فلسطینی بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ

Palestineمظلوم فلسطینی قوم کی امداد کی آڑ میں غیرملکی قوتیں نئی فلسطینی نسل کے دماغ اور ان کے افکارو خیالات کو فتح کرکے تحریک آزادی فلسطین کی تابناک تاریخ، صدیوں پر پھیلی تاریخ، تہذیب و تمدن کو مسخ کرنے کی سوچی سمجھی سازشیں کررہی ہیں۔ انہی بھیانک سازشوں میں ایک نصاب تعلیم میں تبدیلی کے ذریعے نئی فلسطینی نسل کو اپنی تہذیب، روایات، تاریخ اور ماضی سے بے بہری بنانے کی عالی سازش بھی شامل ہے۔

فلسطینیوں پر فکری یلغارمسلط کرنےوالے غیرملکی اداروں میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے پناہ گزین’اونروا‘ بھی پیش پیش ہے۔ چونکہ یہ عالمی ادارہ فلسطین کے پناہ گزینوں کی معاشی، سماجی اور دیگر ضروریات کا ذمہ دار ہے اس لیے عالمی اوباش اس تنظیم کو فلسطین میں نئی فکری تبدیلی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین نے اپنی ایک رپورٹ میں اس صہیونی۔ مغربی سازش کا پردہ چاک کیا ہے اور بتایا کہ ’اونروا‘ کی سطح پر اسکولوں میں ایسا نصاب مرتب کیا جا رہا ہے جسے اندرون فلسطین اور بیرون ملک قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کے بچوں کو پڑھایا جائے گا۔ نصاب تعلیم میں وہ جوہری تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں جو بہر صورت فلسطینی نوخیز نسل کو قضیہ فلسطین سے بے بہرہ اور لا علم رکھنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ یوں نصاب تعلیم میں ترمیم کے ذریعے فلسطینی قوم پروہ جھوٹ مسلط کرنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے جسے دنیا بھر میں اسرائیل  اٹھائے پھرتا ہے۔ لگتا ہے کہ ’اونروا‘ کی فلسطینی اسکولوں میں نصاب کی تبدیلی کے پیچھے بھی صہیونی قوتوں کا ہاتھ کار فرما ہے جو فلسطینی طلباء وطالبات کو درست ٹریک سے ہٹا کرتاریخی حوالے سے گمراہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس مجوزہ نصاب کو پڑھ کر فلسطینی قوم پر صہیونی ریاست کےناجائز تسلط، فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظلم اور فلسطینی قوم کی تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ اس میں اسرائیلی ہرجرم سےمبریٰ اور فلسطین پر ان کے قبضے کو جائز تسلیم کرانے کی سعی لاحاصل کی گئی ہے۔

بہ ظاہر ’اونروا‘ نصاب میں جدت لانے کا دعویٰ کررہی ہے مگر اس نام نہاد جدت کے پیچھے فلسطینی قوم پر صہیونی نظریات مسلط کرنے کے سوا اور کوئی مذموم مقصد کار فرما نہیں ہوسکتا۔

فلسطین میں عوامی سطح پر ’اونروا‘ کے اس مبینہ نصاب تعلیم کے بارے میں بحث و مباحثہ جاری ہے۔ فلسطینیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی نصاب کو قبول نہیں کریں گے جس میں فلسطینی قوم کی تاریخ اور قضیہ فلسطین پر گمراہی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اگر فلسطینی اونروا کے اس مزعومہ نصاب کو قبول کرلیتے ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے 24 فی صد بچوں کو حقائق کے منافی نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *