افغانستان میں فوجی کیمپ پر حملہ ، 66 فوجی ہلاک

Afghanistan-Army-Campنئی دہلی:مزار شریف: افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف کے نزدیک آرمی کیمپ پر طالبان نے حملہ کر دیا۔ جس میں 66فوجی ہلاک ہو گئے۔ حملہ آوروں نے افغانستان ملٹری کی ڈریس پہن رکھی تھی۔ مزار شریف بلکھ صوبہ کی راجدھانی ہے۔ اس درمیان نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے اس حملہ کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مزار شریف میں بزدلانہ حملہ میں سخت مذمت کرتا ہوں، اپنے عزیزان کو کھونے والے اہل خانہ کے لئے میں دعا کرتا ہوں ۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق بلکھ صوبہ میں آرمی کیمپ پر حملہ جمعہ کے روز ہوا۔ 10حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی، بعد میں 2حملہ آوروں نے خود کو اڑا لیا۔ افغان کمانڈوز کی جوابی کارروائی میں 7حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک کو پکڑ لیا گیا۔ امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ طالبانی حملہ میں 50سے زیادہ افغانی فوجیوں کی موت ہو گئی۔ یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔ افغانستان کے ایک افسر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے افغانی آرمی کی ڈریس پہن رکھی تھی۔ لہٰذا انہیں چیک پوسٹ پاس کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی، اسی وجہ سے وہ آرمی کیمپ کے پاس پہنچ گئے۔
ناٹو کے ریسالیوٹ سپورٹ آپریشن کے کمانڈر یو ایس جنرل جان نکولسن نے بتایا کہ حملہ ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے فوجیوں پر کیا گیا۔ اس کے علاوہ کھانا کھا رہی افغانستان آرمی کی 209ویں کارپس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ افغان ڈیفنس منسٹری کے ترجمان دولت وزیری نے بتایا کہ ایک حملہ کو زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔ حملہ میں درجنوں فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق حملہ کے دوران کئی ملٹری ہیلی کاپٹرس موقع پر فوجیوں لاشیں اٹھاتے نظر آئے۔
طالبان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے آرمی کیمپ پر ہوئے حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ اس سے قبل افغانستان میں آرمی کو اسی سال مارچ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ افغانستان میں امریکہ کے قریب 8400فوجی ابھی بھی تعینات ہیں۔ جبکہ ناٹو کے بھی قریب 5000فوجی وہاں موجود ہیں۔ یہ ملک طویل وقت تک طالبان اور دیگر اسلامی جنگجوؤں کے قبضہ میں رہا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *