امام مسجد کو لال بتی

ائمہ مساجد کو قوم کی اصلاح اور صحیح راستہ دکھانے پر توجہ دینی چاہئے نہ کہ اپنی شان و شوکت اور رتبہ کو بڑھانے پر۔ اگر کوئی امام ایسا کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری اور اجوابدہی سے روگردانی کررہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کولکتاتہ کے ٹیو سلطان جامع مسجد کے امام مولانا نور الرحمن برکاتی نے لال بتی کو لے کر جو تنازع کھڑا کیا ،وہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ حکمراں کے احکام اگر وہ مذہب کے خلاف نہیں ہے تو اسے ماننا لازمی ہے۔ اگر ہماری حکومت یہ طے کرتی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی گاڑی میں لال بتی کا استعمال نہیں کرے گا ،چاہے وہ کسی بھی رتبے اور درجے کا ہو۔یہ حکم باہمی مساوات کے نقطہ نظر سے کیا گیا ہے تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہے ،اسے سب کو تسلیم کرنا چاہئے۔ مگر مولانا برکاتی نے یہ کہہ کر اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا کہ یہ رتبہ انہیں برطانوی دور سے ملا ہوا ہے اور وہ اس مسجد کے شاہی امام ہیں اس لئے اپنی گاڑی سے لال بتی نہیں ہٹائیں گے،ان کا یہ فیصلہ نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ ملک کے آئین اور حکمراں کے احکام سے روگردانی بھی ہے۔ حالانکہ انہوںنے بعد میں اپنی گاڑی سے لال بتی یہ کہہ کر ہٹالی کہ اپنی مرضی سے وہ ایسا کررہے ہیں مگر جب تک بات بہت آگے بڑھ چکی اوران کا یہ بیان متنازع شکل اختیار کرلیا۔ مجبورا بورڈ آف ٹرسٹیز نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک مخالف تبصرہ مسلمانوں کو پسند نہیں اسلئے انہیں امامت کے عہدہ سے برطرف کیا جاتا ہے۔
اسی طرح کا ایک بیان ڈنمارک کے ایک امام نے دیا ہے۔امام کی اس تقریر پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اس تقریر میں امام نے خطبہ جمعہ کے دوران یہودیوں کو قتل کرنے کی بات کی۔ اس سلسلے میں امام منظر عبداللہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔انھیں خطبہ جمعہ کے دوران ایک ایسا بیان دیتے ہوئے پایا گیا تھا جسے یہود مخالف مانا جاتا ہے۔یہودی برادری کے ایک رہنما نے اس کے رد عمل میں کہا کہ ان کے الفاظ دھمکی آمیز ہیں۔ الفاروق نامی مسجد کے امام نے یہ مذکورہ خطبہ جمعہ دیا ہے۔خطیب عبداللہ سیاہ نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’جلد ہی خلافت کا قیام ہوگا، یعنی ایسی حکومت جس میں شرعی قوانین کی بالا دستی ہوگی، وہ مسلمان برادری کے اتحاد کے لیے جہاد کرے گی اور یرو شلم کی مسجد اقصیٰ کو صیہونی غلاظت سے آزاد کرائے گی۔
یہودی کمیونٹی کے ایک مقامی رہنما ڈین روزبرگ نے مقامی اخبار کو بتایا: ‘ہمیں تشویش ہے کہ کمزور اور جلدی جھانسے میں آجانے والے افراد اس طرح کی تبلیغ کو یہودیوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کا کھلا پیغام سمجھ سکتے ہیں۔قومی یکجہتی اور امیگریشن سے متعلق وزیر اینگر سٹوب برگ نے بھی اس پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا: ‘یہ پوری طرح سے احمقانہ، غیر جمہوری اور خوفناک بات ہے۔ملک کی دائیں بازو کی جماعت کے ایک سیاسی رہنما نے بھی اس سے متعلق فیس بک پر اپنے ایک رد عمل میں لکھا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘ہمیں کیوں ایک سخت اور مستقل پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کر سکتے اور ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *