڑھتے اور فلم دیکھتے دل قابو میں نہیں رہتا، عقل ساتھ نہیں دیتی، دل پر گھونسے پڑتے ہیں، ایک ناسٹیلجیا ہے، جس سے باہر آنے میں کئی نسلیں گزر جائیں گی۔ اس لیے یہ فلم بھی اسی کیفیت کا بیان ہے، فرق اتنا ہے، بھٹ برادران نے اس میں کمرشل پہلو کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا، اس لیے عام فلم بینوں کے لیے فلم سازی اوراداکاری میں کچھ نہ بھی دیکھنے کو ملا، مگر موسیقی اور کہانی دل میں بیٹھ جائے گی۔ یہی پہلو اس فلم کی کامیابی کی وجہ بنے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *