یوگی کی یلغار

damiوزیر اعظم ندریندر مودی کا وعدہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پورا کیا۔ مودی نے انتخابی ریلی میں اتر پردیش کے چھوٹے کاشتکاروں کے لئے یہ وعدہ کیا تھا کہ یو پی میں بی جے پی کی حکومت بنی تو پہلی ہی کیبنٹ میٹنگ میں ان کا قرض معاف کر دیا جائے گا۔ کسانوں سے کیا گیا یہ وعدہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں بھی شامل تھا۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی کابینہ کی رسمی میٹنگ بلانے میں تھوڑی دیر ضرور کی ، لیکن کیبنٹ کی پہلی ہی میٹنگ میں ریاست کے دو کروڑ سے زیادہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کا ایک لاکھ روپے تک کا قرض معاف کرنے کا اہم اور دور اندیش فیصلہ لیا ۔ مودی نے صرف چھوٹے کسانوں کا قرض معاف کرنے کی بات کہی تھی،لیکن وزیر اعلیٰ یوگی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ریاست کے تمام کسانوں کے مفاد میں کسانوں کی ربیع پیداوار کی 80فیصد پیداوار سرکار کے ذریعہ خریدنے کا فیصلہ لے لیا۔ ریاست کے کسانوںکو بچولیوں سے آزاد کرنے کے لئے یوگی نے 80لاکھ میٹرک ٹن گیہوں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ربیع کے بعد خریف (دھان) فصل کی خرید کو لے کر بھی حکومت کی یہی پالیسی رہے گی۔ آلو کو لے کر بھی حکومت ایسا ہی فیصلہ لینے جا رہی ہے۔ کسانوں کو آلو کی مناسب قیمت دلانے کے ارادے سے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی اور وزیر برائے جنگلات و ماحولیات دارا سنگھ چوہان کی تین رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ریاست کے آلو پیدا کرنے والے کسانوں کو راحت دینے کی پالیسی پر غور کرنے کے لئے زمینی مطالعہ کرے گی اور حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
قرض معافی کے ضمن میں یوگی حکومت نے کسانوں کا کل ملا کر 36ہزار 359کروڑ روپے کا قرض معاف کیا ہے۔ اس فیصلہ کے تحت کسانوں کے ذریعہ کسی بھی بینک سے لیا گیا فصلی قرض معاف کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلہ سے ریاست کے سرکاری خزانہ پر 36ہزار 359کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ گزشتہ کچھ سالوں میں خشک سالی ، ژالہ باری اور سیلاب کی وجہ سے ریاست کے کسانوں کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ تباہی کی وجہ سے کئی کسانوں نے خود کشی تک کر لی۔ ریاست میں تقریباً 2کروڑ 30لاکھ کسان ہیں، جن میں 92.5فیصد یعنی،2.15کروڑ چھوٹے اور معمولیکسان ہیں۔ ابتدائی شماری کے مطابق ریاست میں ایسے کل 86.68لاکھ چھوٹے اور درمیانی کسان ہیں، جنھوں نے بینکوں سے فصلی قرض لیا ہوا ہے۔ یہ قرض معافی انہیں چھوٹے اور معمولی کسانوں کے فائدے کے لئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی یوگی کیبنٹ نے ان سات لاکھ کسانوں کا بھی قرض معاف کیا، جو بربادی اور مفلسی کی وجہ سے قرض کی ادائیگی نہیں کر سکے تھے اور ان کی قرض کی رقم بینکوں کی نان ایگزکیوٹڈ اثاثے (این پی اے) میں شمار ہو گئی تھی۔ اس وجہ سے ان کسانوںکو اور قرض ملنا بند ہو گیا تھا۔ ایسے کسانوں کو بھی راحت دیتے ہوئے حکومت نے ان کے قرض کے 5630کروڑ روپے معاف کر دئے ۔ ایک ہیکٹیئر یعنی ڈھائی ایکڑ تک کے تمام کسان معمولی کسان کے زمرے میں اور دو ہیکٹیئر یعنی پانچ ایکڑ تک کے تمام کسان چھوٹے کسان کے زمرے میں آئیں گے۔ اسکیم کا فائدہ ریاست کے تمام چھوٹے اور معمولی کاشتکاروں کو ملے گا۔
یوگی کابینہ نے 2017-18کے لئے ربیع خرید کی سپورٹیڈ ویلیو اسکیم کے تحت گیہوں خرید پالیسی کو منظوری دی ہے۔ کسانوں کو سپورٹیڈ ویلیو اسکیم کے ذریعہ زیادہ تر فائدہ دلانے کے لئے آرڈیننس جاری کر کے یکم اپریل 2017سے پوری ریاست میں گیہوں کی خرید شروع کر دی گئی۔ گیہوں کی کم سے کم سپورٹیڈویلیو1625روپے فی کوئنٹل رکھی گئی ہے ۔سال 2017-18کے لئے ریاستی حکومت نے 40لاکھ میٹرک ٹن گیہوں خریدنے کا کم سے کم ہدف طے کیا تھا، لیکن کسانوں کو سپورٹیڈ ویلیو اسکیم کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے اس کے لئے کم سے کم خرید ہدف کو بڑھا کر 80لاکھ میٹرک ٹن کر دیا گیا۔ 9خرید اداروں کے ذریعہ گیہوں خریدا جا رہا ہے اور اس کے لئے ریاست کے مختلف اضلاع میں پانچ ہزار خرید مراکز کھلوے گئے ہیں۔گیہوں خرید میں آنے والی دقتوں کو دور کرنے کا بیڑا خود وزیر اعلیٰ نے اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے گیہوں خرید کے معاملہ میں کسانوں کی کسی بھی پریشانی کو درج کرنے اور اس کا فوراً نمٹارا کرنے کے لئے خوردنی اور رسد کمشنر کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کیا ہے۔
کسانوں کی قرض معافی کے تاریخی فیصلے پر سماجوادی پارٹی نے اطمینان جتانے کے بجائے مذمتی تجویز ہی جاری کر دی۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو یوگی حکومت کے فیصلہ کو کسانوں کے ساتھ بتانے سے قطعی نہیں جھجکے ۔ اکھلیش نے ٹویٹ کر کے کہا کہ مودی کا وعدہ پورے قرض کو معاف کرنے کا تھا۔ قرض معافی کی ایک لاکھ کی حد سے کروڑ وں کسان ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ یہ غریب کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ اکھلیش کے تبصرہ پر ایک اور اچھال مارتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے اہم ترجمان راجیندر چودھری نے کہا کہ اترپردیش میں بی جے پی کابینہ کی پہلی میٹنگ بے حد مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ چودھری کہتے ہیں کہ بی جے پی تو صرف جھوٹ کی کھیتی کرنے میں ماہر ہے، اس کا کسانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ چودھری یو پی کے کسانوں کی بات کرتے کرتے کشمیر پر اور پھر پاکستان پر بھی آ گئے اور بول پڑے کہ کشمیر میں حالت بگڑتی گئی ہے اور پڑوسی ممالک سے بھی رشتوں میں تنائو آیا ہے۔ یوگی حکومت میں وزیر توانائی سری کانت شرما نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں ریاستی حکومت کے کسانوں کی فلاح کے اتنے بڑے فیصلہ کو ہضم نہیں کر پا رہی ہیں، کیونکہ انھوں نے تو کسانوں کے مفاد میں کبھی بھی کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا اور آج کسانوں کو خود سے منھ موڑتا دیکھ کر بوکھلا گئی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ردعمل کے برعکس اس کی اتحادی کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے نپا تلا بیان دیا اور کہا کہ یو پی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ کسانوں کا قرض معاف کرنا صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔راہل نے کہا کہ ہمیں کسانوں کے ساتھ سیاست نہیں کرنی چاہئے۔
ذبح خانوں اور چھیڑخانی کے بعد اب شراب پر نشانہ
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شراب کی دکانوں کے بارے میں کورٹ کے احکامات پر سختی سے عمل شروع کروا دیا ہے۔کارروائی کے تحت تعلیمی اداروں ، مذہبی مقامات اور آبادی والے علاقوں میں شراب کی فروخت کی اجازت مقررہ گائڈ لائنس کی بنیاد پر ہی دی جائے گی۔ گائڈ لائنس پر کھرا نہیں اترنے والی شراب کی دکانوں کو بند کر دیا جائے گا۔ یوگی کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی پوری ریاست میں شراب کی فروخت کے خلاف آندولن شروع ہو گیا اور اس میں خواتین زور شور سے حصہ لے رہی ہیں۔ ایسا ہی فیصلہ غیر قانونی ذبح خانوں کو لے کر بھی کیا گیا۔ ریاست کے تمام اضلاع میں ذبح خانوں کا معائنہ کر کے غیر قانونی طور پر چل رہے ذبح خانوں کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ مقررہ گائڈ لائنس کی خلاف ورزی کرنے والے مشینی ذبح خانوں پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ریاست میں ابھی تک کل 26غیر قانونی ذبح خانے بند کئے گئے ہیں۔
چھیڑ خانی روکنے کے لئے ریاست کے تمام اضلاع میں اینٹی رومیو اسکوائڈ کی تشکیل اور آپریشن کی تجویز کو کیبنٹ نے منظوری دے دی ہے۔ یہ اسکوائڈ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرے گا جو راستے میں لڑکیوں اور خواتین کو چھیڑتے ہیں یا انہیں پریشان کرتے ہیں۔ سماجی مریادہ کے دائرے میں رہتے ہوئے جو جوڑے عام مقامات پر ملیں گے ان کے خلاف اسکوائڈ کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ اسکول، کالج، بازار، مال، پارک، بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن جیسی جگہوں پر قابل اعتراض حرکت کرنے والے لوگوں پر نگرانی رکھنے کے لئے سادہ کپڑوں میں خاتون پولس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اینٹی رومیو اسکوائڈ علاقائی آفیسر (سرکل افسر) کی نگرانی میں کام کر رہا ہے اور ضلع کے دیگر سینئر افسر اس کے کام کاج پر نگرانی کرتے ہیں۔
غیر قانونی کان کنی پر لگام لگانے کی تیاری
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں غیر قانونی کان کنی روکنے کے لئے مؤثر پالیسی بنانے کے ارادے سے گروپ آف منسٹرس کی تشکیل کی ہے۔ جس کی صدارت نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کریں گے۔ گروپ میں پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ اور وزیر برائے ماحولیات و جنگلات دارا سنگھ چوہان بھی شامل ہیں۔گروپ کو ہفتے بھر کے اندر اپنی رپورٹ سونپنی ہے، جس پر حکومت ضروری فیصلہ لے گی۔
گومتی ریور فرنٹ معاملہ کی جانچ شروع
راجدھانی لکھنؤ میں گومتی ریور فرنٹ پروجیکٹ میں ہوئے گھپلے کی جوڈیشنل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ رٹائرڈ جج آلوک کمار سنگھ کی صدارت میں تین رکنی کمیٹی معاملہ کی پوری جانچ کرے گی۔ جانچ کمیٹی 45دنوں کے اندر اپنی جانچ رپورٹ حکومت کو پیش کر دے گی۔ جانچ کمیٹی میں آئی آئی ٹی بی ایچ یو کے ریورائن انجینئرنگ فیکلٹی کے سابق پروفیسر یو کے چودھری اور آئی آئی ایم لکھنؤ فائنانشیل فیکلٹی کے پروفیسر اے کے گرگ بھی شامل کئے گئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گومتی ندی چینلائزیشن پروجیکٹ کے لئے 656کروڑ روپے دئے گئے تھے، جسے بعد میں بڑھا کر 1513کروڑ روپے کر دیا گیا تھا۔ اکھلیش یادو کے ذریعہ رقم کا 95فیصد حصہ کام پورا ہوئے بغیر ہی بھگتان کر دیا گیا تھا۔ جبکہ پروجیکٹ کا 60فیصد کام بھی پورا نہیں ہوا۔
آگرہ -ایکسپریس ہائی وے کی بھی ہوگی جانچ
یوگی آدتیہ ناتھ نے گومتی ریور فرنٹ پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ آگرہ ایکسپریس ہائی وے کی تعمیر کی بھی تفتیش کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ بھی یہ صاف کر چکے ہیں کہ اکھلیش حکومت کے آگرہ -ایکسپریس ہائی وے کے بننے میں معینہ مدت اور خرچ کی گئی رقم کے بھاری عدم توازن کی گہرائی سے تفتیش کی ضرورت ہے۔کیشو موریہ ریاست کے وزیر برائے تعمیرات عامہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آگرہ-لکھنؤ ایکسپریس ہائی وے کے ساتھ ساتھ سماجوادی حکومت کے کئی دیگر روڈ پروجیکٹس کی بھی تفتیش کرائے جانے کی ضرورت ہے۔ آگرہ ایکسپریس ہائی وے شروعات سے ہی تنازعات میں ہے۔جس6لین ہائی وے کو مرکزی حکومت کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ آئی) 17سے 18کروڑ فی کلو میٹر کی لاگت سے تیار کرتا ہے، اسے اتر پردیش حکومت نے تقریباً 30کروڑ فی کلو میٹر کے حساب سے بنوایا۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے اس ڈریم پروجیکٹ کے اہم کرتا دھرتا آئی اے ایس افسر نونیت سہگل رہے ہیں۔ پہلے اس پروجیکٹ کو پی پی پی ماڈل کے ذریعہ بنوایا جانا تھا، جس کی تخمینہ لاگت کا اندازہ 5000کروڑ روپے کا لگایا گیا تھا۔ پی پی پی ماڈل کے تحت کام کے لئے 24مئی 2013کو پری بِڈ کانفرنس میں 15کمپنیوں نے حصہ لیا تھا۔ ان میں جی وی کے، جی ایم آر، ایسیل انفرا، ونسی کنسنسس، جے پی انفرا ، ایس آر ای آئی انفراسٹرکچر، سپریم، پی این سی انفراٹیک، سوما، گیمن انڈیا، لیوٹن ویلسپن، آئی ایل اینڈ ایف ایس، یونکویسٹ انفرا، ٹرانسٹائے اور پنج لائڈ شامل تھیں، لیکن کارگر نہیں ہو پائیں۔
حکومت کا منشاء بھی یہی تھا۔ فوراً ہی حکومت نے اس پروجیکٹ کو عوام کے پیسے سے نقد معاہدہ پر پورا کرنے کا فیصلہ لیا جو ریاست کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے مناسب نہیں تھا۔ دراصل، ڈریم پروجیکٹ اس ہائی وے سے اربوں روپے کے وارے نیارے کرنے کا خواب تھا۔ جس پروجیکٹ کی لاگت پانچ ہزار کروڑ روپے لگائی گئی تھی، وہ دسمبر 2013میں ہی بڑھ کر 8944کروڑ روپے ہو گئی تھی۔ اب یہ لاگت 20ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہی ہو چکی ہے۔ 302کلو میٹر لمبے ایکسپریس وے کی شروعاتی لمبائی 270کلو میٹر طے تھی، جس کے ذریعہ یمنا ایکسپریس وے کو لنک کیا جانا تھا، لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنے گائوں سیفئی کو اس سے جوڑنے کے لئے اس کی لمبائی 32کلو میٹر اور بڑھا دی۔ کیگ کی رپورٹ کے مطابق 2012میں بنے 6لین کے یمنا ایکسپریس وے کی فی کلو میٹر لاگت تحویل اراضی کا خرچ ملا کر 27.20کروڑ روپے فی کلو میٹر تھی۔ پھر آگرہ-لکھنؤ ایکسپریس ہائی وے کی فی کلو میٹر لاگت 40کروڑ روپے سے اوپر کیسے پہنچ گئی؟ ایسے کئی اہم سوال سامنے ہیں۔ ہائی وے بنانے کے لئے کمپنیوں کے انتخاب پر بھی شک و شبہات کے سوال کھڑے ہیں۔
ہائی وے پروجیکٹ سے 30ہزار سے زیادہ کسان اور 232آمدنی والے گائوں متاثر ہوئے۔ ہزاروں کسانوں کو اپنی زمینوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کسی نے خود اپنی مرضی سے زمین دی تو کسی سے جبراً زمین لے لی گئی۔ اس پروجیکٹ کے لئے 3,368.60ہیکٹیئر زمین تحویل میں لی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع اٹاوا کے ہی کسانوں نے معاوضہ میں تعصب کو لے کر ہڑال اور دھرنا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ معاوضہ دینے میں حکومت نے تعصب برتا ہے۔ سیفئی میں 1.20کروڑ سے 1.25کروڑ روپے فی ہیکٹئر کی شرح سے معاوضہ دیا گیا ، جبکہ اٹاوا کے ہی تاکھا تحصیل کے کسانوں کو محض 15سے 20لاکھ روپے فی ہیکٹیئر کی شرح سے معاوضہ دیا گیا۔ کسانوں کو معاوضہ دینے کے لئے حکومت کی طرف سے پانچ کروڑ روپے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ کسانوں کا الزام ہے کہ ان سے مقررہ زمین سے زیادہ زمین چھین لی گئی۔ انائو کے بانگرمئو گائوں جگتاپور کے کسانوں نے بیعنامہ سے زیادہ زمین لئے جانے کا الزام ہے۔ جگتا پور کے آدتیہ کمار، شیلو کٹیار، شیوم کٹیار، سروج کٹیار، سرویش پٹیل، انل کٹیار، رام پال شرما، امریش پٹیل سمیت درجنوں کسانوں کی بیعنامہ سے زیادہ زمین ضبط کر لی گئی۔ اس طرح کے اور بھی کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔
دھیرے دھیرے واضح ہو گیا ہے کہ ہائی وے پروجیکٹ کچھ سیاستدانوں، کچھ نوکر شاہوں، کچھ سرمایہ کاروں اور کچھ دلالوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ برسراقتدار جماعت کے لیڈروں، دبنگ دلالوں اور نوکرشاہوں نے پہلے ہی لے آئوٹ دیکھ کر مجوزہ ہائی وے کے نزدیک کی زمینوں کو کسانوں سے سستی قیمتوں پر خرید لیا تھا، پھر کلکٹر سے اپنے مطابق سرکل ریٹ بڑھوا کر ان زمینوں کو چار گنا ریٹ پر حکومت کو دے دیا گیا۔ لکھنؤ ، انائو، قنوج، فیروزآباد، شکوہا آباد، اٹاوا، مین پوری جیسے کئی اضلاع میں ہزاروں رجسٹریاں ہوئیں، جن میں بیشتر بینامی ہیں۔ کچھ بڑے بلڈروں نے بھی ہاتھ دھوئے تاکہ ہائی وے بننے کے بعد وہ زمین کا صنعتی استعمال کر سکیں۔ گروتھ سینٹر، منڈی، ویئر ہائوس، لاجسٹک سینٹر اور رہائشی پروجیکٹوں کے لئے اپنے چہیتے بلڈر سے آگرہ لکھنؤ ایکسپریس وے کے ارد گرد کی زمین خریدوا کر رکھ لی گئی۔
’کام نہیں کارنامہ بولتا ہے‘کا دعویٰ
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ سماجوادی حکومت کی مدت کار کا ’کام نہیں کارنامہ بولتا ہے‘ ۔ یوگی نے گومتی ریور فرنٹ معاملہ کی جوڈیشیل انکوائری کا حکم دے کر اور لکھنؤ آگرہ ایکسپریس وے تعمیر کی تفتیش کرانے کی بات کہہ کر ریاست کے لوگوں کو واضح پیغام دیا ہے۔ 27مارچ کو وزیر اعلیٰ نے خود گومتی کنارے موقع پر جا کر اس پروجیکٹ کی اصلیت دیکھی تھی۔
سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے دیگر ڈریم پروجیکٹ مثلاً، جنیشور مشر پارک، چک گنجریہ سائبر سٹی، جے پرکاش نارائن انٹرنیشنل سینٹر (جے پی این آئی سی) اور حسین آباد ہیریٹیج زون کی تعمیر بھی تفتیش کے دائرے میں آنے والی ہے۔ 376ایکڑ میں پھیلے جنیشور مشر پارک کا پروجیکٹ چار سو کروڑ روپے کا تھا۔ فینانس اکائونٹنگ مینول 2014کے مطابق 25لاکھ روپے سے زیادہ کے کام کے لئے ای ٹینڈر ہونا چاہئے، لیکن جنیشور مشر پارک کی تعمیر مینول ٹینڈر کے ذریعہ کرائی گئی۔ اسی طرح چک گنجریہ کے دلفریب ہریالی سے بھرے 807ایکڑ کے فارم کو تہس نہس کر کے اس پر ہائی ٹیک ٹائون شپ بنانے کا سماجوادی حکومت کا فیصلہ سے شک سے باہر نہیں ہے۔اس پروجیکٹ کا تقریباً 60فیصد کام پورا ہو چکا ہے۔ یہ پروجیکٹ 1548کروڑ روپے کا ہے۔ ریاستی حکومت کے حکم کے بعد بھی لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ذریعہ میٹرو کو 150ایکڑ زمین نہیں دئے جانے کا معاملہ بھی جانچ کے دائرے میں ہے۔ ایل ڈی اے نے لے آئوٹ بدل کر میٹرو کی زمین پر بلڈروں کے لئے پلاٹ نکال کر بیچ ڈالے۔
عالیشان تاج ہوٹل کے بغل میں جے پرکاش نارائن انٹر نیشنل سینٹر بنانے کا پروجیکٹ شروعاتی دور میں 189کروڑ روپے کا تھا، لیکن یہ اب تک زیر تعمیر ہے۔ جے پی این آئی سی کی 17ویں منزل پر ہیلی کاپٹر اتارنے کی بھی سہولت رہے گی۔ ہیلی پیڈ بن رہا ہے۔ سماجوادی لیڈروں نے اپنی سہولت کے لئے یہ خرچیلا انتظام کیا تھا۔ اوپر ہی ہیلی پیڈ کے بغل میں سوئمنگ پول کی تعمیر بھی کرائی جا رہی ہے ۔ لکھنؤ کے کپورتھلا علاقہ میں سہارا کمپنی نے اپنی بلڈنگ میں ہیلی کاپٹر کی تعمیر کرائی تھی، لیکن دو بار کی لینڈنگ کے بعد شہری ہوا بازی نے حفاظتی وجوہات سے اس پر پابندی لگا دی تھی۔ سماجوادی حکومت نے مقررہ سیکورٹی گائڈ لائنس کو نظر انداز کرتے ہوئے جے پی این آئی سی بلڈنگ کی 17ویں منزل پر ہیلی پیڈ بنوانا شروع کر دیا۔ اسی طرح اکھلیش حکومت نے 2013میں حسین آباد ہیری ٹیج پروجیکٹ بنایا تھا۔ اس پروجیکٹ کے شروعاتی دور میں 68کروڑ روپے کی لاگت سے پانچ کام کرائے جانے تھے، کام تو ہوا نہیں، لیکن پروجیکٹ کی لاگت بڑھا کر 205کروڑ روپے کر دی گئی۔ اکھلیش حکومت پنجیری گھپلے میں بھی بری طرح پھنس رہی ہے۔ سات سو کروڑ روپے کا پنجیری گھپلہ کئی لیڈروں اور نوکر شاہوں کو اپنی زد میں لے گا۔ سال 2016-17میں بنا ٹینڈر کے ہی 10خاص فرموں سے ہر مہینے 58کروڑ روپے کی پنجیری کی سپلائی لی گئی تھی۔ 14اپریل 2016کو پرانے ٹینڈر کی میعاد ختم ہو گئی۔ اس کے بعد انہیں فرموں کو تین تین مہینے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔ ضابطہ ٔ اخلاق نافذ ہونے کے بعد بھی انتخابی کمیشن کو اندھیرے میں رکھ کر انہیں 10فرموں کے نام پھر سے ٹینڈر دے دئے گئے۔ اس پر محکمۂ انصاف نے اپنا اعتراض بھی درج کیا، لیکن اسے درکنار کر دیا گیا۔ اکھلیش حکومت کی مدت کار میں کان کنی کے وزیر گائتری پرجاپتی کی قیادت میں ہوا کان کنی گھپلہ اور انتہائی بدعنوان انجینئر یادو کو پشت پناہی دینے کا معاملہ تو تفتیش کے دائرے میں پہلے سے ہے۔
گنا بقایہ کی ادائیگی پر یوگی کی ہدایات بے اثر
اتر پردیش میں اقتدار سنبھالتے ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے نجی چینی ملوں کو کسانوں کا گنا بقایا چکانے کی سخت ہدایات دی ہیں، لیکن چینی ملوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اب حالا ت ایسے ہیں کہ چالو پیرائی سیشن 2016-17کے لئے یہ بقایا بڑھ کر 4,269کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ گزشتہ پیرائی سیشن 2015-16کے لئے چینی ملوں پر 184کروڑ روپے کا اضافی بقایا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے 23مارچ کو ہی ریاست کے چیف سکریٹری ، گنا کمشنر اور متعلقہ سینئر افسران کو یہ ہدایات دی تھیں کہ چینی ملیں ایک مہینے کے اندر کسانوں کے گنا بقائے کی ادائیگی کر دیں، ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، لیکن اس انتباہ کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔ 23مارچ 2017کو چینی ملوں پر قریب 4,160کروڑ روپے کا بقایا تھا اب بڑھ کر 4,260کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ موجودہ پیرائی سیشن اپریل کے کے آخری ہفتے تک چلنے کا امکان ہے۔آپریٹ کرنے والی 116ملوں میں سے 38ملیں اپنا پیرائی کام پورا کر چکی ہیں۔
کسانوں کی بقایا ادائیگی کرنے میں آنا کانی کرنے والی چینی ملوں کے خلاف سخت کارروائی کی شروعات سست روی سے ہوئی ہے۔ مغربی اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں بجاج ہندوستان کی ایک چینی مل کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ چینی مل کے خلاف انسیشیل کموڈٹیز ایکٹ کی دفعہ 3/7کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ مظفر نگر ضلع کے گنا کمشنر کا کہنا ہے کہ بجاج کی چینی مل نے کسانوں کا بقایا چکانے کے بجائے مل کی دیگر ضروریات اور رکھ رکھائو پر خرچ کیا۔ قابل ذکر ہے کہ رواں پیرائی سیشن میں کل بقایا 23,000کروڑ روپے پر پہنچ گیا اور پیرائی سیشن کے آخر تک اس کے بڑھ کر 26,000کروڑ روپے ہو جانے کا اندازہ ہے، جبکہ گزشتہ 2015-16کے سیشن کے لئے یہ 18,000کروڑ روپے تھا۔
بڑے امتحان سے نوکر شاہی کو روٹیٹ کریں گے یوگی
اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت بن گئی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ کے طور پر کام بھی کرنے لگے ہیں۔ پہلے کی مثبت تبدیلی لوگوں کو نظر بھی آنے لگی ہے۔لیکن اعلیٰ سیاسی گلیاروں کے نوکرشاہ وہی ہیں جو سماجوادی پارٹی کی حکومت میں تھے ۔نوکرشاہوں کو رنگ بدلنے میں کتنی مہارت حاصل ہے، اس سے رنگ بدلنے والے جانوروں کو بھی سبق لینا چاہئے۔ کچھ نوکرشاہ تو مایاوتی کے ساتھ بھی سیاست کا مزہ لیتے رہے ، اکھلیش آئے تو ان کے ساتھ بھی گھل مل گئے اور اب یوگی کے ساتھ بھی وہی ترکیب اپنا رہے ہیں۔ چلن یہی رہا ہے کہ نیا وزیر اعلیٰ اپنی کرسی پر قابض ہوتے ہی سب سے پہلے اپنے ارد گرد کے افسران کو بدلتے ہیں، لیکن یوگی آدتیہ ناتھ بڑی تسلی سے ٹھنڈا کر کے کھانے کی تیاری میں ہیں۔ ریاست کے چیف سکریٹری راہل بھٹناگر وہیں کے وہیں برقرار ہیں۔ پولس ڈائریکٹر جنرل جاوید احمد اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ اپر چیف سکریٹری سداکانت بھی برقرار ہیں اور انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری نونیت سہگل بھی برقرار ہیں۔ اسی طرح داخلہ محکمہ کے چیف سکریٹری دیواشیش پنڈا سمیت چیف سکریٹری چنچل تیواری ، چیف سکریٹری سنجیو سرن، چیف سکریٹری آرادھنا شکلا جیسے کئی افسر پہلے کی ہی طرح یوگی حکومت میں بھی کام کر رہے ہیں۔ پولس ڈائریکٹر جنرل کام کر رہے ہیں اور نظم نسق کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ڈی جی) دلجیت چودھری بھی اپنے عہدہ پر ویسے ہی برقرار ہیں۔
ریاست کی سرفہرست نوکر شاہی اس بات کے انتظار میں ہے کہ انہیں کب کدھر بھیجا جاتا ہے۔ انتظامیہ اور پولس دونوں محکموں کے افسران پوری طرح اپنی مستعدی دکھا کر یوگی حکومت کے ساتھ ’ایڈجسٹ‘ ہونے کی کوشش میں لگے ہیں۔ یوگی حکومت کے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ کے پنچم تل والے افسر ضرور بدل گئے، لیکن باقی ویسے ہی ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ پنچم تل پر اپنے سپہ سالار افسروں کی تعیناتی ابھی نہیں کر پائے ہیں۔ صرف ایک ہی افسر پنچم تل پر یوگی کی رضامندی سے برقرار ہیں، وہ ہیں ریگجیان سیمفل ۔ اس صورت میں نوکر شاہی میں تذکرے بھی خوب ہیں۔ کبھی اونیش اوستھی کے وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری بننے کے تذکرے ہوتے ہیں تو کبھی دیویش چترویدی کے چیف سکریٹری بننے کی چرچہ ہونے لگتی ہے۔ کبھی سداکانت چیف سکریٹری بننے کی چرچہ میں شامل ہو جاتے ہیں تو کبھی مرکز سے کسی سینئر افسر کے اس عہدہ پر بھیجے جانے پر بحث ہوتی ہے۔ کبھی انتہائی بدعنوان یادو سنگھ معاملہ سے جڑے نوکر شاہ رما رمن کے زد میں آنے کی خبر تیزی پکڑتی ہے تو کبھی تنازعات کے باوجود اقتدار کے گلیاروں میں رہنے والے نوکر شاہ نونیت سہگل کو ٹھکانے لگانے کے تذکرے ہوتے ہیں۔ لیکن، اتنا طے ہے کہ ریاست کے اعلیٰ نوکر شاہ کی سانسیں ہر لمحہ اٹکی ہیں کہ کب کیا ہو۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے چیف سکریٹری نرپیندر مشر کی گزشتہ دنوں لکھنؤ آمد کو بھی یو پی کی ٹاپ نوکر شاہی کے پھیر بدل سے ہی جوڑ کر دیکھا گیا۔ حالانکہ اس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔
جاوید احمد ڈی جی پی عہدہ پر برقرار رہیں اس کے لئے وہ کوششوں میں لگے ہیں۔ اسی طرح چیف سکریٹری کے عہدہ پر برقرار رہنے کے لئے راہل بھٹنانگر بھی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انتخابات کے دوران بی جے پی نے ریاست کے چیف سکریٹری راہل بھٹناگر اور پولس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) جاوید احمد کو ہٹانے کی انتخابی کمیشن سے مانگ کی تھی۔ لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد یہ مطالبہ ٹھنڈا ہو گیا۔ بی جے پی کے ساتھ اپنا تال میل بٹھانے میں سابق چیف سکریٹری دیپک سنگھل اور سینئر آئی اے ایس سنجے اگروال بھی لگے ہوئے ہیں۔ سنجے اگروال کے بھائی انل اگروال گجرات کاڈر میں آئی پی ایس افسر ہیں، تو وہ بھی اپنے بھائی کے لئے گجرات لائن ٹھیک کر رہے ہیں۔ سداکانت اور انوپ چند پانڈے کی بھی مستعدی دیکھی جا رہی ہے۔ ڈیپوٹیشن پر گئے کئی افسر بھی اب واپس لوٹنے کے جگاڑ میں ہیں۔ بی ایس پی اور سماجوادی حکومت میں کئی افسر سینٹرل ڈیپوٹیشن پر چلے گئے تھے۔ 1981بیچ کے راجیو کمار (پرتھم)، 1982بیچ کے جے ایس دیپک، نیرج گپتا، پربھاش جھا، 1984بیچ کے درگا شنکر مشرا، 1986بیچ کے پربھات کمار شارنگی، 1987بیچ کے ارون سنگھل، جیویش نندن، 1988بیچ کے آلوک کمار (اول) ، 1989بیچ کے ششی پرکاش گوئل سمیت کئی افسران کی یو پی میں واپسی کے تذکرے نوکرشاہی کے گلیاروں میں تیزہیں۔ اکھلیش حکومت میں وزیر اعلیٰ کے خاص نوکر شاہوں میں آمود کمار، پارتھ سارتھی سین شرما، پندھار یادو، امت گپتا، جی ایس نوین کمار، اروند سنگھ دیو، اروند کمار، راجیو کمار (دوئم) ، رما رمن ، پرانجل یادو، کامران رضوی اور سنجے اگروال وغیرہ شامل رہے ہیں۔ ان میں سے بھی کئی افسر یوگی کی ’گڈ بک‘ میں آنے کے لئے بے تا ب ہیں۔ بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کی مدت کار میں اقتدار کا پھل آپس میں بانٹنے والے نوکر شاہ باقاعدہ پہچانے جاتے ہیں۔ مایاوتی کی حکومت میں ان کی ذات کے فتح بہادر کے ساتھ ساتھ نونیت سہگل، انل ساگر، کمار کملیش ، دنیش چندر، ایس ایم بوبڑے، سدھیر گرگ، نیت رام اور ڈی ایس مشرا جیسے افسران کی طوطی بولتی تھی۔ انہیں افسران میں سے کچھ کی اکھلیش حکومت میں بھی طوطی بولتی رہی۔ اب وہ یوگی حکومت میں بھی اپنی طوطی فٹ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *