بلوچستان میں 434 دہشت گردوں کی خود سپردگی

Baloch-Terorکوئٹا: پاکستان کے بلوچستان صوبہ میں کئی تنظیموں کے 434دہشت گردوں نے خود سپردگی کر دی ہے۔ یہ دہشت گرد بلوچ ریپبلکن آرمی اور بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں کے تھے۔ ان پر بحران میں گھرے صوبہ میں سیکورٹی فورسز پر حملہ کا الزام تھا۔ اب تک 1500دہشت گرد اپنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق دہشت گردوں نے گزشتہ روز اتھارٹیز کو اپنے ہتھیار سونپ دئے ۔ ساؤدرن کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے اس موقع پر کہا کہ جو دہشت گرد عام زندگی گزارنا چاہتے ہیں ، وہ خود سپردگی کریں، ان کا استقبال ہے۔
بلوچستان کے سی ایم ثناء اللہ ظہری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کئی غیر ملکی ایجنسیاں لمبے وقت سے اس صوبہ میں بے قصور لوگوں کو بلا پھسلا کر انہیں اکسا رہی ہے اور ان کا استعمال کر رہی ہیں۔سی ایم ظہری نے را(ہندوستانی خفیہ ایجنسی) پر لوگوں کو غلام بنانے کا الزام لگایا۔ کہا کہ رامعصوم لوگوں کو غلام بنا رہی ہے اور لوگ اس کے اشارے پر مارے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر شیر محمد نے کہا کہ ہمارے ساتھ پاکستان مخالف عناصر نے دھوکہ کیا۔ ایک دوسرے کمانڈر نے کہا کہ اب ہم ہندوستانیوں کے لئے نہیں لڑیں گے۔ بلوچستان صوبہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اب تک 1500سے زیادہ دہشت جنگجو خود سپردگی کر چکے ہیں۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق نے کہا کہ آنے والے وقت میں مزید جنگجو خود سپردگی کریں گے۔ خود سپردگی کی تقریب میں پاک فوج کے کئی سینئر افسران کے علاوہ عوامی لیڈر بھی موجود تھے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملحق ہیں۔ اس صوبہ میں باہری ایجنسیوں کے لوگوں کو ملک مخالف سرگرمیوں کے اکسا رہی ہیں۔غور طلب ہے کہ بلوچستان علاقہ کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند یہاں طویل وقت سے بغاوت پر آمادہ ہیں۔ اس خطہ میں القاعدہ کے جنگجو بھی سرگرم ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *