بنگلہ دیش کے اردوداں مسلمانوں کا امپاورمنٹ کیسے؟

انسان دو صورتوں میں نقل مکانی کرتا ہے۔ ایک مجبوری میں اور دوسرے اپنی خوشی سے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت بنگال، پنجاب اور بہار میں بھیانک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ کبھی ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے والوں کے بیچ خونی جنگ شرع ہو گئی۔ قتل و غارت کے ان واقعات میں لاکھوں لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ بہار اور مشرقی یوپی سے لاکھوں مسلمان مذہب کے نام پر بنے ملک مشرقی پاکستان گئے۔ 24 برسوں تک ان لوگوں کو یہاں کوئی پریشانی نہیں ہوئی،لیکن 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے بعد بنگالیوں کی نظروں میں بہاری مسلمانوں کی پہچان ایک غدار کی شکل میں ہونے لگی۔ اپنے ہی ملک میں ان کی حالت پناہ گزینوں جیسی ہو گئی ۔ 9 سال پہلے بنگلہ دیش ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں شہریت ملی، لیکن ان کی مشکلات اب بھی برقرار ہیں۔
دراصل بنگلہ دیش میں رہنے والے اور اردو زبان بولنے والے بہاری مسلمان دہائیوں سے غیر مساوات کے شکار رہے ہیں۔ حالانکہ حالات اب پہلے سے کچھ بہتر ہیں، لیکن ملک کی انتخابی پالیسی اور سرکاری نوکریوں میں ان کی حصہ داری اب بھی صفر ہے۔ ان لوگوں کو بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کا حامی مانا جاتاہے۔ بنگلہ دیش میں انہیں اس لئے بھی حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتاہے، کیونکہ یہ لوگ اپنے ملک کی تقسیم کے خلاف تھے اور انہوں نے 1971 کی آزادی کی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ راجدھانی ڈھاکہ میں بہاری مسلمانوں کی کل آبادی 1,25,000 ہزار ہے ۔جبکہ پورے بنگلہ دیش میں ان کی تعداد 7,50000 ہے۔1947 کی ہندوستان تقسیم کے وقت تقریباً 14 لاکھ اردو بولنے والے مسلمان مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش ) گئے تھے۔ وہاں جانے والوں میں زیادہ تر بہار اور مشرقی اتر پردیش کے مسلمان تھے۔ حالانکہ ان میں کافی لوگ کچھ ہی دنوں بعد واپس لوٹ آئے تھے ،کیونکہ وہاں کے کلچر اور زبان انہیں راس نہیں آئی۔ ان میں سے تقریباً 1,70,000لوگ بعد میں پاکستان چلے گئے۔ سالوں انتظار کے بعد 10 جنوری 1993 میں بنگلہ دیش سے 325 لوگوں کا ایک وفد پاکستان کے شہر کراچی میں جاکر بس گیا۔ یہ سبھی لوگ یہ سوچ کر پاکستان گئے تھے کہ یہاں انہیں خوشنما زندگی ملے گی،لیکن وہاں ان کی زندگی مہاجروں سے بھی بد تر ہوگئی۔ ان لوگوں کو پاکستانی کھلے دل سے قبول نہیں کر رہے ہیں۔ واپس بنگلہ دیش جانہیں سکتے اور ہندوستان آنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ 70 19کی دہائی میں جنگ آزادی بنگلہ دیش کے دوران بہاری مسلمانوں نے پاکستان کی حمایت کی اور بنگلہ دیش بننے کے بعد امیر لوگ پاکستان چلے گئے۔ غریبوں کے لئے پاکستان جانا ممکن نہیں تھا، نتیجتاً وہ پناہ گزینوں کی مانند آج بھی بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں۔ بہاری مسلمانوں نے بھلے ہی پاکستان کی حمایت کی ہو، لیکن پاکستان نے کبھی بھی ان لوگوں کے تئیں ہمدردی نہیں دکھائی ۔
محمد پور کیمپ کی رہنے والی سیدہ سلطانہ بیگم بتاتی ہیں کہ میرے چچا مشتاق علی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ کراچی گئے، لیکن وہاں ان کی زندگی جہنم بن گئی ہے۔ یہ کہانی صرف ایک مشتاق کی نہیں ہے، بلکہ بنگلہ دیش سے پاکستان گئے ان تمام لوگوں کی ہے،جنہون نے وہاں رہنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔وہ جب بھی فون کرتے تھے، تو ایک ہی بات کہتے تھے کہ اس زندگی سے بہتر ہے کہ موت آجائے۔ جانے والوں نے سوچا تھا کہ وہاں انہیں بہتر زندگی ملے گی،لیکن ان کی حالت مہاجروں سے بھی بدتر ہو گئی۔ کراچی میں بھی ان کی زندگی بد سے بدتر ہے۔ پاکستان میں الطاف حسین کی قیادت والی متحدہ قومی موومنٹ کو چھوڑ کر دیگر سیاسی پارٹیوں کو بہاری مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ میر پور کیمپ میں رہنے والی ستارہ پروین ڈھاکہ میں گارمنٹیس فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ان کا خاندان بہار کے مونگیر سے ڈھاکہ آکر بسا تھا۔ بنگلہ دیش بسنے سے پہلے بہاری مسلمانوں کی حالت اچھی تھی لیکن بعد میں حالات خراب ہو گئے۔ بنگلہ دیش کے بنگالی مسلمان انہیں غدار سمجھتے ہیں،جبکہ یہ پوری سچائی نہیں ہے۔

 
ڈھاکہ میں بہاری مسلمانوں اور بنگالی مسلمانوں کے بیچ اکثر خونی لڑائی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی تہوار کے نام پر تو کبھی کلچر کے نام پر، ان واقعات میں اکثر کئی زندگیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔ نقصان اٹھانے والے زیادہ تر بہاری مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ 2014 کی بات کریں تو میر پور کیمپ میں ایک بہاری مسلمان خاندان کو گھر میں بند کر کے زندہ جلا دیا گیا۔ اس سانحہ میں 9 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ تنازع شب برأت کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے کو لے کر شروع ہوا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ صورت حال خونی لڑائی میں تبدیل ہو گئی ۔ سماجی کارکن زینب خاتون بتاتی ہیں کہ ڈھاکہ میں بہاری مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے صرف ایک بہانہ چاہئے۔ ان کے مطابق مقامی پولیس انتظامیہ کا رویہ بھی بہاری مسلمانوں کے تئیں مثبت نہیں ہے۔
بنگلہ دیش میں رہنے والے اور اردو زبان بولنے والے بہاری مسلمانوں کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ ملک میں کئی دہائیوں سے رہنے کے باوجود انہیں حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ سنی مسلمان ہونے کے باوجود اردو زبان بولنے والوں سے بنگالی مسلمان شادیاں نہیں کرتے۔ دراصل غیر بہاریمسلمانوں کی نظر میں بہاری مسلمان ملک کے غدار ہیں۔ اس لئے ان سے کسی طرح کا تعلق رکھنا وہ مناسب نہیں سمجھتے ۔ ا یرانی کیمپ میں رہنے والی روشن آرا بتاتی ہیں کہ نئی نسل کی سوچ میں تھوڑی تبدیلی ضرور آئی ہے، لیکن ایک دو شادیوں کو چھوڑ دیں تو بہاری مسلمانوں سے کوئی روٹی ،بیٹی کا رشتہ رکھنا نہیں چاہتا۔

 
اردو اسپیکنگ پیپلس یوتھ ریہابلٹیشن موومنٹ ( یو ایس پی یو آر ایم ) کے صدر صداقت خاں کئی برسوں سے اردو زبان بولنے والے مسلمانوں کے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ بہاری مسلمانوں کو شہریت اور ووٹنگ حق ملے ،اس بابت انہوں نے بنگلہ دیش ہائی کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن 10129/2007 صداقت خاں وغیرہ بنام بنگلہ دیش سرکار الیکشن کمیشن وغیرہ دائر کیا تھا۔ 2008 میں ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بہاری مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی شہریت اور ووٹنگ رائٹس دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کی پیدائش 1971 کے بعد ہوئی ہے، وہ سبھی بنگلہ دیشی شہری ہیں اور ملک کے وسائل پر ان کا مساوی حق ہے۔ اردو اسپیکنگ پیپلس یوتھ ریہابلیٹیشن موومنٹ کے صدر صداقت خاں نے کہاکہ’ بہاری مسلمانوں کے لئے عدالت کا یہ فیصلہ بے حد اہم ہے۔ بنگلہ دیش کی شہریت ملنے کے بعد پہلی بار 2009 کے انتخاب میں بہاری مسلمانوں نے ووٹ دیا تھا۔ ہماری لڑائی یہیں ختم نہیں ہوتی ، کیونکہ بہاری مسلمانوں سے جڑے کئی ایسے ایشوز ہیں جو بڑے اہم ہیں‘۔
1971 کی جنگ میں پاکستان کی ہار اور بنگلہ دیش بننے کے بعد بنگالیوں کا غصہ بہاری مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔لاکھوں بہاری مسلمانوں کو اپنے گھروں اور نوکریوں سے بے دخل ہونا پڑا۔ اس بے رحم حادثے کو یاد کرتے ہوئے اردو اسپیکنگ پیپلس یوتھ ریہابلیٹیشن موومنٹ کے جنرل سکریٹری شاہد علی ببلو بتاتے ہیں کہ نیا ملک بننے کے بعد بہاری مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لینے کا فرمان سنایا گیا۔ پولیس کی موجودگی میں لوگوں کو گھروں سے باہر ایک کھلے میدان میں بیٹھا دیا گیا۔ تلاشی کے نام پر بزرگوں اور عورتوں کے ساتھ غلط سلوک کیا گیا۔ گھروں میں لوٹ پاٹ بھی کی گئی اور ہم اپنے پختہ گھروں سے بے دخل ہوکر کھلے آسمان کے نیچے آ گئے۔ 1976 میں ریڈ کراس سوسائٹی کے تعاون سے ڈھاکہ میں بہاری مسلمانوں کے لئے کیمپ بنائے گئے۔ لیکن چار دہائی بعد بھی ہمیں کیمپوں میں رہنا پڑ رہا ہے۔ 1974 میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا تھا ۔اس کے تحت پاکستان اردو زبان بولنے والے ان بہاری مسلمانوں کو پاکستان میں بسانے پر متفق ہو گیا تھا لیکن 1,26000 لوگوں کو چھوڑ کر باقی لوگ آج بھی بنگلہ دیش میں ہی ہیں۔ شاہد علی ببلو کے مطابق اب پاکستان جانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے، کیونکہ وہاں موجود مہاجروں اور بنگلہ دیش سے گئے ہوئے لوگوں کی بد تر حالت کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اب ہمارا ملک یہی ہے اور یہیں کی مٹی میں دفن ہونا ہے۔

 
بنگلہ دیش میں جنگ آزادی کے دوران 10 لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔ تقریباً 2 لاکھ عورتوں کے ساتھ پاکستانی فوج اور رضاکاروں نے عصمت دری کی تھی۔ بہاری مسلمانوں میں زیاہ تر لوگ پاکستانی فوج کا ساتھ دے رہے تھے لیکن لاکھوں لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی جان بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے ۔ سماجی کارکن مسعود خان بتاتے ہیں کہ جب ’’مکتی واہینی‘‘ کی طرف سے بہاری مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا تھا ،اس وقت اپنی جان بچانے کے لئے ان لوگوں نے ہندوستانی فوج سے اپیل کی ۔چونکہ ہندوستانی فوج کو اردو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں تھی، اس لئے بہاری مسلمان اپنا درد بتانے میں کامیاب رہے۔ ہندوستانی فوج بھی اس بات سے واقف تھی کہ بنگلہ دیش کے سارے بہاری مسلمان پاکستان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اس لئے بے گناہوں کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو، اس کے لئے انہوں نے بہاری مسلمانوں کو تحفظ دے کر’’ مکتی واہینی‘‘ کے فائٹر سے بچایا۔ بہاری مسلمان کی ایک قابل ذکر تعداد اس کے لئے آج بھی ہندوستانی فوج کے شکر گزار ہے۔
بنگلہ دیش کے بہاری مسلمانوں کو پاکستان کا حامی مانا جاتاہے،لیکن کئی لوگ ان الزامات کو صحیح نہیں مانتے ہیں۔ اردو زبان بولنے والوں کے حق کے لئے جدو جہد کرنے والے سعادت خاں بتاتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ زیادہ تر بہاری مسلمان پاکستان کی تقسیم کے حق میں نہیں تھے لیکن کافی تعداد میں ویسے بہاری مسلمان بھی تھے جو’’ مکتی واہینی‘‘ میںشامل ہوکر پاکستانی فوج کا مقابلہ کررہے تھے۔ عام لوگوں کا نظریہ ہے کہ بہاری مسلمانوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا،لیکن کوئی یہ نہیں کہتاہے کہ بنگالیوں کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی تھاجو کہ مکتی واہینی کے خلاف تھا ۔ انہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا لیکن تہمت ہمارے اوپر لگایا جاتاہے۔ جنگی جرائم میں جن لوگوں کو پھانسی دی گئی ، ان میں ایک بھی بہاری مسلمان نہیں تھا اور وہ سبھی بنگالی مسلمان تھے۔ جماعت اسلامی کے صدر مطیع الرحمن نظامی بنگالی مسلمان تھے ،نہ کہ بہاری۔ اس کے باوجود ہمیں پاکستان پرست کہا جاتاہے۔

 
سید زبیر احمد میر پور میں اردو بولنے والے مسلمانوں کے لئے قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں ایک بڑے اجلاس کو خطاب کررہے تھے۔’’ مکتی واہینی‘‘ کی جدو جہد کے دوران جن بہاری مسلمانوں نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ ان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جو باتیں گزر گئیں، انہیں بھلا دینا چاہئے۔پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو انہوں نے عام معافی دینے کا اعلان کردیا ۔ شیخ مجیب نے کہا تھا کہ بہاری اور بنگالی دونوں اب بنگلہ دیشی ہیں اور پرانی باتوں کو یاد کرنے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔ اس لئے دونوں قوم ایک ساتھ مل کر بنگلہ دیش کی ترقی میں حصہ لیں۔ان کی اس اپیل سے بہاری مسلمانو ں کو کافی ہمت ملی اور انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہوا۔ بدقسمتی سے شیخ مجیب کا قتل ایسے وقت میں ہوا، جب بنگلہ دیش کے بہاری مسلمانوں کو ان کی ضرورت تھی۔ ان کے نہیں رہنے سے ہم بے سہارا ہوگئے، کوئی سرکار ہماری سننے والی نہیں تھی۔ نتیجتاً زندگی میں کوئی بدلائو نہیں آیا۔
بنگلہ دیش ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اردو بولنے والے بہاری مسلمانوں کو شہریت اور ووٹنگ کا حق بھلے ہی مل گیا ہو لیکن سیاست میں ان کی نمائندگی اب بھی صفر ہے۔ پورے بنگلہ دیش میں ساڑھے 7 لاکھ بہاری مسلمان ہیں لیکن ملک کی انتخابی تاریخ میں صرف ایک بہاری مسلمان کو رکن پارلیمنٹ بننے کا موقع ملا۔ سید پور کی نیلفا ماری سیٹ سے جاتیہ پارٹی کے امیدوار انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے۔ عموماً بہاری مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی یا پھر جماعت اسلامی کے حامی ہیں۔ اسے خارج کرتے ہوئے محمد شمشاد بتاتے ہیں کہ موجودہ وقت میں 50 فیصد بہاری مسلمان عوامی لیگ کے ساتھ ہیں اور 50 فیصد بی این پی کے ساتھ ہیں۔
جماعت اسلامی فرقہ پرست پارٹی ہے، اس لئے بہاری مسلمان اس کے ساتھ نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش سٹی میونسپل کارپوریشن میں کل 92 وارڈ ہیں لیکن ایک بھی بہاری مسلمان وارڈ کونسلر نہیں ہے۔ جبکہ ڈھاکہ کے کئی وارڈوںمیں اردو بولنے والے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ بہاری مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی شہریت ملے 9سال ہو گئے۔ پہلی مرتبہ 2009 کے نیشنل اسمبلی کے انتخابات میں انہوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *