جب یوگی نے مدرسہ، مسجد اور قبرستان سے قبضے ہٹوائے

Yogi-gاترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے شعلہ بیان مقرر رہے ہیں۔فرقہ پرستی ان کا اوڑھنا او ربچھونارہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں ان کاکوئی ثانی نہیں ہے۔ ان کے بیانوںسے صاف جھلکتا ہے کہ مسلمانوںکے تعلق سے وہ آگ کھاتے ہیں او رانگارے اگلتے ہیں۔ لیکن جب ان کی عملی زندگی کا دوسرا پہلو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یوگی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک فائر برانڈ او رسخت گیر بھگوا لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سینے میں ایک دردمند دل بھی رکھتے ہیں اور مسلمانوںکے تئیںخاصانرم گوشہ رکھتے ہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ کی نمائندگی کے دوران جب یوگی آدتیہ ناتھ اپنے پارلیمانی حلقہ گورکھپور میں جنتا دربار لگاتے تھے تو اس میں ہر فرقہ کے لوگ اپنی اپنی پریشانیاں لے کر پہنچتے تھے اور یوگی بلا تفریق مذہب وملت سب کی پریشانیاں حل کرتے تھے۔ ان کے جنتادربار میںہندو ؤں کے ساتھ ساتھ مسلمانوںکی بھی کثیر تعداد ہوا کرتی تھی۔ افسران کے لیے لکھے گئے ان کے خط کو لوگ’ مہاراج کی چٹھی‘ کہتے تھے ، جو میجک لیٹر کی طرح کام کرتی تھی ۔ یہ لیٹر ہر خاص و عام کو بلا تفریق ہندو اور مسلمان سب کو دے دی جاتی تھی۔ افسران بھی ان کے لیٹر کو نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔
یوگی کی مسلمانوںکے تئیںنرم گوشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گورکھناتھ مندر کے پہلے انجینئر مسلمان رہے ہیں۔ ان کا نام نثار احمد تھا۔ مندر کے سپروائزر بھی مسلمان ہیں۔ گئو سیوا کیندر میںبھی کچھ مسلمان خدمت گار ہیں۔ اس کے علاوہ مندر کی دکانوںکے زیادہ تر کرایہ دار بھی مسلمان ہیں اور ان کی سبھی سے یوگی جی کی اچھی دعا سلام رہتی ہے۔ ان کے خوشی و غم میں یوگی برابر کے شریک رہتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ گورکھناتھ مندر کے تمام تعمیراتی کام ایک مسلم محمد یاسین انصاری کی نگرانی میںہی انجام پاتے ہیںاور وہ ہی مندر کے اخراجات کا حساب کتاب بھی رکھتے ہیں۔ یاسین انصاری کا کہنا ہے کہ یوگی جی کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ جب بھی وہ یہاںآتے ہیں، تو سب سے پہلے مجھے یاد کرتے ہیں اور کام کے بارے میںپوری معلومات کر تے ہیں۔ میںان کے گھر میںآزادی کے ساتھ گھومتا پھرتا ہوں، یہاں تک کہ ان کی رسوئی اور بیڈ روم تک میںبلاروک ٹوک جاتا ہوں۔ وہ میرے ساتھ کھانا کھانے سے بھی گریز نہیںکرتے ہیں۔
یاسین انصاری کہتے ہیں کہ وہ آنجہانی مہنت اویدیہ ناتھ کے دور میں 1977 میںمندر سے وابستہ ہوئے اور 1977-83 تک بطور خزانچی مندرمیںکام کرتے رہے۔ 1983 کے بعد سے وہ مندر میںسپروائزر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ مندر کے احاطے میں ہونے والی تعمیر اور اس کی تزئین کاری میری ہی نگرانی میںہوتی ہے۔ ‘‘ان کا کہناہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ بلا تفریق مذہب و ملت غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ مدد کرتے وقت وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مسائل سے دوچار ہونے والا شخص ہندو ہے یا مسلمان؟ سب کی پریشانیوں کو حل کرنا ہی ان کا مقصد ہوتا ہے۔ ان کی انسان دوستی کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ گورکھناتھ مندر کی دکانیں زیادہ تر مسلمانوں کو کرائے پر اٹھائی ہوئی ہیں۔ان مسلم کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ ہم برسوںسے یہاںدکان لگائے ہوئے ہیں۔ یوگی جی ہمیشہ ہماری مدد کرتے ہیں او راگر کوئی نامساعد حالات پیش آتے ہیں تب بھی وہ ان کی مناسب مدد کرتے ہیں ۔ یاسین مزید بتاتے ہیں کہ ان کے والد ولی محمد سب سے بڑے مہنت دگوجے ناتھ کے زمانے میں پی پی گنج گورکھپور سے مندر آئے تھے۔ بھنڈارہ کی ذمہ داری ان ہی کے سپرد کی گئی تھی۔مندر اور اس کے تین درجن سے زیادہ اداروں سے سیکڑوں مسلم خاندان جڑے ہوئے ہیں۔ ہندو مسلم اتحاد کی مثال گورکھناتھ مندر کے احاطے میںلگنے والے ’کھچڑی میلہ ‘ میں خاص طور سے دیکھنے کو ملتی ہے جہاںزیادہ تر نقاب پوش خواتین میلہ میںگھومتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ ایسے بھی واقعات بتائے جاتے ہیں جب مدرسہ اور مسجد کے ساتھ قبرستان کے قضیہ یوگی جی نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ نمٹائے ہیں، ناجائز قبضے ہٹوائے ہیںگورکھپور اور اس کے اطراف کے بے سہارا مسلمانوںکی مدد کرکے بھید بھاؤ کے خلاف اپنے غیر جانبدارانہ رویہ کا ثبوت دیا ہے۔ یوگی کا سبھی فرقہ کے لوگ احترام کرتے ہیں۔ایک بار کا واقعہ ہے کہ گورکھپور کے محلہ رسول پور کے ایک مدرسہ کی زمین پر کچھ دبنگوںنے قبضہ کرلیا۔ مدرسے کے منتظمین نے قبضہ ہٹانے کی لاکھ کوشش کی، لیکن دبنگوں نے ان کی ایک نہ سنی ۔ تھک ہار کے مدرسہ کے لوگ اپنے ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ کے پاس مندر میں پہنچے اور اپنی افتاد سے انھیں آگاہ کیا۔ یوگی جی نے ان کی بات سن کر فوراً ایس ایس پی کو فون کیا اور کہا کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر مدرسہ کی زمین خالی نہیں ہوئی تو پھر اس کا انجام تم جانوگے۔ چنانچہ فوری طور پر گورکھپور انتظامیہ الرٹ ہوئی اور کارروائی کرتے ہوئے مدرسہ کی زمین پر سے دبنگوں کا قبضہ ہٹوادیا۔اسی نوعیت کا واقعہ 2014 میں پیش آیا جب گورکھپور کی بڑی جامع مسجد کا راستہ کچھ لوگوںنے روک دیا تھا۔ یہاںکے پریشان لوگوںنے اس کی مخالفت کی تو پولیس نے ان پر طاقت کا استعمال کردیا۔ چنانچہ یہ معاملہ مسلمانوںنے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ کے گوش گزار کیا۔ تب یوگی جی خود موقع پر پہنچے او رخود وہاں کھڑے ہوکر مسجد کا راستہ کھلوایا۔
آدتیہ ناتھ کے گائے پریم سے سبھی لوگ واقف ہیں۔ ان کے گئو سیوا کیندر میںایک سے بڑھ کر ایک اچھی نسل کی گائیں پائی جاتی ہیں۔ ان کی تعداد چار سو کے قریب ہے۔ گئو سیوا کیندر میںگجراتی ، شہوال، دیسی اور گرنسل کی گائیںکافی اہمیت کے حامل ہیں۔ان گایوںکی دیکھ بھال کے کام میں بھی کچھ مسلم لوگ شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مندر کی طرف سے جو اسپتال چلتاہے ، ا سسے ہندو اور مسلمان سبھی مستفید ہوتے ہیں اور یہاںکسی قسم کا امیتاز نہیں برتا جاتا۔
مدرسہ ،مسجد اور قبرستان سے قبضہ ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے گورکھپور میں روزنامہ ’انقلاب‘ کے نمائندہ خصوصی محمد عاطف نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے مندر میںبنی دکانوںکے زیادہ تر کرایہ دار مسلمان ہیں اور مندر کا سپروائزر بھی مسلمان ہے ، یہاںتک کہ یوگی کے گئو سیوا کیندر میںبھی کچھ مسلمان کام کرتے ہیں اور ان کی شبیہ گورکھپور کے مسلمانوںمیںبہت اچھی ہے ۔ مسلمان ان کے پاس اپنے مسائل لے کرجاتے ہیں اوروہ انھیںحل بھی کرتے ہیں۔ ان مسائل میںریلوے ریزرویش کے چھوٹے سے کام سے لے کر مسجد ،مدرسہ کے قضیہ بھی شامل ہوتے ہیں۔
ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بنائے جانے پریہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کے وزیر اعلیٰ بننے سے مسلمانوںمیں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور وہ بہت بے چینی محسوس کررہے ہیں۔ اس کی وجہ بھی معقول ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی سیاسی زندگی میں مسلمانوںکے خلاف فرقہ پرستی پر مبنی ایسے نفرت انگیز بیان دیتے رہے ہیں، جنھیںسن کر ایک عام آدمی بھی کہہ سکتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ایک خالص بنیاد پرست ہندو لیڈر ہیں اور ان کے وزیر اعلیٰ بنائے جانے پر مسلمانوں کا خوف و ہراس میںمبتلا ہونا فطری ہے۔لیکن جب یوگی کی اپنے پارلیمانی حلقہ میں عملی طور پر بلاتفریق مذہب و ملت خدمات پر نظر ڈالتے ہیںتو ان کے اندر سے ایک ایسی سیکولر شبیہ ابھر کر آتی ہے، جو ہندو ، مسلمان،سکھ اور عیسائی سب کو صرف اور صرف ہندوستانی سمجھتی ہے اور ان کی مدد کرنے میںکوئی امتیاز نہیںبرتتی ہے، لہٰذا یوگی سے مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے خاص طور سے ان کے پارلیمانی حلقہ گورکھپور میںمنتیںمانگی گئیں، مزاروںپر چادر بھی چڑھائی گئی اورپھر ان کے وزیر اعلیٰ بننے پر جشن بھی منایا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *