یوگی کا کرم یوگ

Yogi-gاترپردیش میںیوگی کا کرم یوگ بولنے اور دکھائی دینے لگا ہے۔ حکومت کا نظام درست کرنے کی تیز رفتار قواعد میںلگے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو دیکھ کر ان کے کابینی ساتھی بھی ’اسپیڈ‘ میںآگئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا چارج سنبھالتے ہی سڑک سے لے کر اقتدار کے گلیارے تک انتظام چاق و چوبند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پان گٹکھا سے ہونے والی گندگی اور چھیڑ خانی لچے بازی سے ہونے والی گندگی صاف کرنے کی ترجیحات میںکسانوںکے مفاد کا کام بھی نظر انداز نہیںہورہا ہے۔
تنظیمی طور پر بی جے پی پریوار میں جس طرح’گھس پیٹھیوں‘ کو ٹکٹ دینے میں ترجیح دی گئی، اسی طرح وزیربنانے میںبھی اس کا دھیان رکھا گیا، لیکن کام میں یوگی کسی وزیرکو بخشنے والے نہیں ہیں، ایسا لوگوںکو ابھی سے لگنے لگا ہے۔ بی جے پی کے اپنے پرانے خاندانی ارکان کویہ ملال ضرور ہے کہ انھیں معقول حد تک احترام نہیںملا، جبکہ ان کا حق زیادہ تھا۔بی جے پی کی تاریخی جیت کے بعد اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بنے یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی صدر امت شاہ سے مشورہ لے کر ہی کابینہ کی تشکیل کی ۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر یہ جانتے ہیںکہ یوگی آدتیہ ناتھ اپنے فیصلے خود لینے والے خود اعتمادی والے شخص ہیں۔ وہ لیڈر بھی کہتے ہیںکہ کابینہ کی پہلی کھیپ کی تشکیل بھلے ہی مرکزی قیادت کے دباؤ میں ہوئی ہو، لیکن آگے ایسا نہیں ہوگا۔کئی ایسے اراکین اسمبلی جن کا وزیر بننا پکا مانا جا رہا تھا، ان کا نام ندارد ہونا حیرت انگیز تو ہے لیکن اسے لے کر ابھی اقتدار کے گلیارے میںخاص چپی ہے۔ سب سے نظر انداز مظفر نگر کو مانا جارہا ہے، جہاںسے چھ سیٹیںجیتنے کے بعد بھی کوئی ایم ایل اے وزیر نہیںبنا۔ بی جے پی والے یہ خدشہ بھی جتاتے ہیںکہ یوگی کی سرکار کہیں مشرقی اترپردیش کی سرکار بن کر نہ رہ جائے۔
مظفرنگر کی عدم نمائندگی
بی جے پی کے ریاستی ہیڈ کوارٹر میںاکٹھی ہونے والی بھیڑ اور گہما گہمی میں اس بات کو لے کر چرچا ہے کہ مظفر نگر لوک سبھا سیٹ کے تحت آنے والی سردھنہ اسمبلی سیٹ سے جیتنے والے سنگیت سوم کو کابینہ میں جگہ کیوں نہیں ملی۔ اسی طرح مظفر نگر کی ہی میر پور اسمبلی سیٹ سے جیتے اوتار سنگھ بھڑانا کو بھی وزیر نہ بنائے جانے سے لوگوں کو غصہ ہے۔ نوئیڈا اسمبلی سیٹ سے جیتے پنکج سنگھ کو بھی کابینہ میںشامل نہیںکیا جانا لوگوںکو حیرت دے گیا۔ حالانکہ بی جے پی والے یہ بھی مانتے ہیںکہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنے بیٹے کو ابھی فی الحال وزیر بنائے جانے سے منع کیا ہوگا۔ لیکن مغربی اترپردیش کے دھرم سنگھ سینی ،سریش رانا اور اتل گرگ کووزیر بنائے جانے کے باوجود بی جے پی والوںکو خاص طور پر سنگیت سوم اور بھڑانا کو وزیر نہیںبنائے جانے کو لے کر افسوس ہے۔ بی جے پی لیڈروںکو اس بات پر بھی بے اطمینانی ہے کہ نو گھس پیٹھیوںکو وزارت کا عہدہ دے دیا گیا، لیکن اپنے ممبروںکو نظر انداز کردیا گیا۔ ایس پی، کانگریس اور بی ایس پی کو چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہوئے نو نئے منتخب اراکین اسمبلی میںکانگریس چھوڑ کر آئیں ریتابہوگنا جوشی،نند گوپال نندی، بی ایس پی چھوڑ کر آئے سوامی پرساد موریہ، برجیش پاٹھک، دارا سنگھ چوہان،چودھری لکشمی نارائن ،دھرم سنگھ سینی اور سماجوادی پارٹی سے آئے ایس پی سنگھ بگھیل اور انل راج بھر شامل ہیں، جنھیںوزیر کا عہدہ حاصل ہواہے۔
اترپردیش میں بنی بی جے پی سرکار میںیوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ ، کیشو پرساد موریہ اور ڈاکٹر دنیش شرما نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ 44 وزراء شامل ہیں۔ ان میں پانچ خواتین بھی ہیں۔ یوگی کابینہ میں 22 کیبنٹ، نو وزیر مملکت (آزاد چارج)اور 13 وزیر مملکت شامل شریک ہوئے ہیں۔ پیشہ کے نقطہ نظر سے یوگی کابینہ میں13 بزنس مین، 11 کسان، 7 سماجی کارکن، 5 وکیل، 4ٹیچر، 2 کھلاڑی اور 1 ڈاکٹر شامل کیے گئے ہیں۔ یوگی کابینہ میںپچھڑوںکو زیادہ ترجیح دیتے ہوئے دیگر ذاتوںکا توازن بنائے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی کابینہ میںسب سے زیادہ نو پچھڑوں (او بی سی) کو جگہ دی ہے۔ راجپوت اور برہمن ذات کے سات سات ایم ایل اے وزیر بنے ہیں۔ انتہائی پسماندہ طبقہ کے بھی چھ ایم ایل اے وزیر بنے ہیں۔ پچھڑا کوٹہ سے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، ایس پی سنگھ بگھیل، دھرم پال سنگھ، کلیان سنگھ کے پوتے سندیپ سنگھ، سوامی پرساد موریہ، دھرم سنگھ سینی وغیرہ شامل ہیں۔ جاٹ کمیونٹی کے دو لیڈروںلکشمی نارائن چودھری (کیبنٹ) اور بھوپیندر سنگھ چودھری (وزیر مملکت آزاد چارج) کو کابینہ میںجگہ ملی ہے۔ ویشیہ کمیونٹی سے آنے والے چار لوگوںکو کابینہ میںجگہ ملی ہے، جنمینند کمار گپتا’نندی‘ (کیبنٹ)، راجیش اگروال (کیبنٹ)، انوپما جیسوال (وزیر مملکت آزاد چارج) اور اتل گرگ (وزیر مملکت) شامل ہیں۔ کایستھ ذات کے بھی ایک ایم ایل اے سدھارتھ ناتھ سنگھ (کیبنٹ) کو یوگی کابینہ میںجگہ ملی ہے۔ کرمی کمیونٹی کے تین ایم ایل اے کو وزیر بنایا گیا۔ ان میںمکٹ بہاری ورما (کیبنٹ)، سوتنتر دیو سنگھ (وزیر مملکت آزاد چارج) اور جے کمار سنگھ ’جیکی‘ (وزیر مملکت) کو کابینہ میںجگہ ملی ہے۔ یادو ذات سے آنے والے گریش یادو کو وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔ یوگی کابینہ میںدلتوںاور انتہائی پسماندہ کو بھی قابل احترام جگہ دی گئی ہے۔ کوری طبقہ کے منوہر لال پنتھ عرف منو کوری (وزیر مملکت)، راج بھر کمیونٹی سے اوم پرکاش راج بھر (کیبنٹ)، انل راج بھر(وزیر مملکت آزاد چارج) بند – نشاد – نونیا کمیونٹی سے دارا سنگھ چوہان (کیبنٹ) اور جے پرکاش نشاد (وزیر مملکت) کو وزیربنایا گیا ہے۔ دلت کمیونٹی میںچرمکار ذات کے رما پتی شاستری، دھوبی کمیونٹی کی گلابو دیوی (وزیر مملکت) اور پاسی کمیونٹی کے سریش پاسی (وزیر مملکت) کو کابینہ میںجگہ دی گئی ہے۔ سکھ کمیونٹی کے بلدیو سنگھ اولکھ (وزیر مملکت) اور مسلم کمیونٹی کے محسن رضا (وزیر مملکت) کو کابینہ میںجگہ ملی ہے۔
راجپوت کمیونٹی سے آنے والے راجندر پرتاپ سنگھ ’موتی سنگھ‘ (کیبنٹ)، جے پرکاش سنگھ (کیبنٹ)، چیتن چوہان (کیبنٹ)، ڈاکٹر مہندر سنگھ (وزیر مملکت آزاد چارج)، سریش رانا (وزیر مملکت آزاد چارج)، سواتی سنگھ (وزیر مملکت) اور رنویندر پرتاپ عرف دھنی سنگھ (وزیر مملکت) کابینہ میںشامل کیے گئے ہیں۔ برہمن ذات کے بھی سات اراکین اسمبلی کو یوگی کابینہ میںجگہ ملی ہے۔ ان میںڈاکٹر دنیش شرما (نائب وزیر اعلیٰ )، ریتا بہوگنا جوشی (کیبنٹ)، برجیش پاٹھک (کیبنٹ)، ستیہ دیو پچوری (کیبنٹ)، شری کانت شرما (کیبنٹ)، ارچنا پانڈے (وزیر مملکت) اور نیل کنٹھ تیواری (وزیر مملکت) شامل ہیں۔ کھتری کمیونٹی کے تین اراکین اسمبلی کو کابینہ میںجگہ ملی ہے، جن میںسریش کھنہ (کیبنٹ)، آشوتوش ٹنڈن ’گوپال‘ (کیبنٹ) اور ستیش مہانا (کیبنٹ ) شامل ہیں۔ بھومیہار کمیونٹی کے دو لیڈروںکو کابینہ میںجگہ دی گئی ہے۔ سوریہ پرتاپ شاہی (کیبنٹ) اور اوپیندر تیواری کووزیر مملکت بنایا گیا ہے ۔
کم عمری معیار
یوگی کابینہ میںلکھنؤ کے سات وزراء ڈاکٹر دنیش شرما، برجیش پاٹھک، ریتا بہوگنا جوشی، آشوتوش ٹنڈن ، سواتی سنگھ،مہندرکمار سنگھ او رمحسن رضا شامل ہیں۔ یوگی کابینہ کی اوسط عمر 54 سال ہے۔ یوگی خود کہہ چکے ہیں کہ وہ راہل گاندھی سے ایک سال چھوٹے اور اکھلیش یادو سے ایک سال بڑے ہیں۔ یوگی نے یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ و راجستھان کے موجودہ گورنر کلیان سنگھ کے پوتے سندیپ سنگھ کو وزیر مملکت بنایا گیا ہے،جن کی عمر 26 سال ہے۔ سابق کرکٹر اور سابق رکن پارلیمنٹ چیتن چوہان قریب 70 سال کے ہیں۔ یوگی کیبنٹ کیسب سے کم عمر کے وزیر شری کانت شرما ہیں۔ کابینہ کے پانچ ممبر اترپردیش کے کسی بھی ایوان کے ممبر نہیںہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔ ڈاکٹر دنیش شرما لکھنؤ کے میئر تھے۔ سوتنتر دیو سنگھ اور محسن رضا بی جے پی تنظیم سے جڑے ہیں۔ اب ان لوگوںکو چھ مہینے کے اندر اسمبلی کا ممبر بننا ہوگا۔
کابینہ کی تشکیل سے قبل 18 مارچ کو راجدھانی لکھنؤ کے اسمرتی اُپون میںہوئی حلف برداری تقریب میںوزیر اعظم نریندر مودی، قومی صدر امت شاہ، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، یونین اربن ڈیولپمنٹ ہاؤسنگ اربن پاورٹی ایلیوئیشن اینڈ انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ منسٹر وینکیا نائیڈو،یونین روڈ ٹرانسپورٹ ہائی وے اینڈ منسٹر آف شپنگ نتن گڈکری،یونین لاء اینڈ جسٹس، منسٹر آف الیکٹرونکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد، یونین منسٹر آف مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کلراج مشر، منسٹر آف اسٹیٹ فار کلچر اینڈ ٹورزم (آزاد چارج) مہیش شرما، مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ سنتوش گنگوار، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ،مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابونائیڈو، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس،گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے بھائی آر روپانی ، راجستھان کی وزیر اعلیٰ شریمتی وسندھرا راجے ، گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پریکر، اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو،نارائن دت تیواری،اکھلیش یادو،جموں وکشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل کمار سنگھ، سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی،سابق مرکزی وزیر مرلی منوہر جوشی اور بھاری جم غفیر کی موجودگی میںگورنر رام نائیک نے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے ساتھیوںکو حلف دلایا۔
ایس پی – بی ایس پی کے دور میںبدعنوانی کی جانچ
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے فوراً بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وہ ایس پی اور بی ایس پی کے دور حکومت میںہوئی بدعنوانی کی جانچ کریں گے اور گھوٹالوںکا پورا حساب کتاب لیںگے تو ایس پی اور بی ایس پی کے لیڈر برا مان گئے۔ دونوں پیش رو حکمراں پارٹیاں بدعنوانی پر کیے گئے یوگی کے حملے کے جواب میں پیش بندیاںکرنے لگیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میںکہا کہ گزشتہ پندرہ سالوںمیںاتر پردیش ترقی کی دوڑ میںکافی پچھڑ گیا ہے۔ اس مدت میںاقتدار پر قابض رہی سرکاریں(ایس پی اور بی ایس پی) کی بدعنوانی اور کنبہ پروری کے ساتھ ساتھ بدحال لاء اینڈآرڈر نے ریاست کا اور ریاست کے عوام کا بھاری نقصان کیا۔ اس لیے موجودہ سرکار بدعنوانی کے تمام پرانے باب کھولے گی، ا س کی جانچ کرائے گی اور خاطیوںپر سخت قانونی کارروائی کرے گی۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کے فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کارروائی شروع کی جائے گی۔ یوگی نے کہا کہ کھانا، رہائش، سڑک، پانی اور ٹائلٹ جیسی بنیادی ضرورتوںکی تکمیل کے ساتھ ساتھ لاء اینڈ آرڈر کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے ریاستی سرکار الرٹ رہے گی۔ وزیر اعلیٰ نے الیکشن سے قبل جاری بی جے پی کے ’لوک کلیان سنکلپ پتر‘ کو صدفی صد لاگو کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ عوامی فلاح وبہبود کے تئیںوقت ریاستی سرکار بغیر کسی امتیاز کے سماج کے سبھی طبقوںکے لیے کام کرے گی۔ یوگی نے وزیر اعظم کی قیادت اور ہدایت میں’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ لاگو کرنے کا پکا ارادہ دوہرایا اور کہا کہ حکومت و انتظامیہ کو حساس اور جوابدہ بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر آؤٹ گوئنگ سماجوادی پارٹی بوکھلا گئی۔ ایس پی کے چیف ترجمان راجندر چودھری نے فوراً بیان دیا کہ بی جے پی سرکار کے وزیر اعلیٰ مہنت آدتیہ ناتھ نے سماجوادی سرکار کی بدعنوانی اور ناکارہ پن کے بارے میںجو بیان دیے ہیں، وہ غیر حقیقی اور بے بنیاد ہیں۔ چودھری نے یوگی کے بیان کے پروپیگنڈہ بتایا اور کہا کہ سنگھ کو ایسے پروپیگنڈہ میںمہارت حاصل ہے، یوگی کو اس سے بچنا چاہیے۔ بی ایس پی نے بھی تیکھا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یوگی کام کم، دکھاوا زیادہ کام کررہے ہیں۔
کسانوں کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پوری ریاست میںگیہوں کی خرید کے لیے پختہ انتظام کی ہدایات دی ہیں تاکہ کسانوں کو اپنی فصل بیچنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے گنا کسانوں کے بقایاجات کی فوری ادائیگی کے لیے بھی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ پیرائی سیشن 2015-16 کی بقایادار چینی ملوں کو سخت ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسانوںکی مکمل بقایاجات ایک ماہ کے اندر کردیں۔ موجودہ پیرائی سیشن2016-17 کے ان چینی ملوں کے مالکوں کو بھی ہدایت دی گئی کہ جنھوںنے مقررہ مدت کے تحت کسانوںکی ادائیگی نہیں کی ہے، وہ بھی ایک ماہ میںبقایاجات کی ادائیگی ہر حال میںکردیں۔ یوگی نے اس بارے میںچیف سکریٹری راہل بھٹناگر کو ضروری ہدایت دی اور کہاکہ ریاست میںگنّا کسانوں کی وقت سے ادائیگی اعلیٰ ترجیحات میںسے ایک ہے۔ مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کرنے پر متعلقہ مل مالکوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سوگرکین کمشنر وپن کمار دویدی نے بتایا کہ موجودہ پیرائی سیشن2016-17 میںریاست کی چینی ملوںپر 22 مارچ تک 4160 کروڑ روپے بقایا ہیں۔ اس سے پہلے کے پیرائی سیشن (2015-16) کا بھی 223 کروڑ روپے بقایا ہے، یعنی چینی ملوں پر کسانوں کا 4383 کروڑ روپے کا بقایا ہے۔
نوکر شاہی میںہڑکمپ
یوگی کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی ریاست کی نوکر شاہی میں ہڑکمپ جیسا مچ گیا۔ اعلیٰ اقتدار کے گلیارے سے لے کر سرکاری محکموںکے پرنسپل سکریٹری اور سکریٹری کے عہدے کو لے کر نوکرشاہوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کی نئی تعیناتی کے امکانات پر جوڑ توڑ شروع ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنے کے لیے تمام نوکر شاہوں کی وی وی آئی پی گیسٹ ہاؤس میںلائن لگنے لگی۔ ایس پی کی مدت کار میںاقتدار کے گلیارے میںلگے نوکر شاہوںکے جماوڑے کو صاف کرنے کی قواعد میںسیندھ لگانے کی کوشش ، وہ نوکر شاہ بھی کررہے ہیں جو مایاوتی یا اکھلیش، دونوںکے دور حکومت میںبڑے اثر دار رہے۔ ڈی جی پی کے عہدے پر تعینات جاوید احمد بنے رہیں، اس کے لیے وہ کوشش کررہے ہیں تو چیف سکریٹری کے عہدے پر بنے رہنے کے لیے راہل بھٹناگر کوشش میںلگے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر سکریٹریٹ میںجگہ پانے کے ے نوکر شاہوں کا نیا لاٹ تیار ہورہا ہے۔ اکھلیش سرکار کے دوران حاشیہ پر رکھے گئے افسروں کو مین اسٹریم میںلانے کا بھی کام ہورہا ہے۔ خبر لکھے جانے سے لے کر شائع ہوجانے کے وقت تک اعلیٰ اقتدار کے گلیارے میںنوکر شاہوںکے تمام چہرے فٹ ہوسکتے ہیں۔
کئی افسر اس انتظار میںبھی ہیں کہ نیا چیف سکریٹری طے ہوتو وہ اس کے مطابق اپنے کارڈ کھیلیں۔ ریاست کی اعلیٰ نوکرشاہی میںتکڑم کے کمپونینٹ لیڈروںسے زیدہ ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ کوئی بھی بڑا افسر بڑی آسانی سے پہچان لیا جاتا ہے کہ وہ کس پارٹی یا کس لیڈر کا چہیتا ہے۔ کچھ افسر آلو کی طرح ہر پارٹی میںگھل جاتے ہیں اور ان کا سواد بن جاتے ہیں۔ جو افسر غیر جانبدار اور ایماندار ہوتے ہیں،انھیںحکمراں پارٹی حاشیہ پر ڈال دیتی ہے۔کئی افسر تو انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی تمام بڑے لیڈروںاور ان سے جڑے پرتشٹھانوںکے چاپلوس چکر لگانے لگے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی مایاوتی کے دور کے تمام مجسمے دھلنے پونچھنے لگے تھے اور سارے پتھر کے ہاتھیوںکو نہلا دھلاکر دھول گرد سے آزاد کرادیا گیا تھا۔ انتخابی نتائج آنے سے قبل ہی بی ایس پی کے دور کے سارے اسمارکون کی صاف صفائی ہوگئی تھی۔ تب اکھلیش یادو کی سرکار تھی۔ انتظامیہ کے ہم عہدوں پر بیٹھے آسپیشس افسروںکو لگ رہا تھا کہ اب تو مایاوتی ہی آرہی ہیں۔ ریاست کے نوکر شاہوںکا معیار یہی ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ الیکشن کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کے چیف سکریٹری راہل بھٹناگر اور ڈی جی پی جاوید احمد کو ہٹانے کی الیکشن کمیشن سے مانگ کی تھی۔ لیکن ایسا نہیںہوا تھا۔ اب ریاست میںبی جے پی کی مکمل اکثریت کی سرکار بننے کے بعد دونوںاعلیٰ افسروںکا ٹرانسفر طے مانا جارہا ہے۔ چیف سکریٹری نے بی ایس پی خیمے سے تعلق بنانے کی کوشش شروع کردی تھی،لیکن بی ایس پی کہیں کی نہیں رہی۔بی جے پی کے ساتھ اپنی ایکوئیشن بنانے میںسابق چیف سکریٹری دیپک سنگھل اور سینئر آئی اے ایس سنجے اگروال بھی لگے ہوئے ہیں۔ سنجے اگروال کے بھائی انل اگروال گجرات کیڈر میںآئی پی ایس افسر ہیں، تو وہ بھی اپنے بھائی کے لیے گجرات لائن ٹھیک کررہے ہیں۔ پرنسپل سکریٹری سطح کے افسر سداکانت اور انوپ چند پانڈے کی بھی سرگرمی دیکھی جارہی ہے ۔ سداکانت کلیان سنگھ کے خاص افسر رہے ہیں۔ انوپ چند پانڈے کلیان سنگھ کے وزیر اعلیٰ کے دور میںانفارمیشن ڈائریکٹر تھے۔پانڈے اوما بھارتی کے نجی سکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔ دوسری طرف چیف سکریٹری سے ریٹائر ہونے کے بعد اکھلیش یادو کے چیف ایڈوائزر بنے آلوک رنجن نے یوگی سرکار کے آتے ہی استعفیٰ دے دیا۔ اس عہدے کے لیے بھی کوئی سابق نوکر شاہوںمیںمقابلہ ہے۔ آلوک رنجن یوپی ایس آئی ڈی سی اور فلم اینڈ ٹی وی انسٹی ٹیوٹ سے بھی ہٹیںگے،لہٰذا وہاںبھی جگہ پانے کی کئی افسروںکی تمنا ہے۔
ڈیپوٹیشن پر گئے کئی افسر بھی اب واپس لوٹنے کے جگاڑ میںہیں۔ بی ایس پی اور ایس پی سرکار میںکئی افسر سینٹرل ڈیپوٹیشن پر چلے گئے تھے۔ 1981 بیچ کے راجیو کمار (اول)،۔ 1982 بیچ کے جے ایس دیپک، نیرج گپتا، پربھاش جھا، 1984 بیچ کے درگا شنکر مشرا، 1986 بیچ کے پربھات کمار شارنگی، 1987 بیچ کے ارون سنگھل، جیویش نندن، 1988 بیچ کے آلوک کمار (اول) ، 1989 بیچ کے ششی پرکاش گویل سمیت کئی افسروں کی یوپی واپسی کی چرچا نوکرشاہی گلیارے میںتیز ہیں۔ اکھلیش سرکار میں وزیر اعلیٰ کے خاص نوکر شاہوںمیںآمود کمار، پارتھ سارتھی سین شرما، پندھاری یادو، امیتا گپتا، جی ایس نوینکمار، اروند سنگھ دیو، اروند کمار، راجیو کمار (دوئم)، رمامن ، پرانجل یادو، کامران رضوی اور سنجے اگروال وغیرہ شامل رہے ہیں۔ جیسا آپ کو بتایا کہ ان میںسے کئی افسر یوگی کے ’گڈ بک‘ میںآنے کے لیے ہلکان ہیں۔ بی ایس پی اور ایس پی کی مدت کار میںاقتدار کا کیک آپس میںبانٹنے والے نوکرشاہوں کی باقاعدہ شناخت ہوچکی تھی۔ مایاوتی کی سرکار میںان کی ذات کے فتح بہادر کے ساتھ ساتھ نونیت سہگل، انل ساگر، کمار کملیش، دنیش چندر، ایس ایم بوبڑے، سدھیر گرگ، نیترام اور ڈی ایس مشرا جیسے افسروںکی طوطی بولتی تھی۔ ان ہی افسروں میںسے کچھ کی اکھلیش سرکار میںبھی طوطی بولتی رہی۔ اب وہ یوگی سرکار میںبھی اپنی طوطی فٹ کرنے کی کوشش میںلگے ہوئے ہیں۔
یوگی کی سختی گٹکھا گیری ، رومیو گیری سے بوچڑگیری تک
یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی وہ سارے مسئلے یوگی ایکشن کے دائرے میںآتے دکھائی دینے لگے، جو بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ یا وزیر اعظم نریندر مودی کے بھاشنوںمیںمدعا بنتے رہے ہیں۔ یوگی نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست بھر میں غیر قانونی بوچڑ خانوں کے خلاف مہم شروع کردی۔ بجلی کی حالت درست کرنے کی قواعدیں ہونے لگیں اور لڑکیوںکے خلاف سرعام ہونے چھیڑ خانیوںکو روکنے کے لیے لچوںپر سخت کارروائیاں ہونے لگیں۔ ریاست کے 11 اضلاع میںاینٹی رومیو اسکواڈ کی تشکیل بھی ہوگئی۔ یہاںتک کہ وزیر اعلیٰ کے سوچھتا ابھیان کو سختی سے لاگو کرنے کے لیے نوکر شاہوںکو قسمیںتک کھلائی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے خود سکریٹریٹ کے مختلف کمروں کا دورہ شروع کردیا اور پان و گٹکھا کی گندگی پر بھڑک اٹھے۔ انھوںنے سرکاری احاطے میںپان و گٹکھا پر فوری طور پر روک لگادی اور فائلوںپر اٹی دھول گرد کو دیکھ کر تیز رفتار سے فائلوںکے نتھارنے کا فرمان جاری کیا۔ وزیر اعلیٰ نے چارج سنبھالنے کے دوسرے دن ہی حضرت گنج کوتوالی کا اچانک جانچ کی اور پولیس کو سدھر جانے کی تاکید کی۔ انھوںنے پولیس اہلکاروں کو اپنے رویہ میںتبدیلی لانے کی ہدایت دی اور کہاکہ تھانے پر فریاد لے کر آنے والے شکایت کرنے والوں کو پوری عزت دی جانی چاہیے۔ہر ایک متاثرہ شخص کی ایف آئی آر فوری طور پر درج کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک تیزاب سے متاثرہ کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کی خبر آتے ہی وزیر اعلیٰ اس لڑکی سے ملنے اسپتا ل پہنچ جانا بھی عام لوگوںکی چرچا کا موضوع بنا ہوا ہے۔ لوگ ابھی سے یوگی کی حساسیت کا چرچا کرتے ہوئے مل جائیںگے۔ وزیر اعلیٰ نے اقتدار سنبھالتے ہی گائے کی اسمگلنگ پر بنا تاخیر پابندی لگانے کی بھی ہدایت دی اور اس غیر قانونی دھندے میںلگے مجرموںکے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہا۔ انھوں نے مختلف شہروںاو رقصبوںمیںچلنے والے غیر قانونی بوچڑ خانوںاور گوشت کی غیر قانونی دوکانوںکو بند کرنے کے لیے فوری طور پر ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔
یوگی نے نوکرشاہوںسے صاف صاف کہا کہ عوام نے ’گڈ گورننس‘ کے لیے بی جے پی کو بھاری اکثریت دی ہے، لہٰذا عوام کو چست درست نظام فراہم کرانا سرکاری کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اجودھیا میںرامائن میوزیم کے لیے 25 ایکڑ زمین دینے کا بھی اعلان کردیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس پروجیکٹ کے لیے مودی سرکار پہلے ہی 154 کروڑ روپے جاری کرچکی ہے۔
اب کون بنے گا ریاستی بی جے پی کا صدر
اترپردیش بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کے یوپی کا نائب وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد ریاستی صدر کا عہدہ خالی ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی تنظیم کے کئی عہدے خالی ہوںگے، جسے جلدی ہی بھرا جانا ہے۔ ریاستی صدر کا عہدہ کسے ملے گا اسے لے کر قیقد سے زیدہ چھینا جھپٹی شروع ہوگی ہے۔ ذات اور کنبہ پروری کے خلاف تمام سیاسی تقریریں پڑھنے والی بی جے پی نے ٹکٹ بٹوارے سے لے کر کابینہ کے بٹوارے تک ذات اور پریوار کو ہی بنیاد بنایا۔ اب اسی بنیاد پر ریاستی صدر کا عہدہ جھپٹنے کی بھی تیاری ہے۔ ریاستی صدر کے عہدے کو لے کر برہمنوںمیںکچھ زیادہ ہی دعویداری ہے۔ بے صبری اتنی ہے کہ ایک خیمے نے وجے بہادر پاٹھک کانام بھی نئے ریاستی صدر کے طور پر چلوادیا۔ پاٹھک کے جسم کی بھاشا بھی صدر والی بولی بولنے لگی۔ دوسری طرف دلت کمیونٹی کے لوگوںمیںیہ مانگ بڑھی کہ پچھڑی ذات کے صدر کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اس دلت کمیونٹی کے لیڈر کو صدر بنایا جانا چاہیے، جس کی سیاسی طاقت زیادہ ہے او رجس نے مایاوتی کے خلاف زیادہ لوہا لیا ہے اور بی جے پی کا کھلا ساتھ دیا ہے۔ ریاست کی قریب بیس فیصد دلت آبادی میں16 فیصد والی پاسی ذات دوسری سب سے بڑی دلت ذیلی ذات ہے۔ اس بنیاد پر پاسی کمیونٹی کے لوگوںکا دعویٰ زیادہ مضبوط ہے۔ ابھی اس بارے میںبی جے پی اعلیٰ کمان نے واضح طور پر طے نہیںکیا ہے، لیکن ریاستی تنظیم کے کئی لیڈروں کے کابینہ میںشامل ہونے کے بعدخالی ہوئے اہم عہدوںکے لیے فوراً ہی تمام لیڈروں نے زور آزمائش شروع کردی۔ اعلیٰ کمان نے اگر دلت لیڈر کو ریاستی صدر بنانے کا فیصلہ لیا تو آگرہ کے رکن پارلیمنٹ مرکزی وزیر رام شنکر کٹھوریا،لکھنؤ کے موہن لال گنج سے رکن پارلیمنٹ کوشل کشور، بلند شہر کے رکن پارلیمنٹ بھولا سنگھ، کوشامبی کے رکن پارلیمنٹ ونود سونکر، سابق رکن اسمبلی منشی لال گوتم اور ودیا شنکر سونکر کے ناموںپر غورکیا جاسکتا ہے۔ کوشل کشور پاسی کمیونٹی سے آتے ہیں۔ یوپی اسمبلی کے الیکشن میںملیح آباد سیٹ سے ان کی بیوی جے دیوی جیت کر آئی ہیں،لہٰذااس ریس میں کوشل کی دعویداری مضبوط مانی جاسکتی ہے۔ لیکن سب سے مضبوط دعویداری سابق مرکزی وزیر اشوک پردھان کی ہے، جن کی انتھک کوششوںسے مایاوتی کے دلت ووٹ میںسیندگھ لگی اور بی جے پی کو بھاری تعداد میںدلت ووٹ ملے۔
اسی طرح ریاستی تنظیم کے مختلف عہدوں پر بھی نامزدگی ہونا ہے۔ ٹکٹ تقسیم میںکئی مضبوط دعویداروںکو ٹکٹ نہیںملا۔ کئی علاقائی وزیروںتک کو ٹکٹ نہیںملا جبکہ کئی جونیئروں کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ بی جے پی قیادت کے اس رویہ کے خلاف تنظیم میںاندر اندر جو ناراضگی ہے اسے دور کرنے کے لیے ان سبھی دعویداروں کو ریاستی تنظیم میںتنظیمی عہدہ دیے جانے کی تیاری ہورہی ہے ۔ اس کے لیے خاص طور پر ریاستی سنگٹھن منتری سنیل بنسل کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ سنگٹھن کے خالی ہونے والے عہدوںکے لیے قابل عہدیداروںکا انتخاب کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *