نیا اینمی پراپرٹی قانون 6ترمیمی نکات نے پیچیدگی کو مزید بڑھایا

dami’’نیا اینمی پراپرٹی ایکٹ نہ صرف کالا قانون ہے بلکہ یہ ہندوستانی قوانین کی تاریخ میں فرقہ وارانہ تعصب پر مبنی قانون بھی ہے۔ نیز یہ ملک کے شہریوں کے انصاف کے بہیمانہ قتل کے مترادف ہے۔ہندوستان کا آئین اپنے شہریوں کو زمین اور جائداد کی ملکیت کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے مگر موجودہ حکومت ملک کے اقلیتی طبقہ سے منسلک افراد کے خلاف سازش کے تحت اس حق کو چھیننے کی کوشش کررہی ہے ۔یہ محض زمین کے ٹکرے نہیں ہیں بلکہ اس میں ایسے خاندانوں کی باقیات اور یادگار ہیں جو پہلے ہی تقسیم وطن کی کافی مار جھیل چکے ہیں۔ اب ایسے وقت میں جبکہ موجودہ حکومت مذہب کے نام پر مبینہ پناہ گزینوں کے لئے ملک کا دروازہ کھول رہی ہے، یہ ستم ظریفی ہی ہے کہ یہ اپنے ہی شہریوں کے لئے اقلیتی دشمنی میں راستے بند کررہی ہے۔ اس ترمیمی ایکٹ کی وہ شق سخت قابل تشویش ہے جو متاثرہ افراد کو قانون کی رسائی سے محروم کرنے کی سازش پر مبنی ہے ‘‘۔
مذکورہ بالا رد عمل ہندوستان کی مسلم تنظیموں، اداروں اور شخصیات کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کا ہے جو انہوں نے10 مارچ کو پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کردہ اینمی پراپرٹی (امنڈمنٹ اینڈ ویلی ڈیشن ) بل 2016 کے تعلق سے ابھی حال میں کیاہے۔ صدر مشاورت کے اس سخت رد عمل سے کوئی پورے طور پر اتفاق کرے یا نہ کرے ،لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس نئے قانون نے متعدد سازوں کو چھیڑ دیاہے اور اس کی لپیٹ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ متعدد وہ غیر مسلم ہندوستانی شہری بھی آگئے ہیں جنہوں نے ان اینمی پراپرٹیز کو بعد میں خرید لیا تھا۔
اس قانون میں ہندوستان میں اینمی پراپرٹی کے ضبط کرنے سے متعلق قانون میں جامع ترمیمات شامل ہیں۔ لہٰذا ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ نیا ترمیم شدہ قانون آخر ہے کیا اور اس سے کیا کیا مسائل پیدا ہوں گے؟
6 پیچیدہ ترمیمات
پہلی بات تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کردہ اینمی پراپرٹی (امنڈمنٹ اینڈ ویلی ڈیشن) بل کسٹوڈین کو 1968 سے ہی اینمی پراپرٹی کا مالک بنا دیتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ 1968 سے اینمی پراپرٹیز یا دشمن جائدادوں کے دشمنوں کے ذریعے قانونی طور پر کی گئی بکری کو کالعدم قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک آدمی جس نے ایک اینمی پراپرٹی کو اعتماد و یقین سے تب خریدا تھا جب اس طرح کی خرید و فروخت قانونی تھی، اب اس جائداد سے محروم ہوجائے گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ قانون ان ہندوستانی شہریوں جو کہ دشمنوںکے قانونی ورثاء ہیں، کو اینمی پراپرٹی کی وراثت سے روکتا ہے اور انہیں ’دشمن ‘ کے معنیٰ و مطلب کے اندر لے آتا ہے۔چوتھی بات یہ ہے کہ یہ قانون سول عدالتوں و دیگر اتھارٹیز کو اینمی پراپرٹی سے متعلق بعض تنازعات کی سماعت کرنے سے منع کرتا ہے۔پانچویں بات یہ ہے کہ نیا قانون ایک ایسی صورت حال پیدا کرتا ہے جہاں ایک ہندوستانی شہری جس نے قانونی طورپر 1968 کے بعد ایک اینمی پراپرٹی خریدی ہے اور اسے ڈیولپ کیا ہے، کو اس جائداد میں اپنے حقوق سے محروم قرار دیا جائے گا۔ اس صورت حال کو عدالت میں چیلنج کیاجاسکتا ہے ۔اس بناء پر اس سے آئین کی دفعہ 14 کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو کہ برابری کے حق کی گارنٹی دیتا ہے اور حکومت کی اندھا دھند کارروائیوں سے لوگوں کو محفوظ کرتا ہے۔چھٹی بات یہ ہے کہ اس بل کے پارلیمنٹ میں پاس کئے جانے سے اینمی پراپرٹی کے تنازعات پر قانونی چارہ جوئی صرف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کی جاسکے گی۔ یعنی جن لوگوں کی جائدادوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، ان کے آپشن بہت محدود ہوجائیں گے۔
کیا ہے اینمی قانون؟
اب ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اینمی پراپرٹی سے متعلق جس قانون میں ترمیمات سے اٹھی دشواریوں اور بنیادی حقوق سے محرومی کا ذکر ہورہا ہے، وہ اینمی قانون دراصل ہے کیا؟دراصل جب ملکوں میں جنگ ہوتی ہے تو وہ ممالک اکثر اپنے یہاں دشمن ملک کے شہریوں اور کارپوریشنوں کی جائدادوں کو ضبط کرلیتے ہیں۔جائدادیں جو کہ ان حالات میں ضبط کرلی جاتی ہیں،اینمی پراپرٹیز یا دشمنوں کی جائدادیں کہلاتی ہیں۔ان جائدادوں کو ضبط کرنے کا مقصد ہی ہوتاہے کہ دشمن ملک کو جنگ کے زمانے میں دوسرے ملک میںاپنے سرمائے کا فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے ۔
دیگر ممالک کی مانند ہندوستان نے بھی پاکستان اور چین سے 1965اور 1971 نیز 1962 میں جنگوں کے زمانے میں ان کے شہریوں کی جائدادیں ڈیفنس آف انڈیا ایکٹس کے تحت ضبط کی۔ دشمن ممالک کے شہریوں کی ان جائدادوں میں زمین، عمارتیں، کمپنیوں میں لئے گئے شیئرز، سونا اور زیورات شامل تھے۔ اینمی پراپرٹیز یا دشمن جائدادوں کے انتظام کی ذمہ داری مرکزی حکومت کے تحت دفتر کسٹوڈین آف اینمی پراپرٹی کو دے دی گئی تھی۔ چونکہ ڈیفنس آف انڈیا ایکٹس عارضی قوانین تھے، یہ جنگوں کے ختم ہونے کے بعد آپریٹ ہونا بند ہوگئے۔ جنگوں کے زمانے میں ضبط کی گئی اینمی پراپرٹی کے نظم کے لئے حکومت نے 1968 میں اینمی پراپرٹی ایکٹ بنایا۔ اس قانون نے اینمی پراپرٹیز یا دشمن جائدادوں کے انتظام اور حفاظت کے لئے اینمی پراپرٹی کے اختیارات مقرر کئے۔
اینمی پراپرٹی ایکٹ نے کسٹوڈین میں سونپی گئی ان کی جائدادوں کے تعلق سے دشمن شہریوں کو بعض حقوق دیئے لیکن ان کے حقوق اور ان جائدادوں کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے کسٹوڈین کے اختیارات میں موجود ابہام تنازعات کی شکل میں عدالتوں کے سامنے آئے۔ ان تنازعات میں سے کچھ ہندوستانی شہریوں سے متعلق ہوئے اور یہ چیلنج پیش کیا کہ کیا وہ اپنے آباء و اجداد جو کہ دشمن ممالک کے شہری تھے، کی ملکیت میں رہی دشمن جائدادوں کے وارث بن سکتے ہیں؟
سپریم کورٹ نے 2005 میں ان سوالوں میں سے کچھ کو نمٹایا۔ اس نے فیصلہ سنایا کہ اینمی پراپرٹی کا کسٹوڈین ٹرسٹی کے طور پر جائداد کے نظم و نسق چلا رہا تھااور دشمن اس کا مالک بنا ہوا تھا۔ لہٰذا دشمن کی موت پر دشمن جائداد کے وارث ان کے قانونی وارث ہونے چاہئے۔ 2010 میں حکومت نے دشمن جائداد کے تعلق سے کسٹوڈین کے اختیارات کی توسیع کے لئے ایک آرڈی ننس ایشو کیا۔ اس نے دشمن کی موت یااس کی شہریت میں تبدیلی کی صورت میں مستقل طور پر دشمن جائداد کو کسٹوڈین کے حوالے کرنے کو کہا ۔ گرچہ کچھ دنوں کے بعد اس آرڈیننس کی مدت ختم ہوگئی۔ اینمی پراپرٹی کے ایشو کے تعلق سے 2016 میں پھر لیسجسلیٹیو دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب مزید پانچ آرڈیننس اس معاملہ میں جاری کئے گئے ۔یہ آرڈیننس ایک قدم آگے بڑھے اور کسٹوڈین میں اینمی پراپرٹی کے اوپر ملکیت کے حقوق حوالے کیا۔ ان سبھی اقدامات کا اثریہ ہوا کہ 2005 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عملاً بے اثر ہوگیا اور مرکزی حکومت اینمی پراپرٹی کی مالک و مختار بن گئی۔ قابل ذکر ہے کہ پانچوں آرڈیننس میں پہلے چارآرڈیننس مدت ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوگئے جبکہ دسمبر 2016 میں جاری کیا گیا۔پانچواں اور آخری آرڈیننس گزشتہ ہفتہ پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کردہ نئے قانون سے بدل گیا۔
بہر حال اس وقت مجموعی طور پر صورت حال یہ ہے کہ تقریباً 9ہزار 500 اینمی پراپرٹیز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے اکثر جائدادیں جنگوں کے زمانے سے پاکستانی شہریوں کی تھیں اور ان کی قیمت ایک لاکھ 4ہزار 339 کروڑ روپے ہوتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں اس ایشو کے تعلق سے جو قانونی اقدامات ہوئے ہیں، ان میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ، 6 آرڈیننس اور ایک قانون شامل ہیں۔ ان سب کا تعلق اس بات سے ہے کہ اینمی پراپرٹیز کا اصل مالک کون ہے؟صرف ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کے قانونی اقدامات صرف ہندوستان میں کئے گئے ہیں۔دونوں جنگوں کے دوسرے فریق پاکستان نے بھی ہندوستانی شہریوں کی جائدادوں اور سرمایوں کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے اسی قسم کے قوانین بنائے ۔ ہندوستان کے برعکس اس نے ان جائدادوں کو 1971 میں فروخت کردیا۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے قانون سے جو عملی دشواریاں پیدا ہوں گی، ان سے کیسے نمٹا جائے گا؟
مسلم و دیگر کمیونٹی کے افراد جن کا اس وقت بالواسطہ یا بلا واسطہ ان اینمی پراپرٹیز سے تعلق ہے، ان کو بلا تفریق مذہب و ملت اس نئے قانون اینمی پراپرٹی ( امنڈمنٹ اینڈ ویلی ڈیشن) ایکٹ سے طرح طرح کی عملی دشواریاں درپیش ہوںگی اور پھر ہوگی زبردست افراتفری۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کتنا عملی و دشوار کن ہے یہ نیا قانون اور کیسے نمٹاجائے گا ان عملی دشواریوں اور افراتفری سے ؟
ماہرین و دانشوران کی آراء
حسین دلوائی، رکن پارلیمنٹ: جب متعلقہ خاندان ملک کے شہری ہیں، تب حکومت انہیں کس طرح دشمن قرار دے سکتی ہے اور وراثت کے ان کے حق کو چھین سکتی ہے؟ یہ آئین کے خلاف ہے اور یہ مسلمانوں کو غلط طریقہ سے ٹارگیٹ کرتی ہے۔

آنند گرور، متعلقہ کیس کے سپریم کورٹ میں وکیل: اس قانون کا مقصد یہی محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے آبائی جائدادسے محروم کردیا جائے۔ کوئی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟

انجینئر محمد سلیم ،سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند: یہ جو ترمیم لائی گئی ہے ،وہ آئین کے ذریعہ برابری کے حقوق کی دفعہ سے ٹکراتا ہے اور اپنے ہی موجودہ شہریوں کو دشمن کے کٹہرے میں لے آتا ہے جو کہ بہت ہی خطرناک ہے۔یہ ترمیمہندوستان کے شہریوں کے اس حق کو بھی متاثر کرتا ہے جو حکومت کی زیادتیوں کے خلاف انصاف حاصل کرنے کے لئے اسے آئین نے دیا ہے ۔ اس نئے قانون کے تحت اس کی سماعت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہی کی جاسکتی ہے۔اس ترمیم کا سب سے خطرناک پہلو میرے خیال میں یہ ہے کہ اس کا نفاذ 1968 سے ہوگا جس کے معنی یہ ہوں گے کہ عدالتوں میں اب تک کئے گئے تمام فیصلے جن کے ذریعے ان جائدادوں کا کسی کو مالک قرارد دیا گیا ہو ،رد ہوجائیںگے اور حکومت ان تمام جائدادوں کی مالک بن جائے گی۔ یہ ترمیم صاف طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتی ہے حالانکہ اس سے بہت سے وہ برادران وطن بھی متاثر ہوں گے جنہوں نے ان جائدادوں کو خرید ا ہے اور برسوں سے ان کے مالک ہیں۔
یہ ترمیم ملک کو کمزور کرنے والی، اپنے ہی شہریوں کو تقسیم کرنے والی اور آئین کی روح کے منافی ہے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت کو نہ صرف ترمیم بلکہ پورے نئے قانون کو آئین اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ملکی مفاد میں از سر نو غور کرنا چاہئے۔اس نئے قانون سے ملک میں نئی افراتفری کے ماحول کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کے نفاذ میں بہت سی عملی دشواریاں ہوںگی۔ یہ دلیل نہایت کمزور اور ناانصافی پر مبنی ہے کہ پڑوسی ملک نے ایسا قانون بنا کر کوئی غلطی کی ہو تو ہم بھی اسی غلط راستے پر چل پڑیں۔
پرواز رحمانی ، مدیر اعلیٰ، سہہ روزہ دعوت : ویسے تو 1968 کے قانون کی اسپرٹ بھی مسلم شہریوں کو ان کی اجتماعی جائداد سے محروم کر رہی تھی لیکن 2017 کے قانون کے پیچھے یہ جذبہ کچھ زیادہ ہی ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد مسلم شہریوں کو ان جائدادوں سے محروم کردینا ہے جن کے ذریعے ملت کے بہت سے اجتماعی کام انجام پارہے ہیں ۔ مثلاً بھوپال میں نواب پٹودی کی جائداد جو ریاست کے عازمین حج کو بہت سی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔راجہ محمود آباد کی جائدادوں کی نوعیت بھی یہی ہے۔ ملک میں ایسی بہت سی جائدادیں ہیں جنہیں حکومت اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے۔ مسلم شہریوں کے علاوہ ، یہ ان غیر مسلم شہریوں کا بھی مسئلہ ہے جنہوں نے ایسی جائدادیں خرید رکھی ہیں۔اس طرح یہ مسئلہ خود حکومت کے بھی لئے کئی مسائل پیدا کرے گا۔ خریدنے والوں نے تو اپنے وقت کی قیمتوں کے لحاظ سے ادائیگی کی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ ان کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ اب اگر حکومت ان جائیدادوں کو بھی اپنی تحویل میں لینا چاہے گی تو ان کے مالکان کا بہت بڑا خسارہ ہوگا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالباً حکومت کے ماہرین نے ان باریکیوں پر کما حقہ غور نہیں کیا ہے۔ لہٰذا اسے اب بھی اس پر از سر نو غور کرنا چاہئے۔
مشتاق احمد علیگ، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ: ابھی حال ہی میں اینمی پراپرٹی ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس ہوکر قانون بن گیا ہے جس کی زد میں تقریباً 16 ہزار جائدادیں آئیںگی۔ اس ترمیمی قانون کا اثر ملک کے نوابوں اور راج گھرانوں پر زیادہ ہوگا جن کے آباء و اجداد آزادی یا 1965 اور 1971 کے ہندوستان- پاکستان کی جنگ کے بعد پاکستان یا1962 کی ہند-چین جنگ کے بعد چین چلے گئے تھے۔ اینمی پراپرٹی قانون 1968 میں پہلی بار پارلیمنٹ سے پاس ہوا تھا۔ اس قانون میں ایسے لوگوں کو دشمن قرار دیا گیا تھا ۔1968 کے قانون کے تحت دشمن کے وارثین کو کچھ جائداد میں کچھ ملتا تھا جسے موجودہ ترمیمی قانون کے ذریعے ختم کردیا گیا ہے۔
دراصل اس طرح کے قانون کی کوششیں آج سے کئی برس پہلے ہوئی تھیں جب محمود آباد کے راجہ اپنا مقدمہ سپریم کورٹ سے جیت گئے تھے اور ڈیکری (Decree) کے اجراء کی کارروائی چل رہی تھی۔ نئے قانون کے تحت ہر طرح کی اینمی پراپرٹی پر کسٹوڈین کا اختیار ہوگا۔ نئے قانون کے تحت وراثت کے ذریعے جائداد کے انتقال پر روک لگا دی گئی ہے اور اس نئے قانون کا اطلاق ماضی میں ٹرانسفر کئے گئے اینمی پراپرٹی پر بھی ہوگا۔ قانونی چارہ جوئی کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ اس طرح کی جائداد کے تعلق سے کوئی سول کورٹ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹا سکتا ہے اور یہی اس نئے قانون کی کمزوری ہے جس کی بنیاد پر یہ قانون غیر آئینی قرار پاکر کالعدم ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کے رو سے قانونی چارہ جوئی آئین ہند کی بنیادی خصوصیت ہے جسے قانون سازی کے ذریعے پارلیمنٹ بھی ختم نہیں کرسکتا ہے۔حصول اراضی ایکٹ ایودھیا میں بھی یہی خرابی تھی جسے سپریم کورٹ نے رد کردیا تھا۔
اگر اس قانون کے آئینی جواز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاتاہے تو یہ شق یقینا باطل اور غیر آئینی قراردی جائے گی۔ فلم اداکار سیف علی خاں کی جائداد بچ سکتی ہے کیونکہ ان کی دادی ساجدہ سلطان بیگم ہندوستان میں رہ گئی تھیں۔ منصور علی خاں پٹودی کے نانا نواب حمید اللہ خاں کے انتقال کے بعد صرف ان کی ماں کی بہن عابدہ سلطان 1950 میں پاکستان چلی گئی تھیں اور بھوپال وراثت قانون کے تحت ساجدہ سلطان کو ان کا حصہ مل چکا تھا اور بلا شرکت غیر وہ اس جائداد کی مالکن تھیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *