آزادی کے وقت گوکھلے ہوتے تو ملک تقسیم نہیں ہوتا ہندو مسلم اتحاد کے چمپئن گوکھلے

Untitled-1(9 مئی 19-1866فروری 1915)
تحریک آزادی کے رہنمائوں میںسے ایک گوپال کرشن گوکھلے انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر لیڈر تھے۔ مؤرخ این این کمار کہتے ہیںکہ زیادہ تر لوگ گوکھلے کو صرف گاندھی کے ہی سیاسی گرو کے طور پر جانتے ہیں لیکن وہ صرف بابائے قوم کے نہیں بلکہ جناح کے بھی سیاسی گرو تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر آزادی کے وقت گوکھلے ہوتے تو شاید جناح ملک کے بٹوارے کی بات رکھنے کی ہمت ہی نہیں کرپاتے۔وہ زندگی بھرہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ جناح ان کابڑا احترام کرتے تھے۔ یہ بات الگ ہے کہ بعد میں جناح ہی ملک کے بٹوارے کا سبب بنے اور انھوںنے اپنے سیاسی گرو کی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔
کبھی مہاتما گاندھی نے یہ الفاظ گوپال کرشن گوکھلے کے لیے کہے تھے، مجھے ہندوستان میںایک مکمل ایماندار مثالی شخص کی تلاش تھی اور وہ مثالی شخص مجھے گوکھلے کے روپ میںملا۔ ان کے دل میںہندوستان کے تئیںسچی محبت اور حقیقی عقیدت تھی۔ وہ ملک کی خدمت کرنے کے لیے اپنی سار ی خوشیوں اور مفاد سے دور رہے۔ایک بار گوکھلے نے گاندھی سے کہا تھا کہ اگر ملک کو سمجھناہے تو اس کے قریب جاؤ۔ پورے ملک کو دیکھو،سمجھو، تب اپنی حکمت عملی بناؤ۔ گاندھی نے یہ بات مرتے دم تک یاد رکھی۔
مثالی ابتدائی زندگی
کہتے ہیں ، ایک بار ایک امیر شخص گوکھلے جی سے ملنے پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ گوکھلے اپنا پھٹا ہوا کرتا سی رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اس نے پوچھا کہ آپ جیسا عظیم شخص کپڑے سینے میںاپنا قیمتی وقت کیوںبربادکررہا ہے؟ اس پر گوکھلے جی نے کہا، میںنے اپنی پوری کمائی ملک کی خدمت میںلگانے کا عہد کیا ہے۔ سندر کپڑے پہن کر کوئی عظیم نہیںبنتا ہے۔ آدمی کے اعمال ہی اسے عظیم بناتے ہیں کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیںہوتا۔ یہ الفاظ سن کر وہ شخص گوکھلے کے آگے جھک گیا۔
گوکھلے کی پیدائش 9 مئی 1866 کو مہاراشٹر کے رتنا گیری ضلع میں کوتلوک میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کرشن راؤ گوکھلے ایک کسان تھے۔ کاشت کاری سے خاندان کا پیٹ بھرنے میںناکام ہونے پر وہ کلرک کا کام کرنے لگے۔ ان کی والدہ ستیہ بھاما ایک گھریلو خاتون تھیں۔ والد کی بے وقت موت ہونے کے بعد گوکھلے کو تعلیم حاصل کرنے میںکافی دشواریاںپیش آئیں۔ ان کے بڑے بھائی گووند کو 15 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، جس میں سے 8 روپے وہ ہر ماہ گوکھلے کی پڑھائی کے لیے بھیج دیتے تھے۔ کئی بار ایسا بھی موقع آیا جب انھیںبھوکے رہ کر اور سڑک کی بتی کے نیچے بیٹھ کر پڑھائی کرنی پڑی۔
اسکول کے دنوںکا ایک واقعہ ہے۔ ایک بار اسکول میں استاد بچوںسے ریاضی کے سول حل کرارہے تھے۔ ایک سوال کچھ زیادہ مشکل تھا، جسے صرف ایک طالب علم حل کرسکا۔ استاد نے خوش ہوکر اس کی تعریف کی اور اسے انعام بھی دیا۔ دوسرے دن وہی بچہ روتا ہوا کلاس میںآیا اور انعام کو واپس کرکے معافی مانگنے لگا۔ طالب علم نے بتایا کہ اس نے وہ سوال کسی دوسرے سے پوچھ کر لکھا تھا۔ اس طرح ایک طرف نقل کرنا اور دوسری طرف انعام حاصل کرنا، اس دوہرے جرم سے بچہ انتہائی پریشان تھا۔ گھر پر بھی وہ رات بھر سویا نہیںبلکہ روتا رہا تھا۔ اس کی ایمانداری سے خوش ہوکر استاد بہت خوش ہوئے اور اس سے بھی بڑا انعام دیا۔ وہ بچہ بڑا ہوکر جسٹس گوپال کرشن گوکھلے کہلایا۔
ہندوستان کاگولڈ اسٹون
گوپال کرشن اس وقت کسی بھی ہندوستانی کے ذریعہ پہلی بار کالج کی تعلیم حاصل کرنے والے لوگوںمیں سے ایک تھے۔ انھیں انگریزی زبان کا اچھا علم تھا۔ تاریخ اور معاشیات کے علم اور اس کی سمجھ نے انھیںآزادی، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو سمجھنے اور اس کی اہمیت کو جاننے میں مدد کی۔ گوکھلے پر تعلیم حاصل کرنے کے دوران مغربی دانشوروں کے خیالات کا بہت اثر پڑا۔ وہ برٹش سامراجوادی پالیسیوں کے مخالف تھے لیکن مغربی مفکر جان اسٹورٹ مل اور ایڈمڈ بُرکے کے نظریہ کو اہمیت بھی دیتے تھے۔ مالیاتی معاملات کی منفرد سمجھ اور اس پر جائز طور پر بحث کرنے کی صلاحیت سے انھیںہندوستان کا گولڈ اسٹون کہا جاتا ہے۔گوکھلے ایک ایسا نام تھے، جس کی انگریز بھی بڑی عزت کرتے تھے۔ گوکھلے ایک ایسے روایتی اور دانشور تھے، جن کے بارے میںخود اس وقت کے ہندوستانی کمانڈر اِن چیف کچنر نے کہا تھا، گوکھلے نے اگر کوئی انگریزی کتاب نہیںپڑھی ہے، تب وہ یقینی طور پر پڑھنے کے لائق نہیں ہوگی۔
جب بگھی کے آگے خود جُت گئے طلبہ
گریجویشن کی پڑھائی کے بعد وہ روزی روٹی کے لیے پونہ کے نیو انگلش اسکول میں پڑھانے لگے۔ گوکھلے نے 20 سال تک ٹیچر کے طور پر کام کیا۔ اس دوران انھوںنے ریاضی، معاشیات اور تاریخ جیسے سبھی سبجکٹس پڑھائے۔ان میںان سبھی سبجکٹس کو یکساںطور پر پڑھانے کی مہارت حاصل تھی۔ اس وجہ سے انھیں پیدائشی لیکچرر کہا جاتا تھا۔ گوکھلے کے افکار کی علی گڑھ کے طلبہ پر گہری چھاپ تھی۔ ایک بار جب گوکھلے وہاںتقریر کرنے پہنچے تو وہاں طلبہ نے ان کی بگھی کے گھوڑے ہٹادیے اور طلبہ خود بگھی میںجت گئے۔ وہ بگھی کھینچتے ہوئے گوکھلے زندہ باد، ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگے اور انھیںلیکچر کے مقام تک لے گئے۔ ان کے ایک دوست پٹوردھن قانون کے طالب علم تھے۔ وہ ان سے برابر وکالت کا پیشہ اپنانے کا اصرار کرتے تھے۔ ایک بار گوکھلے نے ان سے کہا، تم مالامال ہوجاؤ اور گاڑیوںمیں گھومو۔ میںنے تو زندگی میںایک عام مسافر کی طرح چلنے کا تہیہ کیا ہے۔
درس و تدریس کے طور پر گوکھلے کی کامیابی سے متاثر ہوکر بال گنگا دھر تلک نے انھیں ممبئی میں واقع ڈیکن ایجوکیشن سوسائٹی میںشامل ہونے کے لیے مدعو کیا۔ گوکھلے 1866میںاس سوسائٹی کے مستقل ممبر بن گئے۔ انھوںنے انگریزی حکومت کے ماتحت موضوع پر کولہا پور میںاپنی پہلی تقریر کی۔ اظہاررائے اور زبان کی روانی کے سبب اس تقریر کا زور دار استقبال ہوا۔ گوکھلے لوگوں میں قومیت کا احساس جگانے کے لیے تعلیم کو ضروری مانتے تھے۔ ان کا مانناتھا کہ تعلیم ہی قوم کومنظم کرسکتی ہے۔ گوکھلے 1898 سے 1906 کے بیچ پونہ میونسپلٹی کے ممبر اور بعد میںصدر بھی رہے۔ لوگ اپنے مسائل لے کر ان سے ملنے آتے اور سبھی مسائل کو عملی طریقہ سے سلجھاتے۔
بہترین گائیڈ و رہنما
غریبوں کی حالت میںسدھار کے لیے 1905 میں گوکھلے نے سروینٹس آف انڈیا سوسائٹی قائم کی۔ یہ ادارہ آدیواسیوں، سیلاب و قحط سالی سے متاثرین کی مدد، عورتوںکی تعلیم اور حب الوطنی کا احساس جگانے کا کام کرتا تھا۔ جلدی ہی یہ ادارہ سماجی خدمت کرنے کے شوقین نوجوان، جوشیلے اور بے لوث کارکنوں کی تربیت گاہ بن گیا۔ کارکنوںپر گوکھلے کا انتہائی گہرا اثر تھا، جسے دیکھ کر کسی نے کہا تھا ،صرف ایک گوکھلے سے ہی ہماری روح کانپتی ہے۔ اس کے جیسے بیسیوں بن رہے ہیں، اب ہم کیا کریںگے؟ انگریزوں کے ظلم و ستم پر ہندوستانیوںسے سے ایک بار انھوںنے کہا تھا ، لعنت ہے تم پر جو اپنی ماں بہن پرہورہے مظالم کو چپی سادھ کردیکھ رہے ہو۔اتنا تو جانور بھی نہیںسہتے ہیں۔
بعد میںگوکھلے فرگیوسن کالج کے بانی ممبروںمیںشامل ہوئے،فرگیوسن کالج میں ہی گوکھلے،مہادیو گووند راناڈے کے رابطہ میںآئے۔راناڈے ایک جج، دانشور اور سماجی مصلح تھے،جنھیںگوکھلے نے اپنا گروبنالیا۔راناڈے نے انھیںعوامی زندگی کے شعبہ میںپندرہ سال تک تربیت دی او رایمانداری، عوامی کاموں کے تئیں لگن اوررواداری کا سبق سنایا۔
سال 1892 میں گوکھلے نے فرگیوسن کالج چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ دہلی میںامپیریل ودھان پریشد کے ممبر بنے۔ گوکھلے کو ملک کے اقتصادی مسائل کی گہری سمجھ تھی، جسے وہ بحث کے دوران کافی چالاکی سے پیش کرتے تھے ۔ سن 1905 میں گوکھلے کانگریس کے نمائندے کے طور پر لالہ لاجپت رائے کے ساتھ انگلینڈ گئے۔ انھوںنے برٹش سیاستدانوںاور عوام کے سامنے ہندوستان کی صحیح تصویر پیش کی۔ وہاں49 دنوںکے قیام کے دوران انھوںنے تقریباً 47مقامات پر مختلف سبھاؤںکو خطاب کیا۔ ان کی تقریروںکے سبب انگریز بھی ان کے مداح بن گئے۔ گوکھلے نے ہندوستان میںسوراج یا سیلف گورنمنٹ پانے کے لیے مستقل اصلاح کی وکالت کی۔ انھوںنے 1909 کے مارلے منٹو سدھاروںکی پیشکش میں اہم کردار نبھایا، جو آخیر میںایک قانون بن گیا۔ گوکھلے کے انگریزوںکے ساتھ بھی قریبی رشتے تھے۔ انھوںنے انگریزوں سے کہا کہ وہ ہندوستان کے انتظامیہ میں اور زیادہ ہندوستانیوںکو شامل کریں۔
گاندھی جی کہتے تھے ، گوکھلے اس گنگا کا ماڈل ہیں جو اپنے دل کے مقام پر سب کو مدعو کرتی رہتی ہے اور جس پر ناؤ کھینے پر اسے خوشی کا احساس ہوتاہے۔ گاندھی جی نے گوکھلے سے سوراج حاصل کرنے کا طریقہ سیکھا۔ گوکھلے بھی گاندھی جی کی سادگی اور استقامت سے بہت متاثر ہوئے اور انھیںبڑے بھائی کی طرح عزت دینے لگے۔
جنوبی افریقہ میںرہنے والے ہندوستانیوںکے تئیںگوکھلے کو انتہائی ہمدردی تھی۔ اپنے بھائیوںپر ہونے والی ناانصافی انھیںاپنے اوپر ہوا ظلم لگتا تھا۔ گاندھی جی کی دعوت پر وہ 1912 میںافریقہ بھی گئے۔ وہاںانھوںنے جنوبی افریقہ کی سرکار سے نسلی امتیاز کو ختم کرنے کے لیے اپیل کی۔ جنوبی افریقہ سے ہندوستان لوٹنے پر گاندھی جی،گوکھلے سے ملے۔ وہ گوکھلے کی منکسرالمزاجی اور قوم پرستی کے جذبہ سے انتہائی متاثر تھے۔
صحت مند پارلیمانی بحث کے ماسٹر مائنڈ تھے گوکھلے
پارلیمانی بحث کی صحت مند روایتوںکا بیج گوکھلے نے ہی ڈالا تھا۔ پارلیمنٹ میں اپنی باتوںکو بیباکی اور حقائق پر مبنی طریقہ سے رکھنے میںوہ ماہر تھے۔ بامبے کی لیجسلیٹو و کونسل میںکسانوںسے زمین کا حق چھیننے کے مسئلے پر بحث ہورہی تھی۔ سرکار اکثریت کے دم پر اس بل کو پاس کرالینا چاہتی تھی۔ اس پر گوکھلے، فیروز شاہ مہتااور کئی دیگر ممبر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ برٹش حکمراںبوکھلا کر رہ گئے۔ یہ پہلا ایساواقعہ تھا جب ایوان میںبحث کے دوران ممبروںنے واک آؤٹ کیا تھا۔ کونسل میںگوکھلے کو پڑھنے کے لیے لوگ اگلے دن اخبار وںکا انتظار کررہے تھے۔
دوستی میں درار پر کانگریس میںدو پھاڑ
حالانکہ بال گنگا دھرتلک کاماننا تھا کہ پارلیمانی مباحثوںسے کچھ حاصل نہیں ہوگا وہ برٹش سامراج کے خلاف شدت کے ساتھ مخالفت کرنے کے حامی تھے۔ وہیںگوکھلے کا خیال تھا کہ ہندوستانیوںکو پہلے تعلیم یافتہ ہوناچاہیے، تبھی وہ شہری کے طور پر آزادی حاصل کرپائیںگے۔ 1891-92 میں جب انگریزی سرکار کے ذریعہ لڑکیوںکی شادی کی عمر دس سال بڑھا کر بارہ سال کرنے کا بل پاس کرانے کی تیاری شروع ہوئی، تب گوکھلنے نے انگریزوں کے اس قدم کا پورا ساتھ دیا لیکن تلک اس بات پر مخالفت کرنے لگے کہ ہندوستانیوںکے اندرونی مسئلے پر انگریزوںکو دخل نہیںدینا چاہیے۔ اس مدعے پر گوکھلے اور بال گنگا دھر تلک کے بیچ تنازع پیدا ہوگیا۔ اس تنازع نے کانگریس کو دو گروپوں میں تقسیم کردیا، ایک گرم پنتھی اور دوسرا نرم پنتھی۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ کانگریس دو پھاڑ ہوگئی۔ کبھی تلک، کالج میں گوکھلے کے دوست ہوا کرتے تھے لیکن حالات ایسے بدتر ہوتے چلے گئے کہ 1906 میں تلک کو کانگریس چھوڑنی پڑی۔
گوکھلے ملک کی آزادی، سماجی اصلاح اور سماجی خدمت کے لیے انتھک محنت کرتے رہے۔ لگاتار محنت سے ان کی صحت گرنے لگی۔ انھیںذیابیطس اور دمہ جیسے امراض نے گھیر لیا۔ 19 فروری 1915 کی رات 10 بج کر 25 منٹ پر انھوں نے آخری سانس لی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *