بلقیس اور نربھیاکے معاملوں میں فرق کیوں؟

آج سماج کے مختلف طبقات میںعدلیہ کے ذریعہ انصاف کو لے کر جو چبھتا ہوا سوال پوچھا جارہا ہے،وہ یہ ہے کہ بلقیس بانو اور نربھیا کے معاملے میںآخر فرق کیوںبرتا گیا؟ دونوں کے معاملے عصمت دری کے تھے۔ بلقیس بانوکے معاملے میں4 مئی کو بمبئی ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے ذریعہ گیارہ افراد کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا جبکہ نربھیا کے معاملے میںدوسرے روز 5 مئی کو سپریم کورٹ نے ملزمین کی طرف سے سزا میںکمی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کی سنائی گئی پھانسی کی سزا پر مہر لگادی۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مجرموں نے نہ صرف سماجی اعتماد کا گلا گھونٹا بلکہ بربریت کی ساری حدیںپار کردیں۔ اس کے مطابق یہ سنگین جرم تھا جو کہ ’ریئریسٹ آف دی ریئر‘ یعنی انتہائی شاذو نادر ہے۔
عیاںرہے کہ واقعہ 3 مارچ 2002 کا ہے جو کہ گجرات فسادات کے دوران پیش آیا تھا۔ اس میںاگرچہ متاثرہ بلقیس بانو کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن جس وقت اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی، وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی اور اس کی تین برس کی معصوم بچی سمیت اس کے کنبے کے 14 افراد کا قتل ہوا تھا۔ بلقیس بانو کو مردہ سمجھ کر چھوڑ دیاگیا تھا۔ یہاںیہ سوال فطری طور پر ذہن میںاٹھتا ہے کہ اس دردناک واقعہ نے سماج کو اس طرح کیوںنہیںبے چین کردیا، جھنجھوڑا اور ہلایا جیسا کہ نربھیا کے معاملے میںدیکھا گیا جو کہ 16 دسمبر 2012 کا ہے اور جس میںاس کی موت ہوگئی تھی۔ جس طرح مجرموں نے نربھیا کو موت کے دہانے پر لے جاکر چھوڑا تاکہ وہ زندہ نہ بچ سکے، اسی طرح بلقیس بانو کو بھی مارنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی، لیکن وہ بچ گئی۔ نربھیا کو انصاف دلانے کے لیے انتطامیہ، پولیس اور ڈاکٹروںکے ساتھ ساتھ پورے ملک کے عوام تھے اور سبھوں نے اپنے طور پر کوشش کی کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے ،لیکن بلقیس بانو کے معاملے میںایسا قطعی نہیںہوا۔ ڈاکٹروںاور پولیس نے اس کی مدد نہیں کی بلکہ اس کی غلط رپورٹ بنادی اور اس کے ثبوتوںکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔
دونوںمعاملوںکی تفصیلات پر غور کرکے اندازہ ہوتا ہے کہ نربھیا کا مقدمہ لڑنے میںمتاثرین کو اتنی پریشانی نہیںہوئی جتنی بلقیس بانوکو ہوئی۔ جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں آیا،اس نے چھپتے چھپاتے ایک این جی او کی مدد سے اپنی زندگی گزاری۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اس کا معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا اورتب مقدمہ گجرات سے مہاراشٹر منتقل کیا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب جرم اور مجرمین کا مقصد یکساں، ملک ایک اور قانون ایک ،تو سزا میںفرق کا کھٹکنا فطری ہے۔ نربھیا معاملہ میںسپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی بلقیس بانوکے فیصلے پر سوالات کھڑے ہونے لگے اور انصاف کے دوہرے معیار کی بات اٹھائی جانے لگی۔ سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی پولت بیورو کی رکن برنداکارت نے عدلیہ کے دوہرے معیار پر سوال اٹھایا جس نے بلقیس بانو کے مجرمین کو سزائے موت دینے سے انکار کردیاتھا۔برنداکارت نے کہا کہ ’’اصولی طور پر میںسزائے موت کے خلاف ہوںمگر یہ ایسا سنگین اورگھناؤنا جرم تھا جس میںسخت ترین سزا کی ضرورت تھی۔ چونکہ ہمارے ملک کی عدلیہ کے پروسیس کی نوعیت فرق و امتیاز کی ہے،اس لیے میں سزائے موت کی مخالف ہوں۔ جو کچھ بلقیس بانوکے معاملہ میں ہوا،وہ ہم سب کے سامنے ہے۔‘‘ سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو کا ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے ردعمل تھا کہ بلقیس بانو کا مقدمہ’ ریئرسٹ آف دی ریئر‘کی کٹیگری میں آتا ہے اور اس میںمجرمین کو سزائے موت ملنی چاہیے۔ معروف صحافی راج دیپ ساردیسائی بول پڑے کہ نربھیا کے قاتلوںکو سزائے موت ملی مگر وہ افراد جنھوںنے بلقیس بانو کا گینگ ریپ کیا، اس کے معصوم بچے کا قتل کیا، کو سزائے عمر قید دی گئی۔ بہرحال قانون تو سپریم ہے! ’جنتا کا رپورٹر‘ کے رفعت جاوید نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ ’’نربھیا کا گینگ ریپ ہو تو سزائے موت جبکہ بلقیس بانو کا گینگ ریپ ہو، تین برس کا بچہ او رکنبہ کے 14 افراد ہلاک کیے گئے، تو یہ ریئریسٹ آف دی ریئر‘ جرم نہیںگردانا گیا۔‘‘ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کی صاحبزادی اور کانگریس کی لیڈر شرمشٹھا مکھرجی کا ٹویٹ بھی اس ضمن میںقابل ذکر ہے۔ انھوںنے اظہار خیال کیاکہ ’’بالآخر نربھیا کے مقدمہ میںانصاف ہوگیا مگر بلقیس بانو کے بارے میںکیا کہا جائے؟ ہم لوگوںکو ان شیطانوں کے لیے سخت ترین سزا کی غرض سے قانونی لڑائی لڑنی چاہیے جنھوںنییہ گینگ ریپ کیا اور اس کے بچے کو قتل کیا۔‘‘ مشہور وکیل ریبیکا جان نے کہا کہ ’’میںسزائے موت کی تائید نہیںکرتا ہوں مگر میںاسے ایک مثال کے طور پر یہ کہنے کے لیے استعمال کررہی ہوں کہ جب سزا سنانے کا وقت آتا ہے تو عدلیہ کے پاس یکساں معیار نہیںہوتا ہے۔ یہ کچھ لوگوںکو تو سزائے موت دے دیتی ہے مگر دوسرے کچھ لوگوں کو نہیںدیتی ہے۔‘‘ ایک دوسرے ممتاز وکیل محمود پراچہ نے بھی دونوںمعاملوںکا موازنہ کرتے ہوئے اس فرق کو دوہرا معیار بتایا۔ انھوںنے اس ہفتہ وار سے کہا کہ ’’بلقیس بانوکا مقدمہ ایک ریئریسٹ آف دی ریئر‘ مقدمہ سے کسی صورت میںکم نہیںتھا۔ میںنہیںجانتا کہ کسی جج کے ذہن میںکیا تھا؟ مجموعی طور پر موجودہ تناظر میںیہ سب کچھ لوگوںکے ذہنوں میںشبہات پیدا کرتا ہے۔‘‘ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کا بھی برجستہ یہی کہنا تھا کہ ’’بلقیس بانوایک ایسا معاملہ تھا جس میںملک کے اجتماعی ضمیر کو اس بات پر مطمئن ہونا تھا کہ تمام مجرمین کو سزائے موت ملنی چاہیے۔‘‘
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماہرین قانون، وکلائ، دانشور، سیاست داں یا عام آدمی ، سماج کے سبھی لوگ، ان دونوںمعاملوں میںصاف طور پر فرق اور امتیاز دیکھ رہے ہیں اور بے چین ہیں۔ ایک روز بعد نربھیا معاملہ میںسپریم کورٹ کے فیصلہ کے آنے کے بعد بلقیس بانو اور اس کے شوہر کا یہ سوال بھی ہرایک شخص کو بے چین کردیتا ہے کہ اس کے معاملہ میںمجرموں کو پھانسی کی سزا کیوںنہیں ہوسکتی ہے؟ ان دونوںکا یہ سوال حق و انصاف چاہنے والے ہر شخص کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور وہ پھر عدلیہ کی طرف ہی نظر اٹھاکر دیکھتا ہے۔
بہرحال بلقیس بانو نے قانونی ماہرین سے بات چیت کرنے اور اپنے معاملے کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی بات کہی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے معاملے میںنربھیا معاملہ کی طرح مجرموں کو ویسی ہی سزا دلوانے کی درخواست سپریم کورٹ سے کریں گی۔ نربھیا معاملے میںسپریم کورٹ کا فیصلہ صحیح وقت پر آیا ہے اور بلقیس بانو مقدمہ بالکل فٹ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ صرف ایک روز قبل آیا تھا۔ دونوں معاملوں میںٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹوںسے جو فیصلے سنائے گئے ،وہ الگ الگ کیوںہیں؟ چونکہ سپریم کورٹ میںابھی صرف نربھیامقدمہ گیا اور اسی کا فیصلہ آیا،وہ ہر جگہ اور ہر معاملے میںنظیر تو بنے گا لیکن کیا بلقیس بانومقدمہ میںبھی مستقبل میںایسا ہی ہوگا،یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ جو لوگ ایک روز کے فرق سے بلقیس بانواور نربھیا کے مقدمات میںآئے فیصلوںکو بنیاد بناکر سوالات کھڑے کررہے ہیں،ان کی باتوںمیںوزن تو محسوس ہوتا ہے۔ اس میںکوئی شبہ نہیں ہے کہ ایسے جرائم میںسزائے موت سے کم سزا نہیںہونی چاہیے۔
بلقیس بانو
’’میںانتقام نہیں،انصاف چاہتی ہوں‘‘
بلقیس بانواپنے شوہر یعقوب اور بیٹی کے ساتھ بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے چار دنوں اور نربھیا مقدمہ کے فیصلہ کے تین دنوں کے بعد دہلی میںتھیں۔ اس موقع پر 8 مئی کو ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے بلقیس بانو نے جو اظہار خیال کیا، اس کا خلاصہ نذر قارئین کیا جارہا ہے۔
گزشتہ 15 برس کے دوران انصاف کی جدوجہد میںہم ویگا باؤنڈس کی زندگی گزارتے رہے۔ہم لوگوں نے خوف کے سبب اس دوران کم از کم 20 سے 25 مکان تبدیل کیے۔ جبکہ دوسری طرف 2008 میںٹرائل کورٹ سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد ملزمین پیرول پر متعدد بار جیل سے باہر آئے۔جب جب وہ لوگ (ملزمین) پیرول پر باہر آئے، انھوںنے میٹنگیں کیں اور ہم لوگوں کو دھمکی دی۔ ہمیںپولیس سے کوئی امید نہیںتھی۔ ہمیںخوشی ہے کہ ہائی کورٹ نے مجرم پولیس اہلکاروں کو بھی سزا سنائی ہے۔میںانتقام نہیں،انصاف چاہتی ہوں۔ میںچاہتی ہوںکہ میری بچیاں محفوظ ہندوستان میںبڑی ہوں۔ میںاپنی بچیوںکو اچھی تعلیم و تربیت دیناچاہتی ہوں۔ پندرہ برس کا میرا اور میرے خاندان کا جو تجربہ رہا ہے،اس کی بنیاد پر میری بڑی بیٹی اب ایک وکیل بننا چاہتی ہے۔ حالانکہ انصاف کے لیے ہمارا سفر لمبا رہا،مگر ہندوستانی عدلیہ میںہمارا اعتماد پھر سے بحال ہوا ہے۔ ہم لوگ اب کسی حد تک اطمینان محسوس کررہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ اسی طرح مختلف ریپوں میںبچے ہوئے تمام افراد کو انصاف ملتا رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *