یو پی کے 7 پیٹرول پمپوں پر چھاپے، چپ لگا کر کر رہے تھے دھاندلی

Patrol-Pumpلکھنؤ: ایس ٹی ایف کی ٹیم نے راجدھانی میں گزشتہ شب 7پیٹرول پمپوں پر چھاپہ مارا ۔تفتیش میں پایا گیا کہ گاہکوں کو کم پیٹرول دیا جا رہا تھا۔ پیٹرول پمپ میں چپ، ریموٹ کنکٹ کر کے اس کام کو انجام دیا جا رہا تھا۔ گاہکوں کو ایک لیٹر میں 50-60ایم ایل تک کم پیٹرول دئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایک پیٹرول پمپ اس چوری سے روز ایوریج 40سے 50ہزار روپے اور مہینے میں بارہ سے 15لاکھ روپے کما رہا تھا۔ پکڑے گئے ایک ملزم نے بتایا کہ 1ہزار سے زیادہ پیٹرول پمپوں پر چپ لگائی گئی ہے۔
ایس ٹی ایف نے چوک۔کے جی ایم یو کے سامنے پیٹرول پمپوں پر چھاپہ مار کر کئی مشینیں سیل کر دیں۔ چھاپہ کی مارروائی میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ، سپلائی ڈپارٹمنٹ ، آئل کمپنیوں کے نمائندے اور ناپ تول محکمہ کے افسر بھی شامل تھے۔ اس دوران پیٹرول پمپوں کی مشینوں میں تیل چرانے کے لئے لگائی گئی چپ اور ان کے ریموٹ برآمد ہوئے۔
ایس ایس پی ایس ٹی ایف امت پاٹھک نے بتایا کہ پیٹرول کم دینے کے اس کھیل میں ایک بڑے گروہ کا ہاتھ ہے، جس نے یو پی کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی پیٹرول پمپوں پر چپ اور ریموٹ لگائے ہیں۔ ایس ٹی ایف نے اس گروہ سے جڑے راجیندر نام کے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔ اس نے پوچھ تاچھ میں لکھنؤ کے 7پیٹرول پمپوں میں چپ اور ریموٹ لگانے کی بات قبولی ہے۔ایس ایس پی امت پاٹھک نے 5ڈپارٹمنٹس کے ساتھ مل کر سات ٹیمیں بنا کر چھاپہ ماری کی کارروائی کی۔
آپ کو بتا دیں کہ اس کھیل میں عموماً 2سے 3لوگ شامل رہتے تھے۔ اس میں ایک پیٹرول ڈالتا تھا اور دوسرا کیش کا بیگ لے کر کھڑا رہتا تھا۔ بیگ کو لے کر کھڑے رہنے والا پیسوں کے ساتھ ہی ریموٹ رکھتا تھا۔ موقع ملتے ہی وہ ریموٹ دبا کر پیٹرول کی سپلائی بند کر دیتا تھا۔ کچھ جگہ پر ان دونوں کے علاوہ تیسرا ملازم جیب میں ریموٹ لے کر کھڑا رہتا تھا۔ ایس ایس پی ایس ٹی ایف نے بتایا کہ یہ لوگ ترین سرکٹ میں چپ لگا کر کھیل کرتے تھے۔ کچھ جگہ ایم سی بی اور کچھ جگہ پینل میں سرکٹ لگایا گیا تھا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *