مرکزی حکومت بتائے آدھار کارڈ لازمی کیوں کیا؟: سپریم کورٹ

Aadhar-Card-&-Supreme-Courtنئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا ہے کہ جب ہم نے آدھار کارڈ کے استعمال کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا حکم دیا تھا، پھر اسے لازمی کیوں کیا گیا۔ آج آئی ٹی ریٹرن فائل کرنے میں آدھار لازمی کرنے کے خلاف دائر پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ کیا۔ کورٹ نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے اس بارے میں فیصلہ سنائے گا کہ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لئے آدھار کو ضروری کیا جانا چاہئے یا نہیں۔
نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق سپریم کورٹ کی بینچ نے پوچھا کہ آ پ آدھار کارڈ کو لازمی کیسے کر سکتے ہیں، جبکہ ہم نے اسے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا آرڈر پاس کیا تھا۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل موکل روہتگی نے کہا کہ حکومت کے پاس اب اسے استعمال کرنے کے لئے قانون ہے۔ حکومت کا موقف رکھتے ہوئے روہتگی نے کہا کہ ہم نے پایا ہے کہ تمام مکھوٹا کمپنیوں میں فنڈس کو ٹرانسفر کرنے کے لئے پین کارڈس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے روکنے کے لئے آدھار کارڈ کو لازمی کرنا ہی واحد متبادل ہے۔
گزشتہ مہینے ہی مرکزی حکومت نے آئی ٹی ریٹرن فائل کرنے، پین کارڈ کے لئے درخواست کرنے اور اس میں ترمیم کرنے کے لئے آدھار لازمی کر دیا تھا۔ وزیر خزانہ نے اس فیصلہ کی جانکاری دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا ہدف پین کارڈس کے ساتھ آدھار کو جوڑنا ہے تاکہ ڈپلی کیٹس پین کارڈس کے استعمال کو روکا جا سکے۔
اس سے قبل 11اگست ، 2015کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سرکاری اسکیموں کے لئے آدھار کارڈ کو لازمی نہیں کیا جا سکتا۔ کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ مرکزی حکومت کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو بتانا چاہئے کہ شہری کے لئے آدھار کارڈ بنوانا لازمی نہیں ہے۔ شہریوں کو ملنے والی کسی بھی سہولت کے لئے آدھار کارڈ کی لازمیت طے نہیں کی جا سکتی۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *