خود کشی کے بعد بھی کسان کے ڈھانچوں کی سرکار سے فریاد

damiنرنجن مشرا
آزادی کے بعد سے اب تک سیاسی نعروںمیں یہی کہا گیا کہ کسان آباد ہوں، لیکن ان کی زمینی سچائی بربادی ہی بنی رہی۔ ہر الیکشن میں حکمراں اور حزب اختلاف کے لیے کسان ہی مدعا رہا، لیکن کسان کی زندگی مفلسی کو مات نہیںدے سکی۔ اپنے حالات سدھارنے کے لیے کسانوں نے کئی آندولن چلائے، لیکن کبھی بھی وہ منظم ہوکر سرکار تک اپنی بات نہیں پہنچا سکے۔ ہر دن حالات کے آگے دم توڑکر خود کشی کے اعداد وشمار میں جڑتے جارہے کسان، اب جب قبروںسے نکل کر دہلی تک آپہنچے ہیں، تو کیا سرکار اب ان کی بات سنے گی۔۔۔
29 مارچ کو جب سنسد بھون کے احاطہ میں پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت ہمارے تمام رکن پارلیمنٹ فٹ بال کو کِک مارکر فیفا ورلڈ کپ کے لیے ماحول بنا رہے تھے، ٹھیک اسی وقت ان ہی کی رہنمائی میںرہنے والے کچھ لوگ اپنی کچھ مانگوںکو لے کر ان کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے گلے میں کھوپڑی لٹکائے جنتر نتر پر آندولن کررے تھے۔ لیکن افسوس کہ اس دن کے تمام نیوز چینلوں اور اگلے دن کے اخباروں میں ہمارے لیڈروں کے ذریعہ فٹ بال کو لات مارنا تو سرخیاں بن گیا لیکن اپنے گلے کھوپڑی لٹکائے لوگوں کو اخباروں میںجگہ نہیںمل پائی جو اقتدار ، سیاست و نظام کی چشم پوشی کے سبب گزشتہ کئی سالوںسے بدحالی میںجی رہے ہیں۔ اور اب سرکار تک اپنی بات پہنچانے کے لیے اپنے ان لوگوں کی کھوپڑیوںکے ساتھ دہلی تک آپہنچے ہیں، جنھیں قرض کے بوجھ اور مفلسی نے خود کشی کرنے پر مجبور کردیا۔ 12 مارچ کو شروع ہوا آندولن اب بھی جنتر منتر پر جاری ہے لیکن سرکار کی طرف سے اب تک ان کامسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ یوپی میںکسانوںکا قرض معاف کردیا گیا۔ ادھر مدراس ہائی کورٹ نے بھی ریاستی اور مرکزی سرکار کو ہدایت دی ہے کہ کسانوںکے مسائل جلد سے جلد نمٹائے جائیں۔ ہائی کورٹ نے بینکوں سے بھی کہا ہے کہ وہ وصولیابی کے لیے کسانوں پر زیادہ دباؤ نہ بنائیں لیکن اس کے باوجود کسانوں کو راحت نہیں مل پارہی ہے۔
تمل ناڈو گزشتہ دو سالوں سے لگاتار خشک سالی کی مار جھیل رہا ہے۔ ایک طرف کمزور مانسون اور دوسری طرف کاویری کے پانی کو لے کر کرناٹک و تمل ناڈو کے بیچ کے جھگڑے میں کسان پس رہے ہیں۔ سال دو سال کم ہوتی پیداوار اور پھر اگلی فصل کے لیے بینکوںسے لیے گئے قرض نے کسانوںکی کمر توڑ کر دکھ دی۔ دباؤ میں آکر کسان دم توڑنے لگے۔ اپنی جمع پونجی ختم ہونے کے بعد جب سرکاری منصوبوں نے بھی ساتھ نہیں دیا تب انھوں نے آواز اٹھانی شروع کی۔ الگ الگ گاؤں سے نکلا آندولن جب چنئی پہنچا تب مقامی سرکار کی نیند اڑ گئی۔ بینکوںکے قرض سے دبے کسانوں کو تب کچھ راحت ملی جب تمل ناڈو سرکار نے وہاںکے کوآپریٹو بینکوں سے کسانوں کے ذریعہ لیے گئے قرض کو معاف کردیا،لیکن اتنے سے راحت نہیں ملی۔ اس بیچ تمل ناڈو کی سیاست میں اٹھا پٹخ کے بیچ کسانوں کی آواز دب گئی۔لیکن اپنوں کی خود کشی،چارے کے فقدان میںمویشیوںکی موت اور اپنے لیے دانے دانے کو محتاج ہورہے ان کسانوںنے پھر سے دہلی آنے کی ٹھانی اور 100 دنوںکی بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے 12 مارچ کو انھوںنے دہلی کے جنتر منتر پر ڈیرا ڈال لیا۔ یہ کسان ساؤتھ انڈین ریور لنکنگ فارمرس ایسوسی ایشن کے بینر تلے آندولن کررہے ہیں۔اس تنظیم کے صدر پی ایاکنو نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ ہم اس بار پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ہم 100 کسان تب تک یہاںسے نہیںہٹیں گے جب تک کہ ہمارے مسائل حل نہیںہوجاتے۔ گزشتہ چار مہینوںمیں چار سو سے زیادہ کسانوںنے خود کشی کی ہے۔ اگر سرکار اب بھی ہماری مددنہیںکرتی ہے تو چار لاکھ سے زیادہ کسان خود کشی کرلیں گے۔
اپنی مانگوںکو لے کر ان کسانوںنے پچھلے سال بھی مارچ میںجنتر منتر پر دھرنا دیا تھا۔ یہ تب وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے بھی ملے تھے۔ انھوںنے ان کی مدد کا یقین بھی دلایا تھا۔ لیکن ان کے لمبے آندولن کو پولیس کارروائی سے دبا دیا گیا۔ تب پولیس کی لاٹھی سے اپنا پیر تڑواچکے مہا دیون اب بھی اس درد کے ساتھ جی رہے ہیں اور اس بار بھی جنتر منتر پر آندولن کرنے آئے ہیں۔ 29 مارچ کو بھی بھوک ہڑتال کررہے ایک کسان راماسوامی بے ہوش ہوگئے تھے، پھر انھیںاسپتال بھیجنا پڑا تھا، شروع کے کچھ دنوںتک ان سبھی کسانوںنے بھوک ہڑتال کی، لیکن کئی لوگوںکی حلات بگڑتے دیکھ کر انھوں نے کچھ کچھ کھانا شروع کردیا۔ ان کسانوںکے ساتھ خواتین بھی بڑی تعداد میںآئی ہیں۔ ان کسانوں نے کھوپڑیوںاور ہرے رنگ کے کپڑوںکو اپنی آندولن کی پہچان بنائی ہے۔ اس کے بارے میںپوچھے جانے پریہ کہتے ہیںکہ یہ ان لوگوںکی کھوپڑیاںہیں، جنھوںنے قرض کے دباؤ اور کھیتی میںخسارے سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ ان کا کہناہے کہ ہرا رنگ ہماری زمین اور پیداوار کی علامت ہے، اس لیے ہم انھیں اپنے جسم پر لپیٹ کر آندولن کررہے ہیں۔
مقامی نوجوان جو ملک کے دوسرے حصوںمیںرہ کر پڑھائی کررہے ہیں ،وہ بھی ان کسانوںکا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ان لوگوںکا درد بیان کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں، جو انگریزی بولنے میں قاصر ہیں۔ ان کسانوںسے ان کی زبان میںبات کرکے ہمارے لیے انگریزی میںترجمہ کرنے والے شیو بنگلور میںرہ کر پڑھائی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ جاب بھی۔ وہ ان کسانوںکا ساتھ دینے وہاںسے دہلی آئے ہیں۔
21 مارچ کو جب ان کے لیڈر ایاکنو اپنی مانگوں کو لے کر وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے ملے تو انھوںنے کہا تھا کہ ہمیں دو دن کا وقت دیجئے، ہم آر بی آئی کے گورنر سے اس معاملے میں بات کرتے ہیں۔ دو دن کیا، دو ہفتے گزرگئے، لیکن پتہ نہیں چلا کہ وزیر خزانہ جی کی آر بی آئی کے گورنر سے کیا بات ہوئی یا بات ہوئی بھی کہ نہیں؟ یہ کسان اوما بھارتی سے بھی ملے اور ان سے ندیوں کو جوڑے جانے کے مدعے پر اپنی بات کہی۔ ان کے آندولن کا ایک اہم مدعا ندیوںکو جوڑا جانا بھی ہے،کیونکہ اس سے خشک سالی کے مسئلے سے کافی حد تک نجات پائی جاسکتی ہے۔ اوما بھارتی نے کہاکہ ندیوں کو جوڑے جانے کے مدعے پر ابھی ریسرچ کا کام چل رہا ہے ۔ ہم اس سمت میںمسلسل کوشش میںلگے ہوئے ہیں کہ ندیوںکے ذریعہ کسانوںکے کھیت میں پانی پہنچایا جا سکے۔ حالانکہ وہ یہ نہیںبتا سکیںکہ یہ کوشش کب کامیاب ہوگی۔ وزیر صاحبہ نے ان کی اس مانگ پر کچھ نہیں کہا، جو کرناٹک سرکار کی طرف سے کاویری پر مجوزہ میکیداتو باندھ کی تعمیر کو روکنے کو لے کر تھا۔
ان کسانوںکا ماننا ہے کہ وہ باندھ بن جانے کے بعد تمل ناڈو کے کسانوں کے لیے اور بھی سنگین مسئلہ پیداہوجائے گا۔22 مارچ کو ان کے لیڈر پی ایاکنو اپنے مسائل کر لے کر وزیر برائے زراعت سے ملے۔ انھوںنے بھی یقین ہی دلایا۔ انھوںنے کہا کہ مرکزی ٹیم نے خشک سالی سے متاثرہ تمل ناڈو کا دورہ کرلیا ہے اور جلد ہی آپ کو راحت ملے گی۔ غور طلب ہے کہ وزیر زراعت نے ہی 10 مارچ کو راجیہ سبھامیںکہا تھا کہ خشک سالی سے نمٹنے کے لیے تمل ناڈو کو مالی تعاون دیا جائے گا۔ حالانکہ اب تک کچھ نہیںہواہے۔ 28 مارچ کو پی ایاکنو کی قیادت میںان کسانوںکے ایک وفد نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کرکے ان کے سامنے اپنی مانگیں رکھیں، جن میںکسانوں کا قرض معاف کرنا اور خشک سالی پیکیج دینا خاص طور پر دینا شامل ہے۔اس وفد میںتمل منیلا کانگریس کے صدر جی کے واسن بھی شامل تھے۔ ان کسانوں کو تمل ناڈو کی تقریباً سبھی جماعتوںاور لیڈروں کی حمایت مل رہی ہے۔مشہور اداکار پرکاش راج بھی انھیں اپنی حمایت دینے پہنچے۔ انھوںنے کہا کہ میںآیا ہوں تاکہ ان کی آواز متعلقہ وزارت سن سکے۔ اس سے قبل انھیں کسان منچ کی بھی حمایت ملی ۔ کسان منچ کے قومی صدر ونود سنگھ نے آندولن کے لیڈر پی یاکنو سے مل کر انھیںاس آندولن میںہر ممکن مدد دینے کی بات کہی۔راہل گاندھی بھی کسانوں سے ملنے پہنچے اور انھیں ہرممکن تعاون دینے کی یقین دہانی کرائی۔ اب ان کسانوںکو ملک بھر کی کسان تنظیموںکا تعاون مل رہا ہے۔
’چوتھی دنیا‘ سے بات چیت میںایاکنو نے کہا کہ سرکار ہمارے مسائل کو لے کر سنجیدہ نہیںہے۔ سرکاری محکمے ایک دوسرے کے پالے میںگیند ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم اتنے دنوںسے جنتر منتر پر آندولن کررہے ہیں لیکن مرکزی سرکار سے جڑے کسی بھی بڑے لیڈر نے ہماری سدھ نہیںلی، مسائل کا حل ہونا تو دور کی بات ہے۔ ایاکنو کہتے ہیںکہ سرکار ہمارے ساتھ پوری طرح سے سوتیلا سلوک کررہی ہے۔ ہماری قرض معافی کے لیے سرکار کو آربی آئی کے گورنر سے بات کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے لیکن حال ہی میں ہوئے یوپی انتخابات میںبھی کیا سرکار نے آربی آئی کے گورنر سے پوچھ کر کسانوں کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوںنے کہا کہ ہم اپنے لوگوںکو اور مرتا نہیںدیکھ سکتے۔ خشک سالی اور قرض کی مار سے ہزاروںلوگوںنے خودکشی کرلی ہے۔ صرف پچھلے چار مہینوں میں 400 سے زیادہ کسانوںنے خودکشی کی ہے لیکن سرکار کو یہ سب دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
ہمیں ہر روز دانا مانجھی دیکھنے پڑتے ہیں : وی راج لکشمی
تروچراپلی سے آئی وی راج لکشمی بھی ان کسانوںمیںشامل ہیںجو جنتر منتر پر اپنی کئی مانگوںکو لے کر دھرنا دے رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری بات نہ سرکار سن رہی ہے اور نہ ہی میڈیا۔ ایمبولنس کے فقدان میںاپنی بیوی کی لاش کو کندھے پر لے کر جانے والے دانا مانجھی کی خبر پورے ملک میںپھیل گئی ، لیکن ہمیںروز ایسے دانا مانجھی دیکھنے پڑتے ہیں جوکسی اپنے کی لاش کو کندھے پر ڈھونے کے لیے مجبور ہوتے ہیں، لیکن ہماری مدد کے لے کوئی نہیںہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ عورتوںکو دہلی تک کیوں آنا پڑا، صرف مرد بھی تو مظاہرہ کرسکتے تھے۔ راج لکشمی کہتی ہیںکہ قرض کے دباؤ یا پانی کے فقدان میں فصلوںکے نہ پیدا ہونے کی تکلیف صرف مردوںکو ہی نہیں برداشت کرنی پڑتی ہے، ان کے ساتھ ساتھ ہم بھی بھوکے پیٹ رہ رہے ہیں اور بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھ رہے ہیں۔ راج لکشمی نے کہا، ملک میںکہیں بھی شیر مرتا ہے یاجنگلوںمیںکوئی شکار کرتا ہے تو اس کے لیے آواز اٹھانے والی کئی تنظیمیںہیں۔ سرکاروں نے اس کے لیے ایک قانون بھی بنایا ہے،لیکن ہمارے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیںہے۔ ہم کئی سال سے آدھا پیٹ کھانا کھارہے ہیں۔ اپنے سامنے کئی لوگوںکو پھانسی کے پھندے پر جھولتے دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے ہر اس دروازے پر دستک دی ہے جہاںہمیں مدد کی کوئی امید دکھائی دی، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ مرکزی سرکار سے مدد کی امید لے کر ہم یہاںآئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے گھر پر اکیلے ہیں۔ اناج کے فقدان میںانھیںسانپ اور چوہے کھانے پڑتے ہیں، یہ کہتے ہوئے راج لکشمی پھپھک کر روپڑیں۔
خشک سالی نے کسانوںکی کمر توڑ دی
تمل ناڈو میں خشک سالی کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ یہاں کی کھیتی کی ایک بڑی بنیاد نارتھ ایسٹ کا مانسون ہے، جو اس بار پوری طرح سے دغا دے گیا۔ ریاست میںاس بار اب تک کی سب سے کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ خشک سالی کی کیا حالت ہے، یہ اس سے پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ صرف کاویری ڈیلٹا علاقہ میںہی 80000 ایکڑ میںلگی فصلیںبرباد ہوگئی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار مہینوںمیں 400 سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ وہیں،کسانوں کی ایک مقامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اوسطاً روزانہ دو کسان موت کو گلے لگارہے ہیں۔ اکتوبر2016 سے اب تک 250 سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ 2015 میں بھی تمل ناڈو میں 600 سے زیادہ کسانوںنے خودکشی کی تھی۔ این سی آر کے اعداد وشمار پر غور کریںتو 2011 سے 2015 تک پانچ سالوںمیںتمل ناڈو میں2,728 کسان خود کشی کرچکے ہیں۔
کسانوں کی قرض معافی کو لے کر ریاستی سرکار نے مرکز سے فریاد کی ہے۔ جنوری میں ہی اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنیرسیلوم نے وزیر اعظم سے مل کر 39,565 کروڑ کے خشک سالی پیکیج کی مانگ کی تھی۔ اس کے بعد نئے وزیر اعلیٰ پلانیسوامی نے بھی وزیر اعظم سے مل کر اس مانگ کو دہرایا۔ اس بیچ ریاستی سرکار نے اپنی طرف سے 2247 کروڑ کے خشک سالی پیکیج کا اعلان کردیا لیکن کسانوںکے لیے یہ ناکافی ہے۔
یہ ہیںمانگیں
تمل ناڈو کو ریگستان بننے سے روکنا۔
کاویری ندی کو خشک ہونے سے روکنا ۔
کاویری ندی کے لیے مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل ۔
مدورئی انجینئر اے سی کامراج کے اسمارٹ جل مارگ پروجیکٹ کے ذریعہ سبھی ندیوںکو جوڑنا۔
زرعی مصنوعات کے لیے مناسب منافع بخش قیمت کا تعین کرنا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *