پی کے نے لٹیا ڈبوئی

damiپالیسی سازی اور سیاست مترادف لفظ نہیں ہے۔ان دونوں میں آسمان وزمین کا فرق ہے۔چاہے وہ سیاست کا سب سے بڑا قدآور ہی کیوں نہ ہو، جب بھی کسی نے پالیسی سازی کو سیاست سمجھنے کی غلطی کی وہ چوپٹ ہوگیا۔ اگر الیکشن صرف پالیسی سازی کے سہارے جیتے جاسکتے تو پوری دنیا میںسیاسی پنڈتوں اور تجزیہ کاروں کا راج ہوتا ،پھر سیاسی لیڈر اور عوامی قائدین کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، پارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی، نظریات کی ضرورت نہیںہوتی، تنظیم اور سماجی کارکنوں کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ پھر کوئی بھی دولت مند آدمی مہنگے سے مہنگے پالیسی ساز کو کرائے پر رکھ لیتا اور انتخاب جیت جاتا ۔ آج ملک کے کئی سیاست دانوں کو شرمسار ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ پالیسی سازی اور سیاست کا فرق بھول گئے۔ سیاست دانوں سے سہریٰ چھین کر انہوں نے پالیسی سازوں کو سپر ہیرو قرار دینے کی غلطی کی۔ پرشانت کیشور یعنی پی کے نام سے مشہور پیشہ ور انتخابی پالیسی ساز کی ستائش اسی بھول کا نتیجہ ہے۔
ہندوستانی سیاست میں آج پی کے ایک بڑا نام بن گئے ہیں۔ پی کے عامر خاں کی فلم نہیں بلکہ پرشانت کیشور کا شارٹ نیم ہے۔ سیاسی گلیاروں اور صحافیوں کے نزدیک دنیا بھر میں ان کا کافی چرچا ہوتا ہے۔ جو لوگ پرشانت کیشور کو نہیں جانتے ہیں، ان کے لئے یہ بتا دوں کہ پی کے یعنی پرشانت کیشور پیشے سے ایک انتخابی پالیسی ساز ہیں۔ معاوضے لے کر یعنی ٹھیکہ پر وہ سیاسی پارٹی اور لیڈر کی انتخابی تشہیر کا پورانظام سنبھالتے ہیں۔ یہ ان کا پیشہ ہے۔ پی کے اب تک بی جے پی، جنتا دل یو اور کانگریس کے لئے کام کر چکے ہیں۔2014 لوک سبھا انتخابات کے دوران وہ نریندر مودی کے ساتھ تھے۔ اس کے بعد اسمبلی انتخابات میں انہوں نے پہلے نتیش کمار کے لئے بہار میں تشہیر کی۔ اس کے بعد سے وہ کانگریس کے لئے کام کررہے ہیں۔
انہوں نے امریکہ میں پڑھائی کی ۔ اقوام متحدہ میں کام کرچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی نفسیاتی سسٹم میں پی کے فٹ بیٹھتے ہیں۔ وہ امریکہ ریٹرن ہیں تو باشعور، تجربہ کار اور عقلمند ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ سمجھدار ہوں گے ،یہ ہر ہندوستانی خوشی سے قبول بھی کر لیتا ہے۔یہی پرشانت کیشور کی اپنی برانڈنگ ہے۔ ملک کے بڑے بڑے لیڈر کو بھی ایسے لوگوں کی تلاش ہوتی ہے کہ کوئی ایسا آدمی ملے جو نئے زمانے کے مطابق نئی حکمت عملی تیار کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ انتخابی تشہیر آج ایک پیشہ بن چکا ہے۔ اس پیشے میں پرشانت کیشور کا نام سب سے اول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پی کے سیاسی پارٹیوں کے لئے انتخابات کی حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس 300 سے زیادہ لوگوں کی ایک ٹیم ہوتی ہے جو کمپین کے دوران 24 گھنٹے ہر بات کا دھیان رکھتی ہے۔ ریلی سے لے کر ٹی وی اور سوشل میڈیا ہر جگہ ان کی ٹیم، ایک منصوبہ بند تشہیر کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں وہ باقاعدہ محنتاطہ بھی لیتے ہیں، وہ بھی کروڑوں میں۔ ایک طرح سے یہ جائز بھی ہے۔لیکن اتر پردیش میں کانگریس- سماج وادی پارٹی گٹھ بندھن کے باوجود کانگریس کی تاریخی شکست کے بعد سے پرشانت کیشور لاپتہ ہیں۔ اتر پردیش میں کانگریس کو محض 7 سیٹیں ملی ہیں۔
کانگریس کے لئے یہ اب تک کی سب سے بڑی اور شرمناک ہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنو میں کانگریس دفتر کے باہر یو پی کانگریس کمیٹی کے سکریٹری راجیش سنگھ نے ایک پوسٹر لگایا جس پر لکھا تھا ’’ خود ساختہ چانکیہ پرشانت کیشور کو کھوج کر اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے کارکن سمینار میں لانے والے کسی بھی لیڈر کو پانچ لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا‘‘۔ کانگریس سے جڑے تقریباً ہر کارکن اور لیڈر کی یہی رائے ہے کہ پرشانت کیشور کانگریس کی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ لیکن راہل اور پرینکا سے پرشانت کیشور کی قربت کی وجہ سے کانگریس میں وہ بے خوف ہیں۔اپنے ڈرائیونگ روم میں کانگریسی لیڈر پی کے کو کوستے ضرور ہیں لیکن کھل کر بولنے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ پھر بھی انتخابی نتیجے کے بعد کے پی کے تو لاپتہ ہیں۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ جن سینئر صحافیوں نے بہار الیکشن کے بعد پرشانت کیشور کو اس زمانے کا چانکیہ قرار دیا تھا ،وہ بھی لا پتہ ہیں۔ بہار الیکشن کے بعد ملک کے بڑے بڑے تجزیہ کاروں نے پی کے کو ملک کا سب سے عظیم پالیسی ساز ثابت کرنے کی غلطی کی۔ کئی اخبار اور جرائد نے تو لالو- نتیش سے جیت کا سہریٰ چھین کر پی کے کو دے دیا۔ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ نریندر مودی کی ہار کی وجہ صرف پی کے کی حکمت عملی ہے۔
بہار انتخابات کی حقیقت
بہار انتخابات کی حقیقت یہ ہے کہ اگر پرشانت کیشور نہیں بھی ہوتے تو بھی بہار کا نتیجہ ذرا سا بھی الگ نہیں ہوتا۔ بہار میں نتیش- لالو اور کانگریس گٹھ بندھن کی جیت کے پیچھے پی کے کی حکمت عملی نہیں،بلکہ لالو یادو اور نتیش کمار کی پالیسی ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر چلنے والے ’’بِہار میں بَہار ہو ،نتیش کمار ہو ‘‘ جیسے نعروں کی وجہ سے مہا گٹھ بندھن نہیں جیتا بلکہ ووٹوں کا ارتھ میٹک مہا گٹھ بندھن کے حق میں تھا۔ نریندر مودی کا وجے رتھ بہار میں اس لئے رکا کیونکہ لالو یادو، نتیش کمار اور کانگریس پارٹی نے ایک ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کا سیاسی فیصلہ لیا اور لالو یادو اور نتیش کمار نے جس طرح سے موہن بھاگوت کے ریزرویشن مخالف بیان کو ایشو بنایا اور جس طرح سے اسے آخری دور تک زندہ رکھا ،اسی وجہ سے نتیجہ مہا گٹھ بندھن کے حق میں آیا۔ بہار میں پی کے کی حکمت عملی نہیں بلکہ لالواور نتیش کی سیاست جیتی۔
اگر بہار میں مہا گٹھ بندھن کی جیت کے لئے کوئی ذمہ دار ہے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے مودی کے وجے رتھ کو روکنے کے لئے لالو اور نتیش کو ایک ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کے لئے راضی کیا ۔ جیت کا سہریٰ انہیں ہی جانا چاہئے تھا لیکن میڈیا نے پرشانت کیشور کو ہیرو بنادیا۔ لیکن اب جب اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں کانگریس پارٹی نیست و نابود ہو گئی ہے، قصیدے پڑھنے والے تجزیہ کار خاموش ہیں۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کے لیڈروں کو اب تک سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ سب کیسے ہو گیا؟بہار انتخاب کے دوران پرشانت کیشور نتیش کمار کے لئے کام کرتے تھے۔ مہا گٹھ بندھن بننے کے پہلے سے وہ نتیش کمار کی برانڈنگ کر رہے تھے۔نتیش کمار نے دل کھول کر کافی پیسہ خرچ کیا تھا لیکن یہ بات اور ہے کہ نتیش کمار کا ہورڈنگ اور پوسٹر پٹنہ اور اسکے 40 کلو میٹر کے اطراف میں ہی لگے ۔پیسہ کہاں خرچ ہوا ،اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی بھی اس مہا گٹھ بندھن کی حصہ تھی لیکن راہل گاندھی کا پرشانت کیشور پر بھروسہ نہیں تھا۔ الیکشن جیتنے کے بعد جب نتیش کمار کی حلف برداری تقریب میں راہل پٹنہ آئے تھے، تب نتیش کمار نے پرشانت کیشور کو راہل گاندھی سے ملوایا تھا۔ نتیش کمار نے نہ صرف راہل سے انہیں ملوایا بلکہ پرشانت کیشور کے قصیدے پڑھے۔ اس کے بعد وہ راہل گاندھی سے دہلی میں بھی ملے لیکن راہل گاندھی کا پوری طرح سے بھروسہ نہیں جیت پائے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ راہل گاندھی کے پاس پہلے سے ہی صلاح کاروں اور پالیسی سازوں کی پوری ٹیم موجود تھی۔ الگ الگ جگہوں سے فیڈ بیک لینے کے لئے راہل گاندھی کی اپنی ٹیم ہے۔ اس ٹیم میں40لوگ ہیں ۔ یہ کانگریس کارکن نہیں ہیں بلکہ ملک بھر سے چنے گئے پروفیشنلس ہیں۔ انہیں کئی بار انٹرویو لے کر چنا گیا ہے۔ یہی وہ ٹیم ہے جس سے راہل گاندھی فیڈ بیک لیتے ہیں۔ شاید راہل گاندھی کو اپنی اس ٹیم پر پرشانت کیشور سے زیادہ بھروسہ رہا ہو، اس لئے ابتدا میں راہل نے ان پر بھروسہ نہیں کیا تب تک میڈیا میں لگاتار پرشانت کیشور کے بارے میں لکھا جانے لگا تھا۔ کئی لوگوں نے انہیں ملک کا سب سے بڑا انتخابی پالیسی ساز قرار دے دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود راہل گاندھی کا بھروسہ جیتنے میں پی کے کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بعد پرشانت کیشور نے پرینکا گاندھی کو پکڑا۔ پرینکا گاندھی کو پرشانت کیشور بھروسے کے آدمی لگے۔ پرشانت کیشور کے ذریعہ انتخاب سے قبل کے سروے نے پی کے کو پرینکا کا اور زیادہ بھروسہ مند بنا دیا۔اس سروے میں پرشانت کیشور نے کانگریس کو 72سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کی دلیل دیئے تھے۔یہیں سے پرشانت کیشور کی کانگریس میں انٹری ہو گئی۔ پرینکا گاندھی نے اسمبلی انتخابات کے فیڈ بیک کے لئے اپنی الگ ٹیم بنائی۔ پرینکا گاندھی ہی یوپی انتخاب کے لئے کانگریس کا بیک آفس چلا رہی تھی۔ وہ ہر دو تین دن میں پرشانت کیشور سے پرزنٹیشن لیتی تھی۔ اس میں پرینکا کی پوری ٹیم شامل ہوتی تھی۔ کبھی کبھی تو اس پرزنٹیشن کے دوران 100 سے زیادہ لوگ موجود ہوتے تھے۔
پی کے کا طریقٔہ کار
اگر پرشانت کیشور کے طریقہ کار کو دیکھیں تو ان کے پورے طریقہ کار میں ایک پیٹرن نظر آتا ہے۔ وہ کوئی سیاسی سوچ والے آدمی نہیں ہیں۔ وہ ایک اچھا پی آر کمپین چلانے کے ماہر ہیں۔ ان کی پالیسی کسی ایک لیڈر کی برانڈنگ تک ہی محدود ہے۔ سیاست میں لیڈر تو اہم ہوتا ہے لیکن صرف کسی ایک لیڈر کے ارد گرد سیاسست محدود نہیں ہوتی ہے۔ پرشانت کیشور کی پالیسی کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ ان کے کمپین کے مرکز میں ایک لیڈر ہوتا ہے۔ اسی لیڈر کی شبیہ کے ارد گرد ہی تشہیر و مہم کا تانا بانا بنتے ہیں۔ ساتھ میں فلمی انداز کے دو تین نعروں کے ساتھ وہ اپنی پالیسی کا ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔ اس طرح کی پالیسی سے وہ اپنے کلائنٹ کا عوام میں پرسیشن یعنی تصور کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہاں پرشانت کیشور کا ٹرک سمجھنا ضروری ہے۔ ذاتی طور پر اس طرح کی پالیسی دیکھ کر وہ لیڈر خوش ہو جاتا ہے کیونکہ ہر لیڈر کے اندر عظیم بننے یا عظیم دکھائی دینے کا لالچ موجود ہوتاہے۔ پرشانت کیشور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آج کے دور میں تو کوئی مہاتما گاندھی یا سردار پٹیل ہے نہیں جن کا اپنے اصولوں پر ہمالیہ کی طرح مضبوط یقین ہو۔ آج کا دور بے یقینی کی پالیسی اور جذبات سے عاری لیڈروں کا ہے جو پارٹی کارکنوں سے دور اور ستائش کرنے والوں کے نزدیک ہونا پسند کرتے ہیں۔ اس لئے پرشانت کیشور کی پالیسی ہِٹ ہے۔ ان کی پالیسی پارٹی کی بلندی پر بیٹھے لیڈروں کی ستائش کرنے والی پالیسی ہوتی ہے۔ اس طرح کی تشہیر سے لیڈر کے کی خود ستائی اور انا کی تسکین تو ہوتی ہے، ساتھ ہی انہیں خود کو عظیم ہونے کا احساس بھی دلاتاہے۔ وہ لیڈر اتنا خوش ہو جاتاہے کہ پی کے اس کے گھر کے بن جاتے ہیں۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ بہار ہو یا گجرات، پرشانت کیشور ہمیشہ وزیر اعلیٰ رہائش گاہ میں ہی رہتے تھے۔ جب تک وہ مودی یا نتیش کمار کے ساتھ رہے، وہ سیدھے ان کے سائے کی طرح ان سے ہی چپکے رہے۔ اب وہ پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی کے ساتھ جڑے ہیں۔ اس لئے کانگریس کا کوئی بھی لیڈر پرشانت کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرے گا۔
پرشانت کیشور نے پرینکا کا بھروسہ تو جیت لیاتھا لیکن اب راہل گاندھی کا بھروسہ جیتنا ضروری تھا اس کے لئے پی کے نے کانگریس کارکنوں کی میٹنگ کی۔ اس میں اتر پردیش کے سبھی مقامی لیڈروں کو بلایا اور انہیں یقین دلایا کہ سب کو ٹکٹ مل سکتا ہے۔ پرشانت کیشور نے اس میٹنگ میں بتایا کہ لکھنو میں راہل گاندھی کی ریلی ہوگی جس دوران یہ طے ہوگا کہ کسے ٹکٹ دیا جائے۔ جن لوگوں کو انتخاب لڑنا ہے ،وہ اپنے ساتھ لوگوں کو لے کر آئیں۔ ریلی کی جگہ پر ان کے لوگ ہوںگے جو ہر لیڈر کے ساتھ آئے لوگوں کی گنتی کریںگے، بسوں کا حساب کریںگے۔ جو سب سے زیادہ لوگوں کو لے کر آئے گا ،اسے ٹکٹ دیا جائے گا۔ اس ریلی کے لئے پرشانت کیشور نے پارٹی سے پیسے بھی لئے لیکن اسے خرچ نہیں کیا۔ کانگریس کے سارے لیڈروں نے اپنے پیسے سے لوگوں کو لکھنو لاکر اچھی خاصی بھیڑ جمع کی۔ راہل گاندھی کی لکھنو ریلی میں 60ہزار سے زیادہ لوگ پہنچے جس کا پورا کریڈٹ پرشانت کیشور کو گیا۔ یہیں سے پرشانت کیشور کے تئیں راہل گاندھی کا بھروسہ جاگا۔ اتر پردیش میں پرشانت کیشور نے اپنی پالیسی پر عمل کرنا شروع کیا۔ اپنے طریقہ کار کے مطابق پی کے کو ایک وزیر اعلیٰ کا امیدوار طے کرنا تھا۔ ایسا ا میدوار جس کے ارد گرد پورا کمپین مرکوز کیا جاسکے۔ پرشانت کیشور نے اپنی سہولت کے مطابق سب سے پہلے راہل گاندھی کا نامتجویز کیا ۔ اس سے پی کے کے دونوں مقصد حل ہوجاتے ۔ایک تو ان کو اپنی سہولت کے مطابق ایک مشہور چہرہ مل جاتا جس کی وہ برانڈنگ کرپاتے اور دوسرا یہ کہ وہ پہلے کی طرح پارٹی کے سپریم لیڈر کے خاص بنے رہتے۔ لیکن کانگریس میں اس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ راہل گاندھی کو یہ بات ان کے لوگوں نے سمجھایا کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکے تو 2019 میں وزیراعظم کی ریس سے وہ پہلے ہی باہر ہو جائیںگے۔ اس لئے پرشانت کیشور کی یہ اسکیم کامیاب نہیں ہوئی۔
شیلا دیکشت یوپی میں
اس کے بعد بہت سوچ اور غور و فکر کے بعد پرشانت کیشور نے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کا نام تجویز کیا۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس سے کانگریس پارٹی کارکنوں کے درمیان مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ پرشانت کیشور کو یہ یقین تھا کہ شیلا دیکشت کے نام پر کانگریس کو برہمنوں کا ووٹ مل جائے گا۔ لیکن برہمنوں کی حمایت ملنا تو دور، ریتا بہو گنا جیسی پرانی برہمن لیڈر پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں چلی گئیں ۔ پرشانت کیشور اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی پالیسی کو زمین پر نافذ کررہے تھے ۔سب سے پہلے انہوں نے یوپی میں یہ نعرہ دیا کہ’’ 27سال یوپی بے حال‘‘ اتر پردیش کی صورت حال بہار سے بالکل الگ تھی لیکن پی کے کی پالیسی وہی پرانی تھی۔ پی کے کی پالیسی کا سب سے اہم پہلو وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہوتا ہے۔ بہار میں پی کے کا کام آسان تھا ۔وہاں نتیش کمار جیسے قد آور وزیراعلیٰ کے امیدوار تھے۔ پہلے سے ہی ان کی مثبت شبیہ تھی۔ ان کے سامنے بہار میں کوئی ان کے برابر کے قد کا کوئی مخالف لیڈر نہیں تھا۔ اس لئے پی کے نے جس طرح لوک سبھا الیکشن میں نریندر مودی کی شخصیت کے ارد گرد اپنا کمپین رکھا تھا، اسی طرز پر بہار میں پی کے نے نتیش کمار کی برانڈنگ کی۔ سچائی یہ ہے کہ پی کے کی تشہیر کے بغیر بھی نتیش کمار پہلے سے ہی بہار کے سب سے مقبول لیڈر تھے۔
بہار میں نتیش کمار کے لئے کوئی حکمت عملی کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن یہاں تو شیلا دیکشت تھی جو اتر پردیش کی بہو ہیں، انتخاب سے پہلے وہ دہلی میںوزیر اعلیٰ تھیں جہاں ان کی قیادت میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی ۔د شیلا دیکشت اپنی سیٹ گنوا چکی تھیں۔ پرشانت کیشور اترپردیش میںشیلا دیکشت کی برانڈنگ کرنے پوری طرح سے ناکام رہے۔یہ ان کی قابلیت پر ایک سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔مودی اور نتیش کمار جیسے مقبول لیڈر جن کی پہلے سے ساکھ تھی، ان کی برانڈنگ کرکے واہ واہی تو خوب لوٹی لیکن شیلا دیکشت کی برانڈنگ جو اصل میں آزمائش تھی، میں وہ فیل ہو گئے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ نریندر مودی اور نتیش کمار نے پرشانت کیشور کا استعمال صرف تشہیری مہم میں کیا۔ سیاسی فیصلے ان دونوں نے ہمیشہ خود لیا۔ اتر پردیش میں راہل گاندھی سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے تجربہ کار لیڈروں کو بے دخل کر کے سیاسی فیصلے لینے کی ذمہ داری پرشانت کیشور پر چھوڑ دی۔ پی کے نے جب سیاست میں دخل دی تو وہ بری طرح سے ناکام ہوئے۔ پرشانت کیشور کو لگا کہ مودی سرکار نے کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ہے اور ریاست میں کسانوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ اسے اصل ایشو بنا کر کسانوں کی حمایت لی جاسکتی ہے۔ پرشانت کیشور یہ سمجھ نہیںپائے کہ انتخاب میں کسان کبھی بھی ایک گروپ ہوکر ووٹ نہیں ڈالتا ہے۔ پی کے نے ساری طاقت ایک ایسے سراب کے پیچھے جھونک دی جس کا انتخاب میں کوئی فائدہ نہیں ملنے والا تھا۔
پرشانت کیشور نے ’فارمر ڈیمانڈ لیٹر‘ جاری کرکے کسانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پرشانت کیشور نے دعویٰ کیا کہ’ کسان ڈیمانڈ لیٹر‘ پر اتر پردیش کے ایک کروڑ کسانوں نے دستخط کئے۔ اب پتہ نہیں کہ یہ کیسے ہوا کہ جتنے کسانوں نے دستخط کئے، اس سے نصف ووٹ ہی کانگریس کو پوری ریاست میں ملے۔ پی کے نے راہل گاندھی کے لئے سب سے پہلے کھاٹ سبھا اور کسان ریلی کی تیاری کی۔ اس کی میڈیا کے ذریعہ خوب تشہیر بھی کی گئی، برانڈنگ کی گئی۔ پرشانت کیشور نے کسانوں کو لبھانے کے لئے فلمی نعرے بھی دیئے ’’قرضہ معاف بجلی بل ہاف ،سپورٹ پرائس کا کرو حساب‘‘۔لیکن ان کا اثر کسانوں پر نہیں ہوا۔ کسان کھاٹ سبھا سے کھاٹ بھی اٹھا لے گئے اور ووٹ بھی نہیںملا ۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کسانوں کا سپورٹ صرف اس طرح کی سطحی پالیسی سے نہیں لیا جاسکتا ہے۔ کانگریس جیسی پرانی پارٹی سے اتنی بڑی غلطی اس لئے ہوئی کیونکہ راہل گاندھی نے پارٹی کے مقامی لیڈروں سے زیادہ پرشانت کیشور پر بھروسہ کیا۔ ہندوستان کے کسان فیس بک اور ٹویٹر پر تشہیر اور پروپیگنڈہ کے بہائو میں بہنے والے ووٹر نہیں ہیں۔ 67سال سے لگاتار دھوکے کھاکر آج کا کسان ہوشمند ہوچکا ہے۔ 27سال یو پی بے حال ،جیسے نعروں کا اثر غریب کسان اور مزدوروں پر نہیں پڑتا ہے۔ لیکن خود ساختہ چانکیہ نے اسے بنیادی نعرہ بنا کر اتر پردیش میں کانگریس کی نیا پار لگانے کی جرأت کی۔
لکھنو کی ریلی کے بعد
لکھنو کی ریلی کے بعد کھاٹ سبھا، کسان سبھا اور کسان ڈیمانڈ لیٹر کو پرشانت کیشور نے پرینکا اور راہل کے سامنے ایک بڑی کامیابی کی شکل میں پیش کیا۔راہل گاندھی اور پرینکا کانگریس اور مقامی لیڈروں اور کارکنان سے کٹے ہی رہے ۔اس کا فائدہ پرشانت کیشور نے اٹھایا تھا وہ پرینکا کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کی پالیسی کے تحت کانگریس پارٹی کم سے کم 72 سیٹ جیت جائے گی لیکن پرشانت کیشور اب تک یہ سمجھ چکے تھے کہ شیلا دیکشت کو پارٹی کا چہرہ بناکر وہ کانگریس کی نیا پار نہیں کرا سکتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے پرینکا گاندھی کو گٹھ بندھن کی صلاح دی۔ کانگریس کی طرف سے پرشانت کیشور نے سب سے پہلے ملائم سنگھ یادو سے ملاقات کی۔کانگریس کے لیڈروںکے لئے یہ خبر ایک بجلی گرنے سے کم نہیں تھی،ٹی وی پر ہر کانگریسی لیڈر اس خبر کو مسترد کرتا رہا کیونکہ یہ فیصلہ کسی بھی پارٹی عہدیداروں کے مشورے کے بغیر لیا گیا تھا۔جب پرشانت کیشور ملائم سنگھ یادو سے ملے تو ملائم نے انہیں اکھلیش یادو سے ملنے کے لئے کہا۔ ادھر ملائم سنگھ یادو نے اکھلیش یادو سے کہہ دیا کہ وہ پرشانت کیشور کی باتیں صرف سن لیں لیکن کوئی فیصلہ نہ کریں۔اس وقت تک گٹھ بندھن کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔اکھلیش یادو نے یاترا کے دوران پرشانت کیشور سے بات کی لیکن کوئی وعدہ نہیں کیا۔
جب سماج وادی پارٹی میں ملائم پریوار کا تنازع عروج پر تھا تب کانگریس کے ساتھ اتحاد پر دو رائے تھی،اس لئے گٹھ بندھن پر کوئی ٹھوس فیصلہ ٹلتا رہا۔ یہ راہل گاندھی اور پرینکا کی سیاسی نا تجربہ کاری کی علامت ہے کہ گٹھ بندھن جیسے اہم فیصلے کے لئے انہوں نے پارٹی کے تجربہ کار سیاست دانوںکو درکنار کرکے سیاست کے نو تجربہ کار پر بھروسہ کیا۔ کانگریس پارٹی کی شرمناک ہار دیوار پر عبارت کی طرح لکھتے رہے اور لوگ اسے حکمت عملی مانتے رہے۔
ادھر کانگریس میں اتر پردیش انتخاب کی کمان پوری طرح سے پرینکا سنبھال رہی تھیں۔ انہوں نے اکھلیش یادو کو دس سے زیادہ بار فون کیا لیکن اکھلیش یادو نے ان کا فون نہیں اٹھایا۔ اس کے بعد پرینکا نے اکھلیش کی بیوی ڈمپل یادو کو فون کیا۔ ڈمپل یادو نے اکھلیش سے بات کی، اس کے بعد کانگریس اور سماج وادی پارٹی میں بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ گٹھ بندھن کا راستہ کھلا۔ ابتدا میں اکھلیش کسی کے ساتھ گٹھ بندھن کے حق میں نہیں تھے۔ جب گٹھ بندھن پر راضی بھی ہوئے تو بھی وہ اجیت سنگھ کی پارٹی کو ایک بھی سیٹ دینے کے حق میں نہیں تھے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ جب اترپردیش میں گٹھ بندھن کی بات چل رہی تھی تب پرشانت کیشور نے نتیش کمار کے ساتھ زبردست دھوکہ کیا۔ غور طلب ہے کہ پرشانت کیشور کو راہل گاندھی سے ملوانے والے نتیش کمار ہی تھے۔الیکشن سے پہلے نتیش کمارنے اترپردیش کے الگ الگ علاقوں میں جاکر ریلیاں کی تھیں۔ ان کی ریلیوں کو اچھا سپورٹ بھی ملا۔ وہ اتر پردیش کی سیاست میں دخل دینا چاہتے تھے لیکن جب کانگریس کی طرف سے گٹھ بندھن کی پہل ہوئی تو پرشانت کیشور نے کانگریس کو صاف صاف کہا کہ اکھلیش کو اجیت سنگھ سے بات کرنی چاہئے لیکن نتیش کمار سے کوئی بات نہ کرے۔ اب تک پرشانت کیشور پرینکا کا بھروسہ جیتنے میں کامیاب رہے تھے ،وہ پرینکا کی ٹیم کے ساتھ مل کر پالیسی بنا رہے تھے۔اسی بیچ نوٹ بندی ہوگئی ۔نوٹ بندی ہونے کے تقریبا ایک ہفتہ بعد یہ خبر اڑی کہ نتیش کمار اور امیت شاہ کی ملاقات ہوئی تھی۔ جس کے بعد ہی نتیش کمار نے نوٹ بندی کے حق میں بیان دیا تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ جھوٹی خبر پرشانت کیشور کے ذریعہ پھیلائی گئی تھی۔ پرشانت کیشور کے دھوکے بازی کی وجہ سے ہی نتیش کمار کو اتر پردیش کی سیاست سے باہر جانا پڑا۔
پرینکا کا کمپین سے انکار
گٹھ بندھن کی پوری بات چیت میں راج ببر اور غلام نبی آزاد کو باہر رکھا گیا۔ مطلب یہ کہ پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھاکہ اندر خانے کیا چل رہا ہے۔ پرشانت کیشور نے پرینکا کو اس بات کے لئے کنونس کردیا کہ راج ببر اور غلام نبی آزاد ٹھیک سے کام نہیں کررہے ہیں۔ لیڈروں اور کارکنوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی پرشانت کیشور کی حکمت عملی کی وجہ سے انتخاب کے ساتھ ساتھ گٹھ بندھن کو بھی بھاری نقصان ہوا ۔ راج ببر اور غلام نبی آزاد جن لوگوں کو ٹکٹ دینا چاہتے تھے ،انہیں ہٹا دیا جاتا۔ کیونکہ پرشانت کیشور اور پرینکا کی ٹیم اس سے بہتر امیدوار پرینکا کے سامنے لاکر رکھ دیتے تھے۔ مثال کے طور پر آگرہ میں راج ببر اور غلام نبی آزاد کے ذریعہ چنے ہوئے ایک پرانے کانگریسی لیڈر کا نام کاٹ کر پرینکا نے ایک بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کو ٹکٹ دے دیا جو اسی دن کانگریس میں شامل ہوا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ ان کے کانگریس میں شامل ہونے سے پہلے ہی انہیں ٹکٹ کا بھروسہ دے دیا گیا تھا یعنی وہ بی جے پی لیڈر کانگریس میں اسی شرط پر شامل ہوئے کہ انہیں ٹکٹ دیا جائے گا۔ پرینکا کا پورا بھروسہ ، پرشانت کیشور کے کئے ہوئے اس وعدے کہ کانگریس 72 سیٹ جیت رہی ہے، اسی پر ٹکی ہوئی تھی۔ لیکن پہلے اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد الگ الگ ذرائع سے فیڈ بیک ملنے لگا۔تب پرینکا کا بھروسہ ٹوٹ گیا اور انہوں نے کمپین کرنے سے منع کردیا۔ اس بیچ ان کے گھر میںان کے پیارے بچے کو چوٹ لگی جس سے ان کا من انتخابی تشہیر سے اور بھی اٹھ گیا۔ پہلے دو مرحلوں کے انتخاب سے ہی یہ پتہ چل چکا تھا کہ کانگریس -سماج وادی پارٹی گٹھ بندھن ایک شرمناک ہار کے منہ پر کھڑا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ہوا کیوں؟
سماج وادی پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن ہوجانے کے بعد بھی کئی چیزیں ناتجربہ کاری کی وجہ سے ایسی ہوئی جو نہیں ہونی چاہئے۔ مثلا ٹکٹ اور امیدواروں کو لے کر آخری وقت تک تذبذب کی صورت حال بنی رہی۔ گاندھی خاندان کے پارلیمانی حلقے میں بھی ہم آہنگی نہیں بن سکی تو وہ یہ بتاتا ہے کہ کانگریس کے ڈیسیزن میکرس اور پالیسی ساز یعنی پی کے کو ابھی کتنا سیکھنے کی ضرورت ہے؟۔ ان مسائل کے باوجود بھی صورت حال اتنی خراب نہیں ہوتی اگر پرشانت کیشور کو سیاست کی سمجھ ہوتی۔ گٹھ بندھن کی حکمت عملی کا پورا کمان پرشانت کیشور کے ہاتھ میں تھا۔ سماج وادی پارٹی کے ماسٹر پالیسی ساز شیو پال سنگھ یادو ویسے بھی روٹھے ہوئے تھے۔ ایک طرح سے انتخاب سے باہر تھے۔ زمینی کارکن اور بزرگ ووٹرس بھی اکھلیش سے ناراض تھے۔
جہاں تک بات کانگریس پارٹی کی ہے تو اس پارٹی میں سائیکو فینسی کی حالت یہ ہے کہ بڑے تجربہ کار لیڈر راہل کے چہرے کو دیکھ کر اپنی رائے دیتے ہیں۔ راہل گاندھی خوش تو سب کچھ صحیح چل رہا ہے، راہل ناراض تو قیامت۔اس لئے کانگریسی لیڈروں نے اب سچ بولنا ہی بند کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پرشانت کیشور کو جو من میں آیا، وہ کرتے گئے اور کانگریس کے مقامی لیڈر تو دور سینئر لیڈروں نے بھی اپنی زبان نہیں کھولی اور نہ اب کھول رہے ہیں۔ پرشانت کیشور نے پھر اسی فلمی اندازمیں نعرے دیے ’’ بے بی کو بیس پسند ہے ‘‘۔ اسی طرز پر پرشانت کیشور نے نعرہ دیا ’’یوپی کو یہ ساتھ پسند ہے‘‘ پالیسی کے نام پر سیاست کا تماشہ اگر کسی سے سیکھنا ہو تو انہیں اتر پردیش میں پرشانت کیشور کے طرز عمل سے سیکھنا چاہئے۔اس کے علاوہ’ یوپی کے لڑکے اور کام بولتا ‘جیسے بے اثر نعروں کے ذریعہ پرشانت کیشور نے بچی کھچی کمی پوری کردی۔ اب ان عظیم پالیسی سازوں کو کون سمجھائے کہ الیکشن نعروں سے نہیں ووٹ سے جیتا جاتاہے۔ اچھا نعرہ وہ ہوتا ہے جس کا اثر ووٹر کے دماغ پر ہوتا ہے۔ اتر پردیش میں کام کی جگہ کارنامے کی آواز بلند ہو گئی اور یو پی کے لڑکوں کو وہاں کے بزرگوں نے سبق سکھا دیا۔ لیکن حیرانی تو اس بات کی ہے کہ راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کی یہ کیسی پالیسی تھی جس میں مسلمانوں کے مسائل اور ان کی آواز کو درکنار کر دیا گیا۔ مایاوتی کھل کر مسلمانوں سے ووٹ کی اپیل کر رہی تھیں۔ وہیں راہل اور اکھلیش کے ایجنڈے سے مسلمان غائب تھے۔ یہ کارنامہ ایک پالیسی ساز ہی کرسکتا تھا کوئی سیاسی آدمی اتنی بڑی بھول خواب میں بھی نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹ کی تقسیم ہو گئی اور بی جے پی نے جھاڑو چلا دی۔
ناقابل ہار اور جیت
انتخاب میں ہار اور جیت لگی رہتی ہے، لیکن جس طرح سے سماج وادی پارٹی – کانگریس گٹھ بندھن اتر پردیش میں انتخابات ہارا ہے وہ ناقابل یقین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پرشانت کیشور نے ہی راہل اور اکھلیش کی نیا ڈبوئی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ راہل ہار سے سیکھنا نہیں چاہتے۔ گزشتہ انتخابات یعنی 2012 میں اتر پردیش میں ملی ہار سے انہوں نے کچھ نہیں سیکھا۔2012 میں بھی انہوں نے باہر سے آئے لیڈروں کو کانگریس تنظیم کی پیشانی پر بیٹھانے کی غلطی کی تھی۔راہل نے دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی کے تین سال کی محنت کو دریا میں پھینک دیا تھا۔ اس بار بھی راہل اور پرینکا نے وہی غلطی دوہرائی ۔ اپنے پرانے و تجربہ کار لیڈروں کے بجائے انہوں نے ایک باہری پر بھروسہ کر لیا۔ پرشانت کیشور ایک مارکیٹنگ پرفیشنل ہیں۔ وہ کسی اچھی ساکھ والے مقبول لیڈر کی ہی برانڈنگ کرسکتے ہیں۔انہوںنے ابھی تک کسی بھی غیر مقبول اور بغیر ساکھ والے لیڈر کی شبیہ نہیں چمکائی ہے۔یہ کانگریس پارٹی کے اعلیٰ کمان کی ناتجربہ کاری ہے کہ انہوں نے پالیسی ساز سے سیاست کرانے کا جوکھم اٹھایا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ پرشانت کیشور کانگریس کے لئے کب تک کام کریں گے یہ ایک دلچسپ سوال ہے کیونکہ اب تک پرشانت کیشور نے جس کے ساتھ بھی کام کیا ،اسے دھوکہ دے کر آگے نکل گئے۔
بہار سے بھی لا پتہ ہیں پرشانت کیشور
پرشانت کیشور کی تلاش اب صرف لکھنو کے کانگریس کارکنوں کو ہی نہیں ہے، بہار میں بھی پورا اپوزیشن پرشانت کیشور کو ڈھونڈ رہا ہے۔ تقریباً ایک سال سے پرشانت کیشور بہار سے غائب ہیں۔ بہار سے ان کا لا پتہ ہونا ایک سیاسی ایشو بن گیا ہے۔ پرشانت کیشور کی وجہ سے نتیش کمار کی کرکری ہورہی ہے۔ نتیش کمار کی مصیبت یہ ہے کہ وہ پرشانت کیشور کے معاملے میں کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کا طعنہ ہے تو دوسری طرف پرشانت کیشور کی بے فائی ہے۔
نتیش کمارنے پرشانت کیشور پر بہت بھروسہ کیا تھا۔ انتخاب جیتنے کے بعد ہی انہوں نے پرشانت کیشور کووزیر اعلیٰ کے چیف ایڈوائزر کے طور پر مقرر کیا تھا۔لیکن وہ پچھلے ایک سال سے پٹنہ سے لاپتہ ہیں۔ بہار الیکشن کے بعد نتیش کمار نے بڑی امیدوں کے ساتھ انہیں ایک بڑی ذمہ داری دی تھی۔ پرشانت کیشور آج بھی بہار ڈیولپمنٹ مشن کے گورننگ باڈی کے ممبر ہیں۔ اس عہدہ کے لئے انہیں کئی سہولتیں ملتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پرشانت کیشور جو یاترائیں کرتے ہیں اس کے خرچ کا بوجھ بہار سرکار اٹھاتی ہے؟جب وہ بہار میں رہتے ہی نہیں ہیں اور نہ ہی بہار سرکار کے لئے کام کررہے ہیں تو کیا ان کو دی گئی سہولیتوںکو نتیش کمار کو واپس نہیں لینا چاہئے؟کیا دوسری ریاستوں میں کانگریس کی تشہیر کے لئے بہار سرکار پرشانت کیشور پر خرچ کررہی ہے؟اگر اب تک یہ خرچ بہار سرکار کرتی رہی ہے تو کیا پرشانت کیشور اس پیسے کو واپس کریںگے؟سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا نتیش کمار کی رضامندی یا حکم پر پرشانت کیشور ملک بھر میں کانگریس کی تشہیر کررہے ہیں؟
نتیش کمار سے ان سوالوںکو اس لئے پوچھا جانا چاہئے کیونکہ انہوں نے بہار کی ترقی کا خاکہ تیار کرنے کی ذمہ داری بھی پرشانت کیشور کے کندھے پر دیدی۔پرشانت کیشور پر بہار اتنا ہی نہیں، نتیش کمار نے تو بہار کی ترقی کی روپ ریکھا تیار کرنے کی ذمہ داری بھی پرشانت کیشور کے کندھے پر دے دی۔ پرشانت کیشور پر بہار 2025ویژن ڈاکومنٹ تیار کرنے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے سٹیزن الائنس نام کے ادارہ کو 9.31کروڑ روپے بھی دیئے جاچکے ہیں۔ یہ پیسہ کہاں گیا؟بہار 2025 ویژن ڈاکومنٹ تیار ہوئی ہے یا نہیں؟اس کی ابتدا بھی ہوئی ہے یا نہیں؟کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ پیسے لے کر کسی ریسرچ اسکالروں اور پروفیسر وں کو اس کام پر لگا دیا گیا ہے؟سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ایک ویژن ڈاکومنٹ کو تیار کرنے کے لئے 9.31کروڑ روپے دیا جانا صحیح ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ انتخاب جتانے کے انعام کے طور پر پرشانت کیشور کو کروڑوں روپے ویژن ڈاکومنٹ کے نام پر دے دیا گیا؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ گزشتہ چھ مہینے سے پرشانت کشیور پٹنہ کیوں نہیں آئے ہیں؟ وہ بہار مشن کے گورننگ بورڈ کے ممبر ہیں پھر بھی اس کے کام کاج پر وقت اور دھیان کیوں نہیں دیتے ہیں؟یہ حیرانی کی بات ہے کہ اب نتیش کمار یہ سب کیسے برداشت کررہے ہیں؟جو لوگ نتیش کمار کونزدیک سے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ نتیش کمار اس طرح کی چیزوں سے سخت نفرت کرتے ہیں۔
پرشانت کیشور کو لے کر نتیش کمار کو بی جے پی کا حملہ تو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے ،ساتھ ہی ان کی ہی پارٹی میں لوگ اب پرشانت کیشور کو دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ جنتا دل یو کے لیڈروں کو لگتا ہے کہ بہار انتخابات کے دوران پرشانت کیشور کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی جس کے وہ حقدار نہیں تھے۔نتیش کمار سے ان کی نزدیکیوں کی وجہ سے کسی نے بھی پرشانت کیشور کے خلاف کھل کچھ نہیں کہا۔ لیکن اب جنتا دل یو کے لیڈر کھلے طور سے بولنے لگے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ بہار سے لا پتہ کیوں ہیں؟نتیش کمار کے ساتھ ان کی دوریاں کیوں بڑھ گئیں؟پٹنہ میں سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ نتیش کمار کے ایک اہم صلاح کار بننے کے کچھ دن بعد پرشانت کیشور نے نتیش کمار کو تقریباً دس کروڑ روپے کا بل تھما دیا۔ پی کے کی ٹیم نے انتخابات کے دوران الگ الگ جاکر جو کام کیا تھا یہ بل اسی سے متعلق تھا۔ نتیش کمار حیران تھے۔ انہوں نے یہ بل پارٹی کے کچھ سینئر اور بھروسہ مند لیڈروں کے ساتھ شیئر کیا۔ ان کے ساتھ اس موضوع پر بات کی اور پرشانت کیشور کو ان کے پاس بھیج دیا۔ پی کے کو سمجھ میں آگیا کہ یہ معاملہ جان بوجھ کر لٹکایا جارہا ہے۔ انہیں یقین ہوگیا کہ اب پیسہ نہیں ملنے والا ہے، تب انہوں نے بہار سرکارسے دوری بنالی اور اب وہ کانگریس کے لئے کام کررہے ہیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *