ویزا کے الزامات توڑنے کے الزامات میں برطانیہ میں 38 ہندوستانی ورکرس حراست میں لئے گئے

India-Workersبرطانیہ کے لیسسٹر شائر میں دو فیکٹریوں میں چھاپے کے دوران 38 ہندوستانی ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں 9خواتین بھی شامل ہیں۔ امیگریشن افسران کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد یا پھر غیر قانونی طریقہ سے کام کر رہے تھے۔
امیگریشن انفورسمنٹ ٹیم نے ایم کے کلاتھنگ لمیٹڈ اور فیشن ٹائمس یو کے لمیٹڈ میں گزشتہ ہفتے چھاپہ مارا ۔ یہاں 38ہندوستانیوں اور ایک افغان شہری کو حراست میں لیا گیا۔ نیوزپیپر لیسسٹر مارکیوری کی رپورٹ کے مطابق 31لوگوں کی ویزا میعاد ختم ہو گئی تھی۔ 7لوگ برطانیہ میں غیر قانونی طریقہ سے آئے تھے اور ایک شخص ویزا ضوابط کے خلاف ورزی کر رہا تھا۔ 19لوگوں کو برطانیہ سے باہر کیا جائے گا اور 20لوگوں کو تب تک ہوم ڈپارٹمنٹ میں مسلسل رپورٹ کرنی ہوگی، جب تک ان کا کیس چل رہا ہے۔
جن کمپنیوں پر چھاپہ مارا گیا ہے، انہیں حراست میں لئے گئے شخص کے لئے 20ہزار پاؤنڈ یعنی 19.68لاکھ روپے جرمانہ بھرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے حساب سے ایم کے کلاتھنگ کو 2.40لاکھ پاؤنڈ یعنی 2.36کروڑ روپے سے زیادہ اور فیشن ٹائمس کو 1.80لاکھ پاؤنڈ یعنی 1.77کروڑ روپے سے زیادہ جرمانہ بھر نا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ، ابھی تک دونوں کمپنیوں کی طرف سے اس چھاپے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
مشرقی مڈلینڈ امیگریشن انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایلسن اسپوویز نے کہا کہ ضوابط کے خلاف کاروبار کرنے والوں کے لئے بھاری جرمانہ کا قانون ہے۔ میری ٹیم نے یہ اب تک کا سب سے بڑا آپریشن کیا ہے، جو انٹیلی جینس کے بیس پر انجام دیا گیا۔ اس آپریشن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم غیر قانونی طریقہ سے رہ رہے لوگوں سے نمٹنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ غلط طریقہ سے ورکرس لائے جانے پر ہمارے ٹیکس کا نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو جاب بھی نہیں مل پاتی ہے، جو واقعی اس کے حقدار ہیں۔
غور طلب ہے کہ ب رطانیہ میں کمپنیوں کو اپنے ورکرس کی جانکاری دینی ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص پایا جاتا ہے، جسے ب رطانیہ میں کام کرنے کا حق نہیں ہے، تو بھاری جرمانہ بھرنا پڑتا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *