نواز شریف کی ذات سیاسی اکھاڑہ بن گئی

Nawaz-Sharif سیاست میں کب کیا ہوجائے،یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ان دنوں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی لندن میں حویلی کو لے کر معاملہ عدالت میں ہے۔ عدالت نے تحقیقاتی ٹیم متعین کردی ہے ۔ اس دوران سیاسی گلیاروں مین خوب ہنگامے ہورہے ہیں۔  پاکستانی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ زوروں پر ہے۔ کوئی فوری استعفیٰ کی مانگ کررہا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ کوئی مائی کا لال نواز شریف سے استعفیٰ نہیں لے سکتا۔اسی دوران ان کے سیاسی مستقبل کو لے کر بھی پیشن گوئیاں ہونے لگی  ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین پیش گوئی  کرتے ہیں کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کا عمل شروع ہونے سے قبل نواز شریف کے مستعفی ہو جائیں گے۔

 قابل ذکر ہے کہ چودھری شجاعت حسین کی صدارت میں چار جماعتی اتحاد کا اجلاس ہوا۔ مسلم لیگ ق، عوامی تحریک، سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کی قیادت نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔تمام رہنماؤں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پندرہ دن میں پبلک کرنے کا مطالبہ کیا اور گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے رابطوں کیلئے کمیٹی بھی قائم کی۔ دریں اثناء، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بھی مسلم لیگ ق کی قیادت سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو صادق اور امین کی بجائے ملزم ٹھرایا، نواز شریف کو پانامہ کیس کے فیصلے کے داغ کے ساتھ وزیر اعظم نہیں رہنا چاہئے۔

دوسری طرف ایک گروپ ایسا بھی ہے جو پورے طور پر نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے کوئی مائی کا لال استعفیٰ نہیں لے سکتا۔ پاکستان مسلم لیگ کے راہنماء طلال چودھری  کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کسی کی خواہش پر استعفیٰ نہیں دینگے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ عمران خان خیبر پختونخوا اور آصف زرداری سندھ میں کس منہ میں عوام کے پاس جائیں گے۔پہلے وہ اپنی شبیہ کو عوام میں بہتر کریں اس کے بعد نواز شریف سے استعفیٰ کی بات کریں۔ بہر کیف پناما انکشاف کے بعد نواز شریف کی شخصیت سیاسی پارٹیوں کے لئے اکھاڑہ بنی ہوئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *