حج ایک مقدس فریضہ ہے، اس کا سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہئے: سعودی سفیر

Saudi-Diplomats نئی دہلی۔ ہندوستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود بن محمد الساطی نے کہا ہے کہ حج جیسے مقدس فریضہ کو کسی بھی طرح کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کا ملک حج کے دوران پیش آنے والے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ ڈاکٹر الساطی آج یہاں اردو کے چنندہ صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حج ایک مقدس فریضہ ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں افراد اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ آتے ہیں۔ سعودی حکومت ہمیشہ اس بات کی پوری کوشش کرتی ہے کہ عازمین حج پوری دلجمعی کے ساتھ مقدس فریضہ کو انجام دیں اور انہیں کسی طرح کی دشواری نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ حج ایک مذہبی فریضہ ہے اس لئے اس دوران کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ملک عازمین حج اور بالخصوص ہندوستانی حاجیوں کا خیر مقدم کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ مکہ مکرمہ میں حرم شریف اور مطاف نیز مدینہ منورہ میں توسیع کی وجہ سے حاجیوں کو کافی سہولت ہوجائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ سسٹم کو بھی کافی بہتر اورجدید بنایا گیا ہے اور اب صرف دو گھنٹہ میں ریل کے ذریعہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی حاجیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے جانے والے افراد قوانین کا پورا احترام کرتے ہیں۔

دو ہزار روپے کی نئی ہندوستانی کرنسی سعودی عرب نہ لے جانے کے سلسلے میں غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ڈاکٹر الساطی نے کہا کہ ہندوستانی کرنسی سعودی عرب لے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم چونکہ وہاں ریال کا چلن ہے اس لئے ریال لے جانے میں لوگوں کو آسانی ہوگی۔ خیال رہے کہ حکومت ہند کے ضابطہ کے مطابق کوئی ہندوستانی صرف دس ہزارروپے تک کی ہی ہندوستانی کرنسی بیرون ملک لے جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے کہا کہ خادم حرمین شریفین نے کسی بھی دہشت گردانہ واقعہ کو ناکام بنانے کے لئے تمام ممکنہ انتظامات کئے ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہے جہا ں کے مفتی اعظم نے 1997میں دہشت گردی کے خلاف فتوی دیا تھا اور خود کش حملوں کی مذمت کی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیااس سال ایرانی حجاج سعودی عرب جائیں گے تو انہوں نے بتایا کہ ایرانی اورسعودی حکومت کے درمیان اس سلسلے میں باضابطہ معاہدہ ہوچکا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال ایک شیعہ عالم دین نمر بن نمر کو سعودی عر ب میں پھانسی دئے جانے کے خلاف تہران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے او رایرانی عازمین حج پر نہیں جاسکے تھے۔ سعودی سفیر نے ہندوستان اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات اور وزیر اعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورہ تل ابیب کے متعلق سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *