طاقتور مودی اور ان کے چیلنجز

shujaat-bukhariپانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج ،خاص طور پر اتر پردیش الیکشن کے نتائج میں کئی چونکانے والے حقائق رہے۔ ان نتائج کے بعد کے جوش و جذبے نے دو اور ریاستوں منی پور اور گوا، جہاں بی جے پی کو اکثریت نہیں ملی تھی، کو بھی اس کی جھولی میں ڈال دیا۔ حالانکہ ایگزٹ پولز نے اتر پردیش میں بی جے پی کے لئے اکثریت کی پیشن گوئی تو کی تھی، لیکن اتنی بڑی اکثریت کی پیشن گوئی نہیں کی تھی۔ بی جے پی نے ریاست میں خود کو از سر نو مستحکم کرنے میں لگی کانگریس کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی جیسی مضبوط پارٹیوں کو بھی اکھاڑ دیا۔
اس میں کوئی شک کی نہیں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست کامیابی کو دوہرا کر وزیراعظم نریندر مودی سب سے بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔مودی کے منتظم اور بی جے پی صدر امیت شاہ کو بھی پارٹی کی شاندار جیت کے لئے سہریٰ دیا گیا ہے۔ اب جبکہ ایک لمبے عرصے کے بعد اتر پردیش بی جے پی کی جھولی میں آگیا ہے ،یہ 2019 کے عام انتخابات کی سمت بھی طے کرے گا،جو مودی اور ان کی ٹیم کے لئے بہت اہم ہے۔
دراصل یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے کہ اس الیکشن میں پولرائزیشن کا استعمال کیا گیا۔ مودی کے سرخیوں میں چھائے ’’ قبرستان اور شمشان‘‘ کے ریمارکس نے توازن کا جھکائو ان کی طرف کرنے میں کافی مدد کی،لیکن جس طرح سے نتائج سامنے آئے ،ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاید مذہب کا کارڈ سامنے آنے سے پہلے ہی زیادہ تر ووٹ بینک کا بہت حد تک ہِردَے پریورتن ہو چکا تھا۔غور طلب ہو کہ اتر پردیش کی ریلی میں انہوں نے کہا تھا کہ گائوں میں قبرستان بنتا ہے تو شمشان بھی بننا چاہئے۔یعنی اگر مسلمانوں کے لئے ایک قبرستان بنایا گیا ہے تو ہندوئوں کے لئے شمشان بننا چاہئے۔ ریاست میں 2014 کے انتخابات میں 42فیصد ووٹ حاصل کرکے نریندر مودی نے دہلی کے اقتدار تک بی جے پی کو پہنچانے کا راستہ صاف کیا تھا۔
اس بار بی جے پی کو ایک اضافی فائدہ یہ ہوا کہ اتر پردیش انتخابات میں اہم کردار نبھانے والی الگ الگ ذات نے مثالی طور سے پارٹی کے لئے ووٹ کیا۔ عام طور سے دیکھا جائے تو 41فیصد شیڈولڈ کاسٹ نے، 42فیصد اوبی سی نے، 44فیصد عام کٹیگری نے ، 45 فیصد جاٹوں نے اور 38فیصد یادوئوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا اور اگر مسلمانوں کے ووٹ کے تجزیہ کو سچ مان لیاجائے تو انتخابی نتائج کا اندازہ انتخاب سے بہت پہلے لگایا جاسکتا تھا۔
کل ملا کر یہ جمہوریت کی جیت ہے اور اس کا جشن منایا جارہا ہے۔لیکن پچھلے دو سالوں میں بی جے پی نے جس طرح سے پاور کا استعمال کیا ہے ،اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید انتہائی طاقتور سرکار ہندوستان کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ہندوستان اپنی ڈائیورسٹی پرفخر کرتا رہا ہے۔ اقلیت یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے اور بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈروں کا جو رویہ رہا ہے،اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اقلیتوں کے لئے ایک اطمینان بخش زندگی گزارنے کا دائرہ اور سکڑ جائے گا۔
انتخابات سے پہلے بی جے پی نے یہ ظاہر کر دیا تھا کہ اسے مسلمانوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پارٹی نے ایک بھی مسلم امیدوار انتخاب میں نہیں اتارا تھا۔تقریبا 20فیصد مسلم آبادی والی ریاست اترپردیش کی اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی اتنی کم کبھی نہیں تھی۔گزشتہ اسمبلی میں 71 مسلم ممبروں کے مقابلے میں اس بار صرف 24 ممبر چنے گئے ہیں۔ 24 مسلم ایم ایل ایز میں سے 15 ایس پی ٹکٹ پر، 7 بہو جن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر اور2 کانگریس کے ٹکٹ پر چنے گئے ہیں۔ اب جبکہ مودی ایک مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں تو ملک چلانے کا ان کے سامنے بڑا چیلنج ہے۔ اس طرح کی پیشن گوئیاںکہ ڈیمونیٹائزیشن جیسا فیصلہ انہیں لے ڈوبے گا، غلط ثابت ہوا ہے۔ دراصل ڈیمونیٹائزیشن نے غریبوں کو نقصان پہنچایاتھا، اس لئے مودی کو یوپی میں انتخاب میں نقصان ہونا چاہئے تھا لیکن ہوا ٹھیک اس کے برعکس ۔
اسی طرح کئی دیگر فیصلے ان کے لئے مثبت ثابت ہورہے ہیں،حالانکہ لمبے وقت کے بعد انہیں اس کا منفی پہلو بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ بائیں محاذ کے منظر سے غائب ہونے کے ساتھ ساتھ مودی افیکٹ نے کانگریس کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ دوسری ریاستوں میں اپنی جیت کا جشن نہیں منا سکتی۔یہ حقیقت ہے کہ اتر پردیش سے 80 اراکین پارلیمنٹ چنے جاتے ہیں۔ یہ اراکین دہلی کا اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والی کسی بھی سیاسی پارٹی کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کانگریس قیادت کی انتہائی کمزوری نے بھی مودی کے لئے راستہ آسان کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیںکہ خاندانی سیاست اپنی دھار کھو رہی ہے۔
مودی کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔ جن میں اقلیتوں کے بیچ تحفظ کا احساس بحال کرنا سب سے اہم چیلنج ہوگا۔ اقتصادی ترقی یقینی بنانا اور افراط زر پر کنٹرول رکھنا ان کا دوسرا اہم چیلنج ہے۔ غریبوں کو مودی سے زیادہ توقعات ہیں۔ کیونکہ خود ان کے عام پس منظر کی وجہ سے غریب خود کو ان کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔بہر حال ان کے سامنے ایک سب سے بڑا ایشو یہ بھی ہوگا کہ وہ کشمیری مسئلے اور پاکستان سے کیسے نمٹتے ہیں۔ مودی نے 25دسمبر 2015 کو غیر مقررہ طور سے لاہو رجاکر سب کو حیران کردیا تھا۔لیکن مختلف وجوہات سے اس عمل میں یکسانیت برقرار نہیں رک سکی۔ انہوں نے یہ اسٹینڈ لیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتیں اور یہی ان کی پارٹی کی بھی چاہت تھی۔ شاید پاکستان مخالف پالیسی نے یوپی انتخابات میں بی جے پی کو فائدے پہنچایا لیکن اگر مودی کشمیر کو لے کر کچھ کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو پاکستان سے بات چیت کرنا ناگزیر ہے۔
وہ اتنے طاقتور ہیں کہ نہ تو ان کی پارٹی کے اندر اور نہ ہی باہر کوئی ان کے روڈ میپ پر سوال کھڑا کرسکتا ہے ۔پچھلے کچھ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے بیچ رشتوں میں کچھ مثبت بدلائو ہوئے ہیں، حالانکہ اس میں سے ابھی تک کچھ ٹھوس چیز ابھر کر سامنے نہیں آئی ہے ۔صرف مودی ہی ہیں جو دونوں ملکوں کے رشتوں میں بدلائو لاسکتے ہیں، کیونکہ پاکستان نے ہندوستان کے تئیں اپنے نقطہ نظر میں کچھ بدلائو کئے ہیں۔
کشمیر مسئلے کو کیسے نمٹنا ہے، یہ مودی کے لئے ایک آزمائش ہے،حالانکہ ابھی تک انہوں نے اپنی پارٹی کی پیش قدمی کے عزم کو مسترد کردیا ہے جو پی ڈی پی کے ساتھ اس کے الائنس کے ایجنڈے میںشامل تھا۔ انہیں صرف اپنے عزم پورے کرنے ہیں ،کوئی نئی پیش نہیں کرنی ہے۔ انہیں کرنا یہ چاہئے کہ وہ عام نوکرشاہی نقطہ نظر ،جو کشمیر کو صرف قانون و نظام کے چشمے سے دیکھتا ہے،کو چھوڑ دیں۔ کشمیر تک پہنچنے اور کچھ ٹھوس قدموں کی بنیاد رکھنے کا اکلوتا طریقہ یہ ہے کہ اسے سیاسی طور سے دیکھا جائے۔ اب تک کوئی دیگر متبادل کارگر ثابت نہیں ہوا ہے۔ چاہے وہ فوجی متبادل ہو یا مالی متبادل ۔آنے والے مہینوں میں ان کی طاقت کی آزمائش ہوگی اور اگر وہ بدلائو لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اور زیادہ مضبوط ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو بھلے ہی وہ طاقتور رہیں لیکن اپنے ملک کو کمزور کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *