شمالی کوریا پر شدید تباہی ممکن : ڈونالڈ ٹرمپ

Trumphواشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی زنگ پنگ کی شمالی کوریا سے نمٹنے کے معاملہ میں تعریف کی ہے۔ انھوں نے چینی صدر کو ’ویری گڈ مین‘ کہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے رائٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ شمالی کوریا بحران کا حل سفارتی طور پر کرنا چاہیں گے، لیکن یہ بہت مشکل ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا بحران کو لے کر ایک بڑی جدوجہد ممکن ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ کم جونگ ان نے نوعمری میں شمالی کوریا کو بڑھایا ہے وہ ان کے لئے کافی مشکل بھرا ہوگا۔ شمالی کوریا بحران پر بات چیت کرنے کے لئے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ ہونے والی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بتایا ہے کہ اگر شمالی کوریا مزید ایٹمی تجربے کرتا ہے تو چین اس پر پابندی لگائے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ سے چین نے یہ وعدہ کیا ہے۔صدر بننے کے فوری بعد ٹرمپ نے چین پر الزام لگایا تھا کہ وہ شمالی کوریا کو لے کر معقول اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے بحران کو لے کر یکطرفہ قدم اٹھا سکتا ہے۔
لیکن رائٹرس کو دئے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر یقینی طور پر تباہی اور موت نہیں چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے یہ انٹرویو اپنے اوول آفس میں دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ شی زن پنگ بہت اچھے آدمی ہیں۔ مجھے ان کے بارے میں کافی اچھے سے پتہ چل گیا ہے ۔ وہ چینی سے اور وہاں کے شہریوں سے محبت کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ان سے جتنا ممکن ہوگا وہ کریں گے۔
کم جان ان کو لے کر ٹرمپ نے کہا کہ وہ محض 27سال کے ہیں۔ والد کی موت کے بعد انھوں نے شمالی کوریا کی کمان سنبھالی تھی۔ اس عمر میں جو وہ چاہتے ہیں وہ آسان نہیں ہے۔
ٹرمپ نے امید جتائی ہے کہ کم مدلل طریقہ سے سوچیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایک موقع ہے کہ ہم لوگ ایک بڑی تباہی کو ختم کر سکیں۔ شمالی کوریا نے حال ہی کے مہینوں میں کئی میزائل تجربے کئے ہیں۔ اس نے چھٹے ایٹمی تجربے کی دھمکی دی ہے۔ اس سے پہلے ٹلرسن نے فاکس نیوز سے کہا تھا کہ چین نے شمالی کوریا سے مزید میزائل ٹیسٹ کرنے سے پرہیز کرنے کو کہا ہے۔ چین نے فروری میں شمالی کوریا کو کوئلہ ایکسپورٹ کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔چین شمالی کوریا اہم تجارتی معاون ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا کی ضد جاری رہی تو چین تیل امپورٹ پر بھی پابندی لگا سکتا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *