امریکہ اکسانے سے باز آئے ورنہ جواب میں جوہری حملہ کے لئے تیار ہیں ہم: شمالی کوریا

North--Koreaشمالی کوریا نے امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ خطے میں کسی قسم کے اکسانے والے اقدام نہ کرے کیونکہ ‘ہم جواب میں جوہری حملوں کے لیے تیار ہیں’۔شمالی کوریا کی جانب سے یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ملک کے بانی صدر کم ال سنگ کی 105 ویں یوم پیدائش کی تقریبات جاری ہیں۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما جم جونگ ان ایک اور ایٹمی تجربے کا حکم دے سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے عسکری حکام نے بیان میں کہا ہے ‘ہم جنگ کا جواب جنگ سے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہم پر نیوکلیئر حملہ کیا گیا تو ہم اپنے انداز سے ایٹمی حملہ کر کے جواب دینے کو تیار ہیں۔’شمالی کوریا نے سنیچر کو ہونے والی پریڈ میں پہلی بار بیلسٹک میزائل کی نمائش کی جو آبدوز سے لانچ کیے جانے والے میزائل سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس میزائل میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس سے قبل چین نے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا کے حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ‘کسی بھی وقت لڑائی چھڑ سکتی ہے۔’چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ہو سکتا ہے کہ جیت کسی کی بھی نہ ہو۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘ہم فریقین یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو اکسانے اور دھمکانے سے اجتناب کریں، چاہے ایسا الفاظ سے کیا جا رہا ہو یا اقدامات سے اور صورتحال کو ایسا نہ ہونے دیں جسے سنبھالنا مشکل ہو جائے۔’چین کی تشویش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعرات کو کیے گئے اس تبصرے سے اور بھی بڑھ گئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘شمالی کوریا کے مسئلے کو دیکھ لیا جائے گا۔’ ٹرمپ نے کہا، ‘اگر چین کی مدد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو وہ بہت اچھا ہو گا۔ اگر نہیں کرتا، تو ہم ان کے بغیر اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔’شمالی کوریا کی فوج نے اگلے دن اس کے جواب میں کہا کہ وہ کسی امریکی حرکت کو ‘بے رحمی سے ناکام کر دے گا۔’امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے پہلے شام میں ایک مشتبہ کیمیائی حملے کے بدلے میں شام میں میزائل حملوں کا حکم دیا اور اس کے بعد امریکی فوج نے افغانستان میں نام نہاد دولتِ اسامیہ کے ٹھکانوں پر ایک بڑا بم گرایا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *