بہار سیاحت کو کیش نہیں کرپارہا ہے

بہار میںسیاحت کے لامحدود امکانات ہیں۔ یہاںملکی و غیر ملکی سیاحوںکو متوجہ کرنے کے لیے درجنوں قدرتی، تاریخی، مذہبی سیاحتی مقامات ہیں۔ ان مقامات کو دیکھنے کے لیے ہر سال ملک کے مختلف علاقوں کے علاوہ بڑی تعداد میںغیر ملکی سیاح بھی بہار آتے ہیں۔ لیکن ان سیاحوںکو دو چار دن یہاں ٹھہرنے کے لیے بھی بہار کا محکمہ سیاحت کوئی انتظام نہیں کرسکا ہے جبکہ بہار میں یونیسکو نے دو مقامات بودھ گیا میں واقع مہا بودھی مندر اور نالندہ میں واقع قدیم نالندہ یونیوسٹی کے کھنڈر کو ورلڈ ہیریٹج ڈکلیئر کررکھا ہے۔
اگر بہار میں سیاحتی مقامات کو ڈیولپ کرکے سیاحوں کو متوجہ کرنے کا بندوبست کیا جائے تو یہاںکی معیشت مضبوط ہوسکتی ہے۔ بہار کے بودھ سرکٹ کے تحت سب سے زیادہ ملکی و غیر ملکی سیاح بودھ گیا آتے ہیں لیکن بہار کا محکمہ سیاحت یا ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن بودھ سرکٹ کو فروغ دینے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ بودھ گیا میںمختلف منصوبے بھی ٹورزم ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ شروع کیے گئے ہیں۔ اس پر کروڑوں روپے خرچ بھی کیے گئے لیکن سیاحوںکو خاص فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔
کئی منصوبے آج بھی ادھورے پڑے ہیں۔ بودھ گیا میںواقع بہار اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ہوٹلوںکی بھی حالت بہت خراب ہے۔ گیا – بودھ گیا کے علاوہ بہار کے مختلف سیاحتی مقامات پر لگژری بس چلانے کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے میں کارپویشن نے چار بسیںخریدی تھیں۔ وہ سبھی بسیںپٹنہ کے کارپوریشن ہیڈ کوارٹر میں زنگ کھا رہی ہیں۔ یہ بسیں بودھ گیا -پٹنہ- گیا-کولکاتہ-گیاو کولکاتہ -بودھ گیا- پٹنہ روٹ پر چلنی تھیں۔ اس کے لیے بہار اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے فی بس پندرہ ہزار روپے ماہانہ کی شرح سے پی پی پی ماڈل پر آپریٹنگ کے لیے جولائی 2011 میںٹینڈر نکالا تھا۔ مئی 2012میں ورک آرڈرا ور لائسنس بھی جاری کیا گیا۔ اس کے بعد بھی بسیںنہیںچلیںکیونکہ ٹیندر لینے والوںکا ایگریمنٹ ہی نہیں ہوا۔
اسٹیٹ ٹورزم کارپوریشن کے بودھ گیا کے ہوٹل تتھاگت بہار میں45 کمرووں کے لیے تین اٹنڈنٹ ہیں جبکہ معیاری تعداد چار کمروں پر دو اٹینڈنٹ کی ہے۔ اسی ہوٹل کے احاطے میںٹورسٹ کمپلیکس کے 13 کمرے اور 75 ڈور میٹری بیڈ کے لیے محض پانچ اٹنڈنٹ ہیں۔ یہاں کوئی باقاعدہ ہاؤس کیپر بھی نہیں ہے۔ اسی طرح کارپوریشن نے بودھ گیا میںواقع اپنے ہوٹل بدھ وہار کو اسٹار ہوٹل کے درجہ میں لانے کے لیے 2006 میں توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے تحت اضافی کمروں کی تعمیر کے لیے 6.21 کروڑ کی رقم خرچ کرکے اس کام کو دسمبر 2013 میںپورا کرنا تھالیکن ابھی تک یہ کام پورا نہیں ہوسکا ہے۔ اسی طرح بودھ گیا آنے والے سیاحوں کومتوجہ کرنے کے لیے ٹورسٹ کمپلیکس میں 1.49 کروڑ کی رقم سے سوئمنگ پل بنانے کا منصوبہ 2008-09 میں شروع ہوا تھا۔ اسے جون 2011 میں پورا ہونا تھا لیکن آج تک یہ کام پورا نہیں ہوسکا ہے۔ بودھ گیا کے مایا سروور (جھیل) کیمپس کا ڈیولپمنٹ وزارت سیاحت کی پہل پر ڈیڑھ کروڑ کی لاگت میںہوا۔ اس میںبوٹنگ کی سہولت کے ساتھجھیل، باغ اور اوپن اسکائی تھیٹر کی بھی سہولت ہے۔ بوٹنگ کے لیے ٹورزم کارپوریشن نے 2007 میں سالانہ 10، 20،30اور 40 فیصد اضافی شرح سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں پانچ سال کے لیے اس جھیل کو لیز پر دیا۔ 2012 کے بعد لیز کی تجدید نہیںہوئی۔ اس سے کارپوریشن کو سالانہ دو لاکھ روپے کا نقصان ہوا اور 1.70 لاکھ روپے میں خریدی گئیںناؤ بھی برباد ہوگئیں۔ ٹورزم کارپوریشن کی لاپرواہی کے سبب بہت دنوںتک مایا سروور احاطہ میںلیزر شو نہیں ہوسکا۔ 2015 میں یہ سہولت دی گئی تھی۔ حال میںاس لیزر شو کو کسی طرح سے چلایا جا رہا ہے۔
ان ساری باتوںپر ہندوستان کے کنٹرولر آڈیٹر جنرل نے 2015 میں اپنی رپورٹ میںسخت تبصرہ کیا تھا۔ اس کے بعد بھی بہار ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن یا ٹورزم ڈپارٹمنٹ سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو بہتر سہولت دینے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔ واضح ہو کہ کبھی گوا کے بعد ملک میںسب سے زیادہ غیر ملکی سیاح بودھ گیا آتے تھے۔ لیکن گزشتہ دو تین سالوںمیں جھارکھنڈ میںبہار سے زیادہ غیر ملکی سیاحوںکا آنا شروع ہوگیا ہے۔
بہار میںمگدھ ہی ایسا علاقہ ہے جہاں تاریخی ، مذہبی اور قدرتی سیاحتی مقامات ہیں۔ نالندہ، راجگیر، پاواپوری، گیا ، نوادہ، اورنگ آباد میںزیادہ تر مذہبی تاریخی سیاحتی مقامات ہیں۔دنیا بھر سے ہندو، جین، سکھ، مسلمان عقیدت مند ان مقامات کو دیکھنے کے لیے ہر سال بڑی تعداد میںیہاںآتے ہیں۔ نوادہ کے کاکولت جھرنے کو تو بہار کا کشمیر تک کہا جاتا ہے۔ گرمی کے دنوںمیںیہاں بڑی تعداد میں سیاح قدرتی مناظرکا لطف لینے، جھرنے میں غسل کرنے آتے ہیں۔ لیکن ان سیاحوںکے لیے یہاں ٹھہرنے کا محکمہ سیاحت نے کوئی انتظام نہیںکیا ہے۔ اگر مگدھ کے سیاحتی مقامات پر سیاحوںکا قیام ہونے لگے تو معیشت کے لیے یہ ایک اہم بات ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *