صدر جمہوریہ کے انتخاب سے قبل اپوزیشن کو متحد کر رہی ہیں سونیا گاندھی

Sonia-Gandhiنئی دہلی: صدر جمہوریہ کے انتخاب کے مدنظر اپوزیشن میں ہلچل نظر آ رہی ہے اور پوری اپوزیشن کو ایک کرنے کے لئے اب سونیا گاندھی نے کمان سنبھالی ہے۔ نتیش کمار سے ملاقات کے بعد انھوں نے شرد پوار اور کمیونسٹ لیڈر سیتا رام یچوری سے بھی ملاقات کی تھی۔ گزشتہ روز ان سے ملنے کے لئے جے ڈی یو لیڈر شرد یادو بھی پہنچے۔ سونیا گاندھی نے سی پی آئی کے ڈی راجا کو بات چیت کے لئے مدعو کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سونیا جلد ہی ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی، آر جے ڈی کے لالو یادو اور سماجوادی پارٹی کے لیڈروں سے بھی جلد ملاقات کریں گی۔
ایسے ہی چلتا رہا تو ملک کی راجدھانی دہلی ایک بار پھر اس کی گواہی بننے جا رہی ہے، جیسا سال 2004میں ہوا تھا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی اس وقت پارٹی کو فرنٹ سے لیڈ کرتی نظر آ رہی ہیں۔ حالانکہ بتا دیں کہ ان دنوں سونیا گاندھی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ حال ہی میں وہ امریکہ سے کئی ٹیسٹ کرانے کے بعد دہلی واپس آئی ہیں۔
گجرات فسادات اور پوٹا کے استعمال نے سونیا گاندھی کی قیادت والی یو پی ایے(بیس سے زائد پارٹیوں کا اتحاد) کو واجپئی اقتدار کو اکھاڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب مودی لہر میں آگے بڑھتا بی جے پی کا فتوحاتی رتھ علاقہ پارٹیوں کے لئے بڑی تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ ایسی صورت میں علاقائی پارٹیاں اپنے وجود کے تحفظ کے لئے سونیا گاندھی کی قیادت والی کانگریس کے ساتھ اتحاد کو بہتر متبادل مان رہی ہیں۔ ایسی صورت میں سال 2004کی یادیں پھر تازہ ہو گئی ہیں۔
سونیا گاندھی کی قیادت والی کانگریس کو 1999کے لوک سبھا انتخابات میں ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن سونیا گاندھی اور ان کی ٹیم نے موقع کو پہچانا اور 2004میں اتحاد(یو پی اے) بنایا اور الگ الگ نظریات کے ہونے کے باوجود پارٹیوں کو متحد کیا۔ اسی اتحاد نے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہارئی واجپئی جیسے مؤثر اور کامیاب لیڈر کی(شائننگ انڈیا مہم) کی چمک دھیمی کر دی تھی۔
اس بار اپوزیشن پارٹیوں کے متحد ہونے کا منچ بنا ہے آئندہ صدر جمہوریہ کا انتخاب۔ یہ صدارتی انتخاب سونیا گاندھی کے ایکشن میں لوٹنے کا موقع بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ گزشتہ کافی وقت سے کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے نظر آ رہے تھے، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ اب سونیا گاندھی نے پھر کمان اپنے ہاتھوں میں تھام لی ہے۔
سونیا گاندھی ان دنوں صدارتی انتخاب میں این ڈی اے کو سخت چیلنج دینے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ وہ دیگر پارٹیوں کے لیڈروں سے بات چیت کر رہی ہیں، تاکہ اپوزیشن کی طرف سے این ڈی اے کے سامنے صدارتی انتخاب میں ایک مضبوط حریف مخالفت دکھانے کے لئے میدان میں اتارا جا سکے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *